مقفی کا معنی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نام مقفی بھی ہے، یہ عاقب کا ہم معنی لفظ ہے، علمائے لغت اور محدثین کرام رحمہ اللہ کی تصریحات ملاحظہ ہوں۔
ابو منصور ازہری رحمہ اللہ (370ھ) لکھتے ہیں :
قال شمر : المقفي نحو العاقب، وهو المولي الناهب؛ يقال : قفى عليه، أى : ذهب به، فكأن المعنى أنه آخر الأنبياء، فإذا قفى فلا نبي بعده، قال : والمقفي : المتبع للنبيين .
”(امام اللغة) شمر (بن حمدویہ رحمہ اللہ م 255ھ) کہتے ہیں کہ مقفی عاقب کا ہم معنی لفظ ہے، اس کا معنی ختم کرنے والا ہے، عرب میں قفّي عليه کا معنی ہے : فلاں نے فلاں چیز کو ختم کر دیا، تو مقفي کا معنی یہ ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں، آپ سب انبیا کے بعد تشریف لائے۔“
(تهذيب اللغة : 247/9)
علامہ زمخشری رحمہ اللہ (538ھ) لکھتے ہیں :
أنا المقني، عقبه وقفاه : بمعنى : إذا أتى بعده يعني أنه آخر الأنبياء عليهم السلام .
”مقفی کا معنی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انبیا کے بعد آئے، انبیا کے بعد آنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔“
(الفائق في غريب الحديث : 10/3)
قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) لکھتے ہیں :
أنا المقفي، فمعناه معنى العاقب، قال شمر : هما بمعنى، يقال : قفى عليه ، أى ذهب به ، فكان معناه : أنا آخر الأنبياء، وقال ابن الأعرابي : المقفي المتبع للنبيين .
”میں مقفی ہوں، یہ عاقب کا ہم معنی لفظ ہے۔ امام اللغة شمر رحمہ اللہ کہتے ہیں مقفی عاقب کا ہم معنی لفظ ہے، اس کا معنی ختم کرنے والا ہے، عرب میں قفى عليه کا معنی ہے : فلاں نے فلاں چیز کو ختم کر دیا۔ تو مقفی کا معنی یہ ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی نہیں، ابن الاعرابی رحمہ اللہ کہتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیا کے بعد تشریف لائے۔“
(إكمال المعلم : 322/7)
علامه ابن قرقول رحمہ اللہ (569ھ) لکھتے ہیں :
قوله صلى الله عليه وسلم : وأنا المقفي، هو الذى ليس بعده نبي، وقيل : المتبع آثار من قبله من الأنبياء، وقد جاء فى الحديث مفسرا : الذى ليس بعدي نبي .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں مقفی ہوں۔ مقفی اسے کہتے ہیں، جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔ مقفی کا معنی یہ بھی کیا گیا ہے کہ جو پہلے انبیا کے بعد آنے والا ہو، حدیث میں اس لفظ کی تفسیر و تشریح آتی ہے : الذي ليس بعدي نبي میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
(مطالع الأنوار : 393/5)
علامہ ابن اثیر رحمہ اللہ (606ھ) لکھتے ہیں :
في أسمائه عليه الصلاة والسلام المقفي، هو المولي الذاهب، وقد قفى يقني فهو مقف، يعني أنه آخر الأنبياء المتبع لهم، فإذا قفى، فلا نبي بعده .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک نام مقفی ہے، اس کا معنی ہے ختم کرنے والا۔ یہ باب تفعیل سے اسم فاعل ہے، یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔“
(النهاية في غريب الحديث : 94/4)
حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) لکھتے ہیں :
قال العلماء : معناهما يحشرون على أثري وزمان نبوتي ورسالتي وليس بعدي نبي .
”علما کے ہاں ان دونوں الفاظ عاقب، مقفی کا معنی یہ ہے کہ حشر میری نبوت اور رسالت ہی میں ہوگا، کیونکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔“
(شرح النووي : 105/15)
علامہ طیبی رحمہ اللہ (743ھ) لکھتے ہیں :
المقفي، قيل : هو على صيغة الفاعل، المولي الناهب يقال : قفى عليه أى ذهب به، وكأن المعنى : هو آخر الأنبياء فإذا فني، فلا نبي بعده، فمعنى المقفي والعاقب واحد، لأنه تبع الأنبياء صلوات الله عليهم وهو المقفي لأنه المتبع للنبيين، وكل شيء يتبع شيئا، فقد قناه، يقال : هو يقفو أثر فلان أى يتبعه، قال الله تعالى : ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا، وسميت قافية البيت بها لأنها كلمة تتبع سائر الكلمات وسمي القفا لأنه خلف الوجه، هذا أحد الوجهين فى تسمية النبى صلى الله عليه وسلم المقفي .
”مقفی کو فاعل کا صیغہ پڑھا گیا ہے، اس کا معنی یہ ہے کہ آپ نے نبوت کو ختم کر دیا۔ عرب میں کہا جاتا ہے : قفّى عليه، مطلب ہوتا ہے کہ فلاں نے فلاں چیز کو ختم کر دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاگئے، تو آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ مقفی اور عاقب ہم معنی الفاظ ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیا کے آخر میں آئے ہیں، ہر چیز جو کسی کے بعد آئے، وہ پہلی کے آخر میں ہوتی ہے۔ عربی میں کہا جاتا ہے : يقفو أثر فلان یعنی وہ فلاں کے پیچھے آیا۔ فرمان باری تعالیٰ ہے : ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا پھر ہم نے ان کے بعد اپنے رسول بھیجے۔ نظم کے آخری شعر کو قافیہ اس لئے کہا جاتا ہے، کہ وہ نظم کے آخر میں آتا ہے، گدی کو قفا اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ چہرے کی پچھلی جانب ہوتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مقفی رکھنے کی ایک یہ وجہ بھی ہے۔“
(شرح الطيبي : 3684/12)
علامہ فیومی رحمہ اللہ (770ھ) لکھتے ہیں :
سمي رسول الله صلى الله عليه وسلم العاقب لأنه عقب من كان قبله من الأنبياء أى جاء بعدهم .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام عاقب رکھا گیا ہے، کیوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے انبیا کے بعد آتے ہیں۔“
(المصباح المنير : 419/2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) لکھتے ہیں :
المقفي أى جئت فى أثر الأنبياء أخيرا .
”مقفی کا معنی ہے کہ میں تمام انبیا کے آخر میں آیا ہوں۔“
(هدى الساري ص : 175)