فطرانہ (صدقہ فطر) کے احکام و مسائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

فطرانہ کا بیان

سوال:

فطرانہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب:

فطرانہ کی فرضیت پر اجماع ہے۔ (الإجماع لابن المُنذر: 49)
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (رمضان المبارک میں) مسلمانوں کے غلام، آزاد، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے پر ایک صاع کھجور یا جو فطرانہ فرض قرار دیا ہے۔“ (صحيح البخاري: 1503، صحيح مسلم: 984)

تنبیہ:

فطرانہ مسلمان غلام پر فرض ہے، کافر غلام پر نہیں۔
❀ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لَيْسَ فِي الْعَبْدِ صَدَقَةٌ إِلَّا صَدَقَةُ الْفِطْرِ.
”غلام پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے، مگر صدقہ فطر ہے۔“ (صحيح مسلم: 982)
یہ حدیث عام ہے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما والی حدیث نے تخصیص کر دی ہے کہ ”عبد“ سے مراد مسلمان غلام ہے۔

فائدہ:

❀ سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
أَمَرَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ، فَلَمَّا نَزَلَتِ الزَّكَاةُ لَمْ يَأْمُرْنَا وَلَمْ يَنْهَنَا وَنَحْنُ نَفْعَلُهٗ.
”زکوٰۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا، زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ ہمیں حکم دیا اور نہ منع فرمایا، البتہ ہم اسے ادا کرتے رہے۔“ (مسند الإمام أحمد: 6/6، سنن النّسائي: 2509، سنن ابن ماجه: 1828، السّنن الكبرٰى للبيهقي: 159/4، وسندهٗ صحيحٌ)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2394) اور امام حاکم رحمہ اللہ (410/1) نے ”صحیح“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
❀ حافظ خطابی رحمہ اللہ (388ھ) فرماتے ہیں:
هٰذَا لَا يَدُلُّ عَلٰى زَوَالِ وُجُوبِهَا، وَذٰلِكَ أَنَّ الزِّيَادَةَ فِي جِنْسِ الْعِبَادَةِ لَا يُوجِبُ نَسْخَ الْأَصْلِ الْمَزِيدِ عَلَيْهِ، غَيْرَ أَنَّ مَحَلَّ الزَّكَوَاتِ الْأَمْوَالُ وَمَحَلَّ زَكَاةِ الْفِطْرِ الرِّقَابُ.
”اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صدقہ فطر واجب نہیں رہا، کیونکہ عبادت میں کسی اضافے سے اصل منسوخ نہیں ہوتی۔ یہ فرق بھی ملحوظ رہے کہ زکوٰۃ مال پر اور صدقہ فطر جان پر فرض ہے۔“ (مَعالم السّنن: 214/2)

صدقہ فطر کے مسائل:

