مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نماز جمعہ سے پہلے اور بعد میں مسجد کے دروازے پر فروخت کرنا

فونٹ سائز:
تحریر : فتاویٰ سعودی فتویٰ کمیٹی

60- نماز جمعہ سے پہلے اور بعد میں مسجد کے دروازے پر فروخت کرنا
مسجد کے باہر اس کے دروازے پر دوسری اذان سے پہلے سامان فروخت کرناجائز ہے لیکن دوسری اذان کے بعد جائز نہیں کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے۔ فرمان ربانی ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ [الجمعة: 9]
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تواللہ کے ذکر کی طرف لپکو اور خرید و فروخت چھوڑ دو“
[اللجنة الدائمة: 15316]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