نزولِ عیسیٰ علیہ السلام کی متواتر احادیث اور انکار کا حکم علماء کی تصریحات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

احادیث عیسیٰ علیہ السلام کے متواتر ہونے کے متعلق علماء کی تصریحات

عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق احادیث کے بارے میں علمائے کرام کی تصریح موجود ہے کہ یہ احادیث متواتر ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں:
➊ امام کتانی فرماتے ہیں:
الحاصل أن الأحاديث الواردة فى المهدي المنتظر متواترة وكذا الواردة فى الدجال وفي نزول سيدنا عيسى عليه السلام
”حاصل یہ ہے کہ مہدی منتظر اور اسی طرح دجال اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے بارے میں وارد شدہ احادیث متواتر ہیں۔“
نظم المتناثر من الحديث المتواتر ، ص : 241 ، حدیث : 291
➋ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا:
ثم إنه رفعه إليه وأنه باق حي وأنه سينزل قبل يوم القيامة كما دلت عليه الأحاديث المتواترة التى سنوردها إن شاء الله قريبا
”اللہ تعالیٰ کا اس (عیسیٰ علیہ السلام) کو اپنی طرف اٹھانے، ان کے باقی اور زندہ رہنے، اور قیامت کے دن سے پہلے اترنے پر متواتر احادیث دلالت کرتی ہیں۔ ہم ان شاء اللہ قریب ہی ان کا ذکر کریں گے۔“
تفسير ابن كثير: 1/791، النساء: 159
➌ امام ابن عطیہ اندلسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وأجمعت الأمة على ما تضمنه الحديث المتواتر من أن عيسى عليه السلام فى السماء حي وأنه ينزل فى آخر الزمان
”امت کا اس متواتر حدیث پر اجماع ہے جو اس بات کو متضمن ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر زندہ ہیں اور وہ آخری زمانے میں نازل ہوں گے۔“
المحرر الوجيز: 2/105
➍ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا:
تواترت الأخبار بأن المهدي من هذه الأمة وأن عيسى عليه السلام يصلي خلفه
”متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ مہدی اس امت سے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔“
فتح الباري: 6/493-494
اسی طرح امام ابن جریر،
جامع البيان : 389/3
سنوسی،
إكمال الإكمال : 445/1
انور شاہ کاشمیری
إكفار الملحدين، ص : 8
اور دیگر متعدد ائمہ، مفسرین اور ائمہ محدثین کی تصریحات اس بات پر شاہد ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق احادیث متواتر ہیں۔ علمائے کرام نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ متواتر حدیث کا انکار کفر ہے۔

متواتر احادیث سے ثابت امر کے انکار کا حکم

امام ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا:
ولا نكفر أهل القبلة إلا بإنكار المتواتر من الشريعة
”ہم اہل قبلہ کی تکفیر صرف اسی صورت میں کرتے ہیں جب وہ شریعت کے متواتر حکم سے انکار کریں۔“
الموقظة، ص: 86
انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے،
إكفار الملحدين، مقدمة
اور شیخ طاہر دمشقی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جب حدیث حد تواتر کو پہنچ جائے تو اس حدیث کے متعلق اس کے راویوں پر بحث نہیں کی جاتی بلکہ بحث کیے بغیر اس پر عمل کرنا واجب ہو جاتا ہے۔“
إ توجيه النظر، ص: 1/139