مضمون کے اہم نکات
جماعت اسلامی تشیع اور خمینی ازم
ہم اپنے سابقہ مقالے میں واضح کر چکے ہیں کہ مولانا مودودی صاحب کی دینی تشریحات سلفِ صالحین سے قطعاً مختلف ہیں۔ بالخصوص تشیع کے بارے میں تو ان کی رائے گمراہ کن ہے جو غالباً پاکستان کے خاص سیاسی ماحول اور شیعہ ووٹ حاصل کرنے کی غرض سے انہوں نے اختیار فرمائی ہے۔ اگر چہ ان کی کتاب "خلافت و ملوکیت” تاریخی حوالوں سے لبریز ہے۔ مگر بحث کے بعد جو نتائج اخذ کئے ہیں۔ ان میں مولانا نے صحابہ کرام کی غلطیاں نکال کر شیعی تاریخی سیاسی پس منظر کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اور اسلاف کو غلط، بے بصیرت اور غیر دانشمند قرار دیا ہے۔
رفض و تشیع کے بارے میں مولانا مودودی صاحب کے طرزِ فکر نے چونکہ پوری جماعت اسلامی کو متاثر کیا ہے۔ اس لئے جماعت کے بیشتر افراد سیاسی مقاصد کی خاطر شیع کے لئے دلوں میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ بعض اسے فروعی اختلاف کہتے ہیں۔ بعض شیعہ وسنی کو ایک ہی تھیلی کا چٹہ بٹہ بتاتے ہیں۔ اور بعض ملی اتحاد کی خاطر بنیادی اسلامی عقائد کی پامالی تک میں حرج نہیں سمجھتے۔ جب سے خمینی ازم کا لاوا پھوٹا ہے تب سے جماعت کے اراکین و ذمہ داران برابر خمینی اور پاسدارانِ خمینی کے کندھے سے کندھا ملا کر چل رہے ہیں۔ ایرانی انقلاب کو اسلامی انقلاب کہتے ہیں، ایران عراق جنگ میں ایران کو حق بجانب بتاتے ہیں۔ اور حرم شریف میں خمینی کی فتنہ انگیزی پر بغلیں بجا رہے ہیں۔ خمینی کی نام نہاد اسلامی جمہوریت (جس میں خمینی ڈکٹیٹر نے لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتروایا) کو سعودی عرب میں لانے کے منتظر ہیں۔
جو تشیع محض تقیہ یعنی منافقت کی بنیاد پر زندہ تھا خمینی نے ولایتِ فقیہ کے نام پر اسے جارح شیعیت کا رنگ دیا ہے۔ وہ ایرانی شہنشاہیت کے خاتمے کے بعد پورے عالمِ اسلام خصوصاً حرمین شریفین پر سیاسی غلبے کا خواب دیکھتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔
اسلام میں تشیع کے لئے کوئی گنجائش نہیں:
شیعی عقائد چونکہ اسلام کے بنیادی عقائد کی نفی کرتے ہیں اور ان کا وحی الہی اور دینِ محمدی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لئے اسلام میں تشیع کے لئے کوئی گنجائش نہیں علمائے امت اس فرقے کی گمراہی، ارتداد، اور کفر کا پردہ بہت پہلے چاک کر چکے ہیں۔
ایرانی کلمہ:
فی الوقت ایران کا کلمہ جو خمینی عہد کی تخلیق ہے۔ حسبِ ذیل ہے۔
[لا إله إلا الله محمد رسول الله علی ولی الله خمینی حجة الله]
[ماہنامہ وحدت اسلامی تہران سالنامہ 1984ء]
یہی کلمہ حکومتِ پاکستان کے شیعہ نصابِ تعلیم دینیات برائے نہم دہم میں اس طرح درج ہے۔
پاکستانی شیعوں کا کلمہ:
[لا اله الا الله محمد رسول الله علی ولی الله وصی الله رسول الله وخليفه بلا فصل]
پھر جس قدر فرقے ہیں ان کے جدا گانہ امام ہیں، ان میں ہر ایک کلمہ کے آخر میں اپنے امام صاحب کا نام لگاتا ہے۔
اسماعیلی فرقے کا کلمہ:
[أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمد رسول الله وأشهد أن علی الله]
[از تکبیر ہفتہ وار کراچی]
واضح رہے کہ شیعوں کے کئی درجن فرقے، امام اور کلمے ہیں۔ بلکہ 73 فرقوں کی بڑی تعداد شیعوں ہی پر مشتمل ہے۔
ایران کی قرآنِ مجید:
ایرانی ادارہ سامانِ چاپ و اشتہارات جاویدان ایران نے قرآنِ مجید شائع کیا۔ جو کسی طرح پاکستان میں پہنچ گیا۔ بعض مسلمانوں نے حکومتِ پاکستان سے اس کی اشاعت پر احتجاج کیا۔ چنانچہ وزارتِ مذہبی امور پاکستان نے بعد چھان بین اس قرآن مجید پر پابندی عائد کی۔ (روزنامہ جنگ لاہور 26/ اکتوبر 1986ء)
ایرانی کلمہ مونو گرام اور محرّف قرآن مجید کا عکس شریکِ اشاعت ہے۔
ایرانی آئین:
حکومتِ ایران کے آئین کی دفعہ 12 کے مطابق ایران کا سرکاری مذہب جعفری اثنا عشری اسلام ہے۔
اثنا عشری عقائد:
اثنا عشری روافض کے اصولِ دین حسبِ ذیل ہیں:
توحید، نبوت، امامت، عدل، معاد۔
شیعہ عقائد میں اگرچہ توحید و نبوت دونوں داخل ہیں، مگر عقیدۂ امامت نے توحید و نبوت دونوں کی جڑیں کاٹ دی ہیں۔
[1] عقیدۂ امامت:
عقیدۂ امامت شیعی عقائد کی اصل روح ہے۔ اس عقیدے کے مطابق رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا تھا، کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین (وصی) نامزد کریں۔ چنانچہ آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اپنا وصی نامزد کیا۔ پھر چونکہ عالم کسی وصی کے بغیر نہیں رہ سکتا تھا، اس لئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانشین، سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ اور ان کے نائب امام حسین رضی اللہ عنہ نامزد فرمائے اس طرح بارہ امام نامزد ہوئے، بارہویں امام حسن عسکری کم سنی ہی میں دنیا سے غائب ہو گئے، جو مہدی منتظر بن کر نکلیں گے۔ وہ ہی اصلی قرآن لے کر آئیں گے۔ (العیاذ باللہ)
اس عقیدے کے مطابق اہلِ روافض اپنے ائمہ کو خدا کا مقرّر کردہ سمجھتے ہیں۔ اور انھیں معصوم مانتے ہیں۔ ان پر وحی ہوتی ہے۔ اور ان کا حکم شریعت ہوتا ہے۔ امام خمینی "الحکومت الاسلامیہ” میں لکھتے ہیں۔
ہمارے مذہب (شیعہ اثنا عشریہ) کے ضروری اور بنیادی عقائد میں سے یہ عقیدہ بھی ہے، کہ ہمارے ائمہ معصومین کو وہ مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ جس تک کوئی مقرب فرشتہ یا نبی مرسل بھی نہیں پہنچ سکتا۔
(الحکومت الاسلامیہ تہران ص 54)
[2] سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام مرتد!
نظریہ امامت کو سچا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وصی اللہ اور ولی اللہ ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے، کہ سیدنا ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم اور دیگر صحابہ کرام کو کافر، مرتد، غاصب، خائن قرار دیا جائے۔ کیونکہ (معاذ اللہ) سیدنا علی رضی اللہ عنہ وصی اللہ ولی اللہ کی خلافت ان صحابہ کرام نے غصب کر لی تھی۔ دراصل شیعیت شروع ہی اس عقیدے سے ہوتی ہے۔ اگر کسی شیعہ فرقہ کا یہ عقیدہ نہ ہو اور وہ حضرات شیخین کو سبّ و شتم نہ کرتا ہو، تو وہ شیعہ نہیں کہلا سکتا۔ یہ عقیدہ ان کی تمام بڑی کتابوں، الجامع الکافی، جلاء العیون، کشف الاسرار خمینی وغیرہ میں لکھا ہوا ہے۔
[فلعمري لقد نافقا قبل ذالك وردا على الله جل ذكره وكلامه وهزيا برسول الله صلى الله عليه وآله وهما الكافران عليهما لعنة الله والملائكة والناس أجمعين]
ترجمہ! میں قسم کہتا ہوں کہ وہ دونوں (ابو بکر و عمر) پہلے سے منافق تھے۔ انھوں نے اللہ کے کلام کے ساتھ تمسخر کیا، وہ دونوں قطعی کافر ہیں۔ ان پر اللہ کی اور اس کے فرشتوں کی اور آدمیوں کی سب کی لعنت۔
