قیامت کی نشانی مشرق ، مغرب اور جزیرۃ العرب میں زمین کا پھٹنا
عن حذيفة بن أسيد رضى الله عنه قال : اطلع النبى صلى الله عليه وسلم علينا ونحن نتذاكر فقال : ما تذكرون ؟ قالوا : نذكر الساعة ، قال : إنها لن تقوم حتى ترون قبلها عشر آيات فذكر الدخان والدجال ……. وثلاثة خسوف : خسف بالمشرق و خسف بالمغرب وخسف بجزيرة العرب
حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہم مذاکرہ کر رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا گفتگو کر رہے ہو؟ لوگوں نے کہا کہ ہم قیامت کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت ہرگز قائم نہیں ہوگی حتی کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شمار کیا ، دھواں ، دجال اور تین خسف (زمین میں لوگوں کا دھنسایا جانا ، Landslide) ایک خسف مشرق میں ایک مغرب میں اور ایک جزیرہ عرب میں۔
مسلم کتاب الفتن باب فی الآیات التی تکون قبل الساعة 2901 ترمذی 2183 ابو داود 4311 شرح السنة 7/432 حلیة الاولیاء 1/355
عن أم سلمة رضي الله عنها قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : سيكون بعدي خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف فى جزيرة العرب ، قلت : يا رسول الله : أيخسف بالأرض وفينا الصالحون ؟ قال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم : إذا أكثر أهلها الخبث
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ میرے بعد مشرق ، مغرب اور جزیرہ عرب تین جگہ میں خسف ہو گا۔ میں نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا ہمیں زمین میں دھنسایا جائے گا جب کہ ہمارے درمیان نیک لوگ بھی ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں جب اہل زمین خباثت میں بڑھ جائیں گے۔
مجمع الزوائد 8/11
عن بغيرة امرأة القعقاع تقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر وهو يقول : إذا سمعتم بجيش قد خسف به قريبا فقد أظلت الساعة
حضرت بقیرہ رضی اللہ عنہا قعقاع صحابی کی بیوی فرماتی ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیان فرما رہے تھے : جب تم ایک لشکر کے بارے میں سنو جسے کہیں قریب ہی زمین میں دھنسا دیا گیا ہے تو یاد رکھو کہ قیامت آیا چاہتی ہے۔
مسند احمد 6/325 مسند حمیدی 1/170 السلسلة الصحیحة 3/340
عن أم سلمة رضي الله عنها قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : يعوذ عائذ بالبيت فيبعث إليه بعث فإذا كانوا ببيداء من الأرض خسف بهم فقلت : يا رسول الله فكيف بمن كان كارها ؟ قال : يخسف به معهم ولكنه يبعث يوم القيامة على نيته
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے کہ ایک آدمی بیت اللہ میں پناہ لے گا جس کی طرف ایک لشکر پیش قدمی کرے گا اور جب وہ مدینے کے قریب بیداء مقام پر آئے گا تو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ میں نے کہا ، اے اللہ کے رسول ! اس بندے کا کیا حکم ہے جو اس خروج کو نا پسند کرتا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے بھی لشکر کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا لیکن روز قیامت وہ اپنی نیت کے مطابق اٹھایا جائے گا۔
مسلم کتاب الفتن باب الخسف بالجيش الذی یؤم البیت 2882 احمد 6/329 ابو داؤد 4289 حاکم 4/475 أبو یعلی 12/439 السلسلة الصحیحة 4/577
فوائد :
➊ مشرق ، مغرب اور جزیرۃ العرب تین مقامات پر زمین کا پھٹنا اور لوگوں کا عذاب میں مبتلا ہو کر زمین دوز ہونا قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے ایک ہے۔
