زانی عورتیں
یہاں زانی عورتوں سے مراد فاحشہ گری کرنے والی عورتیں ہیں جو اعلانیہ زنا کا پیشہ اختیار کرتی ہیں۔ روایت ہے کہ سیدنا مرثد بن ابی مرثد رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک زنا کار عورت سے جس کے ساتھ زمانہ جاہلیت میں ان کا تعلق تھا اور جس کا نام عناق تھا، نکاح کرنے کی اجازت طلب کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض فرمایا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی :
الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ
”زانی نکاح نہیں کرتا مگر زانیہ یا مشرکہ کے ساتھ۔ اور زانیہ کے ساتھ نکاح نہیں کرتا مگر زانی یا مشرک۔ اور یہ اہل ایمان پر حرام کر دیا گیا ہے۔“
(النور : 3)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت انہیں سنائی اور فرمایا :
لا تنكحها
”اس سے نکاح نہ کرو۔“
ابو داود کتاب النکاح باب فی قوله تعالى الزانی لا ینكح الا زانیة ح : 2051 ۔ ترمذی کتاب تفسیر القرآن باب ومن سورة النور ح : 3177 ۔ نسائی کتاب النکاح باب تزویج الزانیة ح : 3230
اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکدامن مؤمن عورتوں اور پاکدامن کتابی عورتوں کے ساتھ نکاح جائز ٹھہرایا ہے۔ اس طرح مردوں کے لیے نکاح مندرجہ ذیل شرط کے ساتھ جائز ٹھہرایا ہے :
مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ
”وہ قید نکاح میں لانے والے ہوں نہ کہ بدکاری کرنے والے۔“
(النساء : 24)
تو جو شخص کتاب اللہ کے اس حکم کو تسلیم نہ کرے اور اس کی پابندی قبول نہ کرے وہ مشرک ہے۔ اس سے نکاح کرنا وہی شخص پسند کر سکتا ہے جو اسی کی طرح مشرک ہو لیکن جس نے اس حکم کو تسلیم کیا اور اس کی پابندی کو قبول کیا، لیکن عمل اس کے خلاف کیا اور جس عورت سے نکاح حرام ہے اس سے نکاح کر لیا تو وہ زانی ہے۔
سورۃ نور کی مذکورہ آیت درج ذیل آیت کے بعد بیان ہوئی ہے :
الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ
”زانی عورت اور زانی مرد ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔“
(النور : 2)
یہ جسمانی سزا ہے اور وہ تادیبی سزا تھی۔ کیونکہ زانی یا زانیہ سے نکاح کی حُرمت اس بات کی متقاضی ہے کہ اسے اہم مقامات پر رہنے نہ دیا جائے اس کی قومیت (Nationality) کو ختم کر دیا جائے یا موجودہ عرف کے لحاظ سے جو معاشرتی حقوق مقرر ہیں ان سے اسے محروم کر دیا جائے۔
ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
یہ حکم جو قرآن کی رو سے بالکل صریح اور واجب ہے وہ مقتضائے عقل و فطرت بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ کے لیے یہ بات حرام ٹھہرائی ہے کہ وہ کسی فاحشہ عورت کا شوہر یا دیوث یا رفیق ہو۔ اللہ نے انسان کو جس فطرت پر پیدا کیا ہے وہ ایسی باتوں کو قبیح اور معیوب خیال کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی شخص کو بہت زیادہ برا بھلا کہنا ہو تو بولتے ہیں یہ فاحشہ عورت کا شوہر ہے۔
لہذا اللہ تعالیٰ نے مسلمان کے لیے حرام ٹھہرایا کہ وہ واقعی ایسا بن جائے۔ اس تحریم سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ عورت کا یہ گناہ شوہر کے بستر کی خرابی اور نسب کی خرابی کا موجب ہے حالانکہ اللہ نے نسب کو عظیم مصلحتوں پر قائم فرمایا ہے اور اس کو اپنی نعمتوں میں شمار کیا ہے۔ لیکن زنا نطفہ کے اختلاط کا باعث ہے اور اس سے نسب مشتبہ ہو جاتا ہے لہذا شریعت کی یہ خوبی ہے کہ اس نے زانیہ سے نکاح حرام ٹھہرایا جب تک کہ وہ توبہ نہ کرے اور اپنے رحم کو پاک نہ کرے۔ (یعنی کم از کم ایک حیض نہ آئے)
