نماز تہجد کی فضیلت
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ . آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُحْسِنِينَ . كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ . وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ .﴾
”بے شک پرہیز گار لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ ان کا رب انہیں جو دے گا اسے لے رہے ہوں گے، بے شک وہ لوگ اس سے پہلے (دنیا میں) نیک کام کرنے والے تھے۔ وہ راتوں میں کم سوتے تھے۔ اور صبح کے وقت اپنے رب سے مغفرت طلب کرتے تھے ۔“
(51-الذاريات:15۔18)
وہ سجدہ روح زمین جس سے کانپ جاتی تھی
اسی کو آج ترستے ہیں منبر و محراب
اللہ تعالیٰ نے سورت مزمل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے نماز کا، پھر دعوت کی راہ میں اپنی قوم کی طرف سے آنے والی اذیتوں کو برداشت کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ . قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا .﴾
”اے چادر اوڑھنے والے۔ رات کو تہجد پڑھا کرو مگر تھوڑی رات۔“
(73-المزمل:1،2)
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی علامات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ راتوں کو قیام کرتے ہیں:
﴿وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَقِيَامًا﴾
”اور جو اپنے رب کے سامنے سجدے اور قیام کرتے ہوئے راتیں گزار دیتے ہیں۔“
(25-الفرقان:64)
مومنین مخلصین کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ راتوں کو اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھنے کے عادی ہوتے ہیں۔ اسی لیے جب اس کا وقت آتا ہے تو ان کے پہلوؤں کو بستروں سے دشمنی ہو جاتی ہے، فوراً اٹھ بیٹھتے ہیں اور وضو کر کے نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں، اور سجدے میں جا کر اپنے رب سے دعا کرتے ہیں کہ اے الہ العالمین! ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے اور جنت میں داخل کر دے۔ فرمایا:
﴿تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ﴾
”ان کے پہلو اپنے بستروں سے الگ رہتے ہیں، اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے وہ خرچ کرتے ہیں۔“
(32-السجدة:16)
اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم صادر فرمایا:
﴿ أَقِمِ الصَّلَاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلَىٰ غَسَقِ اللَّيْلِ وَقُرْآنَ الْفَجْرِ ۖ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا . وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا.﴾
”آپ زوال آفتاب کے وقت سے رات کی تاریکی تک نماز قائم کیجیے، اور فجر کی نماز میں قرآن پڑھیے، بے شک فجر میں قرآن پڑھنے کا وقت فرشتوں کی حاضری کا وقت ہوتا ہے۔ اور رات کے کچھ حصے میں نماز تہجد میں قرآن پڑھیے۔ یہ آپ کے لیے زائد نماز ہوگی۔ امید ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقام محمود پر پہنچا دے گا۔“
(17-الإسراء:78،79)
ڈاکٹر سلمان سلفی حفظہ اللہ اس کی تفسیر میں رقم طراز ہیں:
نماز پنجگانہ کے بعد اس آیت کریمہ میں آپ کو نماز تہجد کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ نماز آپ پر اس لیے واجب کی گئی تھی، تاکہ آپ کے درجات بلند ہوں، ورنہ آپ کے تو اگلے پچھلے سبھی گناہ معاف کر دیے گئے تھے۔ دیگر مسلمانوں کے لیے یہ مستحب ہے۔ نماز پنجگانہ اور نوافل کی ادائیگی پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کریمانہ وعدہ کیا ہے کہ ان کا رب انہیں ”مقام محمود“ یعنی شفاعت کبری کی اجازت مرحمت فرمائے گا۔ (تیسیر الرحمن: 821/1)
اللہ تعالیٰ نے تہجد کی نماز کے فوائد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ اس انداز سے آشکارا کیے:
﴿إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا . إِنَّ لَكَ فِي النَّهَارِ سَبْحًا طَوِيلًا.﴾
”بے شک رات کا اٹھنا نفس کو خوب کچل دیتا ہے، اور قرآن سمجھنے کے لیے زیادہ مناسب وقت ہے۔ بے شک دن کے وقت آپ کی بڑی مصروفیات ہوتی ہیں، اور آپ اپنے رب کا نام لیتے رہیے۔ اور اس کی طرف ہمہ تن اور یکسو ہو کر متوجہ ہو جائیے۔“
(73-المزمل:6،7)
عن عبد الله بن سلام رضي الله عنه، أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: أيها الناس أفشوا السلام ، وأطعموا الطعام ، وصلوا بالليل والناس نيام ، تدخلوا الجنة بسلام
سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! سلام کو پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ اور رات کو نماز پڑھو جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں، (اس طرح) تم جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ گے۔“
سنن ترمذي، أبواب صفة القيامة، باب أفشوا السلام وأطمعوا الطعام، رقم: 2485 – البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
عن أبى هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : أفضل الصيام بعد رمضان ، شهر الله المحرم ، وأفضل الصلاة بعد الفريضة ، صلاة الليل
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والا روزہ، اللہ کے مہینے محرم کا روزہ ہے، اور فرض نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز، رات کی نماز ہے۔“
صحیح مسلم، کتاب الصيام، باب فضل صوم المحرم، رقم: 1163 ۔
عن سالم بن عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله عنهم عن أبيه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: نعم الرجل عبد الله لو كان يصلي من الليل قال سالم: فكان عبد الله بعد ذلك لا ينام من الليل إلا قليلا
سیدنا سالم بن عبد اللہ بن عمر بن خطاب اپنے باپ (عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبد اللہ اچھا آدمی ہے اگر یہ رات کو نماز پڑھے (تو زیادہ بہتر ہے)“ سیدنا سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد (میرے والد) عبد اللہ رات کو بہت کم سوتے تھے ۔
صحيح بخاري، كتاب فضائل الصحابة، باب مناقب عبدالله بن عمر رضي الله عنهما، رقم: 3739۔ صحیح مسلم، کتاب الفضائل، باب فضائل عبدالله بن عمر، رقم: 2478 أيضًا.
