مضمون کے اہم نکات
منسوب آثار کی حقیقت
رسول اللہ ﷺ کے آثار مبارکہ سے تبرک صرف آپ ﷺ کے قریب زمانے والے لوگوں، یعنی صحابہ کرام، تابعین عظام اور تبع تابعین کے حصے میں آیا۔ چودہ سو سال گزر جانے کے بعد ان آثار سے تبرک کا حصول ممکن نہیں، کیونکہ یہ سارے آثار مفقود ہو چکے ہیں۔ دنیا میں ان کا کوئی وجود نہیں۔ بعض حضرات نے آپ ﷺ سے منسوب کر کے آثار وضع کیے ہوئے ہیں۔ ان کے پاس اس کی کوئی سند نہیں ہے۔
جس طرح رسول اللہ ﷺ سے کوئی قول، فعل یا سکوت منسوب کرنا بہت احتیاط کا کام ہے کہ جھوٹ منسوب کرنے سے نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث صادق آتی ہے:
[من کذب علی، فلیتبوا مقعدہ من النار]
جو شخص مجھ پر جھوٹ بولے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم سمجھے۔
[صحیح البخاری: 107، صحیح مسلم:3]
اسی طرح کسی ایسے اثر، مثلاً نعلین، بال، جبہ یا پگڑی کو آپ ﷺ کی طرف منسوب کرنا، جو درحقیقت آپ ﷺ کا نہ ہو، تو ایسا شخص بھی بلا شبہ نبی کریم ﷺ کی مندرجہ بالا وعید کا مصداق ہو گا۔ لہٰذا ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرنا چاہیے، جو خود ساختہ تبرکات نبویہ لوگوں میں متعارف کراتے ہیں یا ان کی تشہیر کا سبب بنتے ہیں۔
اگر کوئی شخص چودہ سو سال گزر جانے کے بعد نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب تبرکات کا دعویٰ کرتا ہے، تو اسے چاہیے کہ وہ اپنے دعویٰ پر صحیح سند پیش کرے۔
اگر کوئی کہے کہ یہ نعلین شریفین نبی کریم ﷺ کے ہیں یا یہ مبارک بال آپ ﷺ کے ہیں، تو کیا اتنی سی بات پر ان نعلین اور بالوں کی تعظیم و تکریم کرنا شروع کر دیں گے؟ ان سے تبرک حاصل کرنے لگیں گے، یا اس انتساب پر صحیح سند کا بھی مطالبہ کریں گے؟ اگر وہ صحیح ثبوت فراہم نہ کر سکے تو ان چیزوں کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف کرنا درحقیقت آپ ﷺ کی ذات گرامی پر جھوٹ باندھنا ہے، لہٰذا اس معاملہ کی حساسیت کو سمجھنا ہو گا۔
یہ بات بجا ہے کہ نبی کریم ﷺ سے منسوب کوئی چیز باوثوق ذرائع سے ثابت ہو جائے، تو اس سے تبرک کا انکار کرنا سراسر بدبختی ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ بعض لوگ نبیﷺ کے معاملہ کو انتہائی کم سمجھ لیتے ہیں، حالاں کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے۔
آثار نبویہ مفقود ہو چکے ہیں:
یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ آثار نبویہ ﷺ مفقود ہو گئے ہیں، اب دنیا میں ان کا وجود باقی نہیں رہا۔
منبر رسول ﷺ سن 654ھ میں جل گیا تھا۔
امام یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کا جنازہ نبی کریم ﷺ کی چارپائی پر اٹھایا گیا تھا۔
[تاریخ یحییٰ بن معین بروایۃ الدوری: 3/67]
بعد میں اس مبارک چارپائی کا کیا ہوا؟ کوئی علم نہیں۔
چھڑی مبارک:
اسی طرح عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ کے پاس نبی کریم ﷺ کی چھڑی مبارک تھی، جسے وہ ہر وقت اپنی تلوار کے ساتھ باندھ کر رکھا کرتے تھے، ان کی وصیت تھی کہ اس چھڑی کو ان کے کفن کے ساتھ رکھ دیا جائے، چنانچہ اسے ان کے ساتھ ہی دفن کر دیا گیا۔
[مسند الإمام أحمد: 3/486، وسنده حسن]
امام ابن خزیمہ (982) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (7160) نے اس حدیث کو، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (فتح الباری: 2/437) نے اس کی سند کو ”صحیح“ کہا ہے۔
چادر مبارک:
سیدنا سہیل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی نے نبی کریم ﷺ سے آپ کی چادر مبارک مانگی اور وہ چادر ہی ان کا کفن بنی۔ (صحیح البخاری: 1277)
انگوٹھی مبارک:
نبی کریم ﷺ کی انگوٹھی مبارک جس پر ”محمد رسول اللہ“ کندہ تھا، آپ ﷺ کے بعد سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچی۔ ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی انگلی کی زینت بنی۔ بالآخر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ انگوٹھی کنویں میں گر گئی، بسیار کوشش کے باوجود نہ مل سکی۔ (صحیح البخاری: 5866-5879)
بیعت رضوان والے درخت کا معاملہ:
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
[رجعنا من العام المقبل، فما اجتمع منا اثنان على الشجرة التي بايعنا تحتها، كانت رحمة من الله]
ہم (مقام حدیبیہ پر) صلح حدیبیہ کے دوسرے سال آئے، تو ہم میں سے دو آدمی بھی اس درخت کی نشاندہی پر متفق نہ ہو سکے، جس کے نیچے ہم نے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی تھی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔
[صحیح البخاری: 2958]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
[أن لا يحصل بها افتتان لما وقع تحتها من الخير، فلو بقيت لما أمن تعظيم بعض الجهال لها، حتى ربما أفضى بهم إلى اعتقاد أن لها قوة نفع أو ضر، كما نراه الآن مشاهدا فيما هو دونها، وإلى ذلك أشار ابن عمر بقوله: كانت رحمة من الله، أي كان خفاؤها عليهم بعد ذلك رحمة من الله تعالى]
(اسے بیان کرنے کی حکمت یہ ہے کہ) خیر کا جو معاملہ اس درخت کے نیچے رونما ہوا تھا، اس کی وجہ سے لوگ فتنے میں نہ پڑیں۔ اگر وہ باقی رہتا، تو بعض جاہل لوگوں کی طرف سے اس کی تعظیم کرنے کا اندیشہ رد نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہاں تک کہ لوگ یہ عقیدہ گھڑ لیتے کہ درخت نفع و نقصان کا مالک ہے، جیسا کہ ہم اپنے مشاہدہ میں دیکھ رہے ہیں کہ اس سے کم تر چیزوں سے یہ معاملہ کیا جا رہا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بات میں اسی کی طرف اشارہ کیا تھا کہ اس سال کے بعد اس درخت کا مخفی ہو جانا اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔
[فتح الباری: 6/118]
امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[كان أبي ممن بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم عند الشجرة، قال: فانطلقنا في قابل حاجين، فخفي علينا مكانها، فإن كانت تبينت لكم، فأنتم أعلم۔]
میرے والد گرامی ان لوگوں میں شامل تھے، جنہوں نے درخت کے نیچے نبی کریم ﷺ کے مبارک ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ وہ فرماتے ہیں کہ دوسرے سال جب ہم حج کرنے کے لیے گئے، تو ہمیں درخت والی جگہ نہ ملی۔ اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر ہو جائے، تو تم زیادہ سمجھ دار ہو۔ (صحیح مسلم: 1859)
حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
[قال العلماء: سبب خفائها ألا يفتتن الناس بها لما جرى تحتها من الخير ونزول الرضوان والسكينة وغير ذلك، فلو بقيت ظاهرة معلومة لخيف تعظيم الأعراب والجهال إياها وعبادتهم لها، فكان خفاؤها رحمة من الله تعالى۔]
علمائے کرام نے اس کے مفقود ہونے کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ اس درخت کے نیچے جو خیر، خوشنودی اور سکینت وغیرہ ملی تھی، اس کی وجہ سے لوگ فتنے میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اگر وہ ظاہر اور معلوم رہتا تو دیہاتی اور جاہل لوگ اس کی تعظیم اور عبادت کرنے لگتے، لہٰذا اس کا مخفی رہنا اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔
[شرح مسلم:13/ 5]
جب زمین کا ایک ظاہری ٹکڑا صحابہ پر مخفی ہو گیا، تو ہمارے زمانہ میں قطعیت اور یقین کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی طرف تبرکات کی نسبت کا دعویٰ ممکن نہیں۔ یہ نسل در نسل ثقہ اور معتبر راویوں کے واسطے سے ہم تک نہیں پہنچے، نہ ان کے متعلق دعویٰ تواتر سے ثابت ہے۔ محض جھوٹے اور بد عقیدہ لوگوں کی باتوں کا کیا اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ ایسے لوگوں کے بے بنیاد دعووں کا اللہ رب العزت نے ہمیں مکلف نہیں ٹھہرایا، جو دروغ گوئی میں بے باک ہیں۔
موجودہ آثار کے بارے علامہ لکھنوی حنفی رحمہ اللہ کی رائے:
برصغیر پاک و ہند کے مشہور حنفی عالم علامہ عبدالحی لکھنوی رحمہ اللہ (1304ھ) کی آثارِ انبیاء کے بارے میں نصیحت آموز تحریر ملاحظہ ہو:
پس ان تمام احادیث و روایات سے اہلِ ایمان کی نظر میں یہ بخوبی ثابت ہے کہ جملہ آثار و مشاہدِ نبوی سے برکت حاصل کرنا اور ان کی عظمت کرنا اللہ کی نعمتوں میں سے عمدہ نعمت ہے اور اس قسم کی برکت اور تعظیم کا ثبوت خود حضور روحی فداہ اور حضرات صحابہ کرام علیہم السلام کے افعال سے پایا جاتا ہے، لیکن مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس بات پر غور کریں کہ جس طرح ان احادیث سے آثارِ نبوی کی برکت اور تعظیم کا ثبوت ہوتا ہے، اسی طرح تعظیم اور برکت حاصل کرنے کا طریقہ بھی معلوم ہوتا ہے، پس جس طرح وہ شخص جو منکرِ برکتِ آثارِ نبویہ ہو، بددین اور گناہ گار ہے، اسی طرح وہ شخص بھی مبتدع اور مخالفِ سنت سمجھا جائے گا جو طریقِ مرویہ حدیث کے خلاف تعظیم کا کوئی خاص طریقہ اپنی طرف سے ایجاد کرے، کیونکہ مخالفتِ سنت میں دونوں برابر ہیں اور یہ اس صورت میں ہے کہ جبکہ اس طریقہ مخترعہ میں کوئی امر خاص صریح منہیات شرعیہ اور محرماتِ یقینیہ سے شامل نہ ہو اور اگر اس طریقہ مخترعہ میں کوئی امر محرماتِ شرعیہ سے بھی شامل کیا جائے تو ایسی حالت میں دو نقصان ہوں گے، ایک تو طریقِ خاص کا احداث اور دوسرے محرماتِ شرعیہ کا ارتکاب اور ان دونوں باتوں کا حکم یہ ہے کہ ان کا مرتکب غیر مستحل فاسق اور مستحل کافر ہے۔
دوسری اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ جو برکت اور تعظیم حضور سرورِ انبیا علیہ التحیۃ والثناء کے آثار کے لیے ثابت ہے، وہ حضور ہی کے آثار کے ساتھ مخصوص ہے، دوسرے کے آثار کے ساتھ وہ معاملہ کرنا جو آپ کے آثار کے ساتھ مخصوص ہے، حرام ہے۔ پس ضرور ہوا جس کسی خاص جبہ اور خاص لباس اور خاص بال کی نسبت یہ دعویٰ کیا جائے کہ حضور روحی فداہ کے آثار ہیں تو اول اس بات کا یقین حاصل کیا جائے کہ فی الواقع یہ آثار آپ کے ہیں یا دوسرے شخص کے ہیں، جن کو آپ کی جانب کسی طمع سے نسبت کر دی ہے تاکہ اس یقین سے غیر کے آثار کے ساتھ آنحضرت کے آثار کا ایسا برتاؤ لازم نہ آئے اور اس قسم کا یقین کا حصول ایسے امور کی نسبت بغیر طریقے کے متعذر ہے، جس کو محدثین رحمہم اللہ نے روایتِ حدیث میں اختیار کیا ہے، کیونکہ اثباتِ آثارِ نبوی بھی حدیث ہے، جو رسول سے مروی ہو اور جو حدیث رسول سے مروی ہو، اس میں یہی طریقہ مسلوک ہے اور یہ بات ظاہر ہے کہ جب ان آثار کا ثبوت ایسے طریقِ روایت پر موقوف ہو تو اس کی صحت اور عدمِ صحت بھی صحتِ اسناد اور عدمِ صحتِ اسناد پر موقوف ہو گی اور جب اس کے لیے سندِ ضعیف بھی میسر نہ ہو تو صرف جاہلوں کے محضرنامے اس کو ثابت نہیں کر سکتے، پس خلاصۂ کلام کا یہ ہو گا کہ بلا شبہ تعظیمِ آثارِ نبوی علاماتِ ایمان میں سے ہے، جس کا ثبوت احادیثِ صحیحہ سے ہوتا ہے، لیکن وہ تعظیم اور تبرک انہیں طرق میں منحصر ہے جو احادیث سے ثابت ہیں اور یہ تعظیم اس بات کی فرع ہے کہ ان آثار و تبرکات کا انتساب حضور سرورِ کائنات علیہ السلام والصلوٰۃ کی ذاتِ اقدس کی طرف صحیح ہو اور صحتِ انتساب صحتِ روایت پر موقوف ہے، پس جو آثار بصحتِ روایت ثابت ہیں، بلا شبہ ان کی تعظیم حضراتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے طریقہ کے موافق کرنا چاہیے اور ان سے برکت حاصل کرنے میں کوئی شبہ نہیں اور جو بصحتِ روایت ثابت نہ ہوں، اُن کے ساتھ بے تحقیق کیے ہوئے وہ معاملہ کرنا جو آپ کے آثارِ ثابتہ سے کرنا چاہیے، ایسا ہے جیسے بے سند کلام کو حدیث کہنا اور اُس پر عمل کرنا جن کی نسبت سخت وعید وارد ہے۔
[مجموع الفتاوی: 175/3-176]
ایک بریلوی مفتی صاحب کی رائے:
علامہ محمد شریف الحق امجدی بریلوی صاحب (مبارک پور، اعظم گڑھ، یو، پی) نے لکھا ہے:
محض شاہی مسجد میں رکھا ہونا کوئی ثبوت نہیں کہ فلاں چیز حضور اقدس ﷺ کی استعمال کی ہوئی ہے، اس کے لیے ثبوت کی حاجت ہے، اس لیے دلیل آپ کے ذمے ہے۔
(فتاویٰ شارح بخاری: 1/479)
موجودہ آثار اور اہل علم:
شیخ الاسلام، ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
[هذا إذا كان النعل صحيحا، فكيف بما لا يعلم صحته، أو بما يعلم أنه مكذوب، كحجارة كثيرة يأخذها الكذابون وينحتون فيها موضع قدم، ويزعمون عند الجهال أن هذا الموضع قدم النبي صلى الله عليه وسلم۔]
یہ (تعظیم والا معاملہ) تو اس وقت (زیرِ بحث آ سکتا) ہے، جب ان جوتوں کی نسبت نبی کریم ﷺ سے ثابت ہو۔ لیکن اگر ان کی صحت کا علم ہی نہیں یا ان کا جھوٹا ہونا بالکل معلوم ہے، جس طرح بعض جھوٹے لوگ پتھر لے کر اس میں آپ ﷺ کے پاؤں کا نقش بناتے ہیں اور پھر جاہلوں کے سامنے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس جگہ پر نبی کریم ﷺ کے قدموں کے نشان ہیں، تو اس صورتِ حال میں ان کی تعظیم کیسے درست ہو سکتی ہے؟
[اقتضاء الصراط المستقیم: 2/337]
حافظ ذہبی رحمہ اللہ (748ھ) فرماتے ہیں:
[مثل هذا يقوله هذا الإمام بعد النبي صلى الله عليه وسلم بخمسين سنة، فما الذي نقوله نحن في وقتنا لو وجدنا بعض شعره بإسناد ثابت، أو شسع نعل كان له، أو قلامة ظفر، أو شقفة من إناء شرب فيه، فلو بذل الغني معظم أمواله في تحصيل شيء من ذلك عنده، أكنت تعده مبذرا أو سفيها؟ كلا]
یہی بات نبی کریم ﷺ کے پچاس سال بعد اس امام (محمد بن سیرین رحمہ اللہ) نے کہی ہے۔ اب اگر ہمارے زمانے میں ہمیں نبی کریم ﷺ کے بال، جوتے کے تسمے، ناخن اور برتن کا ٹکڑا، جس میں آپ ﷺ پانی نوش فرمایا کرتے تھے، کا ثبوت صحتِ سند کے ساتھ مل جائے تو ہم کیا کہیں گے؟ اگر کوئی امیر آدمی اس کے حصول کی خاطر کثیر زرِ خرچ کر دے تو کیا ہم اسے فضول خرچ اور بیوقوف کہیں گے؟ نہیں! ہرگز نہیں۔ (سیر أعلام النبلاء: 4/42)
ثابت ہوا کہ اہل علم تبرکاتِ نبویہ کے ثبوت کے لیے سند کو بنیاد بناتے ہیں۔
محدث العصر علامہ البانی رحمہ اللہ (1420ھ) فرماتے ہیں:
[هذا ولا بد من الإشارة إلى أننا نؤمن بجواز التبرك بآثاره صلى الله عليه وسلم، ولا ننكره خلافا لما يوهمه صنيع خصومنا، ولكن لهذا التبرك شروطا؛ منها الإيمان الشرعي المقبول عند الله، فمن لم يكن مسلما صادق الإسلام؛ فلن يحقق الله له أي خير بتبركه هذا، كما يشترط للراغب في التبرك أن يكون حاصلا على أثر من آثاره صلى الله عليه وسلم ويستعمله، ونحن نعلم أن آثاره صلى الله عليه وسلم من ثياب أو شعر أو فضلات قد فقدت، وليس بإمكان أحد إثبات وجود شيء منها على وجه القطع واليقين، وإذا كان الأمر كذلك؛ فإن التبرك بهذه الآثار يصبح أمرا غير ذي موضوع في زماننا هذا، ويكون أمرا نظريا محضا، فلا ينبغي إطالة القول فيه۔]
ہم ضرور آثارِ نبویہ سے تبرک کے جواز پر ایمان لاتے ہیں، اس کا انکار نہیں کرتے، لیکن مخالفین ہمارے خلاف پروپیگنڈا کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک تبرک حاصل کرنے کی کچھ شروط ہیں، ان میں سے ایک شرط شریعت پر ایسا ایمان ہے، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول ہو۔ جو شخص سچا مسلمان نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ اسے آثارِ نبویہ سے تبرک میں کوئی خیر نہیں دیتا۔ اسی طرح تبرک حاصل کرنے والے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے پاس آپ ﷺ کے کچھ آثار بھی ہوں، جن سے وہ تبرک لیتا ہو۔ مگر ہمیں معلوم ہے کہ نبی کریم ﷺ کے بال، لباس اور دیگر آثار مفقود ہو چکے ہیں۔ اب کسی کے بس کی بات نہیں کہ وہ انہیں یقینی اور قطعی طور پر ثابت کر سکے۔ جب معاملہ یہ ہے تو ہمارے زمانے میں آثارِ نبویہ سے تبرک لینا بے جا ہے۔ یہ محض ایک خیالی معاملہ ہے، جس پر لمبی گفتگو کرنا نامناسب ہے۔
[التوسل وأنواعه وأحكامه، ص 144، وفي نسخة، ص 161-162]
علامہ احمد رضا خان بریلوی صاحب کا موقف:
امامِ بریلویت، احمد رضا خان صاحب لکھتے ہیں:
ایسی جگہ ثبوتِ یقینی باسندِ محدثانہ کی اصلاً حاجت نہیں، اس کی تحقیق و تنقیح کے پیچھے پڑنا اور بغیر اس کے تعظیم و تبرک سے باز رہنا سخت محرومی و کم نصیبی ہے۔ ائمہ دین نے صرف حضورِ اقدس کے نام سے اُس شے کا معروف ہونا کافی سمجھا ہے۔
(فتاویٰ رضویہ: 21/412)
نہ معلوم وہ کون سے ائمہ دین ہیں، جو آثارِ نبویہ کے لیے سند کو بنیاد نہیں بناتے، بلکہ شہرت پر اکتفا کر لیتے ہیں، ہم ثبوتوں کے ساتھ بیان کر چکے ہیں علمائے کرام تو اس کے لیے سند کو ضروری سمجھتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ تحقیق و تنقیح کے پیچھے نہ پڑنا اور بغیر تحقیق کے تعظیم و تبرک میں پڑنا کم نصیبی اور محرومی ہے۔
مفتی احمد یار خان نعیمی بریلوی صاحب لکھتے ہیں:
تبرکات کے ثبوت کے لیے مسلمانوں میں یہ مشہور ہونا کہ یہ حضور کے تبرکات ہیں، کافی ہے۔
(جاء الحق: 1/376)
نیز لکھتے ہیں:
ہم کہتے ہیں کہ ہم فلاں کے بیٹے فلاں کے پوتے ہیں، اس کا ثبوت نہ قرآن میں ہے، نہ حدیث سے، نہ ہماری والدہ کے نکاح کے گواہ موجود، مگر مسلمانوں میں اس کی شہرت ہے، اتنا ہی کافی ہے، اسی طرح یادگاروں کے ثبوت کے لیے صرف شہرت معتبر ہے۔
(جاء الحق: 1/376)
لیکن ہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی طرف نسبت کا معاملہ عام دعوؤں سے مختلف ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف کسی چیز کو منسوب کرنا دلیل و ثبوت کا متقاضی اور احتیاط طلب معاملہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی طرف کسی اثر کو منسوب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک فعل کی نسبت آپ ﷺ کی طرف کی جا رہی ہے۔ اس کی مثال یوں لیں کہ کسی جوتے کو نبی کریم ﷺ سے منسوب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ یہ جوتا پہنا کرتے تھے۔ یوں یہ ایک حدیث ہے اور کسی جھوٹی حدیث کو آپ ﷺ کی طرف منسوب کرنے کا انجام یہ ہے:
[من كذب علي متعمدا؛ فليتبوأ مقعده من النار۔]
جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹ منسوب کیا، وہ اپنا ٹھکانا جہنم سمجھے۔
[صحیح البخاری: 1291، صحیح مسلم: 3]
رہی یادگاروں کی بات، تو جن یادگاروں کے متعلق واقعات قرآن و حدیث میں موجود ہیں یا وہ تواتر کے ساتھ ثابت ہیں، ان کے متعلق کوئی شبہ نہیں ہو سکتا، لیکن جو یادگاریں بغیر ثبوت کے کسی کی طرف منسوب ہیں، وہ بھی مشکوک ہی ہوں گی۔
موجودہ دور کے جعلی تبرکات بھی تواتر سے ثابت نہیں، لہذا انہیں نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا بہت بڑی جسارت ہے۔
باقی جو نکاح کی بات کی گئی ہے، تو شریعت نے اس میں گواہوں کی موجودگی اسی لیے ضروری اور لازمی شرط کے طور پر رکھی ہے کہ اس کے ثبوت میں کوئی دقت نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ نکاح علی الاعلان کیا جاتا ہے اور دو خاص گواہوں کے علاوہ باقی سارے لوگ بھی اس نکاح کے گواہ ہی ہوتے ہیں۔ دو لوگوں کو خاص طور پر گواہ اس لیے بنایا جاتا ہے کہ اگر اس بارے میں کوئی قانونی پیچیدگی ہوتی ہے، تو یہ لوگ عدالت کو اس حوالے سے مطمئن کر سکیں۔ جب پورے علاقے والے لوگ نکاح کے گواہ ہوتے ہیں، تو موجودہ اور آنے والی تمام نسلوں کو بھی یہ گواہی پہنچتی جاتی ہے۔ اگر کسی شخص کے نکاح کے دونوں گواہ فوت ہو چکے ہوں، تو کیا عدالت میں اس کے نکاح کا ثبوت پیش نہیں کیا جا سکے گا؟
اس کے برعکس نبی کریم ﷺ سے منسوب تبرکات کو ثابت کرنا ممکن ہی نہیں۔ محدثین اور اہل علم نے اس کے لیے تواتر یا سندِ صحیح کی شرط لگائی ہے اور موجودہ تبرکات کو خود احناف اہل علم نے بھی مسترد کر دیا ہے، جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔
مفتی نعیمی بریلوی صاحب ایک واقعہ ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ان سے پوچھا گیا کہ جناب کا اسم شریف کیا ہے؟ فرمانے لگے: عبدالرحمن، والد مہربان کا اسم گرامی کیا ہے؟ فرمایا کہ عبدالرحیم، ہم نے پوچھا کہ اس کا ثبوت کیا ہے؟ کہ آپ عبدالرحیم صاحب کے فرزند ہیں؟ اولاً تو اس نکاح کے گواہ نہیں، اگر کوئی ہو بھی تو وہ صرف عقدِ نکاح کی گواہی دے گا، یہ کیسے معلوم ہوا کہ جناب کی ولادت شریف ان کے ہی قطرے سے ہے، رُک کر بولے کہ جناب مسلمان کہتے ہیں کہ میں ان کا بیٹا ہوں اور مسلمانوں کی گواہی معتبر ہے، ہم نے کہا: جب مسلمان کہتے ہیں کہ یہ رسول اللہ کا بال شریف ہے اور مسلمانوں کی گواہی معتبر ہے، شرمندہ ہو گئے۔
(جاء الحق: 1/378)
مفتی نعیمی صاحب یہاں خلط مبحث سے کام لے رہے ہیں۔ بات نبی کریم ﷺ کی طرف کسی چیز کی نسبت کی ہو رہی ہے، جس کے بارے میں بڑی وضاحت و صراحت سے یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ آپ ﷺ کی طرف جھوٹی نسبت جہنم میں جانے کا باعث ہے۔ اس کے برعکس شریعت ہی نے یہ بتایا ہے کہ اگر کسی کے گھر کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے، تو وہ اسی کی طرف منسوب ہو گا۔ اگر کوئی شخص یہ بھی دعویٰ کر دے کہ میں نے اس کی ماں کے ساتھ زنا کیا تھا اور یہ میرا بچہ ہے، تو بھی اس کا دعویٰ مسترد کر دیا جائے گا۔ یہ بچہ تو اسی کا ہو گا، جس کے بستر پر پیدا ہوا ہے، جبکہ زنا کا دعویٰ کرنے والے کو زنا کی سزا دی جائے گی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[الولد للفراش، وللعاهر الحجر۔]
بچہ بستر (والے) کا ہی ہو گا، البتہ (شادی شدہ) زانی کے لیے (زنا کی سزا کے طور پر) پتھر ہیں۔ (صحیح البخاری: 6749، صحیح مسلم: 1457)
اگر کوئی کہے کہ فلاں شخص فلاں کا بیٹا نہیں، تو اس نے اس پر حرامی ہونے کا دعویٰ کیا ہے، اس دعویٰ پر اسے چار گواہ پیش کرنا ہوں گے، ورنہ اسے کوڑے لگائے جائیں گے، مگر تبرکات کے متعلق کوئی دعویٰ کر دے کہ یہ تبرکات اصلی نہیں تو اس کو گواہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ تبرکات کے اصلی ہونے کے دعویدار پر ثبوت پیش کرنا ضروری ہے۔
لہذا تبرکات کو نکاح یا کسی کے حلالی و حرامی ہونے کے دعوے پر قیاس کرنا خطا ہے۔
ایک جھوٹے نقشِ پا کا قصہ:
حالیہ واقعہ ہے، موضع ”دھرابی“، ضلع چکوال میں ایک شخص نے دعویٰ کیا کہ میرے گھر میں نبی کریم ﷺ تشریف لائے ہیں اور آپ ﷺ کے مبارک قدم کا نشان باقی ہے۔ قبوری لوگ قافلوں کی صورت میں وہاں پہنچے لیکن بہت جلد اس جھوٹے دعویٰ کی قلعی کھل گئی۔
ہر مسلمان کو معلوم ہونا چاہیے کہ تبرکات کا معاملہ دین اور عقیدہ کا مسئلہ ہے، اسے جھوٹے لوگوں کے رحم و کرم پر مت چھوڑا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آثارِ نبوی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور ڈر مدنظر رکھنا چاہیے، احتیاط کا دامن نہ چھوڑا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا مسئلہ بڑا سخت ہے، یہ جھوٹے دعوے روزِ قیامت وبالِ جان بن جائیں گے۔
تبرکاتِ نبویہ کی تشبیہ:
آثارِ نبویہ سے تبرک حاصل کرنا حق ہے، مگر تبرک اس طریقے سے حاصل کیا جائے، جیسے صحابہ کرام، تابعین عظام اور تبع تابعین حاصل کیا کرتے تھے۔ آج کل بعض لوگوں نے تبرکات کی شبیہات بنا لی ہیں۔ اسی طرح نعلین کریمین کی فرضی اور مصنوعی تصاویر جھنڈیوں کی زینت بنتی ہیں۔
اولاً: تو جن نعلین کی نسبت نبی کریم ﷺ کی طرف کی گئی ہے، وہ نسبت ثابت ہی نہیں۔ ثانیاً: آثارِ نبویہ کی فرضی تصاویر اور تشبیہ سے تبرک حاصل کرنا بدعت ہے۔ صحابہ کرام، تابعین عظام اور تبع تابعین اس سے ناواقف تھے۔ خیرالقرون میں اس کا کوئی ثبوت نہیں۔
نبی کریم ﷺ کے ساتھ محبت کا ہرگز یہ تقاضا اور مطلب نہیں کہ آپ ﷺ کے آثار کی شبیہ بنا لی جائے، اس فرضی تصویر اور شبیہ کی وہی تعظیم و تکریم بجا لائی جائے، جو اصلی تبرکات کی بھی جائز نہیں۔ تبرکات کی تصویر بدعت اور منکر کام ہے۔ یہ شرک تک پہنچنے کا راستہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔ اگر کوئی ان غالیوں سے دلیل کا طلب گار ہو تو اسے گستاخ کہہ دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی ان تصاویر اور شبیہات کو مصنوعی اور فرضی کہہ دے تو اسے طرح طرح کے فتووں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر کوئی فرضی تصاویر کو ختم کر دے تو اسے گستاخِ رسول قرار دیا جاتا ہے، بلکہ اس کے خلاف طوفانِ بدتمیزی برپا کر دیا جاتا ہے۔
ان لوگوں کی اول تا آخر یہی کوشش ہے کہ لوگ حقائق کو نظر انداز کر کے ان فرضی تصاویر کے پیچھے لگ جائیں۔
آثار نبویہ کی شبیہات اور اسلافِ امت:
امام بریلویت احمد رضا خان صاحب لکھتے ہیں:
بالجملہ مزارِ اقدس کا نقشہ تابعینِ کرام اور نعلِ مبارک کی تصویر تبع تابعینِ اعلام سے ثابت اور جب سے آج تک ہر قرن و طبقہ کے علما و صلحا میں معمول و رائج، ہمیشہ اکابر دین ان سے تبرک اور ان کی تکریم و تعظیم رکھتے آئے ہیں۔
[شفاء الوالہ في صور الحبيب ومزاره ونعاله، مندرج في فتاویٰ رضویہ: 456/2]
تابعین اور اکابرِ دین کی طرف اس بات کی نسبت کو اگر نرم سے نرم الفاظ میں بھی بیان کیا جائے، تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ یہ جھوٹ ہے۔ اس کا ثبوت قیامت تک ممکن نہیں۔
نعلین کی شبیہ پر ایک دلیل کا جائزہ:
بعض لوگ نعلین کی شبیہ بنانے کے جواز پر ایک واقعہ پیش کرتے ہیں، جسے حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے اپنی سند سے ذکر کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
[قال عبد العزيز: وأخرج إلي أبو طالب عبد الله بن الحسن تمثالا، فذكر أن أبا بكر محمد بن عدي بن علي بن زحر المنقري أخرج إليه تمثالا، فذكر أن أبا عثمان سعيد بن الحسن بن علي التستري أخرج إليه تمثالا، فذكر أنه تمثال لنعل رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأن أحمد بن محمد الفزاري أخرج ذلك إليه بأصبهان وحدثه به، قال: ونا أبو طالب، قال: وحدثني محمد بن عدي بن علي بن زحر المنقري: حدثني سعيد بن الحسن التستري بتستر: أنا أحمد بن محمد الفزاري، قال: قال أبو إسحاق إبراهيم بن الحسن، قال: قال أبو عبد الله إسماعيل ابن أبي أويس، واسم أبي أويس؛ عبد الله بن عبد الله بن أويس ابن مالك بن أبي عامر الأصبحي، قال: كانت نعل رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي حذيت هذه النعل على مثالها؛ عند إسماعيل بن عبد الله بن أويس الحذاء، فحذا مثال هذا النعل بحضرته على مثال نعل رسول الله صلى الله عليه وسلم مثلها سواء، ولها قبالان۔]