① حجازی صاع دو سیر چار چھٹانک کا ہوتا ہے، اس کا اعشاری وزن 2.099 کلوگرام بنتا ہے۔
② خوراک، مثلاً گندم، جو، کھجور، پنیر، کشمش وغیرہ۔ بہتر ہے کہ اس میں فی کس ایک صاع فطرانہ ادا کیا جائے، روپے، پیسے یا چاندی وغیرہ بھی فطرانے میں ادا کی جا سکتی ہے۔
❀ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا یہی موقف ہے۔ (مصنّف ابن أبي شيبة: 173/3، وسندهٗ صحيحٌ)
❀ یہی مذہب امام بخاری رحمہ اللہ کا بھی ہے۔ (صحيح البخاري، باب العرض في الزّكوة)
❀ امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لَيْسَ بِهٖ بَأْسٌ أَنْ يُعْطٰى زَكَاةُ رَمَضَانَ فِضَّةً.
”صدقہ فطر میں چاندی بھی ادا کی جا سکتی ہے، اس میں حرج نہیں۔“ (تاريخ ابن معين: 2765،2326)
③ صدقہ فطر نماز عید سے پہلے ادا کیا جائے۔ (صحيح البخاري: 1503، صحيح مسلم: 984)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرانہ لغویات اور فحش گوئی سے روزہ کو پاک کرنے کے لیے اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے فرض قرار دیا ہے۔ نماز عید سے پہلے ادا کریں گے، تو قبول ہوگا، بعد میں ادا کریں گے، تو عام صدقہ قرار پائے گا۔“ (سنن أبي داود: 1609، سنن ابن ماجه: 1828، وسندهٗ حسنٌ)
اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (409/1) نے ”صحیح“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔
④ صدقہ فطر رمضان کے اختتام پر نماز عید سے پہلے پہلے ادا کیا جائے گا۔ اگر بیت المال کا نظام موجود ہو، تو فطرانہ ایک آدھ دن پہلے نکالا جا سکتا ہے، تا کہ بیت المال میں جمع ہو کر عید سے پہلے پہلے مستحقین میں تقسیم کر دیا جائے۔ اگر بیت المال نہیں، تو رمضان کے اختتام پر فطرانہ ادا کیا جائے گا، اس سے پہلے نہیں۔
❀ نافع رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر کب ادا کرتے تھے، فرمایا: جب صدقہ وصول کرنے والا بیٹھ جاتا، عرض کیا: وہ کب بیٹھتا تھا؟ فرمایا : عیدالفطر سے ایک دو دن پہلے۔ (صحيح ابن خزيمة: 2397، وسندهٗ صحيحٌ)
⑤ فطرانہ صرف مساکین کا حق ہے۔ (مَجموع الفتاوىٰ لابن تيمية: 78-71/25، زاد المَعاد لابن القيم: 44/2)
فطرانہ متشرع اور نمازی مسلمانوں کا حق ہے، اہل حق کے دینی مدارس پر بھی خرچ کیا جا سکتا ہے۔
⑥ فطرانہ چوں کہ ہر مسلمان پر فرض ہے، اس لئے صاحب نصاب کی شرط لگانا درست نہیں۔
⑦ فطرانہ کا مقصد روزہ میں ہونے والی کمی کوتاہی کی معافی، بے فائدہ اور فحش کلامی کی تطہیر اور مساکین سے تعاون ہے۔
فطرانہ شکر کی بہترین اور بے مثال صورت ہے، اللہ کی رضا و خوشنودی کا باعث ہے، گھر میں خیر و برکت اور امن و سکون کا ذریعہ ہے، ہر قسم کی برائی اور شر سے بچنے کا محفوظ راستہ ہے، محبت و مودّت اس سے جنم لیتی ہے، نفرتوں، کدورتوں کا قلع قمع ہوتا ہے، انسانی ہمدردی کا شاندار مظاہرہ ہوتا ہے اور باوقار معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔

سوال:

صدقہ فطر کس پر واجب ہے؟

جواب:

صدقہ فطر ہر مسلمان پر واجب ہے، اس میں امیر، غریب، آزاد، غلام، مقیم، مسافر، بالغ و نابالغ سب شامل ہیں۔

سوال:

صدقہ فطر کی ادائیگی کے لیے قرض لیا جا سکتا ہے؟

جواب:

صدقہ فطر فرض ہے، اس کے لیے قرض بھی لیا جا سکتا ہے۔ مسکین کو جو فطرانہ دیا جائے گا، وہ اس سے اپنا فطرانہ ادا کر دے گا۔

سوال:

کیا صدقہ فطر عیدالفطر کے بعد ادا کیا جا سکتا ہے؟

جواب:

صدقہ فطر عید کے لیے نکلنے سے پہلے پہلے ادا کرنا ضروری ہے۔ نماز کے بعد ادا کرنے سے ادائیگی نہ ہوگی، بلکہ یہ عام صدقہ ہوگا۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرانہ روزہ دار کی لغویات اور فحش گوئی سے روزہ کو پاک کرنے کے لیے اور مساکین کو کھانا کھلانے کے لیے فرض کیا ہے، جو اسے نمازِ عید سے پہلے ادا کر دے، اس کی طرف سے قبول ہوگا اور جو نمازِ عید کے بعد ادا کرے گا، وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہے۔“ (سنن أبي داوٗد: 1609، سنن ابن ماجه: 1828، وسندهٗ حسنٌ)
اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ (409/1) نے ”صحیح“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔

سوال:

کیا زکوٰۃ کا حکم آنے کے بعد صدقہ فطر کا وجوب ختم ہو گیا؟

جواب:

سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ”زکوٰۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا، جب زکوٰۃ کا حکم نازل ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ ہمیں حکم دیا اور نہ منع فرمایا، البتہ ہم اسے ادا کرتے تھے۔“ (مسند الإمام أحمد: 6/6، سنن النّسائي: 2509، سنن ابن ماجه: 1828، السنن الكبرٰى للبيهقي: 159/4، وسندهٗ صحيحٌ)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (2394) اور امام حاکم رحمہ اللہ (410/1) نے ”صحیح“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
❀ حافظ خطابی رحمہ اللہ (388ھ) اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں: ”یہ حدیث صدقہ فطر کے وجوب کے ختم ہونے پر دلالت نہیں کرتی، کیونکہ عبادت کی جنس میں زیادت اصل کے منسوخ ہونے کو واجب نہیں کرتی، نیز (ایک فرق یہ ہے کہ) زکوٰۃ مالوں پر فرض ہوتی ہے اور صدقہ فطر جانوں پر۔“ (مَعالم السّنن: 214/2)