اغاثة اللهفان : 1 / 67-66
زانیہ سے نکاح کی حرمت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ زانیہ خبیث عورت ہوتی ہے. اللہ سبحانہ نے نکاح کو باعث مودت و رحمت بنایا ہے اور مودت خالص محبت کا نام ہے لہذا ایک خبیث عورت کس طرح ایک پاکیزہ مرد کی محبوب بیوی بن سکتی ہے؟ زوج کو زوج اس لیے کہتے ہیں کہ وہ باہم مماثل (ہم آہنگ) ہوتے ہیں۔ لیکن طیب اور خبیث کے درمیان شرعاً اور عقلاً کامل منافرت پائی جاتی ہے اس لیے دونوں کے درمیان نہ ہم آہنگی پیدا ہوسکتی ہے اور نہ ہمدردی اور محبت کے جذبات۔ اللہ تعالیٰ نے بالکل صحیح فرمایا ہے :
الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ ۖ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ
”خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے۔“
(النور : 26)
نکاح متعہ
اسلام میں نکاح کی حیثیت ایک مضبوط عقد اور پختہ عہد کی ہے جس کی پشت پر زوجین کا ابدی زندگی گزارنے کا ارادہ کار فرما ہوتا ہے تاکہ باہم نفسیاتی سکون اور مودت و رحمت کی فضا پیدا ہو۔ علاوہ ازیں اس کا مقصد عمرانی بھی ہے یعنی سلسلہ تناسل کو جاری رکھنا تاکہ نوع انسانی کی بقا کا سامان ہو۔
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَجَعَلَ لَكُم مِّنْ أَزْوَاجِكُم بَنِينَ وَحَفَدَةً
”اور اللہ نے تمہاری جنس سے تمہارے لیے بیویاں پیدا کیں اور تمہاری بیویوں سے تمہارے لیے بیٹے اور پوتے پیدا کئے۔“
(النحل : 72)
رہا متعہ کا نکاح جو مرد کے کسی عورت سے مقررہ مدت کے لیے مقررہ اجرت پر تعلق پیدا کرنے کا نام ہے تو وہ اس حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ اس کی اجازت شریعت کی تکمیل سے پہلے سفر اور غزوات وغیرہ کے موقع پر دی گئی تھی، لیکن بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا اور ابدی طور پر اس کو حرام قرار دیا۔
شروع میں متعہ کو اس لیے جائز قرار دیا گیا تھا کہ مسلمان جاہلیت سے اسلام کی طرف بڑھتے ہوئے عبوری دور سے گزر رہے تھے۔ زمانہ جاہلیت میں زنا آسان اور عام تھا۔ جب اسلام آیا اور غزوات و جہاد کے لیے سفر کا معاملہ درپیش ہوا تو عورتوں سے دوری لوگوں پر شاق گزرنے لگی۔ مسلمانوں کے اندر ایمان کے لحاظ سے قوی اور ضعیف دونوں طرح کے لوگ تھے۔ ضعیف الایمان لوگوں کے زنا میں مبتلا ہو جانے اور بے حیائی کے راستہ پر جا پڑنے کا اندیشہ تھا۔ دوسری طرف جو لوگ قوی الایمان تھے انہوں نے اپنے کو خصی کر لینے کا ارادہ کر لیا تھا۔
چنانچہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
كنا نغزو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس معنا نساء فقلنا ألا نستخصي؟ فنهانا رسول الله عن ذلك ورخص لنا أن ننكح المرأة بالثوب إلى أجل
”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں جایا کرتے تھے اور ہمارے ساتھ عورتیں نہیں ہوتی تھیں، اس لیے ہم نے عرض کیا : کیا ہم اپنے آپ کو خصی نہ کر لیں؟ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرمایا اور ہمیں اجازت دی کہ ہم کسی عورت سے ایک مدت تک کے لیے کپڑے کے عوض نکاح کر سکتے ہیں۔“
