تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { لِدُلُوْكِ الشَّمْسِ:} قاموس میں ہے: {” دَلَكَتِ الشَّمْسُ اَيْ غَرَبَتْ أَوِ اصْفَرَّتْ أَوْ مَالَتْ أَوْ زَالَتْ عَنْ كَبِدِ السَّمَاءِ“} یعنی {”دَلَكَتِ الشَّمْسُ“} کا معنی ہے کہ سورج غروب ہو گیا، یا زرد ہو گیا، یا مائل ہو گیا، یا آسمان کے وسط سے ڈھل گیا۔“ اس میں تین نمازوں کا ذکر ہے، کیونکہ مشترک لفظ ایک سے زیادہ معنوں میں بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ سورج ڈھلنے کے وقت ظہر، زردی کی (غیر محسوس) ابتدا کے وقت عصر کی نماز ہے (پوری طرح زرد ہونے پر نماز مکروہ ہے) اور سورج غروب ہونے کے ساتھ مغرب کی نماز ہے۔ {” غَسَقِ الَّيْلِ “} کا معنی شروع رات کا اندھیرا ہے۔ شفق غائب ہونے کے ساتھ اندھیرا مکمل ہوتے ہی عشاء کا وقت ہو جاتا ہے۔ {” اِلٰى غَسَقِ الَّيْلِ “} (سورج ڈھلنے سے رات کے اندھیرے تک) کا معنی تو یہ ہے کہ یہ تمام وقت مسلسل نماز قائم رکھو، مگر یہ اس لیے فرمایا کہ آدمی نماز پڑھ کر اگلی نماز کے انتظار میں ہو تو وہ نماز ہی میں مشغول شمار ہوتا ہے، گویا یہ تمام وقت نماز ہی میں گزرا۔ اس میں ہر وقت نماز کی طرف توجہ رکھنے کی ترغیب ہے۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنَّكُمْ لَمْ تَزَالُوْا فِيْ صَلاَةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاَةَ] [أبوداوٗد، الصلاۃ، باب وقت العشاء الآخرۃ: ۴۲۲۔ ترمذي: ۳۳۰] ”تم اس وقت تک نماز میں رہو گے جب تک نماز کا انتظار کرتے رہو گے۔“ پھر رات کی نیند کے وقفے کے بعد صبح کی نماز کا وقت ہے، اس لیے اسے الگ ذکر فرمایا۔ (نظم الدرر للبقاعی)
➌ {وَ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ: ” أَيْ وَأَقِمْ قُرْآنَ الْفَجْرِ “} یعنی فجر کی نماز قائم کر۔ یہاں نماز کو قرآن فرمایا، کیونکہ قرآن نماز کا اہم جز ہے اور یہاں جز بول کر کل مراد لیا ہے، جیسا کہ قیام یا {”رَكْعَةٌ“} یا {”سَجْدَةٌ“} سے پوری نماز مراد ہوتی ہے۔ یہاں نماز کو قرآن کہنے کی وجہ یہ ہے کہ صبح کی نماز میں قرآن زیادہ پڑھا جاتا ہے بہ نسبت دوسری نمازوں کے۔
➍ { اِنَّ قُرْاٰنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُوْدًا: ” مَشْهُوْدًا “} جس میں حاضر ہوا جائے، یعنی اس میں رات اور دن کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں۔ [دیکھیے بخاری، الأذان، باب فضل صلاۃ الفجر في جماعۃ: ۶۴۸] یہ معنی بھی ہے کہ رات بھر کے آرام کے بعد طبیعت قرآن پڑھنے اورسننے کے لیے حاضر ہوتی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پس پانچوں نمازوں کا وقت اس آیت میں بیان ہو گیا۔ «غَسَقِ» سے مراد اندھیرا ہے۔ جو کہتے ہیں کہ «دُلُوكِ» سے مراد غروب ہے، ان کے نزدیک ظہر عصر مغرب عشاء کا بیان تو اس میں ہے اور فجر کا بیان «وَقُرْآنَ الْفَجْرِ» میں ہے۔ حدیث سے بہ تواتر اقوال و افعال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پانچوں نمازوں کے اوقات ثابت ہیں اور مسلمان بحمد للہ اب تک اس پر ہیں، ہر پچھلے زمانے کے لوگ اگلے زمانے والوں سے برابر لیتے چلے آتے ہیں۔ جیسے کہ ان مسائل کے بیان کی جگہ اس کی تفصیل موجود ہے «والْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
صحیح بخاری شریف میں ہے { تنہا شخص کی نماز پر جماعت کی نماز پچیس درجے زیادہ فضیلت رکھتی ہے۔ صبح کی نماز کے وقت دن اور رات کے فرشتے اکٹھے ہوتے ہیں۔ اسے بیان فرما کر راوی حدیث سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم قرآن کی آیت کو پڑھ لو وقران الفجر الخ۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:648]
