کیا نبی ﷺ موسیقی سے لطف اندوز ہوتے تھے؟ تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ارشاد الحق اثری کی کتاب اسلام اور موسیقی پر اشراق کے اعتراضات کا جائزہ سے ماخوذ ہے۔

کیا نبی موسیقی سے لطف اندوز ہوتے تھے؟

کہنے کو تو انہوں نے یہ بات کہی ہے کہ: بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ماہرِ فن مغنی اور مغنیات، رقاص اور رقاصائیں عرب میں موجود تھیں اور نبی ﷺان کے فن سے لطف اندوز ہونے کو معیوب نہیں سمجھتے تھے۔ (اشراق:ص33 جنوری2004ء)

وہ ،،بعض روایات،، کون سی اور کیسی ہیں اور ان سے استدلال کی نوعیت کیا ہے؟ اس پر ہم پہلے بحث کر چکے ہیں اور آئندہ بھی اشراق کے ایرادات پر اپنی گزارشات قارئینِ کرام کی خدمت میں پیش کریں گے ان شاء اللہ۔ لیکن ان مباحث سے پہلے یہ دیکھیے کہ اس بارے میں خود آپ ﷺ کا کوئی ارشاد ہے یا نہیں؟ جی ہاں! اس کے متعلق حدیث اور سیّر کی کتابوں میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اہلِ جاہلیت جن باتوں کا اہتمام کرتے تھے، میں نے انہیں دیکھنے کا صرف دو بار ارادہ کیا مگر دونوں بار اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے محفوظ رکھا۔ ایک بار مکہ کے بالائی علاقے میں قریشی نوجوان کے ساتھ بکریاں چرا رہا تھا کہ میں نے اسے کہا: آج رات تم بکریوں کی نگرانی کرو، میں رات مکہ مکرمہ میں نوجوانوں کی طرح قصہ گوئی کی محفل میں شرکت کر لوں۔ اس نے کہا ٹھیک ہے۔ اس کے بعد میں وہاں سے نکلا ابھی مکہ کے پہلے ہی گھر کے پاس پہنچا تھا کہ میں نے گانے بجانے اور مزامیر کی آواز سنی، میں نے پوچھا یہ کیا ہو رہا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ فلاں کی فلاں عورت سے شادی ہو رہی ہے۔ میں اسے سننے بیٹھ گیا۔ اللہ نے میرے کان بند کر دیے اور نیند کے غلبہ کی وجہ سے میں ایسا سویا کہ سورج کی تپش ہی سے میری آنکھ کھلی، اور میں اپنے ساتھی کے پاس واپس چلا گیا۔ اس کے بعد ایک رات پھر میں نے یہی بات کہی اور حسبِ سابق مکہ پہنچا، اس رات بھی وہی واقعہ پیش آیا جو پہلے پیش آ چکا تھا کہ میں سورج طلوع ہونے تک سویا رہا، پھر میں وہاں سے واپس آ گیا، اللہ کی قسم! اس کے بعد میں نے اہلِ جاہلیت جو کچھ کرتے تھے اس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا تا آنکہ اللہ نے مجھے نبوت سے سرفراز فرمایا۔

یہ روایت [صحیح ابن حبان الاحسان: ص 56 ج 8]،[الموارد:ص 515، رقم: 2100]،[البحر الزخار:ص 241 ج 2]،[دلائل النبوۃ:ص33 ج2]،[المستدرک:ص245 ج4]،[التاریخ الکبیر:ص 130 ج 1]،[المطالب العالیہ:رقم 4212] میں مختصر اور مطول طور پر منقول ہے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ کا اسے اپنی الصحیح میں ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ روایت ان کے ہاں حسن صحیح ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے شرطِ مسلم پر صحیح کہا ہے اور علامہ ذہبی رحمہ اللہ نے تلخیص المستدرک میں ان کی موافقت کی ہے۔ لیکن شرطِ مسلم پر اسے قرار دینا محلِ نظر ہے۔ علامہ ہیثمی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس کے راوی ثقہ ہیں: رجاله ثقات (المجمع: ص226 ج8)

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے المطالب العالیہ میں فرمایا ہے: [هو حديث حسن متصل ورجاله ثقات] یہ حدیث حسن متصل ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔

علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے [الخصائص الکبریٰ:ص219 ج1] میں اور علامہ محمد یوسف الشامی رحمہ اللہ نے [سبل الہدیٰ:ص 148ج2] میں حافظ ابن حجر رحمہ اللہ سے اس کی تحسین نقل کی ہے اور علامہ البوصیری رحمہ اللہ نے بھی [اتحاف الخیرہ :ص 75 ج 7] میں وہی الفاظ کہے ہیں جو حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے ہیں، یہی روایت امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ نے [التاریخ:ص 196 ج 2] میں اور امام ابو نعیم رحمہ اللہ نے [دلائل النبوۃ: ص143] میں بھی ذکر کی ہے۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے سند کے ایک راوی محمد بن عبداللہ بن قیس کی وجہ سے اس پر کلام کیا ہے کہ وہ مشہور نہیں صرف ابن حبان رحمہ اللہ ہی نے ثقات میں ذکر کیا ہے۔ مگر اس اعتراض میں کوئی وزن نہیں، دو سے زائد ثقہ راوی اس سے روایت کرتے ہیں۔ ابن حبان کے علاوہ امام حاکم رحمہ اللہ اور ذہبی رحمہ اللہ کا اس روایت کو صحیح کہنا محمد بن عبداللہ کے صدوق ہونے کی دلیل ہے۔ تقریب التہذیب میں حافظ ابن حجر کا اسے مقبول کہنا صرف التہذیب میں منقول اقوال کی روشنی میں ہے۔ اس لئے تقریب اور المطالب العالیہ میں محمد بن عبداللہ پر ان کے کلام میں جو بظاہر تعارض بعض حضرات کو محسوس ہوا وہ بھی درست نہیں، ہم اس حوالے سے اس بحث کو طول دینا مناسب نہیں سمجھتے ، ضرورت محسوس ہوئی تو اس بارے میں اپنی معروضات قارئین کرام کی خدمت میں پیش کر دیں گے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس حسن روایت سے یہ بات نصف النہار کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ آپ ﷺ کو منصبِ نبوت سے سرفراز فرمانے سے پہلے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے آپ کو غنا ومزامیر کی مجلس سے ’لطف اندوز‘ ہونے سے محفوظ رکھا، اور آپ نے یہ وضاحت بھی فرما دی کہ اللہ کی قسم! اس کے بعد کبھی ان کے سننے کا ارادہ نہیں کیا۔ مگر جناب جاوید احمد غامدی صاحب اور اربابِ اشراق فرماتے ہیں: کہ آپ ایسی مجلسوں اور محفلوں سے لطف اندوز ہونے کو معیوب نہیں سمجھتے تھے۔ معاذ الله، كبرت كلمة تخرج من أفواههم

اب آیئے اشراق کی اس تنقید کا مختصراً جائزہ قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

عید پر موسیقی:

اسی عنوان کے تحت اشراق نے [بخاری: 952] سے موسیقی کے جواز پر استدلال کیا کہ عید کے دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں دو جاریہ گیت گا رہی تھیں، اسی اثنا میں نبی کریم ﷺ تشریف لائے، اپنا رخ دوسری جانب کر کے بستر پر درازہو گئے پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو سرزنش کرتے ہوئے فرمایا: کہ نبیﷺ کے سامنے یہ شیطانی ساز کیوں بجائے جا رہے ہیں؟ یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: کہ انہیں کرنے دو۔ جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ دوسرے کام میں مشغول ہوئے تو سیدہ رضی اللہ عنہا نے ان گانے والیوں کو جانے کا اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں۔

اشراق کا استدلال اس پر تھا کہ حدیث میں جاریتان کا لفظ آیا ہے جس کے معنی لونڈیاں ہیں اور وہ گانے والی لونڈیاں ماہرِ فن مغنیہ تھیں کیوں کہ ایک روایت میں [جاریتان] کی بجائے [قینتان] کا لفظ آیا ہے اور قینہ کے معروف معنی پیشہ ور مغنیہ ہیں۔

[ليستا بمغنيتين] کا جملہ جس کے جواب میں عرض کیا گیا تھا کہ صحیح بخاری ہی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی یہ وضاحت موجود ہے کہ [قالت:ولیستا بمغنيتین] انہوں نے فرمایا: کہ وہ دونوں مغنیہ نہ تھیں۔ اس لئے جاریہ یا قینہ کے معنی یہاں ماہرِ فن مغنیہ کرنا قطعاً درست نہیں۔ جس کے جواب میں اشراق نے لکھا ہے:اس جملے کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ یہ در حقیقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہی نہیں ہے۔ یہ بعد کے راویوں کا اپنا قیاس ہے جسے انہوں نے متن میں شامل کر دیا ہے۔ (اشراق: ص 30، مارچ 2006ء)