سوال:

صدقہ فطر میں کہاں کی قیمت کا اعتبار ہوگا؟

جواب:

ہر علاقے کی قیمت کا اعتبار ہوگا۔

سوال:

کیا غریب پر بھی صدقہ فطر واجب ہے؟

جواب:

ہر غریب و امیر مسلمان پر صدقہ فطر واجب ہے۔ اگر غریب کے پاس صدقہ فطر دینے کے لیے کچھ نہ ہو، تو جو لوگ اسے صدقہ فطر دیں، اس میں سے اپنا صدقہ فطر ادا کر دے۔

سوال:

کیا صدقہ فطر صرف صاحب نصاب پر واجب ہے؟

جواب:

فطرانہ ہر زندہ مسلمان پر فرض ہے، وہ مرد ہو یا عورت، غریب ہو یا امیر، آزاد ہو یا غلام، بالغ ہو یا نابالغ، گویا ہر مسلمان پر واجب ہے۔ غلام کا فطرانہ اس کا آقا ادا کرے گا۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (رمضان المبارک میں) مسلمانوں کے غلام، آزاد، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے پر ایک صاع کھجور یا جو فطرانہ فرض قرار دیا ہے۔“ (صحيح البخاري: 1503، صحيح مسلم: 984)
یہ کہنا کہ صدقہ فطر صرف ان پر واجب ہے، جو صاحب نصاب ہیں، بے دلیل ہے۔

سوال:

جس نے رمضان میں مال کی زکوٰۃ ادا کی ہو، کیا وہ بھی صدقہ فطر دے گا؟

جواب:

صدقہ فطر الگ فرض ہے اور زکوٰۃ الگ فرض ہے۔ ایک فرض ادا کرنے سے دوسرا فرض ادا نہیں ہوگا۔

سوال:

گھر والوں کا صدقہ فطر کون ادا کرے گا؟

جواب:

صدقہ فطر گھر کا سربراہ ادا کرے گا۔

سوال:

اگر ایک بھائی نے دوسرے کا فطرانہ ادا کر دیا، تو ادا ہو جائے گا یا نہیں؟

جواب:

ادا ہو جائے گا۔

سوال:

جو جوان لڑکے اپنی کمائی باپ کو دیتے ہیں، کیا ان پر صدقہ فطر واجب ہے؟

جواب:

ان پر بھی صدقہ فطر واجب ہے، البتہ اس کی ادائیگی وہ خود کر دیں یا ان کا والد کر دے، دونوں طرح ادا ہو جائے گا۔

سوال:

چاول وغیرہ فطرانہ میں دینا کیسا ہے؟

جواب:

درست ہے۔

سوال:

جہاں قیدیوں کے سوا کوئی نہ ہو، کیا انہیں صدقہ فطر دیا جا سکتا ہے، جبکہ ان قیدیوں کو دینا قانوناً منع ہو؟

جواب:

موَحد اور مستحق قیدیوں کو صدقہ فطر دیا جا سکتا ہے۔

سوال:

جس علاقے میں زیادہ خوراک چاول ہو، مثلاً بنگال، تو وہاں صدقہ فطر چاول کی صورت میں دیا جا سکتا ہے؟

جواب:

خوراک کی کسی بھی جنس میں سے ایک صاع صدقہ فطر دیا جا سکتا ہے۔

سوال:

جس علاقے میں غرباء و مساکین نہ ہوں، وہاں صدقہ فطر کسے دیا جائے؟

جواب:

اگر اہل علاقہ میں کوئی بھی غریب و مسکین نہ ہو، تو فطرانہ دوسرے علاقے میں بھیج دیا جائے اور اس صورت میں عید سے ایک دو دن پہلے بھی صدقہ فطر ادا کیا جا سکتا ہے، تا کہ مستحقین کا حق ان تک بروقت پہنچ جائے۔
❀ امام ایوب سختیانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”میں نے نافع رحمہ اللہ سے پوچھا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کب صاع ادا کرتے تھے؟ تو نافع رحمہ اللہ نے کہا: جب عامل (صدقہ وصول کرنے والا) بیٹھ جاتا، میں نے کہا: وہ کب بیٹھتا تھا؟ نافع رحمہ اللہ نے فرمایا: عیدالفطر سے ایک دو دن پہلے بیٹھتا تھا۔“ (صحيح ابن خزيمة: 2397، وسندهٗ صحيحٌ)