بخاری کتاب النکاح باب ما یکرہ من التبتل والخصاء ح : 5075 ۔ مسلم کتاب النکاح باب نکاح المتعة ح : 1404
متعہ کا یہ جواز رخصت کی حیثیت رکھتا تھا، تاکہ ضعیف الایمان اور قوی الایمان دونوں گروہوں کی مشکلات کا حل نکل آئے۔ اسلام مسلمان کی ازدواجی زندگی کے لیے جو شرعی قوانین بنانا چاہتا تھا اس راہ میں یہ ایک قدم تھا، وہ ایسی ازدواجی زندگی عطا کرنا چاہتا تھا جو نکاح کے جملہ مقاصد کو پورا کرے مثلاً : پاکدامنی، رشتہ نکاح کی مستقل حیثیت، سلسلہ تناسل، مودت و رحمت نیز خاندان کے دائرہ کی مصاہرت (سسرال) کے ذریعہ توسیع وغیرہ۔
جس طرح قرآن نے شراب اور سود کی حرمت کے بارے میں تدریجاً احکام دیئے جبکہ زمانہ جاہلیت میں ان چیزوں کا بڑا رواج اور غلبہ تھا اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرمگاہوں کی حرمت کے سلسلہ میں بھی احکام دینے میں تدریج کا لحاظ فرمایا۔ چنانچہ مجبوری کی صورت میں متعہ کی اجازت دی لیکن بعد میں نکاح کی اس قسم کو بھی حرام قرار دیا۔ جیسا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور صحابہ کے ایک گروہ کا بیان ہے اور صحیح مسلم نے سیدنا سبرہ جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے :
أنه غزا مع النبى صلى الله عليه وسلم فى فتح مكة فأذن لهم فى متعة النساء قال فلم يخرج حتى حرمها رسول الله صلى الله عليه وسلم
”وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر غزوہ میں شریک تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شرکائے غزوہ کو عورتوں سے متعہ کرنے کی اجازت دی۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں سے نکلنے سے پہلے ہی اسے حرام کر دیا۔“
مسلم کتاب النکاح باب نکاح المتعة ح : 1406
دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وإن الله حرم ذلك إلى يوم القيامة
”اللہ نے اسے قیامت تک کے لیے حرام کر دیا ہے۔“
مسلم حوالہ سابق ح : 1406/21
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا حرمت ایسی قطعی ہے جیسے ماں بیٹی وغیرہ سے نکاح کرنا ؟ یا یہ حرمت مردار، خون اور سور کے گوشت کی طرح ہے کہ یہ چیزیں مجبوری کی صورت میں اور مشقت میں پڑنے کے اندیشہ کے پیش نظر جائز ہو جاتی ہیں؟
جمہور صحابہ کرام کی رائے میں یہ تحریم قطعی ہے جس میں شریعت کے اس حکم کو مستقل حیثیت دینے کے بعد رخصت کے لیے کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ البتہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس سے اختلاف کیا تھا۔ ان کی رائے میں متعہ کرنا مجبوری کی صورت میں جائز تھا چنانچہ کسی نے ان سے متعہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس کو جائز کہا۔ ان کے غلام نے پوچھا کیا یہ حکم شدید مجبوری کی صورت میں ہے؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جی ہاں۔
بخاری کتاب النکاح باب نہی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن نکاح المتعة اخیراً ح : 5116
لیکن جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو معلوم ہو گیا کہ لوگوں نے اس معاملہ میں کافی گنجائش پیدا کرلی ہے اور بات مجبوری کی حد تک نہیں رہی تو انہوں نے جواز کا فتویٰ دینا بند کر دیا اور اس سے رجوع کر لیا۔
بیہقی فی السنن الکبری (205/7) و اسنادہ ضعیف۔ (زاد المعاد ج 4 ص 7 بحوالہ بیہقی)