جرح تعدیل پر کب مقدم ہوگی؟ اصولِ جرح و تعدیل کا تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

احادیث عیسیٰ علیہ السلام کے راویوں پر جرح کا حکم

❀ امام بخاری اور دیگر محدثین رحمہم اللہ نے عیسیٰ علیہ السلام کے نزول کے متعلق احادیث کو بڑے بڑے محدثین سے نقل کیا ہے۔ جیسے: یعقوب بن ابراہیم، ابن شہاب زہری، سعید بن مسیب، لیث، یونس، نافع، ہشام، قتادہ، شعبہ، محمد بن زیاد، ابو زناد اور اعرج رحمہم اللہ۔ ان حضرات کے متعلق بعض اشخاص نے جرح کی ہے جیسا کہ رسالے کے مؤلف محمد ہادی نے بھی ان کی اندھی تقلید کی ہے۔ اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ جرح تعدیل پر مقدم ہے۔ ان کے اس قاعدہ و قانون کے بارے میں کچھ وضاحت کی جا چکی ہے لیکن یہاں کچھ تفصیل بیان کی جائے گی تا کہ اس قانون و قاعدہ کے لوگ اپنی تلبیس سے عوام الناس کو گمراہ نہ کر سکیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جرح تعدیل پر مقدم ہوتی ہے لیکن یہ قاعدہ مطلقاً نہیں ہے بلکہ جرح اس وقت تعدیل پر مقدم ہوگی جب وہ مفسر ہو چنانچہ امام نووی رحمہ اللہ صحیح مسلم کے بعض راویوں پر ضعف کا حکم لگانے والوں کی تردید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
لأن ذلك فيما إذا كان الجرح ثابتا مفسر السبب وإلا فلا يقبل الجرح إذا لم يكن كذا
”(یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جرح تعدیل پر مقدم ہے) کیونکہ یہ تو اس وقت ہے جب جرح ثابت اور مفسر ہو، ورنہ تو جرح قبول ہی نہیں ہوگی جب تک وہ ثابت اور مفسر نہ ہو۔“
شرح مسلم للنووي: 1/47
امیر صنعانی رحمہ اللہ نے فرمایا:
وهذه القاعدة لو أخذت كلية لم يبق لنا عدل إلا الرسل فإنه ما سلم فاضل من طاعن من ذلك لا من الخلفاء الراشدين ولا أحد من أئمة الدين
”اگر اس قاعدے کو مطلق طور پر لے لیا جائے تو پھر صرف رسول ہی باقی رہ جاتے ہیں جن پر کوئی جرح نہ ہو کیونکہ کوئی فاضل شخص طعن کرنے والے کے نشتر سے نہیں بچ سکا۔ یہاں تک کہ خلفائے راشدین میں سے کوئی بچا نہ ائمہ دین میں سے۔“
إرشاد النقاد إلى تيسير الاجتهاد، ص: 46
لکھنوی رحمہ اللہ نے فرمایا:
قد زل قدم كثير من علماء عصرنا بما تحقق عند المحققين أن الجرح مقدم على التعديل لغفلتهم عن التقييد والتفصيل توهما منهم أن الجرح مطلقا أى جرح كان من أى معدل كان فى شأن أى راو كان وليس الأمر كما ظنوا
”ہمارے دور کے بہت سے علماء اس بارے میں لغزش کا شکار ہو گئے کہ جرح تعدیل پر مقدم ہے۔ انہوں نے ایسا اس لیے کہا کہ وہ اس معاملے میں لگائی گئی چند قیود اور تقیید و تفصیل سے غافل رہے اور انہیں وہم ہوا کہ جرح مطلق طور پر مقدم ہے، یعنی جرح جیسی بھی ہو، کسی بھی معدل سے ہو، جس حالت میں ہو اور جس راوی پر ہو، ہر صورت میں جرح تعدیل پر مقدم ہوگی، حالانکہ معاملہ ایسے نہیں جیسے انہوں نے سمجھ رکھا ہے۔“
الرفع والتكميل، ص: 117
انہوں نے مزید لکھا ہے: ”بعض اہل جرح و تعدیل کی کسی راوی پر جرح کرنے کی وجہ سے آپ پر واجب ہے کہ آپ اس راوی پر جرح کا حکم لگانے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کریں بلکہ آپ پر لازم ہے کہ آپ اس معاملے میں تنقیح کریں کیونکہ یہ معاملہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ آپ کے لیے جائز نہیں کہ آپ ہر جرح کرنے والے کی بات قبول کریں، خواہ وہ کسی بھی راوی کے بارے میں ہو اگرچہ وہ جرح کرنے والا ائمہ میں سے ہی کیوں نہ ہو کیونکہ بسا اوقات ایسے ہوا ہے کہ جرح قبول کرنے سے کوئی مانع پایا جاتا ہے۔ تب جرح کو رد کرنے کے بارے میں حکم دیا جاتا ہے اور اس کی بہت سی صورتیں ہیں جو کتب شریعہ کے ماہرین پر مخفی نہیں۔“
الرفع والتكميل، ص: 264-265
