مضمون کے اہم نکات
توحید فی العبادت کے بارے میں شرکیہ امور:
[الدعاء هو العبادة] دعا (یعنی پکارنا) عبادت ہے۔
[أبو داود، كتاب الوتر، باب الدعاء:1479]،[ترمذی، کتاب التفسير،(باب ومن)سورة المؤمن:3372،3247،2969]
معلوم ہوا کہ دعا عبادت ہے، اس لیے غیراللہ سے دعا کرنا ان کی عبادت ہے اور یہ شرک ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
[وَّاَنَّ الۡمَسٰجِدَ لِلّٰہِ فَلَا تَدۡعُوۡا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا]
اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں تو اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔ [الجن:72]
اور دوسرے مقام پر فرمایا:
[قُلۡ اِنَّمَاۤ اَدۡعُوۡا رَبِّیۡ وَ لَاۤ اُشۡرِکُ بِہٖۤ اَحَدًا]،[ قُلۡ اِنِّیۡ لَاۤ اَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا]
[کہہ دے میں تو صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا]،[ کہہ دے بلاشبہ میں تمھارے لیے نہ کوئی نقصان پہنچانے کا اختیار رکھتا ہوں اور نہ کسی بھلائی کا] [الجن:21،20]
ان آیات سے معلوم ہوا کہ مساجد اللہ کی عبادت کے لیے بنائی گئی ہیں، اس میں صرف اسی کو پکارا جائے۔ اگر اس کے ساتھ کسی اور کو پکارا گیا تو یہ شرک ہے۔ لیکن اتنی واضح آیات کے باوجود مسلمانوں کی مساجد میں شرکیہ کلمات آویزاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ یارسول اللہ، یاحسن، یاحسین، یاعلی، یاغوث اعظم وغیرہ جیسے الفاظ کے ساتھ ندا کی جاتی ہے۔ حالانکہ یہ امور شرک سے تعلق رکھتے ہیں، اور کسی بھی ثقہ عالم کے نزدیک جائز نہیں جیسا کہ سابقہ عبارات سے واضح ہے۔
مشرکین مکہ جو کام عبادت کے نام سے بجا لاتے تھے (یعنی) غیراللہ کو مافوق الاسباب قدرتوں کا مالک سمجھ کر انھیں مشکلات و مصائب اور دکھ درد میں پکارنا، ان کے نام کی نذریں ماننا، ان کے تقرب کے لیے جانور ذبح کرنا، ان سے اولا دیں طلب کرنا، مقابر و آستانوں پر اعتکاف بیٹھنا، ان کی مجاوری کرنا وغیرہ کو اللہ تعالیٰ نے شرک سے تعبیر کیا ہے۔ اور ہمارے کلمہ گو مسلمان بھی ایسے امور کا ارتکاب کرتے ہیں، جن سے اجتناب انتہائی ضروری ہے اور اہل علم حضرات کا فرض ہے کہ وہ عوام کو ایسے امور سے منع کریں۔
آج کل عام بسوں، ویگنوں، گاڑیوں اور رکشوں وغیرہ پر لکھا ہوتا ہے: نورانی نور … ہربلا دور
یہی عقیدہ عیسائی حضرات بھی رکھتے ہیں۔ ایک دن میں (مبشر ربانی) نے بذات خود ایک رکشا کے پیچھے لکھا دیکھا:
یسوع نور
ہر بلا دور
کٹ دا مصیتاں،
من دا ضرور
اس رکشا کا نمبر 5070-LXC ہے۔ یعنی عیسائی بھی یہی عقیدہ رکھتا ہے کہ یسوع مسیح علیہ السلام نور ہیں۔ ان کے نام سے ہر بلا و مصیبت دور ہوتی ہے۔ وہ ہماری مشکلات و مصائب دور کرتے ہیں اور دکھ درد میں ہماری پکار سنتے ہیں، حالانکہ دکھ درد میں دعائیں سننے اور قبول کرنے والا اللہ وحدہ لا شریک لہ ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
[وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَ لۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ لَعَلَّہُمۡ یَرۡشُدُوۡنَ]
اور جب میرے بندے میرے بارے میں آپ (ﷺ) سے سوال کریں تو آپ (ﷺ) کہہ دیں میں بہت ہی قریب ہوں۔ ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارے قبول کرتا ہوں۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ میری بات مان لیں اور مجھ پر ایمان رکھیں تا کہ وہ ہدایت پائیں۔ [البقرة:186]
مزید دیکھیے: [النمل:62]
لیکن کلمہ پڑھنے والوں نے اسلامی عقائد ترک کر کے غیراللہ پر یقین کر لیا۔ اور ہر مشکل و بلا ٹالنے والا اپنا مرشد اور پیر فقیر قرار دے لیا، اور یہی عقیدہ عیسائی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں رکھتے ہیں۔
لہذا ہم نے اپنے بھائیوں کی اصلاح کی غرض سے اس کتاب میں یہ بات واضح کی ہے کہ عقیدہ توحید پر نجات کا دارو مدار ہے۔ اس بات کی دعوت تمام انبیاء و رسل علیہم السلام نے دی۔ اور طاغوت و شیاطین کی عبادت جس طرح شرک ہے اسی طرح انبیاء و رسل علیہم السلام ، ملائکہ، جن و انس، شجر وحجر وغیرہ کی عبادت بھی شرک ہے۔ مشرکین مکہ جو اللہ تعالی کو خالق ، مالک، رازق، نافع و ضار، کشتی پار لگانے والا وغیرہ سمجھتے تھے، انھیں اللہ تعالیٰ نے مشرک اسی لیے قرار دیا کہ وہ اللہ کے سوا انبیاء و اولیاء، ملائکہ، جنوں اور بتوں کو مافوق الاسباب قوتوں کا مالک و مختار سمجھتے تھے۔ اور انھیں مشکلات و حاجات اور مصائب و آلام میں پکارتے تھے۔ ان کے اس عقیدے کی تردید اللہ وحدہ لا شریک لہ نے قرآن میں بے شمار مقامات پر کی ہے، جن میں سے چند ایک آیات قرآنیہ ہم نے اس کتاب میں درج کر دی ہیں۔
اگر آج بھی کوئی شخص کلمہ شہادت پڑھ کر اللہ کے علاوہ کسی کو مافوق الاسباب قوتوں کا مالک و مختار سمجھے اور انھیں مشکلات و مصائب اور حاجات و ضروریات میں پکارے اور فوت شدہ برگزیدہ ہستیوں کو غوث اعظم، گنج بخش، داتا، فیض عالم، فریاد رس گردانے ، ان کے نام کی نذرو نیاز اور بکرے چھترے چڑھائے اور انھیں مرادیں پوری کرنے والا اور بگڑی بنانے والا خیال کرے اور حلال و حرام کا اختیار غیراللہ میں تسلیم کرے تو وہ مشرکین کی اطاعت کر کے مشرک ہوجاتا ہے۔ اور اس کی عبادات نماز، روزہ، حج، زکوۃ اور جہاد وغیرہ باطل و بیکار اور رائیگاں جاتی ہیں۔ انھیں اس عقیدے سے توبہ کر کے خالص توحید کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا چاہیے۔ کیونکہ عقیدہ توحید میں اگر اخلاص نہیں ہو گا، تو قیامت والے دن نجات نہیں ہوگی۔ اور نہ رسول اکرم ﷺ کی شفاعت کا حقدار ہوگا۔ عقائد صحیحہ اور اعمال صالحہ کے بغیر کوئی چھٹکارا نہیں ہو گا۔ نبی مکرّم ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا وغیرہ کو فر ما دیا تھا: [لا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا] میں تمھیں اللہ سے کچھ کام نہیں آؤں گا۔ [بخاری، کتاب التفسیر، باب (وأنذر عشيرتك الأقربين):4771،2753]