[کتاب الروضہ الجامع الکافی طبع لکھنؤ ص 92]
[3] تحریفِ قرآن:
تیسرا عقیدہ تحریفِ قرآن ہے، جو سابقہ عقائد کی موجودگی میں خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔ اس عقیدے کے مطابق موجودہ قرآن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا تحریف کردہ ہے۔ اصل قرآن ائمہ کے پاس ہے، جس میں چالیس پارے ہیں۔ آخری امام غائب مہدی جب اس دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے تو اسے اپنے ہمراہ لائیں گے۔
اس عقیدے کو ثابت کرنے کے لئے اہل تشیع نے بہت سی ایسی آیات وضع کر کے پیش کی ہیں جن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے وصی و ولی ہونے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اور جنھیں صحابہ کرام نے نکال دیا ہے۔
ہشام بن سالم سے روایت ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا، کہ وہ قرآن جو جبریل، محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر لے کر نازل ہوئے تھے۔ اس میں سترہ ہزار آیات تھیں۔ (اصول کافی 671)
قرآن مجید میں سورہ نساء کی آیت 170 اس طرح ہے۔
[یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَکُمُ الرَّسُوۡلُ بِالۡحَقِّ مِنۡ رَّبِّکُمۡ فَاٰمِنُوۡا خَیۡرًا لَّکُمۡ ؕ وَ اِنۡ تَکۡفُرُوۡا فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا]
❀ اصول کافی میں امام باقر اس آیت کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں، کہ دراصل یہ اس طرح نازل ہوئی تھی۔
[يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فى ولاية على فَاٰمِنُوْا خَيْرًا لَّكُمْ ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا بولاية على فَاِنَّ لِلهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ] (اصول کافی 268)
امامت، سبِّ شیخین و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تحریفِ قرآن تینوں اہم بنیادی عقائد کے بغیر شیعیت کی دیواریں کھڑی نہیں ہوتیں۔ معمولی فرق کے ساتھ دنیا کے ہر شیعہ فرقہ کا یہی عقیدہ ہے۔
ارکانِ اسلام اعمالِ محض ہیں:
اہل تشیع کے ہاں نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج صرف اعمال میں داخل ہیں، جنہیں وہ واجب سمجھتے ہیں۔ فرض نہیں۔
(اصل اصول الشیعہ کاشف الغطاء)
متعہ، تقیہ، کتمان، بداء وغیرہ عقائد بھی بہت مشہور ہیں، جن کی تفصیل میں جانا فی الوقت مناسب نہیں۔ متعدد علمائے کرام ان پر روشنی ڈال چکے ہیں البتہ امام خمینی نے جن عقائد کا احیاء کیا ہے، ان میں ولایتِ فقیہ یعنی شیعی حکومت کے جبری قیام کا تصور خاص ہے۔ خمینی نے جس جارحیت کا جو پہلو اختیار کیا ہے، وہ اسی عقیدے کے تحت ہے دنیا بھر میں شیعیت کا پروپیگنڈا اور ایرانی انقلاب کو اسلامی کہنے کی رٹ اسی لئے لگائی گئی تھی اور اسی لئے حج کے دوران مکہ شریف میں ایرانی فوجیوں اور حاجیوں سے مظاہرہ کرایا جاتا ہے کہ وہ امام خمینی کی ولایت کا ڈھول پیٹیں۔ آنجہانی امام چاہتے تھے، کہ وہ ولایت فقیہ کے مطابق اس وقت دنیا میں واحد امام ہیں۔ وہ حرمین پر قبضہ و تسلط کرنا چاہتے تھے مگر انہیں ناکامی ہوئی اور وہ مہدی ہونے کا اعلان کئے بغیر اس دنیا سے چلے گئے۔ یہاں ان کی کتاب کاشف الاسرار کے عکس معہ اردو ترجمہ دیئے جا رہے ہیں۔
امام خمینی کی وصیت:
اپنی رحلت سے پہلے امام خمینی نے اپنے معتقدین کو تیس (32) صفحات پر مشتمل وصیت کی ہے اس وصیت کے جو حصے اہل اسلام یعنی اہل سنت والجماعت کے خلاف ہیں ان کو بطورِ تقیہ ظاہر نہیں کیا گیا۔ البتہ اس کی بعض شقیں شیعہ اخبارات میں شائع ہوئی ہیں۔ ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔
[اگر بالفرض قرآن میں صراحت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امامت و خلافت کیلئے سیدنا علی کی نامزدگی کا ذکر بھی کر دیا جاتا تب بھی یہ لوگ ان قرآنی آیات اور خداوندی فرمان کی وجہ سے اپنے اس مقصد اور منصوبے سے دستبردار ہونے والے نہیں تھے۔ جس کیلئے انہوں نے اپنے کو اسلام سے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چپکا رکھا تھا۔ اس مقصد کیلئے جو حیلے اور جو داؤ پیچ ان کو کرنے پڑتے وہ سب کرتے اور فرمانِ خداوندی کی کوئی پروا نہیں کی، قرآنی احکام اور خداوندی فرمان کے خلاف کرنا ان کیلئے معمولی بات تھی، انہوں نے بہت سے قرآنی احکام کی مخالفت کی اور خداوندی فرمان کی کوئی پروا نہیں کی]
اگر وہ اپنا مقصد (حکومت و اقتدار) حاصل کرنے کے لئے قرآن سے ان آیات کا نکال دینا ضروری سمجھتے (جن میں امامت کے منصب پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نامزدگی کا ذکر کیا گیا ہوتا) تو وہ ان آیتوں ہی کو قرآن سے نکال دیتے۔ یہ ان کے لئے معمولی بات تھی۔
❀ ترجمہ: جہنم میں ایک آتشی کنواں ہے کہ جہنمی اس کی حرارت سے پناہ مانگتے ہیں اور اس کنویں میں ایک آتشی صندوق ہے جس میں بارہ آدمی بند ہیں۔ چھ اگلی امتوں کے اور چھ اس امت کے۔ اگلی
امتوں کے چھ تو یہ ہیں:
[1] قابیل، [2] نمرود، [3] فرعون، [4] سیدنا صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا قاتل، [5-6] دو بنی اسرائیل میں سے۔
اور اس امت چھ یہ ہیں:
(نعوذ باللہ) [1] ابوبکر، [2] عمر، [3] عثمان، [4] معاویہ، [5] نہروان، [6] ابن ملجم۔
حدیثِ ثقلین پر عمل کا اشارہ اور تاکید:
یعنی وہ حدیث جس میں پیغمبرِ اسلام نے اپنے بعد قیامت تک قرآن و اہل بیت دونوں سے وابستہ رہنے کی تلقین کی؟
واضح رہے کہ اہل تشیع حدیث [تركت فيكم أمرين لن تضلوا ما تمسكتم بهما كتاب الله وسنتي] میں سنت کے بجائے اہل بیت لگاتے ہیں۔
حدیثِ ثقلین کا ذکر کرتے ہوئے پھر مولا علی رضی اللہ عنہ کے زمانے کا ذکر، جہاں انحرافِ دین نے امت کو تباہی میں ڈال دیا۔ خوارج اور عوام فریبوں پر سخت حملہ اور ان کو دشمنیِ اعلیٰ اسلام بتایا گیا ہے۔
(نام لئے بغیر امام خمینی کا مطلب حضرت ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم عوام فریب، اور دین سے منحرف)
قرآن کو تکیہ بنانے کی تاکید اور طویل ماضی میں قرآن و اسلام کی مظلومیت کا ذکر (مظلومیت سے مراد تحریفِ قرآنی ہے)
نمازِ جمعہ اور عزاداری سید الشہداء امام حسین رضی اللہ عنہ میں شرکت کی خاص تاکید۔
آلِ سعود کی حکومت پر شدید تنقید، اور ان پر نفریں۔
[منقول از مجموعہ اخبار صداقت پونہ2/ 9 جولائی 89ء]
واضح رہے کہ ایرانی سفارت خانے دہلی سے رسالہ راہِ اسلام جولائی 89ء میں خمینی کی وصیت کے جو اقتباسات شائع ہوئے ہیں وہ اس سے مختلف ہیں، یہ بالعموم مسلمانوں اور عالمِ اسلام کے مسائل سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں بھی تقیہ و کتمان سے کام لیا گیا ہے کیونکہ رسالہ راہِ اسلام اہل سنت والجماعت کے مطالعہ میں بھی آتا ہے۔
