تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ:} ”اے کپڑے میں لپٹنے والے!“ ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ ان آیات کے اترنے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کپڑے میں لپٹ کر لیٹے ہوئے تھے۔ اس خطاب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت لطف و کرم اور محبت کا اظہار ہے، کیونکہ اہلِ عرب کا طریقہ ہے کہ وہ مخاطب سے نرمی اور محبت سے بات کرنا چاہتے ہوں تو ایسے لفظ سے مخاطب کرتے ہیں جو مخاطب کی اس وقت کی حالت پر دلالت کر رہا ہو، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو مسجد میں زمین پر لیٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا: [قُمْ أَبَا تُرَابٍ!] [بخاري، الصلاۃ، باب نوم الرجال في المسجد: ۴۴۱] ”مٹی والے! اٹھ کھڑا ہو۔“
➌ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چادر میں لیٹنے کی وجہ کیا تھی؟ اس میں تین قول ہیں، پہلا یہ کہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ پہلی وحی: «اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» کے نزول کے موقع پر جب فرشتے نے آپ کو تین مرتبہ زور سے دبایا تو آپ گھر میں خدیجہ رضی اللہ عنھا کے پاس آئے اور فرمایا: [زَمِّلُوْنِيْ زَمِّلُوْنِيْ] [بخاري، الوحي، باب کیف کان بدء الوحي: ۳] ”مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔“ اسی طرح جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ کچھ عرصہ تک وحی بند رہنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی اتری تو آپ نے اس کے متعلق بیان فرمایا: ”میں چلا جا رہا تھا کہ میں نے آسمان سے ایک آواز سنی، میں نے نظر اٹھائی تو وہی فرشتہ جو حرا میں میرے پاس آیا تھا، آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا تھا۔ میں اس سے ڈر گیا اور واپس آکر کہا: [زَمِّلُوْنِيْ زَمِّلُوْنِيْ] تو اللہ عزوجل نے {” يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ “} سے لے کر {” وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ “} تک آیات اتاریں۔“ [بخاري، الوحي، باب کیف کان بدء الوحي: ۴] ان دونوں موقعوں پر {”زَمِّلُوْنِيْ“} کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فرشتے کی ملاقات اور وحی کے اترنے سے جو رعب اور خوف طاری ہوتا تھا اس کی وجہ سے آپ کپڑا لپیٹ لیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے اس بار گراں کو اٹھانے کے لیے تیار کرنے کی خاطر آپ کو قیام اللیل کا حکم دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قیام اللیل کے ساتھ آپ کو وحی کا بوجھ اٹھانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے، چنانچہ بعد میں وحی تسلسل اور کثرت سے اترنے لگی۔
دوسرا قول یہ ہے کہ ” اے چادر میں لپٹ کر سونے والے! سستی اور سونے کا وقت گیا، رات کو قیام کر …۔“ تیسرا قول یہ ہے کہ قریش مکہ دارالندوہ میں جمع ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوئی ایسا نام طے کرنے لگے جسے سن کر لوگ آپ کے پاس آنے سے باز رہیں۔ کسی نے کہا کاہن ہے، کچھ دوسرے کہنے لگے کاہن نہیں ہے۔ کسی نے دیوانہ کہا، اس کی بھی تردید ہو گئی۔ کچھ بولے جادو گر ہے، دوسروں نے کہا جادوگر نہیں ہے۔ غرض مشرکین اس قسم کی باتیں کرکے چلے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ باتیں پہنچیں تو آپ کو بہت صدمہ ہوا اور اس پریشانی اور غم کی حالت میں آپ چادر لپیٹ کر لیٹ گئے۔ جبریل علیہ السلام آئے اور فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ» ”اے کپڑے میں لپٹنے والے!“ اور فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ» ”اے کمبل میں لپٹنے والے!“ مقصد یہ ہے کہ آپ ان کی باتوں سے بد دل اور رنجیدہ ہو کر چادر لپیٹ کر نہ لیٹ جائیں بلکہ رات کو قیام کریں، اس سے آپ میں یہ بارگراں اٹھانے کی قوت پیدا ہو گی، ان لوگوں کی باتوں پر صبر کریں اور ان سے اچھے طریقے سے علیحدگی اختیار کریں۔ ابن کثیر نے یہ قول جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما کی روایت سے مسند بزار سے نقل کیا ہے، مگر اس کی سند میں ایک راوی معلی بن عبدالرحمن ہے جس کے متعلق تقریب میں ہے: {”مُتَّهَمٌ بِالْوَضْعِ وَ قَدْ رُمِيَ بِالرَّفْضِ“} ”اس پر احادیث گھڑنے کی تہمت ہے اور رافضیت کا الزام بھی ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[2] انداز خطاب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیات اس وقت نازل ہوئی تھیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سونے کے لیے بستر پر چادر اوڑھ کر لیٹ چکے تھے۔ اور اس لطیف انداز خطاب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت دی جا رہی ہے کہ اب پاؤں پھیلا کر اور بے فکر ہو کر سونے کے دن بیت چکے، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داریاں کچھ اور قسم کی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پوری عمر اس حکم کی بجا آوری کرتے رہے تہجد کی نماز صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر واجب تھی یعنی امت پر واجب نہیں ہے، جیسے اور جگہ ہے «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الإسراء:79]، یعنی ’ راتوں کو تہجد پڑھا کر یہ حکم صرف تجھے ہے تیرا رب تجھے مقام محمود میں پہچانے والا ہے۔ ‘ یہاں اس حکم کے ساتھ ہی مقدار بھی بیان فرما دی کہ آدھی رات یا کچھ کم و بیش۔
اس حکم کے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عامل تھے، ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھتے تھے جس سے بڑی دیر میں سورت ختم ہوتی تھی گویا چھوٹی سی سورت بڑی سے بڑی ہو جاتی تھی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:733]
ابن جریج میں ہے کہ { ہر ہر آیت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پورا پورا وقف کرتے تھے، جیسے «بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ» پڑھ کر وقف کرتے، آیت «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» پڑھ کر ٹھہرتے۔} یہ حدیث مسند احمد ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:2927،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ہم نے اس تفسیر کے شروع میں وہ احادیث وارد کر دی ہیں، جو ترتیل کے مستحب ہونے اور اچھی آواز سے قرآن پڑھنے پر دلالت کرتی ہیں، جیسے وہ حدیث جس میں ہے { قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو } ۱؎ [سنن ابوداود:1468،قال الشيخ الألباني:صحیح]، اور { ہم میں سے وہ نہیں جو خوش آوازی سے قرآن نہ پڑھے } ۱؎ [صحیح بخاری:2527] اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ { اسے آل داؤد کی خوش آوازی عطا کی گئی ہے } ۱؎ [صحیح بخاری:5048] اور ابوموسیٰ کا فرمانا کہ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سن رہے ہیں تو میں اور اچھے گلے سے زیادہ عمدگی کے ساتھ پڑھتا۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:793]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان کہ ریت کی طرح قرآن کو نہ پھیلاؤ اور شعروں کی طرح قرآن کو بے ادبی سے نہ پڑھو اس کی عجائب پر غور کرو اور دلوں میں اثر لیتے جاؤ اور اس میں دوڑ نہ لگاؤ کہ جلد سورت ختم ہو۔ [بغوی]
پھر فرماتا ہے ’ ہم تجھ پر عنقریب بھاری بوجھل بات اتاریں گے۔ ‘ یعنی عمل میں ثقیل ہو گی اور اترتے وقت بوجہ اپنی عظمت کے گراں قدر ہو گی۔