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم رحم الله رجلا قام من الليل ، فصلى وأيقظ امرأته فصلت ، فإن أبت نضح فى وجهها الماء ، رحم الله امرأة قامت من الليل فصلت ، وأيقظت زوجها فإن أبى نضحت فى وجهه الماء
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر اللہ کی عبادت کرے اور نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرے، اگر وہ انکار کرے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔ اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھ کر عبادت کرے اور نماز پڑھے اور اپنے خاوند کو جگائے، اگر وہ انکار کرے تو اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔“
سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب الحث على قيام الليل، رقم: 1450۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح کہا ہے۔
عن أبى سعيد وأبي هريرة رضي الله عنهما قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من استيقظ من الليل وأيقظ امرأته ، فصليا ركعتين جميعا ، كتبا من الذاكرين الله كثيرا والذاكرات
سیدنا ابو سعید خدری اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی رات کو بیدار ہو کر اپنی اہلیہ کو بھی بیدار کرے اور دونوں دو رکعت نماز پڑھیں، تو ان دونوں کو ذاکرین اور ذاکرات (بہت زیادہ ذکر کرنے والوں) میں لکھ دیا جاتا ہے۔“
سنن أبي داود، كتاب الصلاة، باب الحث على قيام الليل، رقم: 1451 – البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
عن جابر رضى الله عنه قال: سمعت النبى صلى الله عليه وسلم ، يقول: إن فى الليل لساعة ، لا يوافقها رجل مسلم يسأل الله تعالى خيرا من أمر الدنيا والآخرة، إلا أعطاه إياه ، وذلك كل ليلة
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”رات میں ایک گھڑی ہے جس مسلمان آدمی کو وہ میسر آ جائے، اور وہ اس میں دنیا اور آخرت کے معاملے میں کسی بھلائی کا سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرما دیتا ہے اور یہ گھڑی ہر رات کو ہوتی ہے ۔“
صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين باب في الليل ساعة مستجاب فيها الدعاء، رقم: 757۔
عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أحب الصيام إلى الله صيام داود ، وأحب الصلاة إلى الله صلاة داود – عليه السلام كان ينام نصف الليل ويقوم ثلثه ، وينام سدسه كان يصوم يوما ويفطر يوما
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ محبوب روزہ اللہ کو داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے۔ اور اللہ کو سب سے زیادہ محبوب نماز داؤد علیہ السلام کی نماز ہے۔ وہ آدھی رات سوتے تھے، اس کے تیسرے حصے میں عبادت کے لیے اٹھ جاتے، اور اس کے چھٹے حصے میں (پھر) سو جاتے، اور ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن روزہ چھوڑ دیتے۔“
صحیح بخاري، كتاب التهجد، باب من نام عند السحر, رقم: 1131۔ صحیح مسلم، کتاب الصيام، باب النهي عن صوم الدهر لمن تضر ربه، رقم: 1159/189۔
عن عائشة رضي الله عنها قالت: أن نبي الله صلى الله عليه وسلم كان يقوم من الليل حتى تتفطر قدماه ، فقالت عائشة: لم تصنع هذا : يا رسول الله وقد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تأخر؟ قال: أفلا أحب أن أكون عبدا شكورا
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم رات کو اتنا قیام فرماتے کہ آپ کے قدم مبارک پھٹ جاتے، (ایک دن) انہوں نے آپ سے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کیوں اتنی مشقت برداشت فرماتے ہیں جب کہ آپ کے اگلے پچھلے گناہ بھی بخش دیے گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں؟“
صحيح بخاري، كتاب التفسير، باب قوله ليغفر لك الله ما تقدم من ذنبك، رقم: 4837 ۔