عام حماموں میں عورت کا داخل ہونا
چونکہ اسلام، ستر کی حفاظت کرنا اور اس کو چھپانا چاہتا ہے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو عام حماموں میں داخل ہونے اور دیگر عورتوں کے سامنے برہنہ ہونے سے احتراز کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔ ان عورتوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسری عورتوں کے جسمانی اوصاف کا ذکر برسر عام مجلسوں میں کرنا لذت دہن کا کام سمجھتی ہیں۔
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرد کو بغیر تہبند کے حمام میں داخل ہونے سے منع فرمایا ہے۔
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يدخل الحمام إلا بمثزر، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يدخل حليلته الحمام
”جو شخص اللہ اور یومِ آخر پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ حمام میں بغیر تہبند کے داخل نہ ہو اور جو شخص اللہ اور یومِ آخر پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہیے کہ اپنی بیوی کو حمام میں داخل نہ ہونے دے۔“
مسند أحمد : 3393 ترمذی کتاب الادب باب ما جاء في دخول الحمام ح : 2801 – نسائی کتاب الغسل باب الرخصة فى دخول الحمام ح : 401 ، مستدرك حاكم 288/4
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن دخول الحمامات ثم رخص للرجال أن يدخلوها بالمازر
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمام میں داخل ہونے سے منع فرمایا۔ بعد میں مردوں کو تہبند کے ساتھ داخل ہونے کی اجازت دے دی۔“
ابو داود كتب الحمام باب الدخول فى الحمام ح : 4009 – ترمذى حواله سابق ح : 2802 ابن ماجه کتاب الادب : باب دخول الحمام ح : 3749 – واسناده ضعيف فيه ابو عذره مجهول لا يعرف
اس سے مستثنیٰ صورت یہ ہے کہ کوئی عورت بیماری یا نفاس وغیرہ کی حالت میں علاج کی غرض سے حمام میں داخل ہو۔ چنانچہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حماموں کے بارے میں فرمایا :
فلا يدخلها الرجال إلا بمثزر وامنعوها النساء إلا مريضة أو نفساء
”مرد بغیر تہبند کے حمام میں داخل نہ ہوں اور عورتوں کو بھی اس سے منع کرو الّا یہ کہ کوئی عورت مریضہ ہو یا نفاس سے ہو۔“
ابو داود حواله سابق ح 4011 ابن ماجه حواله سابق ح : 3748 – واسناده ضعيف فيه عبد الرحمن بن زياد بن انعم الأفريقى وهو ضعيف
اس حدیث کی سند میں کسی قدر ضعف ہے لیکن شریعت نے اپنے اصولوں میں مریض کے لیے جو رخصت رکھی ہے، اس سے اسے تقویت پہنچتی ہے۔ نیز اس کی تائید اس اصول سے بھی ہوتی ہے کہ جو چیز سدِ ذریعہ کے طور پر حرام کی گئی ہے وہ حاجت و مصلحت کے وقت جائز ہو جاتی ہے۔ اور اس کی تائید سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اتقوا بيتا يقال له الحمام، قالوا يا رسول الله لأنه يذهب الدرن وينفع المريض – قال: فمن دخل فليستتر
اس مقام سے اجتناب کرو جسے حمام کہتے ہیں، صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حمام میں نہانے سے میل کچیل دور ہو جاتی ہے اور مریض کو فائدہ پہنچتا ہے۔ فرمایا: ”ایسی صورت میں داخل ہونے والے کو اپنا ستر چھپانا چاہیے۔“
مستدرك حاكم : 288/4 طبرانى فى الكبير : 27/11 – 10932 – البزار في مسنده : 319
اگر کوئی عورت بلا عذر اور بلا ضرورت، حمام میں داخل ہو جائے تو وہ حرام کی مرتکب ہو گی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وعید کی مستحق ہو گئی جسے سیدنا ابو الملیح ھذلی رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے :
إن نساء من أهل حمص أو من أهل الشام دخلن على عائشة فقالت : انتن اللاتي تدخلن نساء كن الحمامات سمعت رسول الله يقول: ما من إمرأة تضع ثيابها فى غير بيت زوجها إلا هتكت الستر بينها وبين ربها
اہلِ حمص یا اہلِ شام کی کچھ عورتیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے پوچھا : ”کیا تمہاری عورتیں حمام میں داخل ہوتی ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو عورت اپنے کپڑے شوہر کے گھر کے سوا کسی اور جگہ اتارتی ہے وہ اس پردہ کو چاک کرتی ہے جو اس کے اور رب کے درمیان ہے۔“
ابو داود کتاب الحمام باب الدخول في الحمام ح : 4010 – ترمذی کتاب الادب باب ما جاء في دخول الحمام ح : 3803 – ابن ماجه کتاب الادب باب دخول الحمام ح 3750
اور سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أيما امرأة نزعت ثيابها فى غير بيتها خرق الله عنها سترها
”جو عورت اپنے کپڑے کسی دوسرے کے گھر میں اُتارتی ہے، اللہ تعالیٰ اس پردہ کو جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے چاک کر دیتا ہے۔“
مسند احمد 301/6 – مستدرك حاكم : 2389/4
جب اسلام کے احکام عورتوں کے حمام میں داخل ہونے کے بارے میں اتنے سخت ہیں، حالانکہ حمام چار دیواری والا ہوتا ہے اور وہ بھی ایسا جس میں صرف عورتیں داخل ہوتی ہوں تو ان بے حیا اور آوارہ عورتوں کے بارے میں کیا حکم ہو گا جو اپنے ستر کا راستوں پر مظاہرہ کرتی پھرتی ہیں اور ساحلِ سمندر پر اپنے اجسام کی نمائش کرتی ہیں تاکہ حریص آنکھوں کے لیے لذتِ گناہ کا اور شہوانی جذبات کے لیے برانگیختگی کا سامان کریں۔
در حقیقت انہوں نے شرم و حیاء کے اُن تمام پردوں کو تار تار کر کے رکھ دیا ہے جو ان کے اور رحمن کے درمیان تھے۔ اور اس گناہ میں مرد بھی برابر کے شریک ہیں کیونکہ انہیں ذمہ دار نگراں بنایا گیا تھا کاش کہ وہ اپنی ذمہ داری جان لیتے !