جہاد فی سبیل اللہ میں رسول اللہ ﷺ کے چہرہ انور کا زخمی ہونا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابی عبد الصبور عبد الغفور دامنی کی کتاب فضائل الجہاد سے ماخوذ ہے۔

حدثنا عبد العزيز بن أبى حازم عن أبيه أنه سمع سهل بن سعد يسأل عن جرح رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم أحد فقال جرح وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم وكسرت رباعيته وهشمت البيضة على رأسه فكانت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم تغسل الدم وكان على بن أبى طالب يسكب عليها بالمجن فلما رأت فاطمة أن الماء لا يزيد الدم إلا كثرة أخذت قطعة حصير فأحرقتها حتى صارت رمادا ثم ألصقتها بالجرح فاستمسك الدم.
”عبد العزیز بن ابی حازم نے اپنے والد سے بیان کیا کہ انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم سے متعلق پوچھا گیا تھا جو احد کی لڑائی والے دن آپ کو لگا تھا، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ انور زخمی کیا گیا تھا اور آپ کے سامنے کے دانت ٹوٹ گئے اور آپ کے سر مبارک پر خود (ہیلمٹ) بھی ٹوٹ گئی، فاطمہ (رضی اللہ عنہا) آپ کی صاحبزادی آپ کا خون دھوتی تھیں اور علی (رضی اللہ عنہ) ڈھال میں سے پانی اس پر ڈالتے تھے، فاطمہ (رضی اللہ عنہا) نے جب دیکھا کہ پانی سے خون بجائے کم ہونے کے بڑھتا جا رہا ہے تو انہوں نے چٹائی (کھجور کے پتوں کی) کا ایک ٹکڑا لے کر اسے جلایا، جب راکھ بن گئی تو اسے آپ کے زخموں پر لگا دیا جس کے نتیجے میں خون رک گیا۔ “
( صحیح مسلم) (رواہ مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب غزوة أحد، الرقم: 1790 / البخاری، کتاب الجہاد والسیر، باب المجن ومن یترس بترس صاحبہ، الرقم: 2903)

تشریح و فوائد

➊ بالکل سامنے کے دو دانت ”ثنایا“ اور ان کے ساتھ دائیں اور بائیں طرف کے دانت ”رباعیہ“ کہلاتے ہیں، جنگ احد میں عقبہ بن ابی وقاص کے پتھر مارنے کے نتیجے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نچلا درمیانی دانت ٹوٹ گیا اور نچلا ہونٹ مبارک زخمی ہو گیا تھا۔ عبد اللہ بن شہاب زہری نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی زخمی کر دی تھی اور عبد اللہ بن قمیہ کی تلوار کے وار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خود کی دو کڑیاں چہرہ کے اندر دھنس گئی تھیں۔
➋ راکھ کھجور کے پتوں کی ہو یا سوتی کپڑے کی، یہ خون بند کر دیتی ہے۔
➌ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر مشکلات آنا امت کے لیے سبق ہے کہ وہ راہِ حق میں آنے والی تکلیفیں خندہ پیشانی سے برداشت کریں اور اس میں توحید کا ایک سبق بھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مختارِ کل نہیں تھے ورنہ جہاد کی مشکلات برداشت کیے بغیر سب کو ایک لمحے میں مسلمان کر دیتے۔
➍ جہاد میں عورتوں کے حصہ لینے کا جواز: حدیث مذکور سے عورتوں کے جہاد میں شامل ہونے اور ان سے زخمیوں کی خدمت لینے کا جواز ملتا ہے۔