بخاری و مسلم میں ہے کہ { رات کے اور دن کے فرشتے تم میں برابر پے در پے آتے رہتے ہیں، صبح کی اور عصر کی نماز کے وقت ان کا اجتماع ہو جاتا ہے۔ تم میں جن فرشتوں نے رات گزاری وہ جب چڑھ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرماتا ہے، باوجود یہ کہ وہ ان سے زیادہ جاننے والا ہے کہ تم نے میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑا؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم ان کے پاس پہنچے تو انہیں نماز میں پایا اور واپس آئے تو نماز میں چھوڑ کر آئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:555]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ چوکیدار فرشتے صبح کی نماز میں جمع ہوتے ہیں پھر یہ چڑھ جاتے ہیں اور وہ ٹھیر جاتے ہیں۔ ابن جریر کی ایک حدیث میں { اللہ تعالیٰ کے نزول فرمانے اور اس ارشاد فرمانے کا ذکر کیا ہے کہ کوئی ہے؟ جو مجھ سے استغفار کرے اور میں اسے بخشوں۔ کوئی ہے؟ کہ مجھ سے سوال کرے اور میں اسے دوں۔ کوئی ہے؟ جو مجھ سے دعا کرے اور میں اس کی دعا کو قبول کروں۔ یہاں تک کہ صبح طلوع ہو جاتی ہے پس اس وقت پر اللہ تعالیٰ موجود ہوتا ہے اور رات کے فرشتے اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:22595:ضعیف]
تہجد کہتے ہیں نیند کے بعد کی نماز کو، لغت میں مفسرین کی تفسیروں میں اور حدیث میں یہ موجود ہے، آپ کی عادت بھی یہی تھی کہ سو کر اٹھتے پھر تہجد پڑھتے۔ جیسے کہ اپنی جگہ بیان موجود ہے۔ ہاں حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ جو نماز عشاء کے بعد ہو ممکن ہے کہ اس سے بھی مراد سو جانے کے بعد ہو۔ پھر فرمایا یہ زیادتی تیرے لیے ہے۔ بعض تو کہتے ہیں، تہجد کی نماز اوروں کے برخلاف صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھی۔
بعض کہتے ہیں یہ خصوصیت اس وجہ سے ہے کہ آپ کے تمام اگلے پچھلے گناہ معاف تھے اور امتیوں کی اس نماز کے وجہ سے ان کے گناہ دور ہو جاتے ہیں۔ ہمارے اس حکم کی بجا آوری پر ہم تجھے اس جگہ کھڑا کریں گے کہ جہاں کھڑا ہونے پر تمام مخلوق آپ کی تعریفیں کرے گی اور خود خالق اکبر بھی۔ کہتے ہیں کہ مقام محمود پر قیامت کے دن آپ اپنی امت کی شفاعت کے لیے جائیں گے تاکہ اس دن کی گھبراہٹ سے آپ انہیں راحت دیں۔
اے اللہ تمام بھلائی تیرے ہی ہاتھ ہے۔ برائی تیری جانب سے نہیں۔ راہ یافتہ وہی ہے جسے تو ہدایت بخشے، تیرا غلام تیرے سامنے موجود ہے، وہ تیری ہی مدد سے قائم ہے، وہ تیری ہی جانب جھکنے والا ہے۔ تیری پکڑ سے سوائے تیرے دربار کے اور کوئی پناہ نہیں، تو برکتوں اور بلندیوں والا ہے، اے رب البیت تو پاک ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يأمر تعالى نبيَّه محمداً - صلى الله عليه وسلم - بإقامة الصلاة تامَّة ظاهراً وباطناً في أوقاتها، {لِدُلوك الشمس}؛ أي: ميلانها إلى الأُفقِ الغربيِّ بعد الزوال، فيدخُلُ في ذلك صلاة الظهر وصلاة العصر {إلى غَسَقِ الليل}؛ أي: ظلمتِهِ، فدخل في ذلك صلاة المغرب وصلاة العشاء، {وقرآنَ الفجْرِ}؛ أي: صلاة الفجر، وسمِّيت قرآناً لمشروعيَّة إطالة القرآن فيها أطول من غيرها، ولفضل القراءة؛ حيث يشهدها الله وملائكةُ الليلِ وملائكة النهار.
ففي هذه الآية ذكرُ الأوقات الخمسة للصَّلوات المكتوبات، وأن الصَّلوات الموقعة فيه فرائضُ؛ لتخصيصها بالأمر.
وفيها أنَّ الوقت شرطٌ لصحَّة الصلاة، وأنَّه سببٌ لوجوبها؛ لأنَّ الله أمر بإقامتها لهذه الأوقات، وأنَّ الظهر والعصر يُجمعان، والمغرب والعشاء كذلك؛ للعذر؛ لأنَّ الله جمع وقتهما جميعاً.
وفيه فضيلةُ صلاة الفجر، وفضيلة إطالة القراءة فيها، وأنَّ القراءة فيها ركنٌ؛ لأنَّ العبادة إذا سُمِّيت ببعض أجزائها؛ دلَّ على فرضيَّة ذلك.