➋ قیامت کی مذکورہ نشانی تا حال ظاہر نہیں ہوئی مگر زمین میں لوگوں کے دھنسائے جانے کے کئی ایک واقعات جزوی طور پر کئی مرتبہ رونما ہوتے رہے ہیں۔
جیسا کہ امام قرطبی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ : ہم نے اپنے بعض مشائخ سے سنا کہ مشرقی اندلس میں قطر دانیہ نامی بستی پر ایک پہاڑ گرا اور وہ سب اس کے تلے روندے گئے۔
التذکرة ص : 545
اسی طرح شریف برزنجی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ : مشرق میں زمین میں دھنسائے جانے کا واقعہ رونما ہوا ہے۔ مغرب میں تیرہ 13 بستیاں زمین میں دھنسائی گئیں۔ طالقان خراسان میں ایک سو پچاس 150 بستیاں زمین دوز ہوئیں اور اسی طرح کئی دیگر علاقوں میں یہ عذاب دیکھا گیا ہے۔
تفصیل کے لئے دیکھئے : الاشاعة لا شراط الساعة 84-85 الاذاعة لما کان وما یکون بین یدی الساعة نواب صدیق حسن : 81
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خسف کئی مقامات پر پایا گیا ہے لیکن مذکورہ تین مقامات کا خسف اس کے علاوہ ہے اور ممکن ہے کہ یہ سابقہ خسوف سے بڑا اور زبردست واقع ہو۔
فتح الباری : 84/13
➌ لوگوں کا بستیوں اور گھروں سمیت زمین میں دھنسایا جانا نہ صرف ممکن ہے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دنیاوی عذاب کی ایک قسم ہے اور ماضی میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے کئی نافرمانوں کو اس طرح کے عذاب سے دو چار کرتے رہے ہیں جس طرح قارون کو زمین میں دھنسایا گیا۔
ارشاد باری تعالی ہے :
فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ
”بالآخر ہم نے اسے اس کے محل سمیت زمین میں دھنسا دیا۔“
سورة القصص : 81
اسی طرح ایک حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ایک آدمی اپنی زمین پر لٹکائے جارہا تھا اللہ تعالی کو اس کا یہ تکبر پسند نہیں آیا اور اسے زمین میں دھنسا دیا گیا ہے وہ تا قیامت زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔
بخاری کتاب اللباس باب من جر ثوبه من الخیلاء 5790
➍ دوسری احادیث سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ زمین میں دھنسائے جانے کے عذاب سے بالعموم وہ لوگ دو چار ہوں گے جو فسق و فجور، فحش و زنا اور ناچ گانے میں تمام حدیں توڑ جائیں گے جیسا کہ حضرت ابو عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری امت میں کچھ ایسے برے لوگ پیدا ہوں گے جو زنا کاری، ریشمی لباس، شراب اور گانے بجانے کو حلال کرلیں گے اور ان میں سے کچھ لوگ پہاڑوں پر بسیرا کریں گے۔ ان کے چرواہے صبح شام مویشی لائیں گے پھر لے جائیں گے۔ ان کے پاس کوئی فقیر اپنی حاجت براری کے لیے آئے گا تو وہ ٹال مٹول کے لیے اسے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ تعالیٰ راتوں رات ہی انہیں ہلاک کر دیں گے ، ان پر پہاڑ گرا دیں گے اور ان میں سے باقی بچنے والوں کو تا قیامت بندر اور خنزیر کی صورتوں میں مسخ کر دیں گے۔
بخاری کتاب الأشربة باب ما جاء فى من تستحل الخمر ویسمیه لغیر اسمه 5590
➎ حدیث میں مشرق و مغرب کی تحدید نہیں لہذا مدینے کے مشرق اور مغرب میں بلا تحدید کسی مقام پر ایسے عذاب الہی کا کوڑا برسے گا اور تیسرا مقام جزیرہ العرب میں کہیں ہوگا۔ دیگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مدینے کے قریب بیداء میدان ہوگا جہاں اس لشکر کو زمین میں دھنسایا جائے گا جو بیت اللہ میں پناہ لینے والے نیک شخص غالباً امام مہدی کی گرفتاری کے لئے آرہا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے ہر طرح کے عذاب سے محفوظ رکھے۔ آمين