مسجد میں تھوکنے اور غیر ضروری آواز بلند کرنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

مسجد میں تھوکنے کی ممانعت

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ قبلہ کی طرف کچھ بلغم دیکھا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزرا حتی کہ اس کا اثر آپ کے چہرے مبارک پر دیکھا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود کھڑے ہوئے اور اپنے ہاتھ سے اسے صاف کیا اور فرمایا:
إن أحدكم إذا قام فى صلاته فإنما يناجي ربه، وإن ربه بينه وبين القبلة، فلا يبزقن أحدكم قبل قبلته، ولكن عن يساره أو تحت قدميه
”جب تم میں سے کوئی اپنی نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کرتا ہے اور اس کا رب اس کے اور قبلے کے درمیان ہوتا ہے، پس تم میں سے کوئی اپنے قبلے کی طرف نہ تھوکے، بلکہ اپنی بائیں جانب یا اپنے پاؤں کے نیچے کرے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کا ایک کنارہ لیا، اس میں تھوکا اور اسے الٹ پلٹ کیا، پھر فرمایا:
أو يفعل هكذا
”یا وہ اس طرح کر لے۔“
بخاری، کتاب الصلوة، 405۔ مسلم، كتاب الصلوة، حدیث 551/54۔
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
البصاق فى المسجد خطيئة وكفارتها دفنها
”مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اسے دفن کر دینا اس کا کفارہ ہے۔“
بخارى، كتاب الصلوة، 713۔ مسلم، كتاب المساجد و مواضع الصلوة، 552۔ ابوداؤد، كتاب الصلوة، 474، 476۔

اللہ کے ذکر کے سوا مسجد میں آواز بلند کرنے کی ممانعت

① سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں مسجد میں تھا تو کسی آدمی نے میری طرف کنکری پھینکی، میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے فرمایا: جاؤ اور ان دونوں کو میرے پاس لاؤ۔ پس میں ان دونوں کو آپ رضی اللہ عنہ کے پاس لے آیا تو انہوں نے پوچھا: تم دونوں کہاں سے ہو؟ انہوں نے کہا: طائف سے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تم دونوں اس شہر سے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا، تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں آوازیں بلند کرتے ہو.
بخاری، کتاب الصلوة، 470۔