اسی طرح [سنن نسائی:3677]،[سنن دارمی2632]،[مسند ابوعوانہ:1/95] وغیرہ میں بھی یہ روایت مروی ہے۔ لہذا سب مسلمان بھائیوں کو اپنے عقیدے کی اصلاح کرنی چاہیے اور اعمال صالحہ کرتے رہنا چاہیے۔
تو حید کا مفہوم:
توحید کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، وہی تمام کا ئنات کا مالک و مختار ہے، عالم الغیب والشہادۃ، ہر شے کا خالق، رازق، غوث اعظم، فریادرس، گنج بخش، فیض عالم، بندہ پرور، نذر و نیاز، منت اور سوز و پکار کے لائق، حاجت روا، مشکل کشا، بگڑی بنانے والا، مالک الملک، شہنشاہ قانون ساز، فرماں روا، زندگی و موت کا مالک، نفع و نقصان کا مالک، بے نیاز اور مدبر الامور ہے۔ جب ہر شے کا خالق و مالک وہ ہے تو عبادت کے لائق بھی وہ اکیلا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کی جائے۔ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کی جائے ۔ اللہ کے علاوہ سب کی عبادت سے انکار کیا جائے۔
میں عرش عظیم کے مالک اللہ کریم کی بارگاہ عالیہ میں آپ کے لیے دعا گو ہوں کہ وہ دنیاو آخرت میں آپ کا نگہبان ہو، ہمیشہ کے لیے آپ کو بابرکت بنائے اور ان لوگوں کے زمرے میں شامل کر دے جنھیں جب کوئی نعمت حاصل ہوتی ہے تو شکر ادا کرتے ہیں۔ اور جب مصائب میں مبتلا ہوتے ہیں تو صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔اور جب کبھی گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں تو اللہ
تعالٰی سے معافی طلب کرتے ہیں، بلا شبہ یہ تینوں حالتیں سعادت کی علامت ہیں۔
اللہ تعالٰی آپ کو اپنی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ یہ اچھی طرح ذہن نشین کر لیجیے کہ ملت ابراہیم علیہ السلام اس بات کا نام ہے کہ تم پورے اخلاص و محبت سے اللہ تعالٰی کی عبادت کرو۔ اس نے تمام لوگوں کو اسی کا حکم دیا ہے، جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: [وَ مَا خَلَقۡتُ الۡجِنَّ وَ الۡاِنۡسَ اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡنِ]
اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ [الذاريات:56]
جب آپ کو معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تمھیں خالصتا اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے تو آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے جو عبادت توحید کے بغیر ہو گی، وہ عبادت ہی نہیں کہلائے گی، جیسا کہ بغیر وضو کے نماز کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
جس وقت عبادت میں شرک داخل ہو جائے تو عبادت فاسد ہو جاتی ہے جیسا کہ وضو کی حالت میں ہوا کے اخراج سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[مَا کَانَ لِلۡمُشۡرِکِیۡنَ اَنۡ یَّعۡمُرُوۡا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰہِدِیۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ بِالۡکُفۡرِ ؕ اُولٰٓئِکَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ ۚۖ وَ فِی النَّارِ ہُمۡ خٰلِدُوۡنَ]
مشرکوں کا کبھی حق نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں، اس حال میں کہ وہ اپنے آپ پر کفر کی شہادت دینے والے ہیں۔ یہ وہ ہیں جن کے اعمال ضائع ہوگئے اور وہ آگ ہی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ [التوبة:17]
آپ کو یہ تو معلوم ہو ہی گیا کہ شرک کی آمیزش عبادت کو فاسد کر دیتی ہے۔ شرک ایک ایسی لعنت ہے جس کے ارتکاب سے تمام اعمال صالحہ ضائع ہو جاتے ہیں۔ اور یہ مشرک کو ابدی جہنم کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اس لیے یہ ایک اہم ترین مسئلہ ہے جس کے متعلق تمام تر معلومات حاصل کرنا از حد ضروری ہے، تاکہ آپ اس کے جال سے بچ سکیں۔ چنانچہ رحمت کا ئنات ﷺ ان کے پاس تشریف لائے ، ان کو کلمہ توحید کی دعوت دی۔ یہ بھی یاد رہے کہ ،،لا الہ الا اللہ،، سے محض الفاظ کا اقرار نہیں بلکہ اس کا معنی و مفہوم مراد ہے۔ جاہل کا فر بھی یہ جانتے تھے کہ کلمہ توحید سے رسول اللہ ﷺ کی مراد یہ ہے کہ تعلق صرف اللہ تعالیٰ سے ہو ،اور اس کے سوا جس جس کی عبادت ہو رہی ہے اس کا انکار اور اس سے بیزاری کا اظہار کیا جائے۔ اور اس میں سرفہرست غیراللہ کو پکارنا ہے، اس لیے جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے کہا کہ ،،لا الہ الا اللہ،، کہو تو کہنے لگے: [اَجَعَلَ الۡاٰلِہَۃَ اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚ اِنَّ ہٰذَا لَشَیۡءٌ عُجَابٌ] کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ ایک ہی معبود بنا دیا ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ [ص:5]
