ملازمت :
ملازمت کے ذریعہ روزی کمانا مسلمان کے لیے جائز ہے خواہ ملازمت حکومت کے ماتحت ہو یا کسی نجی ادارہ یا شخص کے ماتحت بشرطیکہ وہ متعلقہ کام کی ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہو اور اپنے فرائض ادا کر سکتا ہو۔ البتہ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ جس کام کی اہلیت نہیں رکھتا اس کا امیدوار بن جائے، خصوصاً جبکہ وہ منصب حکومت یا عدالت سے متعلق ہو۔ (امورِ عامہ سے متعلق ہو)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ويل للأمراء ويل للعرفاء ويل للأمناء، ليتمنين أقوام يوم القيامة أن ذوائبهم معلقة بالثريا يدلون بين السماء والأرض وإنهم لم يلوا عملا
”تباہی ہے امراء کے لیے ! تباہی ہے سربراہوں کے لیے! اور تباہی ہے خازنوں کے لیے! کتنے ہی لوگ قیامت کے دن تمنا کریں گے کہ کاش ان کی چوٹیاں ثریا سے باندھ دی جاتیں اور وہ آسمان و زمین کے درمیان لٹکا دیئے جاتے لیکن انہیں صاحب اختیار نہ بنایا جاتا۔
صحيح ابن حبان موارد – (1559) – الاحسان: (7/ 9) – مستدرك حاكم (4/ 91) مسند احمد (2/ 352-453) اسناده ضعیف ولكن له شاهد عند الحاكم – (4/ 91) واحمد (2/ 521) وسنده حسن
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
قلت يا رسول الله ألا تستعملني؟ قال فضرب بيده على منكبي ثم قال يا أبا ذر إنك ضعيف وإنها أمانة، وإنها يوم القيامة خزي وندامة إلا من أخذها بحقها وأدى الذى عليه فيها
”میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے (بھی) کسی منصب پر مامور نہیں فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ میرے کندھے پر رکھا اور فرمایا : ابو ذر! تم کمزور ہو اور یہ منصب ایک امانت ہے اور یہ قیامت کے دن رسوائی اور ندامت کا باعث ہوگا، بجز اس کے جس نے اس کو حق کے ساتھ قبول کیا اور اس منصب کا جو حق اس پر عائد ہوتا ہے اس کو ادا کیا۔“
مسلم کتاب الامارة باب کراہة الامارة بغیر ضرورة ح : 1825
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
القضاة ثلاثة واحد فى الجنة واثنان فى النار. فأما الذى فى الجنة فرجل عرف الحق فقضى به ورجل عرف الحق فجار فهو فى النار، ورجل قضى للناس على جهل فهو فى النار
”قاضی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک جنت میں جائے گا اور دو جہنم میں جائیں گے۔ تو جنت میں وہ قاضی جائے گا جس نے حق کو پہچانا اور اس کے مطابق فیصلہ کیا، لیکن جس نے حق کو پہچاننے کے باوجود ظلم کیا وہ جہنم میں جائے گا اور وہ شخص بھی جہنم میں جائیگا جس نے جہالت کی بنا پر فیصلہ کیا۔“
ابو داود كتاب القضاء باب في القاضي يخطی ح : 3573 ترمذی، کتاب الاحكام باب ماجاء عن رسول الله صلى الله عليه وسلم في القاضي ح 1322 ، ابن ماجه كتاب الاحكام باب الحاكم يجتهد فيصيب الحق ح : 2315
مسلمان کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ بڑے بڑے منصبوں کا خواہشمند نہ ہو بلکہ دوسرے کاموں کے لیے کوشش کرئے اگر چہ وہ کسی منصب کی صلاحیت رکھتا ہو کیونکہ جو شخص منصب کو رب بنا لیتا ہے منصب اس کو اپنا غلام بنا لیتا ہے اور جو زمین پر ظاہر ہونے والے نتائج ہی کو سب کچھ سمجھتا ہے وہ آسمانی توفیق سے محروم ہو جاتا ہے۔
سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :
قال لي رسول الله يا عبد الرحمن لا تسأل الا مارة فإنك إن أعطيتها من غير مسألة أعنت عليها وإن أعطيتها من مسالة وكلت إليها
”مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عبد الرحمن ! امارت طلب نہ کرنا کیونکہ اگر تمہیں بغیر مانگے مل گئی تو تمہاری مدد کی جائے گی اور اگر طلب کرنے پر ملی تو تمہیں اس کے حوالہ کر دیا جائے گا۔“
بخاری کتاب کفارات الايمان باب الكفاره قبل الحنث و بعده ح : 722 ، مسلم کتاب الایمان باب ندب من حلف يميناً فرأى غيرها : 1652
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من ابتغى القضاء وسأل فيه شفعاء وكل إلى نفسه ومن أكره عليه أنزل الله عليه ملكا ليمدده
”جس نے منصب قضاء طلب کیا اور اس کے لیے سفارش کرائی ، اسے اسی کے حوالہ کر دیا جائے گا اور جس کو مجبوراً منصب قضاء قبول کرنا پڑا اس کی مدد کے لیے اللہ فرشتہ بھیجتا ہے جو اس کو راہِ صواب دکھاتا ہے۔“
ابو داود كتاب القضاء باب في طلب القضاء ح : 3578 ، ترمذی کتاب الاحکام باب ما جاء عن رسول الله في القاضي ح : 1324 ، و اسناده ضعیف
منصب اور عہدہ طلب کرنے کی کراہت اس صورت میں ہے جبکہ خالی جگہ پر کرنے کے لیے دوسرے لوگ (اہل و حقدار) موجود ہوں۔ لیکن اگر خالی جگہ کو پر کرنے کے لیے کوئی شخص (اہلیت والا) موجود نہ ہو اور وہ خود کو بھی پیش نہ کرے تو مصالح معطل ہوں گے اور مسائل الجھ جائیں گے۔ قرآن نے ہمیں سیدنا یوسف علیہ السلام کا قصہ سنایا ہے جس میں یہ مذکورہ ہے کہ آپ نے بادشاہ سے کہا تھا :
اجْعَلْنِي عَلَى خَزَائِنِ الْأَرْضِ إِنِّي حَفِيظٌ عَلِيمٌ
”ملک کے خزانوں پر مجھے مامور کر دیجئے۔ میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم رکھنے والا بھی۔“
(يوسف : 55)
سیاسی مناصب وغیرہ طلب کرنے کے بارے میں اسلام کی تعلیم یہی ہے۔
حرام ملازمتیں :
ملازمتوں کا یہ جواز اس شرط کے ساتھ ہے کہ اس سے مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچے۔ ایسی ملازمت جس سے اسلام یا مسلمانوں کو ضرر پہنچتا ہو یا جو ظلم اور حرام کے کاموں میں معاون ہو، وہ حرام ہے مثلاً : سودی کاروبار شراب خانوں، رقص گاہوں (Dancing Halls) اور سینما گھروں کی ملازمتیں۔ ایسے ملازمین یہ کہ کر گناہ سے بری نہیں ہو سکتے کہ وہ خود حرام کے مرتکب نہیں ہوتے، کیونکہ اسلام کا اصول یہ ہے کہ گناہ کے کام کی اعانت بھی گناہ ہے چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کے کاتب اور گواہوں پر اسی طرح لعنت فرمائی جس طرح سود خوری پر لعنت فرمائی ہے۔
مسلم كتاب المساقاة باب لعن آكل الربا و مؤكله ح : 1598
اور شراب نچوڑنے والے اور پلانے والے پر بھی اسی طرح لعنت فرمائی جس طرح اس کے پینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
ابو داود كتاب الاشربة باب العسير للخمر ح : 3674 – ابن ماجه كتاب الاشربة : باب لعنت الخمر على عشرة ح : 3381 ، 3370
یہ حکم اس صورت میں ہے جبکہ کوئی مجبور کن ضرورت در پیش نہ ہو یعنی ایک مسلمان اپنی گذر بسر کے لیے اس قسم کا کام کرنے پر مجبور نہ ہو جائے۔ لیکن اگر واقعی اس درجہ کی مجبوری لاحق ہو جائے تو کراہت کے ساتھ بقدر ضرورت ایسی ملازمت اختیار کی جاسکتی ہے۔ ساتھ ہی دوسرے کام کی تلاش میں رہنا ضروری ہوگا تا آنکہ اللہ عزوجل اس کے لیے کسب حلال کی راہ کھول دے۔
