تین دن سے زائد قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنا
عہدِ رسالت میں ایک سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیہاتی لوگوں کی عسرت و تنگ دستی کے پیش نظر تین دن سے زائد قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنے سے منع فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے گوشت کی ذخیرہ اندوزی کی اجازت مرحمت فرمائی، سو تین دن سے زائد گوشت ذخیرہ کرنا بلا کراہت جائز ہے۔
① سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانیوں کے گوشت کھانے سے منع کیا، بعد ازاں فرمایا:
كلوا وتزودوا وادخروا
”قربانی کا گوشت تم (تین دن کے بعد تک) کھاؤ، زادِ راہ بناؤ اور ذخیرہ کرو۔“
صحیح مسلم، کتاب الأضاحي، باب بيان ما كان من النهي عن أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاث: 1973۔ سنن نسائی، کتاب الضحايا، باب الإذن في ذلك: 4438۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
دفت أهل أبيات من أهل البادية حضرة الأضحى زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ادخروا ثلاثا، ثم تصدقوا بما بقي، فلما كان بعد ذلك قالوا: يا رسول الله! إن الناس يتخذون الأسقية من ضحاياهم ويجملون منها الودك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وما ذاك؟ قالوا: نهيت أن تؤكل لحوم الضحايا بعد ثلاث، فقال: إنما نهيتكم من أجل الدافة التى دفت، فكلوا وادخروا
”عید الاضحیٰ کے موقع پر کچھ (مفلوک الحال) بادیہ نشین خاندان (مدینہ) آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کی مدد و اعانت کے پیش نظر) فرمایا: ”تم قربانی کا گوشت تین دن ذخیرہ کرو، پھر باقی ماندہ گوشت صدقہ کر دو۔“ اس کے بعد (اگلے سال) لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! بلاشبہ لوگ اپنی قربانیوں کے (چمڑوں) سے مشکیزے بناتے اور ان کی چربی پگھلا لیا کرتے تھے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ ”مسئلہ کیا ہے؟“ انھوں (صحابه کرام رضی اللہ عنہم) نے عرض کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن کے بعد قربانیوں کے گوشت سے منع فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تو (بادیہ نشین لوگوں کی) تنگ حالی و نقاہت کے پیش نظر تمھیں منع کیا تھا۔ سو (اب) تم (قربانی کا گوشت) کھاؤ، زادِ راہ بناؤ اور ذخیرہ کرو۔“
صحيح مسلم، كتاب الأضاحي باب بيان ما كان من النهي عن أكل لحوم الأضاحي: 1971۔ سنن أبى داؤد، کتاب الأضاحي، باب في حبس لحوم الأضاحي: 2812۔ سنن نسائی، کتاب الضحايا، باب الادخار من الأضاحي: 4436۔
③ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا أهل المدينة لا تأكلوا لحوم الأضاحي فوق ثلاث، فشكوا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن لهم عيالا وحشما وخدما، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كلوا وأطعموا واحبسوا أو ادخروا
”اے اہل مدینہ! تین دن سے زیادہ قربانیوں کا گوشت نہ کھاؤ۔“ پھر لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ ان کے اہل و عیال و خاص و عام خدام ہیں (جو تین دن کے بعد گوشت کے ضرورت مند ہوتے ہیں)۔ (اس پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم (تین کے بعد بھی) قربانی کا گوشت کھاؤ، کھلاؤ اور ذخیرہ کرو۔“
صحیح مسلم، کتاب الأضاحي: 1973۔
④ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من ضحى منكم فلا يصبحن بعد ثالثة وبقي فى بيته منه شيء، فلما كان العام المقبل قالوا: يا رسول الله نفعل كما فعلنا العام الماضي؟ قال: كلوا وأطعموا وادخروا، فإن ذلك العام كان بالناس جهد فأردت أن تعينوا فيها
”تم میں سے جو شخص قربانی کرے تیسرے دن کے بعد اس کے گھر میں اس سے کچھ بھی باقی نہ ہو، پھر جب اگلا سال ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ! اس سال بھی ہم ویسا کریں جیسا گزشتہ سال کیا تھا؟ (یعنی تین دن کے بعد گوشت ذخیرہ نہ کریں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تین دن کے بعد) کھاؤ، کھلاؤ اور ذخیرہ کرو، چونکہ گزشتہ سال لوگوں کو تنگ دستی کا سامنا تھا، سو میں نے ارادہ کیا کہ تم اس (تنگ دستی) میں ان کی مدد کرو۔“
صحیح بخاری، کتاب الأضاحي، باب ما يؤكل من لحوم الأضاحي: 5569۔ صحیح مسلم، کتاب الأضاحي: 8974۔
فوائد:
① قاضی شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”احادیث الباب صریح نص ہیں کہ تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے کی ممانعت منسوخ ہو چکی ہے، صحابہ و تابعین اور علمائے سلف میں جمہور علماء کا یہی موقف ہے۔“
نیل الأوطار: 135/5۔
② ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اکثر اہل علم کے قول کی رو سے تین دن سے زائد قربانی کا گوشت ذخیرہ کرنا جائز ہے۔
المغنى مع الشرح الكبير: 111/11۔
مذاہب و آراء:
تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے کے جواز، محرمت اور مشروط اباحت (یعنی اگر مسلمان تنگ دستی اور عسرت کا شکار ہوں تو تین دن سے زیادہ گوشت ذخیرہ کرنا حرام اور بصورتِ دیگر حلال) کے متعلق علماء کا اختلاف ہے۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ احادیثِ بالا سے علماء نے مختلف مفاہیم کشید کیے ہیں۔
① کچھ علماء کا موقف ہے کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانا اور ذخیرہ کرنا حرام ہے اور تحریم کا حکم اب بھی باقی ہے۔ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اسی موقف کے قائل ہیں۔
② سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اس موقف کے قائل کیونکر تھے، اس بارے ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے کی رخصت نہیں پہنچی تھی اور انھوں نے اس مسئلے میں نہی کے متعلق سنا تھا، سو اس کے مطابق انھوں نے روایت بیان کی۔
المغنى مع الشرح الكبير: 111/11۔
③ شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں ممکن ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما اور ان کے موافقین کو ناسخ کا علم نہ ہو اور جسے کسی مسئلے کے متعلق علم ہو وہ مسئلے سے ناواقف شخص پر دلیل ہوتا ہے سو واقفانِ ناسخ کی دلیل برحق و اولیٰ ہے۔
نیل الأوطار: 135/5۔
④ جمہور علماء کہتے ہیں: تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانا اور ذخیرہ کرنا جائز ہے۔ اوپر بیان کردہ احادیث کی وجہ سے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے کی ممانعت کا حکم منسوخ ہو چکا ہے، بالخصوص حدیثِ بریدہ رضی اللہ عنہ اس نہی کی ناسخ ہے اور یہ سنت سے سنت منسوخ ہونے کی مثال ہے۔
⑤ بعض علماء کا موقف ہے کہ تین دن سے اوپر قربانی کا گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے کی ممانعت کا حکم منسوخ نہیں ہوا، بلکہ تحریم علت کی وجہ سے تھی اور جب علت معدوم ہوئی تو حکمِ تحریم از خود زائل ہو گیا۔ حدیثِ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اور حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا اس موقف کے قائلین کی دلیل ہیں۔
⑥ گوشت ذخیرہ کرنے کی نہی شروع ہی سے کراہت کے لیے ہے، نہی تحریمی نہیں۔ اس موقف کے قائلین کہتے ہیں: یہ کراہت اب بھی باقی ہے، لیکن گوشت کی ذخیرہ اندوزی حرام نہیں اور اس جیسی تنگی و مشکل آج بھی پیش ہو تو لوگوں کو ایسے مفلوک الحال لوگوں کی داد رسی کرنی چاہیے۔
راجح موقف:
① مذکورہ مذاہب نقل کرنے کے بعد امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: راجح اور قرینِ صواب مسئلہ یہ ہے کہ تین دن سے زیادہ گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے کی نہی مطلقاً منسوخ ہو چکی ہے اور اس کی حرمت و کراہت ختم ہو چکی ہے، چنانچہ اب تین دن سے زائد گوشت کھانا اور ذخیرہ کرنا بلا تعیینِ مدت جائز و مباح ہے، اس جواز و اباحت کے لیے حدیثِ بریدہ رضی اللہ عنہ کی بالا صریح نص ہے۔
شرح النووى: 129/13۔
② امام رافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: موجودہ دور میں تین دن سے زیادہ گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے کی حرمت بالکل نہیں ہے اور شرح المہذب میں امام نووی رحمہ اللہ نے بھی یہی موقف اپناتے ہوئے کہا کہ اس وقت کسی بھی حال میں یہ حرمت باقی نہیں۔
فتح البارى: 36/10۔
حدیثِ بریدہ رضی اللہ عنہ کا بیان:
درج ذیل حدیث واضح دلیل ہے کہ تین دن کے بعد گوشت کھانے اور ذخیرہ کرنے کی حرمت کا حکم بالکل منسوخ ہو چکا ہے اور کسی علت و عارضے کی وجہ سے دوبارہ حرمت کا حکم نافذ العمل نہیں ہو گا۔
سیدنا بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نهيتكم عن زيارة القبور، فزوروها، ونهيتكم عن لحوم الأضاحي فوق ثلاث، فأمسكوا ما بدا لكم
”میں نے تمھیں قبرستان کی زیارت سے منع کیا تھا، سو (اب) تم اس کی زیارت کیا کرو اور میں نے تمھیں تین دن سے زائد قربانی کے گوشت سے منع کیا تھا سو (اب) تم جتنا جی چاہے گوشت روک لیا کرو۔“
صحیح مسلم: 977۔سنن نسائی: 5655۔