جب آپ کو معلوم ہو گیا کہ جاہل کا فر بھی کلمہ توحید کو خوب سمجھتے تھے تو اس شخص پر تعجب ہے جو اسلام کا مدعی تو ہے لیکن وہ کلمہ توحید کی اتنی تفسیر بھی نہیں جانتا جس قدر کہ جاہل کافر جانتے تھے، بلکہ یہ خیال کرے کہ دلی اعتقاد اور مفہوم سمجھے بغیر صرف الفاظ کا ادا کرنا ہی کافی ہے اور ان میں سے سب سے زیادہ پڑھا لکھا اور عقلمند شخص یہ سمجھتا ہے کہ ،،لا الہ الا اللہ،، کا معنی یہ ہے کہ خالق، رازق اور کائنات کا انتظام کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
تو ایسے شخص میں کوئی خیر اور بھلائی نہیں جس سے بڑھ کر جاہل کافر ،،لا الہ الا اللہ،، کے مفہوم کو زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ جب آپ نے میری مندرجہ بالا گزارشات کو سمجھ لیا اور اس شرک کو بھی، اچھی طرح سمجھ لیا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ]
اللہ اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کر دے۔ [النساء:48]
نیز اللہ تعالیٰ کے اس دین کو بھی جان لیا جسے عام انبیائے کرام علیہم السلام لے کر آئے تھے، جس کے بغیراللہ تعالیٰ کوئی دوسرا دین قبول نہیں کرے گا۔ اور یہ بات بھی سمجھ میں آگئی کہ لوگوں کی اکثریت اس دین سے بے خبر اور جاہل ہے تو ان معلومات سے دو فائدے سامنے آئے:
[1] فائدہ یہ کہ: اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوشی اور مسرت ہونی چاہیے۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
[قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰہِ وَ بِرَحۡمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلۡیَفۡرَحُوۡا ؕ ہُوَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ]
کہہ دو کہ (یہ کتاب) اللہ کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہیے کہ لوگ اس سے خوش ہوں، یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔ [یونس:58]
[2] فائدہ: اللہ تعالی کی گرفت سے خوف اور ڈر کا حاصل ہونا، کیونکہ جب آپ یہ بات جان لیں گے کہ بعض اوقات انسان غیرشعوری طور پر بھی ایسی بات کہہ جاتا ہے جس کی وجہ سے اسے کافر قرار دے دیا جاتا ہے۔ اور جہالت کی وجہ سے اسے معذور نہیں سمجھا جاتا نیز بعض اوقات وہ اس خیال سے بات کر جاتا ہے کہ اس کو وہ بات اللہ تعالی کے قریب کر دے گی جیسا کہ مشرکین سمجھتے تھے۔
خصوصاً سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں سے چند صالح اور عالم افراد کا قصہ ذہن نشین کیجیے جن کا اللہ تعالی ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ انھوں نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام [اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰـہًا کَمَا لَہُمۡ اٰلِـہَۃٌ] جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں، ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دو۔ [الأعراف:138]
تو اس وقت آپ کے دل میں عظیم خوف پیدا ہو گا اور یہ خواہش بھی پیدا ہو گی کہ آپ ایسی باتوں سے بچیں جن سے شرک میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے۔ اس بات کو بھی یاد رکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص حکمت و مصلحت سے جس نبی کو بھی توحید کی دعوت دینے کے لیے مبعوث فرمایا تو اس کے دشمن بھی کھڑے کر دیے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: [وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیۡنَ الۡاِنۡسِ وَ الۡجِنِّ یُوۡحِیۡ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ زُخۡرُفَ الۡقَوۡلِ غُرُوۡرًا]
اور اسی طرح ہم نے شیطان (سیرت) انسانوں اور جنوں کو ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا تھا، وہ دھوکا دینے کے لیے ایک دوسرے کے دل میں ملمع کی باتیں ڈالتے رہتے تھے۔[الأنعام:112]
بعض اوقات دشمنان توحید علوم و فنون، کتب اور دلائل سے لیس بھی ہوتے ہیں، جیسا کہ ارشاد الہی ہے: [فَلَمَّا جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَرِحُوۡا بِمَا عِنۡدَہُمۡ مِّنَ الۡعِلۡمِ]
اور جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو جو علم (اپنے خیال میں) ان کے پاس تھا اس پر اترانے لگے۔ [المؤمن:83]
جب آپ نے یہ جان لیا اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں (حائل ہونے کےلیے) اہل علم فصیح و بلیغ اور دلائل سے مسلح دشمن بیٹھے ہوئے ہیں تو آپ پر واجب ہے کہ دین کا علم سیکھیں جو آپ کے پاس بطور ہتھیار ہو، جس سے آپ ان شیطانوں کا مقابلہ کر سکیں، جن کے پیش رو اور سردار نے اللہ تعالیٰ کے دربار میں کہا تھا:
[قَالَ فَبِمَاۤ اَغۡوَیۡتَنِیۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَہُمۡ صِرَاطَکَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ]،[ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مِنۡ خَلۡفِہِمۡ وَ عَنۡ اَیۡمَانِہِمۡ وَ عَنۡ شَمَآئِلِہِمۡ ؕ وَ لَا تَجِدُ اَکۡثَرَہُمۡ شٰکِرِیۡنَ]
[اس نے کہا پھر اس وجہ سے کہ تو نے مجھے گمراہ کیا، میں ضرور ہی ان کے لیے تیرے سیدھے راستے پر بیٹھوں گا]،[ پھر میں ہر صورت ان کے آگے سے اور ان کے پیچھے سے اور ان کی دائیں طرفوں سے اور ان کی بائیں طرفوں سے آئوں گا اور تو ان کے اکثر کو شکر کرنے والے نہیں پائے گا] [الأعراف:17،16]
لیکن جب آپ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں گے اور قرآنی دلائل پر غور و فکر کریں گے تو پھر کسی غم کھانے اور فکر کرنے کی ہرگزضرورت نہیں کیونکہ:
[اِنَّ کَیۡدَ الشَّیۡطٰنِ کَانَ ضَعِیۡفًا] بے شک شیطان کی چال ہمیشہ نہایت کمزور رہی ہے۔ [النساء:76]
موحدین کا ایک عام آدمی مشرکین کے ہزار علماء پر بھاری ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے: [وَاِنَّ جُنۡدَنَا لَہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ] یقینا ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔ [الصافات:137]
ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا لشکر دلائل اور زبان سے غالب ہوتا ہے، جیسا کہ وہ تلوار اور نیزے سے غالب ہوتا ہے۔ خطرہ تو اس موحد پر ہے جو بغیر اسلحہ کے راہ جہاد پر جا رہا ہے۔ اللہ تعالٰی نے ہم پر کتاب مبین نازل فرما کر احسان عظیم فرمایا ہے۔ جس میں ہر چیز بیان کر دی گئی ہے۔ اور مسلمانوں کے لیے اس میں ہدایت ، رحمت اور خوشخبری ہے۔ باطل پرست جو بھی دلیل لائیں گے قرآن کریم میں اس کا توڑ موجود ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [وَ لَا یَاۡتُوۡنَکَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئۡنٰکَ بِالۡحَقِّ وَ اَحۡسَنَ تَفۡسِیۡرًا]
اور یہ لوگ تمھارے پاس جو (اعتراض کی) بات لاتے ہیں ہم تمھارے پاس اس کا معقول اور خوب و اضح جو اب بھیج دیتے ہیں۔ [الفرقان:33]
بعض مفسرین نے کہا ہے کہ یہ آیت کریمہ ہر اس دلیل کو شامل ہے جو اہل باطل قیامت تک لائیں گے۔
شرک سے متعلق اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے : بلا شبہ اللہ تعالی اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کر دے۔ [النساء:48] ہر مسلمان کے علم میں یہ بات رہنی چاہیے کہ کلمہ توحید (یعنی)
،،لا الہ الا اللہ،، ہی کفر اور اسلام کے در میان حد فاصل ہے۔ یہی کلمة التقوی اور عروة الوثقی ہے۔ اور اسی کلمہ توحید کے بارے میں ارشاد ہے: [وَ جَعَلَہَا کَلِمَۃًۢ بَاقِیَۃً فِیۡ عَقِبِہٖ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ] اور یہی کلمہ اپنی اولاد میں پیچھے چھوڑ گئے تاکہ وہ (اللہ کی طرف) رجوع رہیں۔ [الزخرف:28]
کلمہ توحید کا صرف زبانی اقرار کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ منافقین بھی اس کا زبانی اقرار کرتے، نمازیں پڑھتے اور صدقہ و خیرات کرتے تھے پھر بھی وہ جہنم میں [اسفل السافلین] میں ہوں گے۔
کلمہ توحید کے اقرار کا اسی وقت فائدہ ہوگا، جب دل میں اس کی محبت و معرفت (یعنی) سمجھ ہو اور اہل ایمان سے بھی محبت و اخوت ہو۔ اور یہ محبت اس وقت تک مکمل نہ ہو گی جب تک کہ کلمہ توحید کے مخالفین سے عداوت اور دشمنی نہ ہو، جیسا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: [مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ خَالِصًا مِّنْ قَلْبِهِ] جو شخص خلوص دل سے
،،لا الہ الا اللہ،، کا اقرار کرے۔ [بخاری، كتاب الرقاق، باب صفة الجنة والنار:6570]
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:
[من قال لا إله إلا الله وكفر بما يعبد من دون الله ] جو شخص ،،لا إله إلا الله،، کا اقرار کرے اور جن غیراللہ کی عبادت کی جاتی ہے ان سب کا انکار کرے۔
[مسلم، كتاب الإيمان، باب الأمر بقتال الناس حتى يقولوا ….الخ:23]
اس کے علاوہ بھی کتب صحاح میں احادیث نبویہ موجود ہیں۔ جو کلمہ توحید کے صرف زبانی اقرار کرنے والوں کی جہالت اور گمراہی پر دلالت کرتی ہیں۔ اس بات کو خاص طور پر ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ کلمہ توحید میں نفی اور اثبات دونوں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا تمام مخلوق حتی کہ رسول اللہ ﷺ اور جبریل (علیہ السلام) بھی اور ان کے علاوہ اولیاء اللہ اور صالحین امت سے بھی الوہیت کی نفی ہے۔ اور صرف اللہ تعالی سے الوہیت کا ثبوت ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے بعد اس الوہیت پر غور کرنا چاہیے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے لیے خاص کیا ہے اور تمام مخلوق حتی کہ رسول اللہ ﷺ اور جبریل علیہ السلام سے بھی نفی ہے۔ اور فرمایا کہ رائی برابر بھی ان میں صفت الوہیت نہیں، اور یہ وہی الوہیت ہے جس کو عوام الناس ،،سر،، اور ولایت کے نام سے پکارتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ،،الہ،، کے معنی ہیں ایسا ولی جس میں کوئی بھید یا ،،سر،، ہو۔ دوسرے لفظوں میں ایسے ولی کو فقیر اور شیخ کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔ اور کچھ لوگ ،السید، بھی کہتے ہیں۔ اولیاء اللہ کے بارے میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض اولیاء کو ایک خاص مقام اس لیے عطا فرمایا ہے کہ لوگ ان کی طرف مائل ہوں، ان سے اپنی امیدیں وابستہ کریں، ان کو پکاریں، ان سے پناہ طلب کریں اور ان کو میرے اور اپنے درمیان وسیلہ بنائیں۔
پس ہمارے اس دور کے مشرکین ان اولیاء کو اپنے اور اللہ کے درمیان وسیلہ اور مشرکین عرب ان کو ،،الہ،، کہتے تھے۔ اور واسطہ حقیقت میں ،،الہ،، ہی کو کہتے ہیں۔ لہذا کسی شخص کا کلمہ توحید ،،لا الہ الا اللہ،، کا اقرار کرنا وسیلہ کی تردید و نفی کرنا ہے۔ اور یہ مسئلہ بنیادی اصولوں کو سمجھ لینے سے ذہن نشین ہوگا جن کا اللہ تعالی نے قرآن مجید میں تذکرہ فرمایا ہے:
پہلا اصول:
اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ وہ کفار جن کے خلاف رسول اللہﷺ نے جنگیں لڑیں اور جن کے قتل کرنے، مال لوٹنے اور جن کے بچوں کو غلام اور عورتوں کو لونڈیاں بنانے کو جائز قرار دیا تھا وہ توحید ربوبیت کے قائل تھے ۔ توحید ربوبیت یہ ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ پیدا کرنے والا، رزق دینے والا، زندہ کرنے والا، موت دینے والا اور کائنات میں مدبر الامور صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ اس بات کے اقراری تھے کہ اللہ تعالی خالق و رازق، زندگی و موت دینے والا، اور کائنات کے تمام معاملات کی تدبیر کرنے والا ہے۔ یہ سب کچھ تسلیم کرنے کے باوجود دائرہ اسلام میں داخل نہیں سمجھے گئے، بطور دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشادملاحظہ فرمائیں:
[قُلۡ مَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ اَمَّنۡ یَّمۡلِکُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ مَنۡ یُّخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ وَ یُخۡرِجُ الۡمَیِّتَ مِنَ الۡحَیِّ وَ مَنۡ یُّدَبِّرُ الۡاَمۡرَ ؕ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ اللّٰہُ ۚ فَقُلۡ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ]
(ان سے) پوچھو کہ تمھیں آسمان اور زمین میں رزق کون دیتا ہے یا (تمھارے) کانوں اور آنکھوں کا کون مالک ہے۔ اور بے جان میں سے جان دار کو کون پیدا کرتا ہے ۔اور جاندار میں سے بے جان کو کون نکالتا ہے، اور دنیا کے کاموں کا کون انتظام کرتا ہے؟ جھٹ کہہ دیں گے کہ اللہ ۔ تو کہو کہ پھر تم (اللہ تعالیٰ) سے ڈرتے کیوں نہیں؟ [یونس:31]
مندرجہ بالا فرمان الہی پر غور فرمایے، کہ آیت کریمہ میں جن امور کا تذکرہ کیا گیا ہے کفار عرب ان سب کو مانتے اور اقرار کرتے تھے نیز وہ صدقہ و خیرات بھی کرتے، حج اور عمرہ بھی ادا کرتے اور اس کے علاوہ بھی وہ عبادت بجا لاتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈر اور خوف کی وجہ سے بعض محرمات سے بھی اجتناب کرتے تھے۔ پھر بھی اللہ تعالیٰ نے ان کو اسلام میں داخل نہیں کیا اور نہ ان کی جانوں اور مال و متاع کو محفوظ قرار دیا۔
مندرجہ بالا اعمال حسنہ کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ان کو کافر قرار دیا، ان کو قتل کرنا اور ان کا مال چھین لینا جائز رکھا۔ اس لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے توحید الوہیت کا اقرار نہیں کرتے تھے۔ توحید الوہیت یہ ہے کہ انسان یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالی کے سوا نہ کسی کو پکارا جائے نہ کسی سے امیدیں وابستہ کی جائیں۔ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے، اللہ کے سوا کسی سے فریاد نہ کی جائے، کوئی جانور غیراللہ کے لیے ذبح نہ کیا جائے، نہ کسی مقرب فرشتہ کے لیے اور نہ کسی نبی اور رسول کے لیے۔ پس جو شخص غیراللہ سے فریاد کرتا ہے یا غیراللہ کے لیےجانور ذبح کرتا ہے یا غیراللہ کے نام کی نذر و نیاز مانتا ہے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
قارئین کرام :کو یہ نہ بھولنا چاہیے کہ وہ مشرکین عرب جن سے رسول اللہﷺ نے جنگ کی وہ صالحین کو پکارا کرتے تھے۔ جیسے ملائکہ، سیدنا عیسی علیہ السلام، عزیر علیہ السلام اور دوسرے اولیائے کرام وغیرہ اور یہ بھی اقرار کرتے تھے، کہ اللہ ہی خالق ہے، وہی رازق ہے اور وہی کائنات کا انتظام و انصرام کرنے والا ہے، پھر بھی ان کو کافر قرار دیا گیا۔
دوسرا اصول:
اگر کوئی مشرک یہ کہے کہ ہم جانتے ہیں، مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی رازق، خالق اور مدبر الامور ہے۔ لیکن یہ صالحین جن کو ہم پکارتے ہیں، اور جن کے نام کی ہم نذرو نیاز دیتے ہیں اور جن کی قبروں پر جا کر ہم فریاد کرتے ہیں، ہم ان کو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کےہاں اپنا سفارشی سمجھتے ہیں اور بس، ورنہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ خالق و مالک اور کائنات کانظم و نسق صرف اللہ تعالی ہی کے تصرف اور قبضے میں ہے۔ ایسے شخص کو یہ جواب دو کہ ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کا بھی یہی عقیدہ تھا کیونکہ وہ سیدنا عیسی علیہ السلام، سیدنا عزیر علیہ السلام اور ملائکہ اور دوسرے اولیائے کرام کو پکارا کرتے اور یہی کہتے تھے کہ یہ ہستیاں اللہ تعالی کے ہاں ہماری سفارشی ہیں اور بس۔ مشرکین کا یہ کہنا ہے کہ ہم صالحین کی قبروں کی طرف متوجہ ہو کر اس لیے انھیں پکارتے ہیں تا کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں، ہم ان کی سفارش اور قرب کے ذریعے ہر چیز اللہ تعالیٰ سے مانگتے ہیں اور ان سے کچھ نہیں چاہتے ۔ ان کے اس عقیدے کی دلیل قرآن مجید کی اس آیت کریمہ میں پائی جاتی ہے:
[وَ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ۘ مَا نَعۡبُدُہُمۡ اِلَّا لِیُقَرِّبُوۡنَاۤ اِلَی اللّٰہِ زُلۡفٰی ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَحۡکُمُ بَیۡنَہُمۡ فِیۡ مَا ہُمۡ فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ مَنۡ ہُوَ کٰذِبٌ کَفَّارٌ]
اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا اور دوست بنائے ہیں (وہ کہتے ہیں کہ) ہم ان کو اس لیے پوجتے ہیں کہ ہم کو اللہ کا مقرب بنا دیں تو جن باتوں میں یہ اختلاف کرتے ہیں اللہ ان کا فیصلہ کر دے گا، بے شک اللہ اس شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا ناشکرا ہے۔ [الزمر:3]
شفاعت کی دلیل اللہ تعالی کے درج ذیل ارشاد میں پائی جاتی ہے، ارشاد باری تعالی ہے:
[وَ یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہُمۡ وَ لَا یَنۡفَعُہُمۡ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ قُلۡ اَتُنَبِّـُٔوۡنَ اللّٰہَ بِمَا لَا یَعۡلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ]
اور یہ (لوگ) اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو ان کا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں اور نہ ہی انھیں کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس ہماری سفارش کرنے والے ہیں۔ کہہ دو کیا تم اللہ کو ایسی چیز بتاتے ہو جس کا وجود اسے نہ آسمانوں میں معلوم ہوتا ہے اور نہ زمین میں، وہ پاک ہے اور (اس کی شان ) ان کے شرک کرنے سے بہت بلند ہے۔ [يونس:18]
شفاعت کی اقسام:
شفاعت کی دو قسمیں ہیں:
[1] منفی شفاعت
[2] مثبت شفاعت
منفی شفاعت اسے کہتے ہیں جو غیر اللہ سے کی جائے اور وہ اس پر قادر نہ ہو، بطور دلیل یہ آیت ملاحظہ فرمائیں:
[یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِمَّا رَزَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا بَیۡعٌ فِیۡہِ وَ لَا خُلَّۃٌ وَّ لَا شَفَاعَۃٌ ؕ وَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ]
اے ایمان والو! جو ( مال ) ہم نے تمھیں دیا ہے اس میں سے اس دن کے آنے سے پہلے پہلے خرچ کر لو جس میں نہ اعمال کا سودا ہو گا اور نہ دوستی اور سفارش ہو سکے گی اور کفر کرنے والے لوگ ظالم ہیں۔ [البقرة:254]
قیامت کے روز شفاعت کرنے والے کی عزت و تکریم سفارش کی بنا پر ہوگی اور سفارش کی اجازت بھی اس کے حق میں ملے گی جس کا کوئی قول یا عمل اللہ تعالیٰ کو پسند آگیا ہو۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر وہاں کوئی کسی کے لیے سفارش نہیں کر سکے گا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[مَنۡ ذَا الَّذِیۡ یَشۡفَعُ عِنۡدَہٗۤ اِلَّا بِاِذۡنِہٖ] کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر (کسی کی) سفارش کر سکے۔ [البقرة :255]
جب آپ نے اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیا کہ کفار و مشرکین توحید ربوبیت کا اقرار کرتے تھے یعنی خالق، رازق اور مدبر کائنات صرف اللہ تعالی کو سمجھنا، پھر بھی سیدنا عیسی علیہ السلام، ملائکہ اور اولیائے کرام کی تعریف میں رطب اللسان رہنے سے ان کا مقصد یہ ہوتا تھا کہ یہ حضرات اللہ تعالی کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں اور ہمیں اللہ تعالیٰ کے قریب تر کرنے والی یہی بزرگ ہستیاں ہیں اور خصوصا نصاری میں کچھ ایسے افراد بھی تھے جو رات دن عبادت الہی میں مصروف رہتے تھے اور صدقہ و خیرات بھی کیا کرتے تھے حتی کہ وہ لوگوں سے الگ تھلگ ہو کر کنائس میں زہد کی زندگی بسر کرتے ، ان اوصاف حمیدہ کے باوجود وہ کافر اور اللہ کے دشمن ہی ٹھہرے اور ان اعمال حسنہ کے باوجود وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، کیونکہ وہ ان نفوس قدسیہ کو پکارتے ، ان کے نام کی نذر و نیاز دیتے اور ان کے نام پر جانور ذبح کرتے رہے۔ ان مشرکانہ عقائد کو سمجھنے کے بعد آپ پر اسلام کی حقیقت واضح ہو جائے گی جس کی طرف رسول مکرمﷺ نے دنیا کو دعوت دی اور نبی ﷺکا یہ ارشاد حرف بحرف صادق ہوتا ہوا نظر آئے گا، جس میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا: [بدأ الإسلام غريبا وسيعود كما بدأ غريبا] اسلام کی ابتدا اجنبیت کی حالت میں ہوئی اور یہ اجنبیت کی طرف لوٹ جائے گا جیسے اس کی ابتدا ہوئی۔ [مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان أن الإسلام بدأ غريبا و سیعود غريبا …. الخ:145]
اور یہ بات بھی روز روشن کی طرح واضح ہو جائے گی کہ اکثر لوگوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
پس اے میرے بھائیو! اللہ سے ڈرو اور حقیقی اسلام کو اول تا آخر سمجھو اور اس کی اساس کلمہ توحيد [لا إله إلا الله] کو مضبوطی سے تھام لو، اس کے معنی و مفہوم کو سمجھو، کلمہ توحید اور اس کے حاملین سے محبت کرو اور انھی کو اپنا بھائی بناؤ، اگر چہ یہ لوگ تم سے دور کسی دوسرے ملک میں کیوں نہ ہوں اور ہر طاغوت سے انکار کرو اور ہر طاغوتی طاقت اور اس کے حلیفوں سے علیحدگی اختیار کر لو اور ایسے لوگوں سے بھی تمھارا مقاطعہ ضروری ہے جو کسی بھی طاغوتی طاقت کی حمایت کرتے ہوں یا یہ کہتے ہوں کہ ان کے بارے میں ہم پر کوئی ذمہ داری نہیں ہے، ان کا یہ کہنا اللہ تعالیٰ پر سراسر کذب وبہتان ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مکلف ٹھہرایا ہے کہ وہ ہر طاغوت کا انکار کریں اور اس سے اپنی براءت کا اظہار کریں، اگر چہ وہ ان کے سگے بھائی یا اولاد ہی کیوں نہ ہوں۔ پس میں دوبارہ اپنے بھائیوں سے عرض کروں گا کہ وہ کلمہ توحید کو مضبوطی سے تھام لیں، تا کہ جب وہ اپنے رب کے حضور پیش ہوں تو مشرک نہ ہوں۔
تیسرا اصول:
نبی اکرم ﷺ کا ظہور ان لوگوں میں ہوا جو کائنات کی متعدد اشیاء کے پجاری تھے۔ ان میں ایسے بھی تھے جو چاند اور سورج کی پوجا کرتے اور ایسے بھی تھے جو صالحین کی بندگی کرتے اور ایسے بھی تھے۔ جو انبیائے کرام علیہم السلام، ملائکہ مقربین اور حجر وشجر کے پجاری تھے۔ رسول اللہﷺ نے بلا تفریق تمام کے خلاف جہاد کیا۔ بطور دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ملاحظہ فرمائیں:
[وَ قٰتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ وَّ یَکُوۡنَ الدِّیۡنُ لِلّٰہِ]
اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہنا کہ فساد نابود ہو جائے اور ( ملک میں ) اللہ ہی کا دین ہو جائے۔ [البقرة:193]
عبادت شمس و قمر کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[وَ مِنۡ اٰیٰتِہِ الَّیۡلُ وَ النَّہَارُ وَ الشَّمۡسُ وَ الۡقَمَرُ ؕ لَا تَسۡجُدُوۡا لِلشَّمۡسِ وَ لَا لِلۡقَمَرِ وَ اسۡجُدُوۡا لِلّٰہِ الَّذِیۡ خَلَقَہُنَّ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ]
اور اسی کی نشانیوں میںسے رات اور دن، اورسورج اور چاند ہیں، نہ سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو اور اس اللہ کو سجدہ کرو جس نے انھیں پیدا کیا، اگر تم صرف اس کی عبادت کرتے ہو۔ [حم السجدة:37]
عبادت صالحین کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[قُلِ ادۡعُوا الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ فَلَا یَمۡلِکُوۡنَ کَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡکُمۡ وَ لَا تَحۡوِیۡلًا]،[ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ یَبۡتَغُوۡنَ اِلٰی رَبِّہِمُ الۡوَسِیۡلَۃَ اَیُّہُمۡ اَقۡرَبُ وَ یَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَہٗ وَ یَخَافُوۡنَ عَذَابَہٗ ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحۡذُوۡرًا]
[کہہ دو (مشرکو!) جن لوگوں کی نسبت تمھیں (معبود ) ہونے کا گمان ہے ان کو پکارو، وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کے بدل دینے کا کچھ اختیار نہیں رکھتے]،[یہ لوگ جن کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں ذریعہ تقریب تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون اس میں اللہ کا زیادہ مقرب ہے اور اس کی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بے شک تمھارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے] [بني إسرائيل:57،56]
[فائدہ: 118مراد آبادی: جیسے، عیسی علیہ السلام، عزیر علیہ السلام، ملائکہ]
عبادت ملائکہ کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[وَ یَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ یَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اَہٰۤؤُلَآءِ اِیَّاکُمۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ]،[ قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ اَنۡتَ وَلِیُّنَا مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ بَلۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ ۚ اَکۡثَرُہُمۡ بِہِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ]،[ فَالۡیَوۡمَ لَا یَمۡلِکُ بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ نَّفۡعًا وَّ لَا ضَرًّا ؕ وَ نَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیۡ کُنۡتُمۡ بِہَا تُکَذِّبُوۡنَ]
[اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا، پھر فرشتوں سے کہے گا کیا یہ لوگ تمھاری ہی عبادت کیا کرتے تھے؟]،[وہ کہیں گے تو پاک ہے، تو ہمارا دوست ہے نہ کہ وہ، بلکہ وہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے، ان کے اکثر انھی پر ایمان رکھنے والے تھے]،[ سو آج تمھارا کوئی کسی کے لیے نہ نفع کا مالک ہے اور نہ نقصان کا اور ہم ان لوگوں سے کہیں گے جنھوں نے ظلم کیا چکھو اس آگ کا عذاب جسے تم جھٹلایا کرتے تھے] [سبا:40تا42]
عبادت انبیاء کی دلیل:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
[وَ اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَ اُمِّیَ اِلٰہَیۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالَ سُبۡحٰنَکَ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَیۡسَ لِیۡ بِحَقٍّ ؕ اِنۡ کُنۡتُ قُلۡتُہٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَہٗ ؕ تَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِیۡ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِکَ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ]،[ مَا قُلۡتُ لَہُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِیۡ بِہٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ۚ وَ کُنۡتُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا مَّا دُمۡتُ فِیۡہِمۡ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ اَنۡتَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ]،[ اِنۡ تُعَذِّبۡہُمۡ فَاِنَّہُمۡ عِبَادُکَ ۚ وَ اِنۡ تَغۡفِرۡ لَہُمۡ فَاِنَّکَ اَنۡتَ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ]
[اور جب اللہ کہے گا اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنا لو؟ وہ کہے گا تو پاک ہے، میرے لیے بنتا ہی نہیں کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں، اگر میں نے یہ بات کہی تھی تو یقینا تو نے اسے جان لیا، تو جانتا ہے جو میرے نفس میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے نفس میں ہے، یقینا تو ہی سب چھپی باتوں کو بہت خوب جاننے والا ہے]،[ میں نے انھیں اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو، جو میرا رب اور تمھارا رب ہے اور میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے]،[ اگر تو انھیں عذاب دے تو بے شک وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انھیں بخش دے تو بے شک تو ہی سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے] [المائدة:116تا118]
عبادت شجر و حجر کی دلیل:
ابو واقد لیثی رضي اللہ عنہ سے روایت ہے: کہ ہم رسول اللہﷺ کے ہمراہ غزوہ حنین کے لیے نکلے۔ صورت حال یہ تھی کہ ہم ابھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ مشرکین ایک بیری کے درخت کو متبرک سمجھتے ہیں اور وہاں اعتکاف بیٹھتے ہیں۔ کامیابی حاصل کرنے کی غرض سے اپنا اسلحہ اس کے ساتھ لٹکاتے ہیں اور اسے ،،ذات انواط،، کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ہم نے رسول اللہﷺ سے عرض کیا کہ ہمارے لیے بھی اس ،،ذات انواط،، جیسا کوئی مقام مقرر فرما دیجیے۔ رسول اللہﷺ نے یہ سن کر تعجب سے فرمایا:اللہ اکبر! پہلی قوموں کی ایسی ہی عادات رہی ہیں، اللہ کی قسم! تم نے تو ویسا ہی مطالبہ کیا جس طرح بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سےکیا تھا۔
[ترمذی، کتاب الفتن، باب ماجاء لتركبن سنن من كان قبلكم:2180]
جس کا قرآن مجید نے یوں تذکرہ فرمایا ہے:
[قَالُوۡا یٰمُوۡسَی اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰـہًا کَمَا لَہُمۡ اٰلِـہَۃٌ ؕ قَالَ اِنَّکُمۡ قَوۡمٌ تَجۡہَلُوۡنَ]،[ اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا ہُمۡ فِیۡہِ وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ]،[ قَالَ اَغَیۡرَ اللّٰہِ اَبۡغِیۡکُمۡ اِلٰـہًا وَّ ہُوَ فَضَّلَکُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ]
[کہنے لگے اے موسیٰ! ہمارے لیے کوئی معبود بنا دے، جیسے ان کے کچھ معبود ہیں؟ اس نے کہا بے شک تم ایسے لوگ ہو جو نادانی کرتے ہو]،[ بے شک یہ لوگ، تباہ کیا جانے والا ہے وہ کام جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور باطل ہے جو کچھ وہ کرتے چلے آرہے ہیں]،[ کہا کیا میں اللہ کے سوا تمھارے لیے کوئی معبود تلاش کروں؟ حالانکہ اس نے تمھیں جہانوں پر فضیلت بخشی ہے] [الأعراف:138تا140]
چوتھا اصول:
ہمارے دور کے مشرک قرون اولیٰ کے مشرکین سے بھی دو قدم آگے ہیں۔ قرون اولی کے مشرک مصائب کے وقت اللہ ہی کو پکارتے اور زمانہ خوشحالی میں شرک کا ارتکاب کیا کرتے تھے۔ لیکن ہمارے دور کے مشرک خوشحالی کے ایام ہوں یا تنگدستی کے ہر دو صورت میں شرک کا ارتکاب کرتے ہیں اور دائمی طور پر شرک میں مبتلا رہتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے واضح ہوتا ہے:
[فَاِذَا رَکِبُوۡا فِی الۡفُلۡکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ فَلَمَّا نَجّٰہُمۡ اِلَی الۡبَرِّ اِذَا ہُمۡ یُشۡرِکُوۡنَ] ،[لِیَکۡفُرُوۡا بِمَاۤ اٰتَیۡنٰہُمۡ وَ لِیَتَمَتَّعُوۡا ٝ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ]
[پھر جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اللہ کو پکارتے ہیں، اس حال میں کہ اسی کے لیے عبادت کو خالص کرنے والے ہوتے ہیں، پھر جب وہ انھیں خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو اچانک وہ شریک بنا رہے ہوتے ہیں]،[ تاکہ جو کچھ ہم نے انھیں دیا اس کی ناشکری کریں اور تاکہ فائدہ اٹھا لیں۔ سو عنقریب وہ جان لیں گے] [العنكبوت:67،66]
ہم اپنی گفتگو کو ایسی آیت کریمہ پر ختم کرتے ہیں جس کو سمجھنے کے بعد معلوم ہو جائے گا کہ ہمارے دور کے مشرکین کا کفران مشرکین سے بہت بڑا ہے جن سے رسول اللہﷺ نے جنگ کی تھی، ارشاد الہی ہے:
[وَ اِذَا مَسَّکُمُ الضُّرُّ فِی الۡبَحۡرِ ضَلَّ مَنۡ تَدۡعُوۡنَ اِلَّاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا نَجّٰىکُمۡ اِلَی الۡبَرِّ اَعۡرَضۡتُمۡ ؕ وَ کَانَ الۡاِنۡسَانُ کَفُوۡرًا]
اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے) تو جن کو تم پکارا کرتے ہو سب اس (پروردگار) کے سوا گم ہو جاتے ہیں۔ پھر جب وہ تمھیں (ڈوبنے سے) بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے، تو تم منہ پھیر لیتے ہواور انسان ہے ہی ناشکرا۔ [بني إسرائيل:67]
اس آیت کریمہ کو غور سے پڑھو، اس میں اللہ تعالی نے ان کفار کا ذکر کیا ہے جن کو جب کوئی تکلیف پہنچتی تھی تو اپنے تمام بزرگوں اور مشائخ کو چھوڑ دیتے تھے۔ اور کسی سے بھی استغاثہ و فریاد نہیں کرتے تھے۔ بلکہ صرف اللہ وحدہ لاشریک لہ کو اپنی تمناؤں کا مرکز بنا لیتے تھے۔ اور صرف اللہ ہی سے استغاثہ و فریاد کرتے تھے لیکن جب تکلیف دور ہو جاتی تو شرک میں مبتلا ہو جاتے تھے۔
دوسری طرف جب آپ موجودہ مشرکین کو دیکھیں گے جن میں بعض بزعم خود عالم و فاضل اور زہد و اجتہاد کے مدعی بھی ہوتے ہیں، جب ان کو کوئی مصیبت یا تکلیف آتی ہے تو عین حالت مصیبت میں بھی وہ غیراللہ سے فریاد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ جیسے معروف کرخی رحمہ اللہ، شیخ عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ، زید بن خطاب رضي اللہ عنہ، زبیر رضی اللہ عنہ، اور رسول اللہﷺ اور علی رضی اللہ عنہ۔
فااللہ المستعان