ابو عبداللہ اسماعیل اصبحی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے نعلین مبارک اسی طرح کے تھے، جس طرح اسماعیل بن عبداللہ بن اویس موچی کے پاس ان کی بنی ہوئی شبیہ تھی۔ اس (اسماعیل موچی) نے ان کے سامنے نبی کریم ﷺ کے جوتوں جیسے جوتے بنائے، جن کے دو تسمے تھے۔ (تاریخ دمشق: 362/27)
روایت جھوٹی ہے۔
① ابو طالب عبداللہ بن حسن بن احمد بن حسن بن مثنی بصری کی توثیق نہیں ملی۔
② ابو بکر محمد بن عدی بن علی بن عدی بن زحر منقری بصری کی توثیق درکار ہے۔
③ ابو عثمان سعید بن حسن بن علی تستری کے حالاتِ زندگی نہیں مل سکے۔
④ احمد بن محمد فزاری کا تعین اور توثیق مطلوب ہے۔
اس سند میں نامعلوم اور مجہول راوی ہیں، اس سے حجت پکڑنا جائز نہیں۔
یہ تھیں آثارِ نبویہ کی شبیہات کے جواز پر بعض لوگوں کے دلائل، جن کا جائزہ آپ کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔ اگر کسی کے پاس اس کے علاوہ کچھ ہے تو پیش کرے، ورنہ مان لے کہ نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب نعلین کی تصویر بنا کر اور اس کے جھوٹے فوائد بیان کرنا دین میں دخل اندازی ہے۔
قبر رسول ﷺ کی شبیہ:
نبی کریم ﷺ کی قبر یا حجرۂ عائشہ رضی اللہ عنہا کی شبیہ بنا کر اس کی تکریم و تعظیم کرنا قبیح بدعت ہے، اس کا موجد کون تھا؟ کچھ معلوم نہیں، کسی ثقہ مسلمان سے ایسا کرنا قطعاً ثابت نہیں۔
امامِ بریلویت احمد رضا خان صاحب لکھتے ہیں:
رہا نقشہ روضۂ مبارکہ، اس کے جواز میں اصلاً مجالِ سخن و جائے دم زدن نہیں، جس طرح ان تصویروں کی حرمت یقینی ہے، یوں ہی اس کا جوازِ اجماعی ہے۔
[فتاویٰ رضویہ:439/21]
لیکن یہ دعویٰ اجماع خطا ہے۔ اجماع تو درکنار، کسی ایک صحیح العقیدہ سنی مسلمان سے اس کا جواز ثابت کرنا ناممکن ہے۔
قبر نبوی سے تبرک اور سلف صالحین:
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک تبرکات میں سے نہیں ہے، مبارک ضرور ہے، کیونکہ اس میں نبی کریم ﷺ مدفون ہیں، متبرک اس لیے نہیں کہ صحابہ کرام اور خیر القرون میں کوئی اس کا قائل نہیں۔
بعض لوگ بلا دلیل قبر مبارک سے تبرک کا جواز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
قاضی ابو الحسن علی بن عبد الکافی سبکی (756ھ) نے لکھا ہے:
[إن معلوما من الدين وسير السلف الصالحين التبرك ببعض الموتىٰ من الصالحين، فكيف بالأنبياء والمرسلين، ومن ادعىٰ أن قبور الأنبياء وغيرهم من أموات المسلمين سواء؛ فقد أتىٰ أمرا عظيما نقطع ببطلانه وخطئه فيه، وفيه حط لمرتبة النبي إلىٰ درجة من سواه من المؤمنين، وذٰلك كفر بیقين، فإن من حط رتبة النبي عما يجب له؛ فقد كفر، فإن قال: إن هٰذا ليس بحط، ولكنه منع من التعظيم خوفا كما يجب له، قلت: هٰذا جهل وسوء أدب۔]
دین اور سلف کی سیرت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بعض نیک فوت شدگان سے تبرک حاصل کرنا جائز ہے، تو انبیا اور رسولوں سے کیوں جائز نہیں؟ جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ انبیائے کرام کی قبریں اور عام مسلمانوں کی قبریں برابر مقام رکھتی ہیں، اس نے اتنی بڑی بات کہی ہے کہ جس کے غلط اور باطل ہونے پر ہمیں یقین ہے۔ جس نے نبی ﷺ کے مقام کو عام مسلمان کے برابر سمجھا، تو یقیناً یہ کفر ہے اور جس نے نبی ﷺ کا مقام و مرتبہ کم کیا، یقیناً اس نے بھی کفر کیا۔ اگر وہ کہے کہ یہ آپ ﷺ کے مقام کو گھٹانا نہیں ہے، بلکہ تعظیم میں مبالغے سے روکنے کے لیے ہے، تو میں کہتا ہوں کہ یہ جہالت اور بے ادبی ہے۔
[شفاء السقام في زيارة خير الأنام، ص 312]
دینِ اسلام یا خیر القرون کے سلف صالحین میں کسی سے قبروں سے تبرک حاصل کرنا ثابت نہیں۔ بعض لوگ قبروں سے تبرک کے تو قائل ہیں، مگر دلیل اور ثبوت فراہم کرنے سے عاجز و قاصر ہیں۔ رہا انبیا و مرسلین کی قبروں سے تبرک حاصل کرنا، تو یہ بھی دین میں نئی بات ہے۔ صحابہ کرام، تابعین عظام اور تبع تابعین اعلام سے ایسا کرنا ثابت نہیں۔ وہ دین ہی کیا جو خیر القرون میں موجود نہیں تھا؟ محض بے بنیاد دعووں کا کوئی فائدہ نہیں۔
نبی کریم ﷺ اور عام مسلمان آدمی کی قبر کو کوئی مسلمان برابر نہیں سمجھتا۔ یہ محض بدگمانی ہے۔ بھلا کوئی سچا مسلمان کیسے سمجھ سکتا ہے کہ ایک قبر مبارک میں پیغمبر کا جسدِ اقدس ہو، دوسری میں عام امتی کا، تو دونوں قبریں برابر مقام رکھتی ہیں؟ ہاں! عدمِ تبرک میں قبرِ رسول اور قبرِ امتی کا مسئلہ ایک جیسا ہے، قبرِ رسول مبارک ہے، متبرک نہیں۔ اس میں نبی کریم ﷺ کی شان میں نقص کا کوئی پہلو نہیں، تعظیم وہی ہے، جسے قرآن و حدیث میں بیان کیا گیا ہو اور خیر القرون میں جسے اپنایا گیا ہو، اس بات میں جہالت یا سوءِ ادب کا شائبہ تک نہیں۔
قبرِ نبوی سے عدمِ تبرک کے قائلین کو جہالت یا سوءِ ادب کا طعنہ دینا، دراصل سلف صالحین کو مطعون کرنے کی کوشش ہے۔ سلف صالحین میں سے کسی ایک ایسے شخص کا نام بتایا جائے، جو قبرِ نبوی سے تبرک کا قائل و فاعل ہو۔ اگر ایسا ممکن نہیں، تو انصاف سے بتایا جائے کہ کیا قبروں سے تبرک کا نظریہ سلف صالحین کے اجماعی عقیدہ کی مخالفت نہیں؟
نقشِ نعلین سے تبرک:
نقشِ نعلین سے تبرک بھی بدعت ہے، کیونکہ نقشِ نعلین بذاتِ خود منکر اور بدعت ہے، جیسا کہ آپ نے معلوم کر لیا ہے۔
نبی کریم ﷺ کے نعلین کریمین سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ تھے۔
عیسیٰ بن طہمان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[أخرج إلينا أنس نعلين جرداوين، لهما قبالان، فحدثني ثابت البناني بعد، عن أنس، أنهما نعلا النبي صلى الله عليه وسلم۔]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہمارے پاس بغیر بالوں کے چمڑے والے دو جوتے لائے، جن کے دو تسمے تھے۔ اس کے بعد مجھے ثابت بنانی رحمہ اللہ نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بتایا کہ وہ نعلین کریمین نبی کریم ﷺ کے تھے۔
[صحیح البخاری: 3107]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بعد یہ مبارک جوتے کس کے پاس تھے، اس کا کہیں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ لہٰذا آج کل جو لوگ نعلین کو نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہیں، یہ نسبت غلط ہے۔ جب یہ نسبت ہی ثابت نہیں، تو نقشِ نعلین بنا کر اسے نبی پاک ﷺ کے مبارک جوتوں کا نقش قرار دینا جرمِ عظیم ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ آثارِ نبویہ سے جیسے صحابہ کرام نے تبرک حاصل کیا، ویسے ہی تبرک حاصل کرنا جائز ہو گا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ بعض لوگوں نے نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب نعلین کا نقشہ بنا رکھا ہے، جو کہ فرضی اور مصنوعی ہے، اس کے جھوٹے فوائد بتائے جاتے ہیں، جھوٹے تجربات بیان کیے جاتے ہیں، مثلاً: جس لشکر میں یہ نقشہ ہو گا؛ وہ فتح یاب ہو گا، جس قافلے میں ہو گا؛ بہ حفاظت اپنی منزل پر پہنچے گا، جس کشتی میں ہو گا؛ وہ ڈوبنے سے محفوظ رہے گی، جس گھر میں ہو گا؛ وہ جلنے سے محفوظ رہے گا، جس مال و متاع میں ہو گا؛ وہ چوری سے محفوظ رہے گا اور کسی بھی حاجت کے لیے صاحبِ نعلین سے توسل کیا جائے، تو وہ پوری ہو کر رہے گی اور اس توسل سے تنگی فراخی میں تبدیل ہو جائے گی۔
نقشِ نعلین کے فوائد و برکات میں یہ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ جو شخص اس کو حصولِ برکت کی نیت سے اپنے پاس محفوظ رکھے گا، تو اس کی برکت سے وہ شخص ظالم کے ظلم، دشمنوں کے غلبے، شیاطین کے شر اور حاسدین کی نظرِ بد سے محفوظ رہے گا، اسی طرح اگر کوئی حاملہ عورت شدتِ دردِ زہ میں اس کو اپنے دائیں پہلو میں رکھ لے، تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت و مشیئت سے اس خاتون پر آسانی فرمائے گا۔ اس نقشِ نعلین کی برکتوں میں سے یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ اس کے ذریعہ نظرِ بد اور جادو ٹونے سے آدمی امان میں رہتا ہے، نیز حادثات سے بچاؤ کے لیے بھی اسے اکسیر بتایا جاتا ہے۔
یہ سب خود ساختہ اور جھوٹی باتیں ہیں۔ نقشِ نعلین سے تبرک حاصل کرنے میں ان کا سلف کون ہے؟ ایک مصنوعی نقشہ کے متعلق یہ کہنا کہ یہ نبی کریم ﷺ کی مبارک جوتیوں کا نقش ہے اور پھر اس کے فوائد و برکات بیان کرنا کون سا دین ہے؟
ہم کہتے ہیں کہ ان منسوب نعلین کی آخر کیا دلیل ہے؟ مگر وہ دلیل پیش کرنے کے بجائے ہمیں گمراہ، بے دین، بیمار دل اور ناپاک تک کہہ دیتے ہیں۔ ہم اس اختلاف کا فیصلہ اللہ رب العالمین پر چھوڑتے ہیں، جو وہ روزِ قیامت فرمائیں گے، ان شاء اللہ!
نبی کریم ﷺ اور آپ کے آثار کی تعظیم وہی ہے، جو دین سے ثابت ہو اور جسے خیر القرون کے مسلمانوں نے اختیار کیا ہو۔
منسوب تبرکات کی زیارت:
نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب جھوٹے تبرکات کی زیارت ہوتی ہے، باقاعدہ مخصوص مہینے، مخصوص تاریخ اور مخصوص موقع کے اعلانات ہوتے ہیں، اشتہار چھپتے ہیں۔ وہاں کیا کچھ ہوتا ہے، کسی پر مخفی نہیں۔ ان تبرکات کو مس کیا جاتا ہے، انہیں بوسہ دیا جاتا ہے، جسموں پر ملا جاتا ہے، ان کی زیارت باعثِ خیر و برکت اور کارِ اجر و ثواب سمجھی جاتی ہے۔ اخلاقی حوالے سے بھی کئی قباحتیں اور خرابیاں پائی جاتی ہیں، مرد و زن کا اختلاط ہوتا ہے، بے حیائی اور بے پردگی عروج پر ہوتی ہے، نوخیز لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے ہوتے ہیں، تصاویر اتاری جاتی ہیں، شرم و حیا کا جنازہ نکالا جاتا ہے، دین کے نام پر عریانی اور فحاشی کو فروغ دیا جاتا ہے۔
علامہ عبدالحی لکھنوی حنفی رحمہ اللہ (1304ھ) فرماتے ہیں:
جب یہ تمام اور ظاہر ہو چکے، تو مسائل کو سمجھنا چاہیے کہ جو لوگ مذکورہ سوال کے موافق موئے مبارک کی زیارت کراتے ہیں، وہ بدعات و مخترعات کے پابند ہیں، روایتِ مذکورہ بالا کے موافق جب حضرت ام سلمہ سے موئے مبارک کا پانی مریض کے لیے مانگا گیا تو انہوں نے نہ ڈھول تاشہ بجوایا، نہ قرآن خوانی کرائی، نہ مجلس مرتب کی، نہ وقت مقرر کیا، نہ تاریخ معین کی، غرض کسی قسم کے تعیناتِ خاصہ سے اس کو مفید نہیں کیا، بلکہ اس کی برکت کو ہر وقت میں قابلِ استفادہ خیال کیا، بخلاف اس صورت کے جس کو سائل نے بیان کیا ہے، جس میں تعینِ ماہ و یوم و تاریخ کو امرِ ضروری اور ازدیادِ ثواب میں مؤثر خیال کیا ہے، جس کی سنتِ نبویہ میں کوئی اصل نہیں ہے اور تداعی اور انعقادِ محافلِ خاصہ کو ضروری خیال کیا ہے، اس میں نوبت و نقارہ اور جملہ مزامیر مہیا کیے جاتے ہیں، جو سراسر شیاطین کے افعال ہیں، مالیدہ موئے مبارک بھی بطورِ نذر لغیر اللہ کیا جاتا ہے اور تبرک کی طرح بانٹا جاتا ہے، حالانکہ اس سے انتفاع حرامِ قطعی ہے، غزلیں گاتے ہیں، حالانکہ ایسے راگ بالاتفاق حرام ہیں، پس برکت حاصل کرنا جو زائد سے زائد مستحب ثابت ہو گا، ایسے محرماتِ شرعیہ کے ارتکاب کا باعث ہوا جن سے اجتناب واجب ہے اور ظاہر ہے جس امرِ مستحب کے ارتکاب سے ترکِ واجب لازم آئے، اس کا ترک کرنا واجب ہے، پس اس صورت میں ہر گز شریعت اس بات کی اجازت نہ دے گی کہ ایسی بدعات کے ساتھ اس امرِ مستحب کا ارتکاب صحیح ہو اور اس کا نفسِ استحباب بھی اس صورت میں مسلّم ہے، جب ثابت ہو جائے کہ واقعی یہ موئے مبارک حضور ہی کا ہے اور اگر یہ امر پایۂ ثبوت کو نہ پہنچے تو ایسے جلسے میں بقصدِ تبرک حاضر ہونا بھی جائز نہیں اور موئے مبارک پر نذر ماننا اور چڑھاوے چڑھانا حرام ہے، کیونکہ نذر عبادت ہے اور غیر خدا کی عبادت حرام ہے۔
[مجموع الفتاویٰ: 177/3-178]
منبرِ رسول ﷺ سے تبرک:
منبرِ رسول ﷺ مبارک تھا، کیونکہ اسے نبی کریم ﷺ کے جسدِ اقدس کا لمس نصیب ہوا تھا۔ صحابہ کرام اس کو چھو کر دُعا کیا کرتے تھے۔
یزید بن عبد اللہ بن قسیط رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[رأيت نفرا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، إذا خلا لهم المسجد؛ قاموا إلى رمانة المنبر القرعاء، فمسحوها ودعوا، قال: ورأيت يزيد يفعل ذلك۔]
میں نے نبی کریم ﷺ کے صحابہ کرام کو دیکھا، جب مسجد خالی ہو جاتی تو وہ بوسیدہ منبر کے پاس جا کر اسے اردگرد سے مس کرتے اور دعا مانگتے۔ یزید بن عبد اللہ رحمہ اللہ بھی ایسا کرتے تھے۔
[مصنف ابن أبي شيبة: 120/4، طبقات ابن سعد: 196/1، وسنده صحيح]
یہاں یہ بات بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ عام تبرکات کی طرح یہ معاملہ بھی صرف نبی کریم ﷺ کے منبر مبارک کے ساتھ خاص تھا۔ کسی نیک بزرگ کے منبر یا بیٹھنے کی جگہ کو اس پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
ابراہیم بن عبد الرحمن بن عبد قاری سے مروی ہے:
[إنه نظر إلى ابن عمر وضع يده على مقعد النبي صلى الله عليه وسلم من المنبر، ثم وضعها على وجهه۔]
میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے منبر پر بیٹھنے والی جگہ پر ہاتھ رکھا، پھر اسے اپنے چہرے پر پھیر لیا۔
[الطبقات لابن سعد: 196/1، وفي نسخة: 254/1]
سند ضعیف ہے۔
ابراہیم بن عبد الرحمن بن عبد قاری مجہول ہے، اسے صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ”الثقات: ج4 ص9“ میں ذکر کیا ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ منبر رسول ﷺ اب دنیا میں نہیں رہا، بلکہ وہ جل گیا تھا، جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے، لہٰذا اب منبر رسول ﷺ سے تبرک لینا ممکن نہیں۔
حصولِ تبرک کے لیے قربِ رسول ﷺ میں دفن ہونے کی خواہش:
تبرک کے لیے نبی کریم ﷺ کے قرب میں دفن ہونے کی خواہش کرنے کی کوئی اصل نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خواہش تھی کہ وہ اپنے حجرہ میں نبی کریم ﷺ اور اپنے والد گرامی سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن ہوں۔
دوسری طرف سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی خواہش ظاہر کی کہ وہاں مجھے دفن ہونے کی اجازت دے دی جائے۔ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اجازت دے دی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی تعریف و ستائش کی اور بوقتِ وفات فرمایا کہ میری میت کو اٹھا کر لے جانا اور عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوبارہ اجازت طلب کرنا، اگر وہ اجازت دے دیں، تو مجھے نبی کریم ﷺ اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ دفن کر دینا۔ جب اجازت مل گئی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو فرمایا، اس کے الفاظ یہ ہیں:
[ما كان شيء أهم إلي من ذلك المضجع، فإذا قبضت؛ فاحملوني، ثم سلموا، ثم قل : يستأذن عمر بن الخطاب، فإن أذنت لي، فادفنوني، وإلا ؛ فردوني إلى مقابر المسلمين۔]
مجھے اور کوئی چیز اس جگہ دفن ہونے سے زیادہ محبوب نہیں۔ جب میری روح قبض ہو جائے، تو مجھے اٹھا کر لے جانا اور دوبارہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو میرا اسلام پہنچا کر گزارش کرنا: عمر (رضی اللہ عنہ) نے آپ سے اجازت چاہی ہے۔ اگر اس وقت مجھے اجازت دے دیں، تو مجھے وہاں دفن کر دینا، ورنہ عام مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔ (صحیح البخاری : 1392)
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ اور ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ دفن ہونے کی خواہش کا اظہار حصولِ برکت کے لیے نہیں، بلکہ شرف و عزت کے لیے کیا تھا کہ انہیں نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ دفن ہونے کا شرف حاصل ہو جائے۔ یہ بڑی عزت کی بات ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھی یہی ارادہ تھا۔
حدیث کے الفاظ بھی یہی بتاتے ہیں:
[أذنت له، حيث أكرمه الله مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ومع أبي بكر۔]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو حجرۂ نبوی میں دفن ہونے کی اجازت دے دی۔ یوں اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ (دفن ہونے کا) شرف نصیب فرمایا۔
[مصنف ابن أبي شيبة: 576/14، وسنده صحيح]
یہ کہنا کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ دفن تبرک کی غرض سے تھا، بے دلیل ہے، نیز یہ فہم سلف صالحین کے بھی خلاف ہے۔
اس سلسلہ میں بعض کی دلیل بھی ملاحظہ ہو:
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
[لما حضرت أبا بكر الوفاة أقعدني عند رأسه، وقال لي: يا علي، إذا أنا مت؛ فاغسلني بالكف الذي غسلت به رسول الله صلى الله عليه وسلم، وحنطوني، واذهبوا بي إلى البيت الذي فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فاستأذنوا، فإن رأيتم الباب قد يفتح؛ فادخلوا بي، وإلا فردوني إلى مقابر المسلمين، حتىٰ يحكم الله بين عباده، قال: فغسل وكفن، وكنت أول من يأذن إلى الباب، فقلت: يا رسول الله، هٰذا أبو بكر مستأذن، فرأيت الباب قد تفتح، وسمعت قائلا يقول: أدخلوا الحبيب إلىٰ حبيبه، فإن الحبيب إلى الحبيب مشتاق۔]
جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت آیا، تو انہوں نے مجھے اپنے سر کی جانب بٹھایا۔ فرمایا: علی! جب میں فوت ہو جاؤں، تو مجھے اس ہتھیلی سے غسل دینا، جس سے آپ نے رسول اللہ ﷺ کو غسل دیا تھا۔ پھر مجھے خوشبو لگا کر اس گھر کی طرف لے جانا، جہاں رسول اللہ ﷺ آرام فرما رہے ہیں۔ جا کر اجازت طلب کرنا۔ اگر آپ دیکھیں کہ دروازہ کھل رہا ہے، تو مجھے اندر لے جانا، ورنہ مجھے عام مسلمانوں کے قبرستان میں لے جانا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ فرما دے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: انہیں غسل و کفن دیا گیا، سب سے پہلے میں نے دروازے کے پاس جا کر اجازت طلب کرتے ہوئے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ہیں، جو آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں۔ اسی دوران میں نے دیکھا کہ دروازہ کھلنا شروع ہو گیا۔ میں نے سنا، کوئی کہہ رہا تھا: دوست کو دوست کے پاس لے چلو، کیونکہ محبوب اپنے حبیب کی چاہت رکھتا ہے۔
[تاریخ دمشق لابن عساکر: 436/30]
روایت جھوٹی ہے۔
حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هٰذا منكر، وراويه أبو الطاهر موسى بن محمد بن عطاء المقدسي وعبد الجليل مجهول۔]
یہ جھوٹی روایت ہے، اس کے راوی ابو طاہر موسیٰ بن محمد بن عطا مقدسی اور عبدالجلیل دونوں مجہول ہیں۔
حافظ سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[في إسناده أبو الطاهر موسى بن محمد بن عطاء المقدسي كذاب، عن عبد الجليل المري، وهو مجهول۔]
اس روایت کی سند میں ابو طاہر موسیٰ بن محمد بن عطا مقدسی جھوٹا، عبدالجلیل مجہول سے بیان کرتا ہے۔ (الخصائص الكبرى: 492/2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[موسى بن محمد بن عطاء، كذاب، وعبد الجليل مجهول۔]
موسیٰ بن محمد بن عطا مقدسی جھوٹا اور عبدالجلیل مجہول ہے۔
[لسان المیزان: 391/3]
خطیب بغدادی رحمہ اللہ اس روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:
[غريب جدا۔]
یہ روایت انتہائی کمزور ہے۔ (الخصائص الكبرى للسيوطي: 492/2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[خبر باطل۔] یہ روایت باطل ہے۔ (لسان المیزان: 391/3)
سیدنا جندب بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو وفات سے پانچ دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا:
[إني أبرأ إلى الله أن يكون لي منكم خليل، فإن الله تعالىٰ قد اتخذني خليلا، كما اتخذ إبراهيم خليلا، ولو كنت متخذا من أمتي خليلا؛ لاتخذت أبا بكر خليلا، ألا، وإن من كان قبلكم كانوا يتخذون قبور أنبيائهم وصالحيهم مساجد، ألا فلا تتخذوا القبور مساجد، إني أنهاكم عن ذٰلك.]
میں اللہ تعالیٰ کے ہاں اس سے بری ہوں کہ تم میں سے کوئی میرا خلیل ہو۔ میرے رب نے مجھے اپنا خلیل بنا لیا ہے، جس طرح اس نے ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا تھا۔ اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بناتا، تو ابوبکر کو خلیل بناتا۔ خبردار! بے شک تم سے پہلے لوگوں نے اپنے انبیا اور صالحین کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔ تم قبروں کو سجدہ گاہ نہ بنانا، میں تمہیں اس سے منع کرتا ہوں۔
[صحیح مسلم: 532]
علامہ شوکانی رحمہ اللہ (1250ھ) فرماتے ہیں:
[استنبط البيضاوي من علة التعظيم جواز اتخاذ القبور في جوار الصلحاء لقصد التبرك دون التعظيم، ورد بأن قصد التبرك تعظيم۔]
بیضاوی نے علتِ تعظیم سے یہ استنباط کیا ہے کہ صلحا کے قرب میں تعظیماً نہیں، تبرک کے طور پر قبر بنانا جائز ہے، مگر یہ کہہ کر ان (بیضاوی) کا رد کر دیا گیا ہے کہ تبرک، تعظیم ہی تو ہے۔
(نیل الأوطار: 159/2)
ڈاکٹر طاہر القادری بریلوی صاحب کا مبلغِ علم:
ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب اس عبارت کا ترجمہ یوں کرتے ہیں:
امام بیضاوی نے علتِ تعظیم سے استنباط کرتے ہوئے صلحا کے قرب میں تبرکاً قبر بنانا جائز قرار دیا ہے، نہ کہ تعظیماً اور انہوں نے اس بات کو رد کیا ہے کہ تبرک بھی تعظیم (عبادت) ہے)۔
[تبرک کی شرعی حیثیت، ص:123]
ڈاکٹر صاحب عبارت کا صحیح ترجمہ کرنے سے قاصر رہے، سادہ لوح عوام کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی ”کوشش“ کی۔
رہا بیضاوی رحمہ اللہ کا استنباط، تو یہ اسلافِ امت کے مقابلہ میں نا قابلِ التفات ہے۔
جگہوں اور مکانات و مقامات سے تبرک:
ایسی تمام جگہیں اور مقامات جہاں نبی کریم ﷺ نے نماز ادا کی، وہاں قیام فرمایا، پڑاؤ ڈالا، وہاں پر تشریف فرما ہوئے، ان سے تبرک حاصل کرنا جائز نہیں، بلکہ بدعت ہے۔
قرآن و حدیث اور آثارِ سلف میں سے اس پر کوئی استناد نہیں، البتہ جہاں آپ اکثر وبیشتر نماز ادا فرماتے رہے، سنت کے اتباع میں بعض صحابہ کرام بھی وہاں نماز ادا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
یزید بن ابی عبید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[كنت آتي مع سلمة بن الأكوع ، فيصلي عند الأسطوانة التي عند المصحف ، فقلت : يا أبا مسلم، أراك تتحرى الصلاة عند هذه الأسطوانة ، قال : فإني رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يتحرى الصلاة عندها.]
میں سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مسجد نبوی میں آیا کرتا تھا۔ آپ ہمیشہ اس ستون کے سامنے کھڑے ہو کر نماز پڑھا کرتے تھے، جہاں قرآن مجید رکھا ہوتا تھا۔ میں نے ان سے کہا: ابو مسلم! میں دیکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ اسی ستون کے سامنے کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ خاص طور پر اسی ستون کے سامنے کھڑے ہو کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔
(صحیح البخاری: 502، صحیح مسلم: 509)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
[أما الأمكنة التي كان النبي صلى الله عليه وسلم يقصد الصلاة أو الدعاء عندها؛ فقصد الصلاة فيها أو الدعاء سنة، اقتداء برسول الله صلى الله عليه وسلم واتباعا له، كما إذا تحرى الصلاة أو الدعاء في وقت من الأوقات؛ فإن قصد الصلاة أو الدعاء في ذلك الوقت سنة، كسائر عباداته، وسائر الأفعال التي فعلها علىٰ وجه التقرب.]
رہے وہ مقامات، جہاں نبی کریم ﷺ دعا اور نماز کے لیے جایا کرتے تھے، وہاں جا کر دعا کرنا اور نماز پڑھنا مسنون ہے اور اس میں آپ ﷺ کی اقتدا و اتباع ہے، جس طرح کہ جن اوقات میں آپ ﷺ نماز پڑھا کرتے تھے، یا دعا کیا کرتے تھے، ان اوقات میں نماز پڑھنا یا دعا کرنا آپ ﷺ کی باقی تمام عبادات اور ان افعال کی طرح مسنون ہے، جنہیں آپ ﷺ قربِ الہی کے طور پر کیا کرتے تھے۔
[اقتضاء الصراط المستقیم: 276/2]
وہ جگہیں، جہاں نبی کریم ﷺ نے اتفاقاً نماز ادا کی، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سنت کے اتباع میں وہاں بھی نماز ادا کر لیتے تھے۔
موسى بن عقبہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[رأيت سالم بن عبد الله يتحرى أماكن من الطريق، فيصلي فيها، ويحدث أن أباه كان يصلي فيها، وأنه رأى النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في تلك الأمكنة.]
میں نے سالم بن عبد اللہ رحمہ اللہ کو دیکھا، وہ مدینہ سے مکہ کے راستے میں کئی جگہوں کو ڈھونڈ کر وہاں نماز پڑھتے تھے اور کہتے تھے کہ ان کے والد محترم سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ان مقامات پر نماز پڑھا کرتے تھے، کیونکہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو ان مقامات پر نماز پڑھتے دیکھا تھا۔ (صحیح البخاري: 483)
نافع رحمہ اللہ، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں:
[إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أناخ بالبطحاء بذي الحليفة، فصلى بها، وكان عبد الله بن عمر رضي الله عنهما يفعل ذلك.]
رسول اللہ ﷺ نے مقام ذوالحلیفہ کے پتھریلے میدان میں سواری روک کر نماز ادا کی۔ راوی حدیث نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ (صحیح البخاري: 1532، صحیح مسلم: 1257)
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[إن عبد الله بن عمر كان إذا دخل الكعبة؛ مشى قبل وجهه حين يدخل، وجعل الباب قبل ظهره، فمشى حتى يكون بينه وبين الجدار الذي قبل وجهه قريبا من ثلاثة أذرع، صلى يتوخى المكان الذي أخبره به بلال أن النبي صلى الله عليه وسلم صلىٰ فيه، قال : وليس علىٰ أحدنا بأس إن صلىٰ في أي نواحي البيت شاء۔]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب کعبۃ اللہ میں داخل ہوتے، تو دروازے کی طرف پشت کر کے سیدھا منہ کی سمت چلے جاتے، یہاں تک کہ جب ان میں اور سامنے کی دیوار میں تین ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا تو نماز پڑھتے، کیونکہ آپ رضی اللہ عنہ اس جگہ نماز پڑھنا چاہتے تھے، جس کے بارے میں بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کو بتایا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے یہاں نماز پڑھی تھی۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بھی فرمایا کہ ہم بیت اللہ میں جس جانب بھی نماز پڑھیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔ (صحیح البخاري: 506)
(یعنی) کعبۃ اللہ کے کسی بھی کونے میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، البتہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اتباعِ سنت کے جذبے سے سرشار ہو کر اس جگہ کی تلاش کی، جہاں نبی ﷺ نے نماز ادا کی تھی۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اتباعِ سنت کی ایک اور مثال ملاحظہ ہو:
عبداللہ بن دینار رحمہ اللہ، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں:
[كان النبي صلى الله عليه وسلم يأتي مسجد قباء كل سبت، ماشيا وراكبا، وكان عبد الله بن عمر رضي الله عنهما يفعله]
نبی کریم ﷺ ہر ہفتے والے دن پیدل یا سوار ہو کر مسجد قبا تشریف لے جایا کرتے تھے، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ (صحیح البخاري: 1193)
ان مثالوں سے واضح ہوتا ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اتباعِ سنت کے جذبے سے ایسا کرتے تھے، نہ کہ حصولِ تبرک کے لیے۔ ان کا مقصد صرف اور صرف نبی کریم ﷺ کی پیروی اور آپ ﷺ کی اقتدا تھا۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
[هذا من ابن عمر تحر لمثل فعله، فإنه قصد أن يفعل مثل فعله، في نزوله وصلاته]
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اس لیے ایسے کاموں کے متلاشی رہتے تھے کہ ان کا مقصد نبی کریم ﷺ کا کامل اتباع تھا کہ کس جگہ نبی کریم ﷺ نے پڑاؤ ڈالا ہے اور کس مقام پر آپ ﷺ نے نماز ادا کی تھی۔
[اقتضاء الصراط المستقيم: 330/2]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سواری پر سوار ہوتے وقت ”بسم اللہ“ پڑھ کر رکاب پر پاؤں رکھا، سواری کی پیٹھ پر بیٹھ کر ”الحمد للہ“ کہہ کر دُعا پڑھی، پھر ہنس دیے، پوچھا گیا:
ما يضحكك يا أمير المؤمنين؟ امیر المؤمنین! آپ مسکرائے کس لیے ہیں؟
جواباً فرمایا:
رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فعل مثل ما فعلت.
میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا تھا۔
[الدعاء للطبراني: 778، وسنده حسن]
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (2697) نے ”صحیح“ اور امام حاکم رحمہ اللہ(2482) نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔
نبی کریم ﷺ کا ہنسنا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہنسنے کا باعث بنا اور کوئی وجہ نہیں تھی۔ اسی طرح سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی نبی کریم ﷺ کی اقتدا و اتباع میں وہاں وہاں نماز پڑھی اور پڑاؤ ڈالا، جہاں آپ ﷺ نے اتفاقاً نماز پڑھی اور پڑاؤ ڈالا تھا۔
اس حوالے سے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک اور روایت ملاحظہ فرمائیں:
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[رأيت ابن عمر، إذا ذهب إلىٰ قبور الشهداء علىٰ ناقته؛ ردها هكذا وهكذا، فقيل له في ذٰلك، فقال: إني رأيت رسول الله صلىٰ الله عليه وسلم في هٰذا الطريق علىٰ ناقته، فقلت: لعل خفي يقع علىٰ خفه]
میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ جب وہ شہدا کی قبروں کی طرف جاتے، تو اپنی اونٹنی کو موڑتے۔ اس بارے میں ان سے پوچھا گیا، تو فرمایا: میں نے رسولِ اکرم ﷺ کو اس راستے میں اپنی اونٹنی پر دیکھا تھا۔ میں نے سوچا کہ شاید میری اونٹنی کا پاؤں آپ ﷺ کی اونٹنی کے پاؤں کے اوپر آ جائے۔
[مصنف ابن أبي شيبة:13/327، السنن الكبرى للبيهقي:5/249، واللفظ له، حلية الأولياء لأبي نعيم:1/310، وسنده حسن]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہر معاملہ میں اتباعِ سنت کے جذبے سے سرشار تھے۔
ایک روایت پر تبصرہ:
عمران انصاری سے مروی ہے:
[عدل إلي عبد الله بن عمر رضي الله تعالى عنه، وأنا نازل تحت سرحة بطريق مكة، فقال: ما أنزلك تحت هذه السرحة؟ قال: فقلت: أردت ظلها، فقال: هل غير ذلك؟ فقلت: أردت ظلها، فقال: هل غير ذلك؟ فقلت: لا، ما أنزلني غير ذلك، فقال عبد الله بن عمر رضي الله عنه: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا كنت بين الأخشبين من منى، ونفخ بيده نحو المشرق، فإن هنالك واديا يقال له السرر، به سرحة، سر تحتها سبعون نبيا.]
میں مکہ کے راستے میں ایک درخت کے نیچے ٹھہرا ہوا تھا۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے مخاطب ہو کر دریافت فرمایا: آپ اس درخت کے نیچے کیوں ٹھہرے ہیں؟ میں نے عرض کیا: اس کے سائے کی وجہ سے۔ فرمایا: کوئی اور وجہ؟ میں نے پھر عرض کیا: صرف اس کے سائے کی وجہ سے۔ پھر فرمایا: کوئی اور وجہ؟ میں نے پھر عرض کیا: صرف اس کے سائے کی وجہ سے۔ اس پر سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے مشرق کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جب آپ منیٰ کے ان دو پہاڑوں کے درمیان ہوں، تو ان کے درمیان ایک وادی ہے، جسے سرر کہتے ہیں۔ وہاں ایک درخت ہے جہاں ستر نبیوں کے ناف (نال) کاٹے گئے (یعنی ان کی وہاں ولادت ہوئی)۔
[موطأ الإمام مالك: 1/423-424، مسند الإمام أحمد: 138/2، سنن النسائي: 2995]
روایت ضعیف و منکر ہے۔
① محمد بن عمران الانصاری مجہول الحال ہے، اسے صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ”الثقات: 411/7“ میں ذکر کیا ہے۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لا يدرى من هو، ولا أبوه]
اس کا اور اس کے باپ کا کوئی پتہ نہیں۔
[ميزان الاعتدال: 672/3]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ”مجہول“ قرار دیا ہے۔
[تقريب التهذيب: 6198]
② اس کا باپ عمران انصاری بھی مجہول ہے۔
حافظ ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا أدري من هو؟ میں نہیں جانتا کہ یہ کون ہے؟
[التمهيد: 64/13]
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[لا يدرى من هو، تفرد عنه ابنه محمد، وحديثه في الموطأ، وهو منكر]
کوئی پتہ نہیں کہ کون ہے؟ اس سے صرف اس کا بیٹا محمد بیان کرتا ہے، اس کی روایت مُوطا میں ہے، جو کہ منکر ہے۔
[ميزان الاعتدال: 245/3، ت: 6325]
مسند ابی یعلی (5723) کی روایت میں ہے:
[لقد سر في ظل سرحة سبعون نبيا، لا تسرف ولا تجرد ولا تعبل]
اس درخت کے سائے میں ستر انبیائے کرام کی ناف کاٹی گئی۔ اسے کیڑا نہیں لگتا، نہ اس کے پتے خشک ہوتے ہیں نہ گرتے ہیں۔
سند ضعیف ہے۔
① ابو معاویہ ضریر کا عنعنہ ہے۔
② اعمش مدلس ہیں۔
③ عبد اللہ بن ذکوان نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا زمانہ نہیں پایا۔
[المراسيل لابن أبي حاتم، ص 111]
لہٰذا یہ سند ”مدلس“ اور ”منقطع“ ہے۔
أخبار مكة للفاكهي (2333) والی سند بھی ضعیف ہے۔
① سفیان بن عیینہ مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
② محمد بن عجلان کا عنعنہ ہے۔
محمد بن عجلان کی متابعت معمر بن راشد نے مصنف عبد الرزاق (20975) میں کی ہے، لیکن عبد الرزاق کا عنعنہ ہے، لہٰذا یہ متابعت مفید نہیں۔
③ رجل مبہم بھی ہے۔
فائدہ:
اس ضعیف و منکر روایت میں تبرک کے حوالہ سے کچھ بھی نہیں، لیکن پھر بھی بعض لوگ تبرکات کے ثبوت پر پیش کرتے ہیں۔
تنبیہ: ① سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[كنت أصلي لقومي ببني سالم وكان يحول بيني وبينهم واد، إذا جاءت الأمطار فيشق علي اجتيازه قبل مسجدهم، فجئت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت له: إني أنكرت بصري وإن الوادي الذي بيني وبين قومي يسيل، إذا جاءت الأمطار فيشق علي اجتيازه فوددت أنك تأتي فتصلي من بيتي مكانا أتخذه مصلى، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سأفعل، فغدا علي رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبو بكر رضي الله عنه بعد ما اشتد النهار فاستأذن رسول الله صلى الله عليه وسلم فأذنت له، فلم يجلس حتى قال: أين تحب أن أصلي من بيتك؟ فأشرت له إلى المكان الذي أحب أن أصلي فيه، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فكبر وصففنا وراءه، فصلى ركعتين ثم سلم وسلمنا حين سلم]
میں بنو سالم قبیلہ میں اپنی قوم کو نماز پڑھایا کرتا تھا۔ میرے گھر اور قوم والوں کے درمیان ایک نالہ حائل تھا۔ جب بارش ہوتی تو اسے پار کر کے مسجد تک پہنچنا میرے لیے مشکل ہو جاتا تھا، چنانچہ میں نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: میری آنکھیں خراب ہو گئی ہیں، جبکہ میرے اور میری قوم کے درمیان ایک برساتی نالہ حائل ہے، جو بارش کے دنوں میں بہنے لگ جاتا ہے اور میرے لیے اس کا پار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر تشریف لا کر کسی جگہ نماز پڑھ دیں تا کہ میں اسے جائے نماز بنا لوں۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: میں تمہاری یہ خواہش جلد ہی پوری کر دوں گا۔ پھر آپ ﷺ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ دوسرے ہی دن ظہر کے قریب تشریف لے آئے۔ آپ ﷺ نے اجازت چاہی تو میں نے اجازت دے دی۔ بیٹھنے سے پہلے آپ ﷺ نے پوچھا: تم اپنے گھر میں کس جگہ میرا نماز پڑھنا پسند کرو گے؟ میں نے اُس جگہ کی طرف اشارہ کیا جس کے بارے میں میری خواہش تھی کہ آپ ﷺ وہاں نماز پڑھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے وہاں کھڑے ہو کر تکبیرِ تحریمہ کہی تو ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے صف باندھ لی، آپ ﷺ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھا کر سلام پھیرا۔ ہم نے بھی آپ ﷺ کے ساتھ سلام پھیر دیا۔
[صحیح البخاري: 1186]
اس حدیث سے تو معلوم ہوتا ہے کہ صحابیِ رسول یہ چاہتے تھے کہ نبی کریم ﷺ ان کے گھر میں نماز کے لیے ایک جگہ متعین فرما دیں، تا کہ وہ آئندہ اسی جگہ میں نماز پڑھیں۔
اس سے تبرک کا مسئلہ نکالنا فہمِ سلف کے خلاف ہے۔
تنبیہ ②: سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[قلت: يا رسول الله، كيف أسري بك ليلة أسري بك؟ قال: ” صليت لأصحابي صلاة العتمة بمكة معتما، فأتاني جبريل صلى الله عليه وسلم، بدابة بيضاء فوق الحمار ، ودون البغل، فقال: اركب، فاستصعب علي ، فدارها بأذنها، ثم حملني عليها، فانطلقت تهوي بنا، يقع حافرها حيث أدرك طرفها، حتى بلغنا أرضا ذات نخل، فقال: انزل، فنزلت، ثم قال: صل، فصليت، ثم ركبنا، فقال: أتدري أين صليت؟ قلت: الله أعلم، قال: صليت بيثرب، صليت بطيبة، ثم انطلقت تهوي بنا ، يقع حافرها حيث أدرك طرفها ، حتى بلغنا أرضا بيضاء، فقال: انزل فنزلت، ثم قال: صل، فصليت ، ثم ركبنا، فقال: تدري أين صليت؟ قلت: الله أعلم، قال: صليت بمدين، صليت عند شجرة موسى، ثم انطلقت تهوي بنا ، يقع حافرها حيث أدرك طرفها، ثم بلغنا أرضا بدت لنا قصورها، فقال: انزل، فنزلت، ثم قال: صل، فصليت، فقال: أتدري أين صليت؟ قلت: الله ورسوله أعلم، قال: صليت ببيت لحم حيث ولد عيسى عليه السلام المسيح ابن مريم]
میں نے اپنے صحابہ کو عشاء کی نماز آدھی رات کے وقت پڑھائی۔ میرے پاس جبریل علیہ السلام ایک سفید جانور کے ہمراہ تشریف لائے، جو گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا تھا، اور عرض کیا: سوار ہو جائیے۔ مجھے چڑھنے میں دشواری ہوئی، تو جبریل علیہ السلام نے اسے کان سے پکڑ کر گھمایا، پھر مجھے اس پر سوار کیا۔ وہ جانور ہمیں لے کر روانہ ہوا۔ اس کے پاؤں وہاں پڑتے تھے، جہاں تک اس کی نظر جاتی تھی۔ ہم چلتے چلتے کھجوروں والی سرزمین میں پہنچے، تو جبریل علیہ السلام نے کہا: نیچے تشریف لائیے۔ میں اتر گیا تو کہا: نماز ادا فرمائیے۔ میں نے نماز ادا کی، تو ہم پھر سے سوار ہو گئے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ میں نے کہا: اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آپ نے یثرب، طیبہ میں نماز پڑھی ہے۔ پھر وہ سواری ہمیں لے کر روانہ ہوئی۔ اس کے پاؤں وہاں پڑتے تھے جہاں تک اس کی نگاہ جاتی تھی۔ یہاں تک کہ ہم ایک سفید زمین پر پہنچ گئے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: نیچے تشریف لائیے۔ میں اتر گیا۔ پھر انہوں نے کہا: نماز ادا فرمائیے۔ میں نے نماز ادا کی، تو ہم پھر سے سوار ہو گئے۔ جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے کہاں نماز پڑھی ہے؟ میں نے کہا: اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ جبریل علیہ السلام نے بتایا کہ آپ نے مدین میں شجرۂ موسیٰ کے پاس نماز ادا کی ہے۔ پھر وہ جانور ہمیں لیے روانہ ہو گیا۔ اس کے پاؤں وہاں پڑتے تھے، جہاں تک اس کی نظر پڑتی تھی۔ یہاں تک کہ ہم ایسی جگہ پر پہنچے جس کے محلات ہمیں نظر آ رہے تھے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: آپ نیچے تشریف لائیے۔ میں اتر گیا، تو انہوں نے کہا: نماز ادا فرمائیے۔ میں نے نماز ادا کی۔ انہوں نے پوچھا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ نے کہاں نماز ادا کی ہے؟ میں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول (پیغام رساں) ہی بہتر جانتا ہے۔ اس پر انہوں نے بتایا کہ آپ نے بیت لحم میں نماز ادا کی ہے، جہاں عیسیٰ مسیح ابن مریم علیہا السلام پیدا ہوئے تھے۔
[المعجم الكبير للطبراني: 282/7، ح: 7142، مسند البزار: 3484، دلائل النبوة للبيهقي: 355/2، وسنده صحيح]
امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
اسی طرح سنن نسائی (450) میں انس رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث بھی موجود ہے۔
اس روایت سے بعض لوگوں نے صالحین کی قیام گاہوں، عبادت گاہوں، ان کی جائے ولادت اور ان کی قبروں سے تبرک لینے اور وہاں نماز کا اہتمام کرنے کا جواز ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔
لیکن ان کا استدلال کئی لحاظ سے مبنی بر خطا ہے:
[1] نبی کریم ﷺ نے جب نماز ادا فرمائی، تو آپ کو معلوم ہی نہیں تھا کہ آپ کس جگہ نماز ادا کر رہے ہیں۔ یہ کیسا تبرک ہوا؟ تبرک تو تب ثابت ہوتا، جب آپ ﷺ کو معلوم ہوتا کہ یہ فلاں متبرک مقام ہے اور آپ وہاں تبرک کی نیت سے نماز ادا کرتے۔ اس روایت میں ایسا کچھ بھی نہیں، بلکہ اس میں تو یہ ہے کہ آپ ﷺ کو بعد میں جبریل علیہ السلام نے پوچھا کہ آپ نے کون سی جگہ پر نماز پڑھی ہے، تو آپ ﷺ نے لاعلمی کا اظہار فرمایا۔ بعد میں جبریل کے بتانے پر معلوم ہوا کہ فلاں جگہ ہے۔ پھر زندگی میں کبھی آپ ﷺ نے ان جگہوں پر نماز ادا کرنے کی خواہش یا اہتمام نہیں فرمایا۔