سبکی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”آپ یہ بات قبول کرنے سے مکمل طور پر احتیاط کریں کہ ان کا قاعدہ، جرح تعدیل پر مطلق طور پر مقدم ہے بلکہ درست بات یہ ہے کہ جس کی امامت اور عدالت ثابت ہو، اس کی مدح کرنے والے زیادہ اور جرح کرنے والے نادر ہوں اور وہاں یہ قرینہ بھی موجود ہو کہ جرح کا سبب مذہبی عصبیت وغیرہ ہو سکتا ہے تو پھر اس کی جرح کی طرف نہیں دیکھا جائے گا۔ ہم آپ کو بتا چکے ہیں کہ جارح کی جرح ایسے شخص کے بارے میں قبول نہیں ہوگی اگرچہ وہ جرح مفسر ہی کیوں نہ ہو جس کی نیکیاں اس کی معصیت پر، اس کی مدح کرنے والے اس کی مذمت کرنے والوں پر اور اس کا تزکیہ بیان کرنے والے اس کی جرح کرنے والوں پر غالب ہوں، جبکہ وہاں یہ ثبوت بھی ہو کہ عقل اسے تسلیم کرتی ہو کہ صرف مذہبی تعصب یا دنیوی منافست اس کی جرح کا باعث ہے جیسا کہ ہم عصروں میں ایسے ہوتا ہے تو پھر ہم کسی کے بارے میں ایسی جرح کی طرف التفات نہیں کریں گے بلکہ اس کے بارے میں عدالت پر عمل کریں گے۔ اگر ہم نے ایسے نہ کیا اور اس بات کو کھول دیا یا ہم نے مطلق طور پر جرح کو مقدم کر دیا تو پھر ہمارے لیے کوئی امام (جرح سے) سلامت نہیں رہتا کیونکہ ایسا کوئی امام نہیں جس کے بارے میں طعن کرنے والوں نے طعن نہ کیا ہو اور ہلاک ہونے والے اس میں ہلاک نہ ہوئے ہوں۔“
طبقات الشافعية الكبرى: 1/188، وقاعدة في الجرح والتعديل، ص: 18
امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ نے فرمایا:
كل رجل ثبتت عدالته لم يقبل فيه تجريح أحد حتى يبين ذلك عليه بأمر لا يحتمل غير جرحه
”ہر شخص جس کی عدالت ثابت ہو جائے تو اس کے بارے میں کسی کی جرح قبول نہیں ہوگی حتیٰ کہ اس کے بارے میں تجھے واضح ہو جائے کہ اس کے بارے میں جرح کے علاوہ کوئی اور احتمال نہیں۔“
تهذيب التهذيب: 7/241
ڈاکٹر عبدالعزیز نے کہا: ”جب ناقد کے کلام اور امام بخاری و امام مسلم میں ان کے کلام میں کسی بدعتی شخص کے بارے میں کہ جس سے انہوں نے روایت کی ہے، تعارض آ جائے تو اس راوی کے متعلق ان دونوں (امام بخاری اور امام مسلم) کے کلام کو دیگر لوگوں کے کلام پر مقدم کیا جائے گا اور ان دونوں کا کلام معتبر ہوگا کیونکہ وہ راویوں کے بارے میں دوسروں سے بہتر جانتے ہیں۔“
ضوابط الجرح والتعديل، ص: 103
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا:
إذا كان الجارح والمعدل من الأئمة لم يقبل الجرح إلا مفسرا فيكون التعديل مقدما على الجرح المطلق
”جب اس طرح کی صورت حال ہو تو کہا جائے گا کہ جب جرح کرنے والے اور تعدیل کرنے والے ائمہ میں سے ہوں تو پھر صرف جرح مفسر ہی قبول کی جائے گی اور تعدیل مطلق جرح پر مقدم ہوگی۔“
مجموع الفتاوى لابن تيمية: 24/351
زیلعی رحمہ اللہ نے فرمایا:
ومجرد الكلام فى الرجل لا يسقط حديثه ولو اعتبرنا ذلك لذهب معظم السنة إذ لم يسلم من كلام الناس إلا من عصمه الله تعالى
”کسی آدمی پر مجرد کلام اس کی حدیث کو ساقط نہیں کر دیتا۔ اگر ہم اس طرح کریں گے تو پھر سنت کا بہت سا حصہ جاتا رہے گا کیونکہ لوگوں کے کلام سے صرف وہی بچا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بچایا ہو۔“
نصب الراية: 1/341
امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”پس ایسی صورت میں اسے اس شرط پر وقف کرنا چاہیے جو ہم نے بیان کی ہے کہ اسے ایسے شخص کے بارے میں کسی کی بات قبول نہیں کرنی چاہیے جس کا عادل ہونا صحیح ثابت ہو، عالم ہونے کے حوالے سے مشہور ہو، کبیرہ گناہوں سے محفوظ ہو، مروت و تعاون کا التزام کرتا ہو، اس کی نیکی و بھلائی غالب ہو، تو ایسے شخص کے بارے میں کسی شخص کا بلا دلیل قول قبول نہیں کیا جائے گا، پس یہی حق ہے اور ان شاء اللہ اس کے علاوہ اور کوئی چیز صحیح نہیں۔“
جامع بيان العلم: 2/118
یہ ساری تفصیل اس لیے بیان کی گئی ہے کہ بعض جاہل لوگ اپنا باطل نظریہ ثابت کرنے کے لیے اور صحیح حدیث کو ضعیف قرار دینے کے لیے اس کلیے کو استعمال کرتے ہیں کہ جرح تعدیل پر مقدم ہے، پس ایسا راوی جو مشہور امام اور محدث ہو تو یہ لوگ اس مذکورہ کلیے کی رو سے حدیث پر تنقید کر کے اس کو ساقط الاستدلال بنا دیتے ہیں جیسا کہ رسالے کے مؤلف نے امام بخاری رحمہ اللہ کی سند سے نزول عیسیٰ علیہ السلام کی حدیث کو ضعیف قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ در حقیقت یہ لوگ خواہشات نفس کے اتباع کی وجہ سے مسلمانوں کے مسلمہ عقائد میں شکوک و شبہات ڈال کر تفرقہ پیدا کر رہے ہیں۔ نعوذ بالله من شرورهم.
وصلى الله تعالى على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين