اللہ پر بھروسہ کرنے کے فضائل قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

اللہ پر بھروسہ کرنے کے فضائل

اہل ایمان کو صرف اللہ پر بھروسہ کرنا چاہیے، اس ایمان و یقین کے ساتھ کہ اس کے علاوہ کوئی حامی و ناصر نہیں۔ اللہ پر بھروسہ کرنے والا اللہ کا محبوب بن جاتا ہے، اور جو اللہ تعالیٰ کا محبوب بن جائے اس کے کیا کہنے؟ چنانچہ رب ذوالجلال والاکرام کا ارشاد ہے:
﴿فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِينَ﴾
اللہ کی رحمت کے باعث آپ ان کے لیے نرم دل ہیں، اور اگر آپ ترش مزاج اور سخت دل ہوتے تو یہ سب آپ کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے۔ پس آپ اُن سے درگزر کریں، اور ان کے لیے استغفار کریں، اور کام کا مشورہ ان سے کیا کریں، پھر جب آپ کا پختہ ارادہ ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کریں۔ بے شک اللہ توکل کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔“
(3-آل عمران:159)
علامہ فخر الدین رازی رحمہ اللہ اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ”یہ آیت کریمہ دلالت کرتی ہے کہ توکل میں اسباب ظاہری کو اختیار کرنا توکل کے منافی نہیں، بس اسباب اختیار کیے جائیں اور بھروسہ و اعتماد ان پر نہ ہو، بلکہ اللہ عزوجل کی ذات اقدس پر ہو۔“
تفسیر کبیر ، تحت آيت فبما ۔۔۔
⋆ بقولِ علامہ اقبال
توکل کا یہ مطلب ہے کہ خنجر تیز رکھ اپنا
پھر فیصلہ اس کی تیزی کا اللہ کے حوالے کر
اللہ مالک الملک نے ساقی کوثر، امام الرسل، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم صادر فرمایا کہ آپ اپنے تمام دعوتی اور غیر دعوتی امور میں صرف اللہ پر توکل کریں جو ازل سے زندہ و قائم ہے اور ابد تک زندہ و قائم رہے گا، ہر مخلوق مر جائے گی اور رب ذوالجلال کی ذات واحد زندہ و قائم رہے گی، لہذا وہی بھروسہ و اعتماد کرنے کے لائق ہے۔ اور تبلیغ دین کی خاطر جو مصائب و مشکلات پیش آئیں، انہیں برداشت کرنے اور ان پر ثابت قدم رہنے کے لیے اللہ وحدہ لاشریک کی تسبیح بیان کیجیے، نماز پڑھیے اور ذکر الہی کا ورد کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
‏ ﴿وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِهِ ۚ وَكَفَىٰ بِهِ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرًا﴾
”آپ ہمیشہ زندہ رہنے والے پر توکل کریں جسے کبھی موت نہیں، اور اس کی تعریف کے ساتھ پاکیزگی بیان کرتے رہیں، وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے پوری طرح خبر دار ہے۔“
(25-الفرقان:58)
جو شخص اپنے تمام امور میں صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے، اور اس کے فرائض و واجبات کو ضائع نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ ہر حال میں اس کا حامی و ناصر ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
﴿وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ ۚ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْرًا﴾
”اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا اللہ اسے کافی ہوگا۔ اللہ اپنا کام پورا کر کے ہی رہے گا۔ اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔“
(64-الطلاق:3)
مؤمنین کی یہ صفت بیان ہوئی ہے کہ وہ ہر حال میں صرف اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں، نہ غیر اللہ سے کوئی اُمید رکھتے ہیں، نہ ہی ڈرتے ہیں۔ نہ اپنے معاملات غیر اللہ کے حوالے کرتے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿‏ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾ ‎
”بس ایمان والے تو ایسے ہوتے ہیں کہ جب اللہ کا ذکر آتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں، اور جب اللہ کی آیتیں اُن کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ آیتیں ان کے ایمان کو اور زیادہ کر دیتی ہیں، اور وہ لوگ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔“
(8-الأنفال:2)
مزید ارشاد فرمایا:
﴿وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾
اور تم اگر مؤمن ہو تو تمہیں اللہ پر ہی بھروسہ رکھنا چاہیے۔“
(5-المائدة:23)
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے:
اللهم لك أسلمت وبك آمنت ، وعليك توكلت ، وإليك أنبت ، وبك خاصمت . اللهم أعوذ بعزتك، لا إله إلا أنت أن تضلني ، أنت الحي الذى لا يموت ، والجن والإنس يموتون
”اے اللہ! میں نے اپنے آپ کو تیرے سپرد کر دیا، اور تیرے ساتھ ایمان لایا، اور تجھ پر میں نے بھروسہ کیا، اور تیری طرف میں نے رجوع کیا، اور تیری عدالت سے میں اپنے متنازعہ مسائل کا حل چاہتا ہوں، اے اللہ! میں تیری عزت کی پناہ مانگتا ہوں، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، اس بات سے کہ تو سیدھے راستے سے مجھے بھٹکا دے، تو زندہ اور قیوم ہے جسے موت نہیں آئے گی، اور تمام انس و جن موت کی آغوش میں چلے جائیں گے۔“
صحیح بخاری، کتاب التوحيد، رقم: 7383 – صحیح مسلم، كتاب الذكر والدعاء، رقم: 6899.
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں:
”حسبنا الله ونعم الوكيل، قالها إبراهيم عليه السلام حين ألقي فى النار، وقالها محمد صلى الله عليه وسلم حين قالوا: إن الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم فزادهم إيمانا وقالوا: حسبنا الله ونعم الوكيل.“
سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے ”حسبنا الله ونعم الوكيل“ ( ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کارساز ہے ) اس وقت فرمایا جب انہیں آگ میں ڈالا گیا، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی یہ کلمہ اس وقت فرمایا جب کافر لوگوں نے کہا کہ بے شک لوگ تمہارے مقابلے کے لیے جمع ہو گئے ہیں، ان سے ڈرو! پس اس بات نے ان کے ایمان میں اور اضافہ کر دیا، اور انہوں نے کہا: حسبنا الله ونعم الوكيل .
صحيح بخاري، كتاب التفسير سورة آل عمران، باب إن الناس قد جمعوا لكم فاخشوهم ، رقم: 4563، 4564 .
علّامہ داؤد راز دہلوی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اس مبارک کلمہ میں توحید و توکل کا بھرپور اظہار ہے۔ اس لیے یہ ایک بہترین کلمہ ہے۔ جس سے مصائب کے وقت عزم وحوصلہ میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔ بطور وظیفہ اسے بلا ناغہ پڑھنے سے نصرت الہی حاصل ہوتی ہے اور اس کی برکت سے ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خود تلقین فرمایا ہے، جیسا کہ آیت ‏ ﴿فَإِن تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ﴾ (9-التوبة:129) میں مذکور ہے۔
شرح صحیح بخاری از علامه داؤد راز دهلوی: 129/6.
جب توکل اللہ تعالیٰ پر ہو تو رزق کی پرواہ تک نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ رزق تو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے۔ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
لو أنكم تتوكلون على الله حق توكله لرزقتم كما يرزق الطير ، تغدو خماصا وتروح بطانا
”اگر تم اللہ پر اس طرح توکل کرو جیسا کہ اس پر توکل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں اس طرح روزی دے جیسے وہ پرندوں کو روزی دیتا ہے، وہ صبح بھوکے نکلتے ہیں، اور شام کو شکم سیر ہو کر واپس لوٹتے ہیں۔“
سنن ترمذي، أبواب الزهد، باب في التوكل على الله، رقم: 2344 ـ صحيح الجامع الصغير، رقم: 5254
ظاہری اسباب کا اختیار محض اطمینان قلب کے لیے ہوتا ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کسی ظاہری سبب کا محتاج نہیں ہے، اس کی مثال ہجرت کے وقت کے حالات ہیں جب اہل مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کر دینا چاہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے چھپ کر نکلے اور تین ایام تک غار ثور میں چھپے رہے۔ دشمنوں نے ان کا پیچھا کیا اور انہیں پالینے کی ہر انسانی تدبیر کر ڈالی، لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت کی اور بحفاظت تمام مدینہ منورہ پہنچایا۔ امام بخاری و مسلم نے سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ:
نظرت إلى أقدام المشركين على رؤوسنا ونحن فى الغار ، فقلت: يا رسول الله لو أن أحدهم نظر إلى قدميه أبصرنا تحت قدميه ، فقال: يا أبا بكر. ما ظنك باثنين الله ثالثهما ؟
”جب ہم غار میں تھے تو میری نظر مشرکین کے قدموں پر پڑی، جب کہ وہ ہمارے سروں پر تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر دشمنوں میں سے کوئی اپنے قدموں پر نظر ڈالے گا تو ہمیں دیکھ لے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! آپ کا ان دونوں کے بارے میں کیا خیال ہے، جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے۔“
صحيح بخاري، كتاب التفسير، باب قوله ثاني اثنين إذهما في الغارة رقم: 4663 ـ صحيح مسلم، كتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل أبي بكر الصديق رضي الله عنه، رقم: 6169.
کوئی شخص اگر ظاہری اسباب کا اختیار بھی ترک کر دے گا، تو یہ کمال توکل ہے۔ ایسے لوگ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ چنانچہ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”
يدخل الجنة من أمتي سبعون ألفا بغير حساب قالوا: من هم يا رسول الله؟ قال: هم الذين يسترقون، ولا يتطيرون، ولا يكتون ، وعلى ربهم يتوكلون
”میری اُمت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ایسے لوگ ہیں جو دم طلب نہیں کرتے، بدشگونی اختیار نہیں کرتے اور داغ نہیں لگواتے، بلکہ اپنے پروردگار پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔“
صحیح مسلم ، کتاب الایمان، رقم: 218