[2] سب سے پہلی جگہ جہاں آپ ﷺ نے نماز ادا فرمائی، وہ یثرب تھی۔ معراج کا واقعہ مکی زندگی میں پیش آیا اور اس وقت یثرب بیماریوں کی آماجگاہ تھی۔ وہ تو ہجرت کے بعد آپ ﷺ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے بابرکت بنایا۔ لہذا ہجرت سے پہلے وہ جگہ متبرک تو کیا با برکت بھی نہیں تھی۔ اس وقت وہاں نماز پڑھنے میں کیسا تبرک تھا؟
[3] حدیث سے یہ استدلال کرنا نبی کریم ﷺ کی توہین ہے، کیونکہ بیماریوں کی آماجگاہ، جسے ہجرت کے بعد آپ ﷺ کی وجہ سے برکت ملی، اس کے بارے میں کہنا کہ ہجرت سے پہلے آپ ﷺ وہاں سے برکت حاصل کرتے تھے، کیا یہ آپ ﷺ کی عزت ہے؟
[4] نبی کریم ﷺ خود اس کائنات کی سب سے با برکت اور متبرک شخصیت تھے۔ آپ ﷺ کے بارے میں یہ کہنا کہ ان مقامات سے آپ ﷺ نے برکت حاصل کی، نہایت نامعقول بات ہے۔
تنبیہ ③: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
[لما أسري بي إلىٰ بيت المقدس؛ مر بي جبريل بقبر أبي إبراهيم عليه السلام، فقال يا محمد، انزل، فصل هنا ركعتين، هذا قبر أبيك إبراهيم، ثم مر بي ببيت لحم، فقال: انزل، فصل ها هنا ركعتين، فإنه هنا ولد أخوك عيسىٰ عليه السلام، ثم أتىٰ بي إلى الصخرة، فقال: يا محمد، من هنا عرج ربك إلى السماء]
جب مجھے بیت المقدس کی طرف معراج کرائی گئی، تو جبریل میرے ہمراہ میرے دادا ابراہیم علیہ السلام کی قبر کے پاس سے گزرے۔ کہنے لگے: محمد (ﷺ)! یہاں دو رکعتیں ادا فرمائیے، یہ آپ کے دادا ابراہیم علیہ السلام کی قبر ہے۔ پھر وہ میرے ہمراہ بیت لحم سے گزرے، تو کہا: یہاں اتر کر دو رکعتیں ادا کیجیے، کیونکہ یہاں آپ کے بھائی عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت ہوئی تھی۔ پھر وہ مجھے لے کر بیت المقدس پہنچے، تو کہا: محمد (ﷺ)! یہاں سے آپ کا رب آسمانوں کی طرف چڑھا تھا۔
[كتاب المجروحين لابن حبان: 197/1، فضائل بيت المقدس للضياء المقدسي:30]
من گھڑت روایت ہے۔ بَکْر بن زیاد باہلی کذاب و وضاع ہے۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[شيخ دجال، يضع الحديث على الثقات، لا يحل ذكره في الكتب إلا على سبيل القدح فيه]
یہ دجال شیخ تھا، ثقہ راویوں سے منسوب جھوٹی حدیثیں گھڑتا تھا۔ کتابوں میں اس کا تذکرہ صرف اس صورت میں جائز ہے کہ اس پر جرح ذکر کی جائے۔
[كتاب المجروحين:196/1-197]
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[صدق ابن حبان] ابن حبان رحمہ اللہ نے سچ فرمایا ہے۔
[ميزان الاعتدال:345/1]
امام حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[هذا شيء لا يشك عوام أصحاب الحديث أنه موضوع، فكيف البزل في هذا الشأن]
اس روایت کے من گھڑت ہونے میں طلبۂ حدیث کو بھی کوئی شک و شبہ نہیں، چہ جائیکہ فن حدیث کے ماہرین اس میں کوئی شک کریں۔
اس حدیث کو حافظ ابن الجوزی (الموضوعات: 113/1)، شیخ الاسلام ابن تیمیہ (اقتضاء الصراط المستقيم: 352/2) اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (لسان الميزان:51/2) وغیرہ نے موضوع (من گھڑت) قرار دیا ہے۔
مقاماتِ صالحین اور حدیثِ نبوی:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[لقيت بصرة بن أبي بصرة الغفاري، فقال: من أين أقبلت؟ فقلت: من الطور، فقال: لو أدركتك قبل أن تخرج إليه؛ ما خرجت، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا تعمل المطي إلا إلى ثلاثة مساجد؛ إلى المسجد الحرام، وإلى مسجدي هذا، وإلى مسجد إيلياء، أو بيت المقدس].
میں بصرہ بن ابی بصرہ رضی اللہ عنہ سے ملا، تو انہوں نے مجھے پوچھا: آپ کہاں سے آ رہے ہیں؟ میں نے بتایا کہ طور سے۔ اس پر انہوں نے فرمایا: اگر آپ کے جانے سے پہلے ہماری ملاقات ہو جاتی، تو آپ نہ جاتے۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین مسجدوں کے علاوہ کسی بھی جگہ کی طرف (تبرک کی نیت سے) رختِ سفر نہ باندھا جائے؛ مسجد حرام، میری یہ مسجد (مسجد نبوی) اور بیت المقدس۔
[الموطأ للإمام مالك: 1/108-109، سنن النسائي:1430، مسند الإمام أحمد: 248/2، 6/7، وسنده صحيح]
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (2772) نے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
سیدنا بصرہ بن ابی بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
[لقيت أبا هريرة، وهو يسير إلىٰ مسجد الطور ليصلي فيه، قال: فقلت له: لو أدركتك قبل أن ترتحل؛ ما ارتحلت، قال: فقال: ولم؟ قال: قال: فقلت: إني سمعت رسول الله صلىٰ الله عليه وسلم يقول: لا تشد الرحال إلا إلىٰ ثلاثة مساجد؛ المسجد الحرام، والمسجد الأقصىٰ، ومسجدي]
میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس وقت ملا، جب وہ مسجدِ طور میں نماز پڑھنے کی غرض سے جا رہے تھے۔ میں نے ان سے کہا: اگر آپ کے نکلنے سے پہلے ہماری ملاقات ہو جاتی، تو آپ مسجدِ طور کی طرف نہ جاتے۔ انہوں نے پوچھا: کیوں؟ میں نے بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: تین مسجدوں کے علاوہ کسی بھی جگہ کی طرف (تبرک کی نیت سے) رختِ سفر نہیں باندھا جا سکتا؛ مسجد حرام، مسجدِ اقصیٰ اور میری مسجد۔
[مسند الإمام أحمد: 397/6، وسنده حسن]
شہر بن حوشب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[سمعت أبا سعيد الخدري، وذكرت عنده صلاة في الطور، فقال: قال رسول الله صلىٰ الله عليه وسلم: لا ينبغي للمطي أن تشد رحاله إلىٰ مسجد تبتغىٰ فيه الصلاة؛ غير المسجد الحرام، والمسجد الأقصىٰ، ومسجدي هٰذا.]
میں نے سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا۔ ان کے پاس کوہِ طور پر نماز کے بارے میں ذکر کیا گیا، تو انہوں نے بیان کیا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی بھی مسجد کی طرف رختِ سفر باندھنا جائز نہیں، سوائے تین مساجد کے؛ مسجدِ حرام، مسجدِ اقصیٰ اور میری یہ مسجد۔
(مسند الإمام أحمد: 64/3، وسنده حسن)
ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سوائے تین مساجد کے کسی بھی مسجد میں خاص ثواب کی نیت سے نماز پڑھنے کے لیے یا کسی بھی جگہ سے تبرک حاصل کرنے کے لیے سفر کرنا جائز نہیں۔ سیدنا بصرہ بن ابی بصرہ، سیدنا ابو سعید خدری اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم شدِ رحال والی حدیث کو عموم پر محمول کرتے تھے، جیسا کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کوہِ طور پر نماز پڑھنے کے بارے میں سوال کیا گیا، تو انہوں نے یہی حدیث پیش کر کے اس سے ممانعت کا فتویٰ دیا۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
[المراد النهي عن السفر إلى غيرها، قال الطيبي: هو أبلغ من صريح النهي، كأنه قال: لا يستقيم أن يقصد بالزيارة إلا هذه البقاع، لاختصاصها بما اختصت به]
اس سے مراد یہ ہے کہ ان مسجدوں کے علاوہ کسی بھی جگہ کی طرف (بطورِ تبرک) سفر کرنا منع ہے۔ علامہ طیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس حدیث کے الفاظ صریح ممانعت سے بھی زیادہ سخت ہیں، گویا کہ آپ ﷺ فرما رہے ہیں کہ ان تین جگہوں کے علاوہ کسی بھی جگہ کی زیارت کا قصد کرنا جائز نہیں، کیونکہ یہ خصوصیت انہی جگہوں کو حاصل ہے۔
(فتح الباري: 64/3، شرح الطيبي: 929/3)
علامہ امیر صنعانی رحمہ اللہ (1182ھ) فرماتے ہیں:
[قد خالف الناس هذا النهي، فما يزالون في شد للرحال إلى القبور، والمشاهد، واجتماع لذلك على محرمات لا تحل، فإنا لله وإنا إليه راجعون].
یقیناً لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کی اس ممانعت کی خلاف ورزی کی ہے۔ وہ مسلسل قبروں، مزاروں کی طرف رختِ سفر باندھتے ہیں اور وہاں محرمات پر مبنی عرس میلوں کا انعقاد کرتے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
[التنوير شرح الجامع الصغير: 112/11]
تنبیہ ④: سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
[دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم في مسجد الأحزاب يوم الاثنين ويوم الثلاثاء ويوم الأربعاء، فاستجيب له يوم الأربعاء بين الصلاتين؛ الظهر والعصر، فعرفنا البشر في وجهه، قال جابر : فلم ينزل بي أمر مهم غائظ؛ إلا توخيت تلك الساعة من ذلك اليوم، فدعوت الله، فأعرف الإجابة]
ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مسجدِ احزاب میں تین روز سوموار، منگل اور بدھ کو مسلسل دعا مانگی۔ بدھ کے دن ظہر اور عصر کی نمازوں کے درمیان دُعا قبول ہو گئی۔ نبی کریم ﷺ کے رُخِ انور پر بشاشت جھلک رہی تھی۔ اس کے بعد جب مجھے کوئی اہم مسئلہ درپیش ہوا، میں نے اس گھڑی کا انتخاب کر کے دُعا مانگی تو مجھے اس میں قبولیت کے آثار نظر آئے۔
[الطبقات الكبرى لابن سعد: 56/2، وفي نسخة: 73/2، الأدب المفرد للبخاري: 704، مسند الإمام أحمد: 332/3، شعب الإيمان للبيهقي: 3874، وسنده حسن]
بعض نے اس سے بھی صالحین کے اختیار کردہ اوقات کے متبرک ہونے کا مسئلہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس سے ہرگز یہ ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پیشِ نظر یہی تھا کہ آپ ﷺ نے کئی دن دُعا کرنے کے بعد اس گھڑی کو پا لیا تھا، جس میں اللہ تعالیٰ دُعا قبول فرماتا ہے۔ لہذا انہوں نے اس گھڑی کو یاد رکھا اور اسی میں دُعا کرنے کا اہتمام کیا۔ اگر تبرک والی کوئی بات سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کے ذہن میں ہوتی، تو وہ دُعا کے لیے اس وقت کے ساتھ ساتھ مسجدِ احزاب کی اس جگہ کا بھی اہتمام فرماتے، جہاں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دُعا کرتے دیکھا تھا۔
تنبیہ ⑤: ثابت بنانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
[إن أنسا دفع إلى أبي العالية تفاحة؛ فجعلها في كفه، وجعل يمسحها، ويقبلها، ويمسحها بوجهه، وقال : تفاحة مست كفا مس كف النبي صلى الله تعالى عليه وسلم]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ابو العالیہ رحمہ اللہ کو سیب دیا، انہوں نے ہاتھ میں لے کر اُسے چھوا، بوسہ دیا، اپنے چہرے پر ملا اور کہا: اس سیب کو ایسی ہتھیلی نے چھوا ہے، جسے نبی ﷺ کی مبارک ہتھیلی کو چھونے کا شرف حاصل ہے۔
[القبل والمعانقة والمصافحة لابن الأعرابي: 35، وسنده صحيح]
ابو العالیہ رحمہ اللہ کا یہ فعل بطورِ تکریم تھا، نہ کہ بطورِ تبرک۔