اس دعویٰ کے لئے انہوں نے اپنے معاون، مدیر الشریعہ اور المورد جناب عمار خان صاحب ناصر کی تحقیق سے استفادہ کرتے ہوئے جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ عروہ بن زبیر کے چار شاگرد جو اس روایت کو بیان کرتے ہیں ان میں سے صرف ایک شاگرد ہشام بن عروہ اس لفظ [لیستا بمغنيتین] کو بیان کرتا ہے اور ہشام سے بھی ان کے ایک شاگرد ابو اسامہ ہی اس جملے کو بیان کرتے ہیں اصولِ روایت کی رو سے یہ بات بعید از قیاس ہے کہ استاد کے تمام شاگردوں میں سے صرف ایک کو ہی یہ جملہ یاد رہا ہو۔ اس لئے یہ جملہ اصل روایت کا حصہ نہیں اور نہ اسے ام المؤمنین کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے۔ (اشراق: ص 30، 31، مارچ 2006ء)

بڑے ہی افسوس بلکہ تعجب کی بات ہے کہ راوی بالصراحت بیان کرتا ہے: [قالت:وليستا بمغنيتين] کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہ وہ دونوں پیشہ ور مغنیہ نہ تھیں۔ مگر اربابِ اشراق کو [قالت] کا لفظ شاید نظر نہیں آیا، بالکل اسی طرح جس طرح اس سے پہلے انہیں یہ جملہ سرے سے نظر ہی نہیں آیا اور [قينة] کا لفظ نظر آ گیا۔ تبھی تو فرمایا جا رہا ہے کہ یہ در حقیقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہی نہیں، یہ بعد کے راوی کا اپنا قیاس ہے۔ آپ صاف طور کیوں نہیں کہہ دیتے: کہ عروہ نے یا ہشام نے یا ابواسامہ نے قالت کہنے میں غلط بیانی سے کام لیا ہے، تھا تو یہ اس کا اپنا قول و قیاس اور نسبت کر دی حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف۔ سبحان اللہ

یہ الفاظ مسند یا سنن و معاجم کی کسی کتاب کے نہیں، ہم عرض کر چکے ہیں کہ یہ الفاظ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے ہیں۔ اربابِ اشراق کو یہ الفاظ گوارا نہیں اس لئے انہوں نے اس کی صحت کے انکار کا بیڑا اٹھایا۔ ان سے پہلے ان الفاظ کی صحت کا انکار کسی بھی صاحبِ علم سے ثابت نہیں۔ ہم شکر گزار ہوں گے اگر وہ اپنی تائید میں ائمۂ فن میں سے کسی ایک کا قول پیش کریں، ان کی یہ کوشش یقیناً ہمارے علم میں اضافہ کا باعث ہو گی۔ جو حضرات امتِ اسلامیہ کے بالکل برعکس مصادرِ شریعت کو بدل دینے کی رائے رکھتے ہوں ان سے اس قسم کی جسارت قطعاً غیر متوقع نہیں، اور صحیح بخاری و صحیح مسلم کی متفق علیہ حدیث پر ایسا خود ساختہ اعتراض بالکل ناممکن نہیں۔

جس وہم میں اربابِ اشراق مبتلا ہیں کہ ”یہ بعد کے راوی کا اپنا قیاس ہے“ اس وہم کے ازالہ کے لئے ہی تو راوی نے قالت کی پہلے ہی صراحت کر دی کہ یہ کسی راوی کا نہیں خود حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنا ارشاد ہے۔ راوی نے تو اس وہم سے بچایا اور تمام اہل علم اس وہم میں مبتلا ہونے سے بحمدللہ محفوظ رہے، مگر افسوس کہ اربابِ اشراق اس کے باوجود اس وہم میں مبتلا ہیں، اگر یہ امر واقع نہیں تو آپ فرمائیے کہ یہ جملہ ہوشیار راوی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب کر دیا ان کا فرمودہ نہیں تھا، یوں راوی کی عدالت پرحرف گیری کیجئے اور میدان میں آیئے، اور بتلایئے کہ عروہ یا ہشام یا ابواسامہ ایسا ویسا راوی تھا۔ جس نے اپنی بات غلط طور پر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب کر دی۔