خمینی کی وصیت میں دراصل، امامت، سبِّ شیخین، اور تحریفِ قرآن تینوں عقائد کا ذکر موجود ہے۔ آنجہانی نے ارکانِ اسلام پر عمل کے بجائے صرف نمازِ جمعہ اور عزاداری میں شرکت کی تاکید کی ہے۔ جو شیعی اسلام کے لئے کافی وافی عمل ہیں،
اگر عقیدۂ امامت کو درست سمجھ لیا جائے تو اسلامی عقیدۂ ختمِ نبوت کہاں رہ جاتا ہے۔ پھر مرزا قادیانی نے جو مہدی یا مسیح موعود ہونے کا اعلان کیا تھا، اس میں کیا غلطی ہے۔ اگر حضراتِ شیخین کافر، مرتد اور غاصب ہیں۔
تو پھر اسلام کہاں رہا، کیونکہ امت کے پاس اسلام تو خلفائے راشدین ہی کے توسط سے آیا ہے، اگر قرآنِ مجید پر ماضی میں ظلم ہوتا رہا ہے، تو اس میں لازماً تحریف ہوئی ہے۔ محرّف ہونے کی صورت میں اس کی صداقت کی کیا ضمانت ہے۔ ان جملہ عقائد خیالات، اور روایات کی روشنی میں جو اسلام کی بیخ کنی کرتے ہیں۔ اہل تشیع امام خمینی اور خمینی ازم کے ساتھ جماعت اسلامی کا تعلق، دوستی، اور ربط اس بات کی علامت ہے، کہ خود بانیٔ جماعت اسلامی اور جماعت اسلامی کے دینی عقائد صحیح نہیں ہیں۔
تشیع کے بارے میں مولانا مودودی صاحب کی مداہنت پسندانہ رائے اور ایرانی شیعی انقلاب کی تحسین پہلے ہی اس تعلق کا ثبوت فراہم کر چکے ہیں۔
پھر جب امام خمینی کی رائے پر ایرانی فوجیوں اور حاجیوں نے دورانِ حج فتنہ انگیزی کی، تب تمام عالمِ اسلام نے اس پر رنج کا اظہار کیا۔ اور اسے خمینی شیعی فتنہ قرار دیا۔ مگر کارکنانِ جماعت اسلامی اور اس کے اخبارات کا رویہ افسوسناک تھا۔ جماعت اسلامی کے اخبارات کی رائے، پھر ان کا تضاد ملاحظہ فرمائیں۔
حرمین کی حرمت و امن کو غارت نہ کیجئے:
"لیکن ایرانی حاجی معلوم نہیں اپنے آپ کو کیوں مستثنیٰ سمجھتے ہیں ہر سال کوئی نہ کوئی ہنگامہ کھڑا کر دیتے ہیں اس لئے ہم ایرانی قائدین سے مخلصانہ گزارش کرتے ہیں کہ انقلاب برآمد کرنے کے جوش میں اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔ دوسری طرف سعودی حکومت کو بھی اس پہلو سے غافل نہیں ہونا چاہئے۔ جو لوگ اس ہنگامے میں شریک ہوئے ہیں، وہ بھی اسلامی دنیا کی افرادی طاقت تھے۔ اللہ انہیں اپنی رحمتوں سے نوازے، یہ صحیح ہے کہ حرمین شریفین میں امن کی برقراری اس کی ذمہ داری ہے لیکن اس سلسلے میں اسے اپنی ذمہ داری پوری کرنے کے لئے اگر طاقت کے استعمال کی ضرورت پیش آتی ہے تو اندھا دھند استعمال نہیں ہونی چاہئے”۔
(سہ روزہ دعوت 7/ اگست 87ء)
ایڈیٹر دعوت اتنے سیدھے آدمی ہیں کہ انہیں یہ پتہ ہی نہیں کہ ایرانی حاجی ہر سال یہ مظاہرہ کیوں کرتے ہیں؟ پھر مدیر صاحب کا سجھاؤ سر دھننے کے قابل ہے کہ اعتدال کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔ یعنی شیعی انقلاب برپا تو ضرور ہو مگر اعتدال کے ساتھ!
آخری تلقین بہت خوب ہے کہ طاقت کا استعمال مت کرو! کیونکہ جماعت اسلامی والے فراست ہی سے ہر جگہ امن قائم کر لیتے ہیں۔
اب اسی جماعت کے آفیشل ہندی آرگن کانتی کا اداریہ ملاحظہ فرمائیں۔
"عیدِ قربان اصل میں اس بڑے تہوار کا حصہ ہے جسے حج کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دنیا کے مختلف ملکوں کی طرح ایرانی بھی وہاں آئے۔ ان کا جلوس نکلا، کچھ نعرے بھی لگے۔ اور نعروں کا بہانہ بنا کر سعودی حکومت نے ان پر گولی چلا دی۔ کہا جاتا ہے کہ گولی چلانے سے پہلے انہوں نے یہ احتیاط بھی نہیں کی۔ جو ہر ملک اپنے شہریوں پر گولی چلانے پہلے کرتا ہے۔ پھر یہ سب کیوں ہوا۔ اس کے جواب