مسلمان ہمیشہ شبہات کے مواقع سے احتراز کرتا ہے کیونکہ یہ دین و اعتقاد کی کمزوری کا باعث ہوتے ہیں، خواہ ان کے ذریعہ کتنا ہی قیمتی فائدہ اور کتنا ہی وافر مال حاصل ہو جائے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
دع مايريبك إلى ما لا يريبك
”جو چیز تم کو شبہ میں ڈال دے اس کو چھوڑ دو اور اس چیز کو اختیار کرو جو شبہ پیدا کرنے والی نہیں ہے۔“
مسندا حمد (1/ 200) – ترمذی كتاب صفة القيامة : باب (60) ح : 2518 ، نسائی کتاب الاشربة : باب الحث على ترك الشبهات ح : 5714
نیز فرمایا :
لا يبلغ عبد درجة المتقين حتى يدع مالا باس به حذرا مما به باس
”بندہ متقیوں کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ وہ ان باتوں کو جن میں کوئی حرج نہیں ہے، حرج کے اندیشہ سے چھوڑ نہ دے۔“
ترمذي كتاب صفة القيامة : باب (19) ح : 2451 واسناده ضعيف
مسائل کسب کے سلسلہ میں عام اصول :
کمانے کے سلسلہ میں عام اصول یہ ہے کہ اسلام اپنے فرزندوں کو اس بات کی کھلی چھٹی نہیں دیتا کہ وہ جو مال چاہیں کمائیں اور جس طریقہ سے چاہیں کمائیں، بلکہ وہ اجتماعی مصالح کے پیش نظر کسب معاش کے مشروع اور غیر مشروع طریقوں میں واضح فرق بیان کرتا ہے۔ یہ فرق ایک کلیہ پر مبنی ہے اور وہ یہ ہے کہ کسب مال کے وہ تمام طریقے جن سے کچھ افراد دوسروں کو نقصان پہنچا کر فائدہ حاصل کرتے ہوں، غیر مشروع ہیں۔ اس کے برخلاف ایسے طریقے جن سے افراد باہمی رضا مندی سے عدل کے ساتھ منفعت کا تبادلہ کرتے ہوں، مشروع ہیں۔
اس اصول کی توضیح قرآن کی درج ذیل آیت سے ہوتی ہے :
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا 29 وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا
”اے ایمان والو ! اپنے مال آپس میں باطل طریقوں سے نہ کھاؤ مگر یہ کہ باہمی رضا مندی سے تجارت کے ذریعہ مال حاصل ہو جائے۔ اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو۔ اللہ تم پر بڑا مہربان ہے۔ اور جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اس کو ہم جلد ہی آگ میں جھونک دیں گے۔“
(النساء : 29-30)
اس آیت نے تجارت کو دو شرطوں کے ساتھ مشروع کیا ہے۔ ایک یہ کہ تجارت فریقین کی رضا مندی سے ہو۔ اور دوسری یہ کہ ایک فریق کا فائدہ دوسرے فریق کے نقصان پر مبنی نہ ہو۔ یہ بات وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ (اپنی جانوں کو قتل نہ کرو) کے الفاظ سے واضح ہوتی ہے۔ مفسرین نے اس کے دو معنی بیان کیے ہیں اور دونوں ہی یہاں منطبق ہوتے ہیں۔ ایک معنی یہ ہے کہ تم ایک دوسرے کو قتل نہ کرو۔ اور دوسرے معنی یہ ہیں کہ اپنے ہاتھوں خود کو قتل نہ کرو۔ لیکن دونوں صورتوں میں آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اپنے ذاتی فائدہ کی خاطر دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے وہ گویا خون بہاتا ہے اور نتیجتاً اپنے ہی لیے ہلاکت کی راہ کھولتا ہے۔ چنانچہ چوری، رشوت خوری جوا، دھوکہ فریب دعا اور سود وغیرہ ایسے ذرائع کسب ہیں، جن میں غیر مشروع ہونے کی یہ دونوں علتیں پائی جاتی ہیں اور اگر بعض صورتوں میں باہمی رضا مندی کی شرط پوری ہوتی بھی ہو تو دوسری اہم شرط لَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ میں مضمر ہے (یعنی جس سے دوسرے فریق کو نقصان نہ پہنچے) مقصود ہوتی ہے۔
اسس الاقتصاد للاستاذ أبي الاعلى المودودي – ص 152