سوال:

ایک شخص کا فطرانہ کئی لوگوں میں تقسیم کرنا کیسا ہے؟

جواب:

جائز ہے۔

سوال:

عورت کا فطرانہ کون ادا کرے؟

جواب:

اس کا شوہر۔

سوال:

پورے گھر کا فطرانہ ایک ہی شخص کو دیا جائے یا کئی اشخاص کو دیا جا سکتا ہے؟

جواب:

ایک شخص کو بھی دیا جا سکتا ہے اور کئی اشخاص کو بھی۔

سوال:

کیا منصوص اشیا ہی فطرانہ میں دی جا سکتی ہیں؟

جواب:

بہتر ہے کہ منصوص اشیا ہی فطرانہ میں دی جائیں، البتہ اگر کوئی دوسری جنس ایک صاع کے برابر دے دی جائے، تو کوئی حرج نہیں۔

سوال:

کیا ہاشمی کو صدقہ فطر دیا جا سکتا ہے؟

جواب:

فطرانہ واجب صدقات میں سے ہے، جو آل رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال نہیں، لہٰذا کسی ہاشمی کو صدقہ فطر نہیں دیا جا سکتا، خواہ وہ غریب و مسکین ہی ہو۔

سوال:

امام مسجد کو صدقہ فطر دینا کیسا ہے؟

جواب:

غریب ہے، تو امام مسجد کو صدقہ فطر دیا جا سکتا ہے۔

سوال:

اگر غریب کے ذمہ کچھ قرض ہے، کیا قرض دینے والا غریب کو فطرانہ کی نیت سے قرض معاف کر سکتا ہے؟

جواب:

اگر غریب قرض کی ادائیگی کرنا چاہتا ہے، مگر حالات کی تنگی کی وجہ سے نہیں کر پاتا، تو قرض دینے والا فطرانہ کی نیت سے قرض معاف کر سکتا ہے۔

سوال:

کیا صدقہ فطر کے مصارف وہی ہیں، جو زکوٰۃ کے مصارف ہیں؟

جواب:

صدقہ فطر صرف غریبوں اور مسکینوں کے لیے ہے۔ زکوٰۃ کے دیگر مصارف میں صدقہ فطر دینا جائز نہیں۔

سوال:

غیر مسلم کو زکوٰۃ اور صدقہ فطر دینا کیسا ہے؟

جواب:

جائز نہیں۔

سوال:

صدقہ فطر کب ادا کیا جائے؟

جواب:

صدقہ فطر کا وقت شوال کا چاند طلوع ہونے سے نماز عید سے پہلے تک ہے۔ البتہ اگر بیت المال کا نظام موجود ہو، تو ایک دو دن پہلے بھی جمع کرایا جا سکتا ہے۔

سوال:

صدقہ فطر کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب:

صدقہ فطر مسلمانوں کے ہر بالغ و نابالغ، مرد و عورت، آزاد و غلام پر فرض ہے، جس کی ادائیگی گھر کے سربراہ پر واجب ہے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں پر رمضان میں صدقہ فطر فرض کیا ہے، جو ہر مسلمان مرد، عورت، آزاد اور غلام پر کھجور یا جو کا ایک صاع ہے۔“ (صحيح البخاري: 1504، صحيح مسلم: 984)

سوال:

کیا عید کی رات پیدا ہونے والے بچے پر صدقہ فطر ہے؟

جواب:

عید کا چاند طلوع ہونے کے بعد پیدا ہونے والے بچے پر صدقہ فطر نہیں ہے، کیونکہ صدقہ فطر رمضان کا صدقہ ہے اور عید کا چاند طلوع ہوتے ہی رمضان کا اختتام ہو جاتا ہے اور شوال کا آغاز ہو جاتا ہے۔ دراصل صدقہ رمضان کی ادائیگی کے لیے یہ حکم ہے کہ یکم شوال کو عید کے لیے نکلنے سے پہلے پہلے ادا کیا جائے۔
❀ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
فَرَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَى الْحُرِّ وَالْعَبْدِ، وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثٰى صَاعًا مِّنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِّنْ شَعِيرٍ.
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں صدقہ فطر فرض کیا ہے، جو ہر مسلمان آزاد، غلام، مرد، عورت پر کھجور یا جو کا ایک صاع ہے۔“ (صحيح البخاري: 1504، صحيح مسلم: 984)
❀❀❀❀❀❀❀