کی سیدھی ذمہ داری سعودی حکومت کو جانی چاہئے۔ اسے ثابت کرنا چاہئے کہ فتنہ بھیا نک تھا۔ اس لئے ایسا کیا گیا۔ اگر وہ ثابت نہ کرے گا تو تاریخ اسے مجرم کہے گی۔
جو اسرائیل کے خلاف کبھی جہاد نہ کر سکا ایران کے خلاف جہاد کرنے کا اعلان کرنے لگا۔ سعودی حکومت کی ایران سے لڑائی اسی بنیاد پر ہے کہ اسے ڈر ہے کہ کہیں ایران کی طرح سعودی عرب میں بھی اسلامی انقلاب نہ آجائے۔ اسے ایرانیوں کی غلطی کہہ لیجیے یا ان کا فرض کہ وہ اسلامی نظام کی باتیں حج کے موقع پر بھی کرتے ہیں۔ اس بات کو سعودی حکومت پسند نہیں کرتی۔
[ہندی کانتی ہفتہ وال 16/ 28 اگست 87ء]
مکہ مکرمہ میں ایرانی شیعوں کی کھلی فتنہ انگیزی پر جماعت اسلامی کا تقیہ اور اس کے اخبارات کے شیعہ حمایت بیانات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ یہ لوگ شیعوں کی طرح دین کا محض سیاسی تصور رکھتے ہیں۔ عقیدے کی ان کے ہاں کوئی اہمیت نہیں، 1400 سو سال سے علمائے کرام جس گروہ کو گمراہ، مرتد اور کا فر سمجھتے ہیں۔ جماعت اسلامی اس کی تعریف میں رطب اللسان رہے ہے۔ اسی پر بس نہیں جماعت اسلامی کے اراکین، عہد یداران، اخبارات اور ادارے مسلسل ایسی کتابیں اور لٹریچر شائع کر رہے ہیں۔ جو ایرانی انقلاب شیعیت اور خمینیت کی بھر پور حمایت و ہمدردی کرتے ہیں۔ ان کے اخبارات اور کتابوں میں مسلم اتحاد کی دعوت کے بہانے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کہ سنی و شیعہ عقائد میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اور جو لوگ اس فرق کو واضح کرتے ہیں۔ وہ جھوٹ کہتے ہیں۔ ایس آئی ایم کا اخبار "افکار ملی” اور کتابیں برابر خمینیت کا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔
❀ جماعت اسلامی کے ایک رکن جناب وصی اقبال صاحب نے جن کے مضامین اکثر و بیشتر جماعت اسلامی کے اخبارات و رسائل میں آتے رہتے ہیں، مکتبہ اسلامی دورام پور کی جانب سے ایک کتاب "اسلام کا مسئلہ سنی و شیعہ ایک ہی سکے کے دو رخ” نامی کتاب شائع کی ہے، یہ صاحب چونکہ سرکاری محکمہ کو آپریٹو میں ملازم ہیں اور ان کا کام امداد باہمی کے نام پر سود خوری کو فروغ دینا ہے۔ اس لئے تشیع سے دوستی میں انہیں کیا مضائقہ ہو سکتا ہے۔ ان صاحب نے اپنی اس کتاب میں یہ ثابت کرنے کی مذموم کوشش کی ہے۔ کہ شیعی عقائد امامت، تحریف قرآن، متعہ، تقیہ، بداء و غیر ہ تمام درست ہیں۔ اور یہ اہل سنت و الجماعت میں بھی ہیں۔ مثلاً اس کتاب میں امامت کی بحث کے بعد لکھا ہے۔
ہم کسی با عث اس کو بھلے ہی تسلیم نہ کریں۔ لیکن شیعہ حضرات اپنے مسلک کے لئے ایک مضبوط دلیل ضرور رکھتے ہیں۔ ( اسلام کا مسئلہ ص53)
مرزا قادیانی بھی مہدی ہونے کی دلیل دیتا ہے۔
بحث کے آخر میں لکھا ہے۔
غرض تحریف قرآن کے سلسلے کی ساری باتیں غلط اور بناوٹی ہیں، جن پر ہر دو جانب اعتبار کرنا درست نہیں ہے۔ [ص66]
شیعہ کتاب اصول کافی نے تحریف کی جو تصدیق کی ہے ۔ اس میں آپ کیا رائے رکھتے ہیں تنقید کی بحث کے ضمن میں لکھتے ہیں۔
میرا بھی یہی احساس ہے………. کہ تقیہ کوئی نا جائز چیز نہیں ہے۔ ہاں اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ جب شیعہ حضرات نے تقیہ کو اپنا ایمان بنا لیا ہے، تب ہم اہل سنت اسے کس طرح اپنا سکتے ہیں۔ [ص 76]
