محمد رسول اللہ ﷺ کے بارے عقیدہ:
رسول اللہﷺ کے متعلق سب سے اہم بات جو امتی کی آخرت کے حساب سے نہایت ہی اہم ہے، وہ یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی بے ادبی کفر ہے اور سب سے بڑی بے ادبی یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کا کلمہ پڑھ کر آپ ﷺ کے فرمان اور آپﷺ کی سنت کی بے ادبی کی جائے۔ (یعنی) ان پر عمل نہ کیا جائے۔ اور آپ ﷺ کا جو مقام ہے وہ کسی امتی کو دے دیا جائے (یعنی) آپ کے احکامات ماننے کے بجائے کسی دوسرے امتی کے احکام مانے جائیں۔ جو کچھ یہود و نصاریٰ نے کیا وہی کچھ آج امتِ مسلمہ بھی کر رہی ہے یعنی انبیائے کرام علیہم السلام کا مقام امتیوں کو دے دیا، اور اللہ کا مقام انبیاء کو دے دیا۔ اسی وجہ سے یہود و نصاریٰ کو کافر و مشرک کہا گیا۔ ہمیں اس معاملے کو اچھی طرح سمجھ کر چلنا چاہیے کیونکہ اس معاملے میں نہایت احتیاط کرنے کی ضرورت ہے۔ لوگ آپ ﷺ کے اوصاف و کمالات تو جھوم جھوم کر بیان کرتے ہیں لیکن آپ ﷺ کی اطاعت سے گریزاں ہیں:
[1] محمد رسول اللہ ﷺ سب انبیاء سے افضل ہیں۔ (البقرة:252، 253)
[2] آپﷺ پر آسمانی ہدایت کی پیروی اور اللہ تعالیٰ کی بندگی اور توحید لازم تھی۔ (البقرة:285)
[3] آپﷺ کی اطاعت ہم پر فرض ہے۔ (آل عمران:31)
[4] آپﷺ اللہ کے بندے اور بشر ہیں۔ (البقرة:23، 90، 128، 129، 151)
[5] آپﷺ بشیر و نذیر ہیں۔ (المائدة:19)
[6] آپﷺ اپنے یا کسی کے نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ (القصص:56)،(الانعام:50، 52، 57، 58)،(الجن:21)
[7] آپﷺ غیب نہ جانتے تھے۔ (الأنعام:50)،(الاعراف:188)
[8] آپﷺ کا کام صرف دین کی تبلیغ ہے۔ (آل عمران:20)،(الأعراف:2)،(هود:12)
[9] آپﷺ کو توحید پر عمل کرنے اور شرک سے بچنے کا حکم دیا گیا۔ (هود:113)،(يوسف:108)
[10] آپﷺ کو معجزات کا اختیار نہ تھا۔ (بنی اسرائیل:90تا93)،(طٰهٰ:133)،(المؤمن:78)،(العنکبوت:50)
[11] آپﷺ کو قیامت کے وقت کا علم نہ تھا۔ (الأعراف:187)،(طٰهٰ:15)،(النمل:65)
[12] قرآن مجید میں آپﷺ کی موت کا ذکر ہے۔ (الأنبياء:34، 35)،(الزمر:30۔31)
[13] آپﷺ کو حکم ہوا کہ اللہ کو کارساز یعنی مشکل کشا سمجھو۔ (الأحزاب:3، 48)،(النمل:79)،(الزمر:38)
[14] آپﷺ کو مقامِ محمود ملے گا۔ (بنی اسرائیل:79)
[15] آپﷺ کسی کے وکیل (کارساز) نہیں یعنی مشکل کشا نہیں۔ (القصص:56)
[16] آپﷺ کا اسوہ۔ (الأحزاب:21)،(القلم:4)
[17] آپﷺ پر درود پڑھنا۔ (الأحزاب:56)
[18] شعر کہنا آپﷺ کے لائق نہیں۔ (يس:69)
[19] آپﷺ کوئی نئے رسول نہیں۔ (الأحقاف:9)
[20] آپﷺ کو حکم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنا وکیل یعنی کارساز سمجھیں اور اللہ پر توکل یعنی بھروسا کریں۔ (النمل:79)،(الزمر:38)
[21] ہدایت دینا آپ ﷺ کے اختیار میں نہیں۔ (القصص:56) یہ آیت ابوطالب کے حق میں نازل ہوئی۔ (دیکھیے ترجمہ مع تفسیر احمد رضا خاں صاحب)
نعت خوانی اور شرک:
رسول اللہ ﷺ کے وقت توحید پر مبنی شعر کہے جاتے رہے ہیں، ان کا ذکر بخاری اور مسلم شریف میں ہے۔ لیکن آج کل نعت خوانی میں شرکیہ اشعار پڑھے جاتے ہیں، جو اپنی عاقبت برباد کرنے کے مترادف ہیں۔ غلط قسم کے اشعار کی قرآن میں مذمت آئی ہے:
[وَ الشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُہُمُ الۡغَاوٗنَ]،[اَلَمۡ تَرَ اَنَّہُمۡ فِیۡ کُلِّ وَادٍ یَّہِیۡمُوۡنَ]،[وَ اَنَّہُمۡ یَقُوۡلُوۡنَ مَا لَا یَفۡعَلُوۡنَ]
[اور شاعر لوگ، ان کے پیچھے گمراہ لوگ لگتے ہیں]،[ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سر مارتے پھرتے ہیں]،[ اور یہ کہ وہ کہتے ہیں جو کرتے نہیں]
[الشعراء:224تا226]
شاعروں کی اکثریت چونکہ ایسی ہوتی ہے کہ وہ اصول و ضابطہ کے بجائے ذاتی پسند و ناپسند کے مطابق اظہارِ رائے کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس میں غلو و مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں اور شاعرانہ تخیلات میں کبھی ادھر اور کبھی ادھر بھٹکتے ہیں۔ اس لیے فرمایا: کہ ان کے پیچھے لگنے والے بھی گمراہ ہیں۔ اسی قسم کے اشعار کے لیے حدیث میں بھی فرمایا گیا: ہے کہ پیٹ کا لہو و پیپ سے بھر جانا جو اسے خراب کر دے، شعر سے بھر جانے سے بہتر ہے۔
[مسلم، کتاب الشعر، باب في إنشاد الأشعار و بيان أشعر الكلمة و ذم الشعر: 2257]
راگ اور گانے کے متعلق حنفی فقہ کی مشہور کتابوں کے حوالے:
[1] جو قرآن کو دف وغیرہ کے ساتھ پڑھے وہ کافر ہے۔ (درمختار:592)
[2] رقص کرنے والے اور حال جاننے والے اور حال کھیلنے والے کافر ہیں۔ (درمختار:610)
[3] گانے بجانے سے لذت اٹھانا کفر ہے۔ (درمختار:222۔ ہدایہ:246)
[4] صوفیاء گانا سننے والے، حال کھیلنے والے، مفسد بے دین ہیں۔ (ہدایہ:317/4)
[5] گانا اللہ کے نزدیک شرک ہے۔ (ہدایہ:346)
کچھ اہلِ حدیث صاحبان کے بارے میں:
[1] اہل حدیث صاحبان غیر اللہ کے پکارنے اور شرک کی دوسری اقسام کے مرتکب ہونے والوں کے جنازے پڑھتے نظر آتے ہیں اور ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے نظر آتے ہیں، جو قرآن کے سراسر خلاف ہے۔ (التوبہ:113)
[2] کچھ اہلِ حدیث صاحبان تعویذ گنڈوں کو جائز قرار دیتے ہیں۔
[3] پانچ وقتی فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کرتے نظر آتے ہیں حالانکہ یہ ثابت نہیں۔
[4] اذان دینے کی اجرت لینا۔
[5] جمہوریت کی شرعی حیثیت جیسے مسائل پر تحقیق اور نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔
مذکورہ پہلے مسئلے کے متعلق عرض ہے کہ (سورۃ التوبہ:113) میں شرک کے مرتکب ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت سے منع فرمایا گیا ہے۔ اور تعویذ گنڈوں کے متعلق بدعت کے باب میں تفصیلی بحث ہو چکی ہے، وہاں ملاحظہ فرمائیں، جمہوریت سے متعلق بھی آگے الگ بحث آ رہی ہے اور اجرت پر مؤذن رکھنے سے رسول اللہ ﷺ نے منع کیا ہے۔