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ { ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتری اس وقت آپ کا گھٹنا میرے گھٹنے پر تھا وحی کا اتنا بوجھ پڑا کہ میں تو ڈرنے لگا کہ میری ران کہیں ٹوٹ نہ جائے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4592]
صحیح بخاری کے شروع میں ہے حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں ”یا رسول اللہ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی تو گھنٹی کی آواز کی طرح ہوتی ہے جو مجھ پر بہت بھاری پڑتی ہے اور وہ گنگناہٹ کی آواز ختم ہو جاتی ہے تو میں اس میں جو کچھ کہا گیا وہ مجھے خوب محفوظ ہو جاتا ہے اور کبھی فرشتہ انسانی صورت میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور میں یاد کر لیتا ہوں۔“
مسند احمد میں ہے کہ کبھی اونٹنی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوتے اور اسی طاقت میں وحی آتی تو اونٹنی جھک جاتی۔ ۱؎ [مسند احمد:118/6:صحیح]
ابن جریر میں یہ بھی ہے کہ پھر جب تک وحی ختم نہ ہو لے اونٹنی سے قدم نہ اٹھایا جاتا، نہ اس کی گردن اونچی ہوتی۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:127/29:مرسل] مطلب یہ ہے کہ خود وحی کا اترنا بھی اہم اور بوجھل تھا پھر احکام کا بجا لانا اور ان کا عامل ہونا بھی اہم اور بوجھل تھا۔ یہی قول امام ابن جریر رحمہ اللہ کا ہے۔ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ جس طرح دنیا میں یہ ثقیل کام ہے اسی طرح آخرت میں اجر بھی بڑا بھاری ملے گا۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے آیت «أَقْوَمُ قِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:6] کو «اَصْوَبُ قِیْلًا» پڑھا تو لوگوں نے کہا ہم تو «أَقْوَمُ» پڑھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا «اَصْوَبُ اَقُوَمُ اَھْیَأ» اور ان جیسے سب الفاظ ہم معنی ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
المزَّمِّل: المتغطي بثيابه كالمدَّثِّر، وهذا الوصف حصل من رسول الله - صلى الله عليه وسلم - حين أكرمه الله برسالته، وابتدأه بإنزال وحيه بإرسال جبريل إليه ، فرأى أمراً لم يَرَ مثلَه ولا يقدِرُ على الثَّبات عليه إلاَّ المرسلون، فاعتراه عند ذلك - انزعاجٌ، حين رأى جبريلَ عليه السلام، فأتى إلى أهله، فقال: «زمِّلوني زمِّلوني»، وهو ترعَدُ فرائصُه، ثم جاءه جبريلُ، فقال: اقرأ. فقال: «ما أنا بقارئٍ». فغطه حتَّى بلغ منه الجهدَ، وهو يعالجه على القراءة، فقرأ - صلى الله عليه وسلم -.
ثم ألقى الله عليه الثباتَ، وتابع عليه الوحيَ، حتى بَلَغَ مَبْلَغاً ما بَلَغَه أحدٌ من المرسلين؛ فسبحان الله ما أعظم التفاوت بين ابتداء نبوَّته ونهايتها! ولهذا خاطبه الله بهذا الوصف الذي وُجِدَ منه في أول أمره، فأمره هنا بالعباداتِ المتعلِّقة به، ثم أمره بالصبر على أذيَّة قومه ، ثم أمر بالصَّدْع بأمره وإعلان دعوتهم إلى الله، فأمره هنا بأشرف العبادات، وهي الصلاة، وبآكدِ الأوقات وأفضلها، وهو قيامُ الليل. ومن رحمته [تعالى] أنَّه لم يأمرْه بقيام الليل كلِّه، بل قال: {قم الليلَ إلاَّ قليلاً}. ثم قدَّر ذلك فقال: {نصفَه أو انقُصْ منه}؛ أي: من النصف {قليلاً}: بأن يكون الثلث ونحوه، {أو زِدْ عليه}؛ أي: على النصف، فيكون نحو الثلثين ، {ورتِّل القرآن ترتيلاً}؛ فإنَّ ترتيلَ القرآن به يحصُلُ التدبُّر والتفكُّر وتحريك القلوب به والتعبُّد بآياته والتهيُّؤ والاستعداد التامُّ له؛ فإنَّه قال: {إنَّا سنُلقي عليك قولاً ثقيلاً}؛ أي: نوحي إليك هذا القرآن الثقيل؛ أي: العظيمة معانيه، الجليلة أوصافه، وما كان بهذا الوصف حقيقٌ أن يُتَهَيَّأ له ويُرَتَّل ويُتَفَكَّر فيما يشتمل عليه.