منافقت جماعت اسلامی والوں کے ہاں تو پہلے ہی جائز ہے۔
بداء کے بارے میں رقمطراز ہیں۔
تمام مسلمان (شیعہ وسنی) اس امر کے قائل ہیں کہ خدا خلق کے امور میں محو واثبات کرتا رہتا ہے۔ اور وقتاً فوقتاً مناسب مصلحت وقت جدید احکام دیتا رہا ہے، اور اسی کو شیعہ بداء کہتے ہیں۔ (اسلام کا مسئلہ)
با مسلمان اللہ اللہ با برہمن رام رام اور کیا ہوتی ہے؟
اس لئے متعہ کے مسئلے پر انتہا پسندی کا رویہ اختیار کرنا علمائے دین کی شان کے خلاف ہے۔ (اسلام کا مسئلہ)
بزرگانِ ملت کو مشورہ دیتے ہوئے لکھا ہے۔
"ہمارے ایسے خوش فہم بزرگ نہیں جانتے کہ جس فضا میں یہ مسائل اٹھائے جاتے ہیں، وہاں اسلام کا سوال آتا ہے۔ سادہ لوح بزرگ نہیں سمجھتے کہ آج کسی دین اور اس کے آئین کے خلاف مؤثر ہتھیار گالی بخشیں اور ذہنی منطق کے استدلال نہیں ہیں۔ بلکہ اس دنیا کے پیروکاروں کی تاریخ کے دھارے میں تمدنی و تہذیبی مظاہر کے ساتھ ساتھ موافق یا مخالف مؤثر ترین ہتھیار ثابت ہوتا ہے”۔
❀ یہ پورا پیرا گراف اقبال صاحب نے کہاں سے نقل کیا ہے۔ اس کا کوئی حوالہ نہیں۔ ویسے بھی آخر میں بے ربط ہے۔ ہو سکتا ہے مودودی صاحب کی تحریر ہو، یا پھر جماعت اسلامی کے کسی دوسرے انشاء پرداز کی! جماعت اسلامی والے علمائے امت کو سادہ لوح سمجھتے ہیں۔ کیونکہ 1400 سو سال تک دین کسی کی سمجھ میں نہیں آیا تھا، اگر آیا تو مودودی صاحب کی سمجھ میں! جنہوں نے تشیع سے اتحاد کی راہیں نکالیں ہیں۔ اور متقدمین ومتأخرین علمائے کرام امام بخاری، امام مسلم، امام ابو داؤد، امام ترمذی، امام نسائی، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی، علامہ ابن تیمیہ، ابن ہمام، امام ابن حزم، قاضی عیاض مالکی، علامہ بحر العلوم لکھنوی، ملا علی قاری فتاویٰ عالمگیری، حضرت شاہ ولی اللہ، حضرت شاہ عبدالعزیز، مولانا عبدالحئی لکھنوی، انجم مولانا محمود حسن، مولانا انور شاہ کشمیری، مولانا حسین احمد مدنی، مولانا ریاض الدین، مولانا اصغر حسین، مولانا اعزاز علی رحمہم اللہ اور زمانہ حال کے تمام علمائے کرام جماعت اسلامی کی نظر میں سادہ لوح ہیں۔ کیونکہ علمائے کرام اہل تشیع کو گمراہ اور مرتد کہہ چکے ہیں۔
جماعت اسلامی سیاسی مقاصد کے لئے اصولِ دین اور عقائد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسلم اتحاد کو زیادہ ترجیح دیتی ہے۔ جو عام طور پر تمام سیاست کار کرتے رہتے ہیں۔ کیونکہ سیاست چلانے کے لئے صالح سوسائٹی کی ضرورت نہیں بس افراد کی کثرت ہو خود مودودی صاحب جماعت اسلامی کو سیاسی تنظیم کے طور چلاتے رہے اور دینی تعلیم وتربیت سے بیزار رہے ہیں۔ بس حکومت الٰہیہ جس کا نعرہ گاندھی جی نے بھی (رام راجیہ) کے نام سے دیا تھا، کے نعرے پر مسلمانوں کو اکٹھا کر کے مسلم حکومت قائم کرنے کے خواہاں تھے جو اس طرح قیامت تک بھی ممکن نہیں کیونکہ جو شخص اسلام کے عقائد واصول ہی سے منحرف ہو، وہ اسلامی حکومت کیسے قائم کر سکتا ہے۔
جماعت اسلامی والے سرکاری ملازمتوں اور جمہوری طرزِ انتخاب سے یہ کہہ کر دور بھاگتے تھے کہ یہ نظامِ جاہلی کے ساتھ تعاون کے مترادف ہے، مگر اب ملازمت اور انتخاب سب میں پیش پیش رہتے ہیں۔ حمایت چاہے شیعہ، قادیانی، بہائی، اسماعیلی، بریلوی، کسی کی حاصل ہو جائے سب جائز ہے۔
رسالہ الحسنات بھی تنخواہیہ:
مولانا عبدالحئی صاحب بڑے غریب، شریف اور متدین انسان تھے۔ جو جماعت اسلامی کی رکنیت میں آگئے تھے۔ ان صاحب نے ایک معمولی سا رسالہ "الحسنات” کے نام سے جاری کیا۔ دینی احکام و مسائل پر بہت خوب لکھتے تھے۔ رسالے اور مکتبے نے بہت ترقی کی۔ اور پسمانگان کیلئے کافی سارا اثاثہ چھوڑ گئے مگر جیسا کہ کچھ دنوں سے ایرانی شیعی سرمایہ کی ریل پیل نے جماعت اسلامی کے کارکنان و افراد کو بنایا ہے۔ "الحسنات” والے اس دوڑ میں کیوں پیچھے رہتے۔ اس رسالے کے مرتب مرتضیٰ ساحل صاحب نے وصی اقبال کی کتاب "شیعہ وسنی ایک ہی سکے کے دو رخ” پر پیش لفظ لکھا ہے۔ اور وصی اقبال کے اس کارنامے کو سراہا ہے، پھر اسی کے تتبع میں وصی اقبال کا ایک مضمون "شیعہ وسنی فقہ میں مشترک مسائل”………. "الحسنات” رام پور کی دو اشاعتوں میں شائع کیا ہے۔ اس مضمون میں نعوذ باللہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ کہ شیعہ وسنی نماز روزے کے مسائل قریب قریب ایک ہیں الحسنات کی اس اسلام دشمنی پر جس قدر افسوس کیا جائے کم ہے یہ خالصاً جہالت کی بات ہے اور مولانا عبدالحئی رحمۃ اللہ کی روح کو تکلیف پہنچانا ہے۔ افسوس! اسلام پر کیسا برا وقت آیا ہے۔ جاہل لوگ اسلامی شریعت کی من مانی تفہیم و تشریح کرنے لگے ہیں۔ اہل خالصہ کی اصطلاح میں تنخواہیہ ایسے ہی افراد و اداروں کو کہا جاتا ہے۔ اسلامی کا عقیدے کے مطابق نماز، ارکانِ اسلام میں داخل ہے جبکہ جبکہ اہل تشیع کے ہاں اسے عملِ محض سمجھا جاتا ہے۔ فرضیت تو درکنار اس کا وجوب بھی مشکوک ہے۔ چنانچہ امام خمینی نے اپنی وصیت میں بھی اہل تشیع کو صرف جمعہ اور عزاداری میں شرکت کی وصیت کی ہے جب ارکانِ اسلام ہی میں فرق ہو گیا، تب شیعی نماز، اذان، اقامت اور روزہ وغیرہ مسائل شائع کر کے مسلمانوں کو یہ باور کرانا کہ نماز روزے کے شیعی و سنی مسائل میں یکسانیت ہے۔ صریح گمراہی اور عامۃ المسلمین کو جہالت میں مبتلا کرنا ہے۔ ایسا شخص جو اسلام کے بنیادی عقائد پر یقین و عمل کی اہمیت کم کرتا ہے۔ اور کسی باطل کے خود ساختہ عمل کو اسلام بتاتا ہے۔ وہ خود گمراہ کافر اور جہنمی ہے۔
شیعہ وسنی احکام و مسائل میں یکسانیت کا فریب بالکل ایسے ہی ہے، جیسے کوئی شخص کہے کہ اہل ہنود بھی خدائے تعالیٰ کو بھگوان، ایشور اور پربھو کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے مسجد کے بجائے مندر بنا رکھے ہیں۔ اذان کے بجائے ناقوس بجاتے ہیں۔ نماز کے بجائے بھجن کرتے ہیں اور پھر یہ دلیل دے کہ اس صورت میں اسلام اور ویدک دھرم میں کوئی فرق نہیں ہوا کیونکہ کسی بھی طرح خدا کا نام وہ بھی لیتے ہیں۔ (نعوذ باللہ)
جماعت اسلامی والوں کو جان لینا چاہئے کہ اسلام کے بنیادی عقائد کی صحت کے بغیر تمام عمل باطل ہیں۔ ہر وہ شخص جو مسلمان ہونے کا اقرار کرے۔ اس کے لئے لازم ہے کہ وہ اسلام کے بنیادی عقائد و ارکان پر ایمان رکھتا ہو۔ اور ایمان کے ساتھ عمل کرتا ہو۔
صرف ایسا شخص ہی مسلمان کہلائے جانے کا مستحق ہے۔ اسلام کا مقصد کسی خاص گروہ کی بھیڑ یا کثرت جمع کرنا نہیں ہے۔ نہ ہی اس کا مقصد حکومت ہے۔ اس کا مقصد اصلاحِ عقیدہ و ایمان کی بنیاد پر اسلامی معاشرہ قائم کرنا ہے۔ جو لوگ اسلام کا مقصد حکومت و سیاست بیان کرتے ہیں۔ ان کے افکار پر تشیع کا غلبہ ہے۔ کیونکہ تشیع بجائے خود ایک سیاسی فکر ہے۔ جو اہل اسلام میں انتشار پیدا کرنے کی یہودی سازش ہے۔