مسجد حرام اور مسجد نبوی میں نماز کی فضیلت اور فرضیتِ حج کی تاریخ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

مسجد نبوی اور قبر مکرم کا احترام

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں تمام مسلمان مسجدِ نبوی میں نماز پڑھتے اور دورانِ نماز رسول اللہ پر درود و سلام بھیجتے تھے۔ اس طرح مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت بھی آپ پر صلوٰۃ و سلام کہا کرتے تھے۔ اور وہ اس بات کی ضرورت نہ سمجھتے تھے کہ قبرِ مکرم کے نزدیک جائیں یا قبرِ مکرم کی طرف منہ کریں یا مسجد میں بلند آواز سے سلام کہیں۔ بلکہ وہ مسجدِ نبوی میں آواز کو بلند کرنا مکروہ سمجھتے تھے جیسا کہ آج کل بعض حجاج مسجدِ نبوی میں آواز بلند کرتے ہیں، علمائے کرام نے اسے بدعت کہا ہے۔ ایک دفعہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجدِ نبوی میں دو مسافروں کو دیکھا کہ ان کی آوازیں بلند ہیں۔ آپ نے ان کو بلا کر کہا: ”تمہیں معلوم نہیں کہ مسجدِ نبوی میں آواز کو بلند کرنا صحیح نہیں؟ اگر تم مدینے کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں ضرور سزا دیتا۔“ چنانچہ ان کو ان کی لاعلمی کی بنا پر چھوڑ دیا۔
صحیح بخاری کتاب الصلاة : باب رفع الصوت في المسجد (حديث : 240)

حجرہ مبارک کی تاریخ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ کو ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ میں دفن کیا گیا۔ امہات المؤمنین کے مکانات مسجد کے مشرقی جانب بطرفِ قبلہ تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے آخری دور تک ان میں سے ایک مکان بھی مسجدِ نبوی کی توسیع کے پیشِ نظر تصرف میں نہ لایا گیا۔ ولید بن عبدالملک کی تخت نشینی کے تقریباً ایک سال بعد مسجدِ نبوی کی توسیع کے پیشِ نظر اس نے اپنے نائب عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو لکھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام مکانات کو خرید کر مسجدِ نبوی میں داخل کر دے۔ اس وقت امہات المؤمنین میں سے ایک بھی بقیدِ حیات نہ تھیں۔ چنانچہ تمام مکانات کو خرید کر مسجدِ نبوی میں داخل کر دیا گیا۔ لیکن ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ اپنی اصل شکل میں قائم رہا، اس کا دروازہ ہمیشہ بند رہتا تھا۔ کسی شخص کے لیے ممکن نہ تھا کہ وہ درود و سلام یا دعا وغیرہ کے لیے اندر جا سکے، ہاں ام المؤمنین کی زندگی میں ممکن تھا۔
حجراتِ مبارک کو مسجدِ نبوی میں داخل کرنے سے تقریباً 20، 30 سال پہلے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت میں سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا وفات پا چکی تھیں۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد ان کے بیٹے یزید، ان کے بعد ابن زبیر رضی اللہ عنہما کا دور آیا، پھر عبدالملک بن مروان کی حکومت قائم ہوئی اور ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے ولید نے عنانِ حکومت سنبھالی۔ ان کی خلافت 86ھ میں قائم ہوئی، اس وقت تک جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے علاوہ تمام صحابہ وفات پا چکے تھے۔ حجرہ مبارک کو مسجدِ نبوی میں داخل کرنے سے دس سال پہلے 78ھ میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کی وفات ہوئی۔
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں بعض صحابہ کسی مسئلے یا کسی حدیث کی تشریح کے لیے حجرہ مبارک میں چلے جایا کرتے تھے۔ اس وقت بھی وہ لوگ قبرِ مکرم کے پاس جانے کی ضرورت محسوس نہ کرتے اور نہ ہی کوئی شخص سلام و دعا کے لیے داخل ہوتا۔

قبر مبارک کی ساخت

بعض افراد کی خواہش پر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا قبروں کی زیارت کی اجازت دے دیتی تھیں۔ قبریں نہ تو بہت بلند تھیں اور نہ زمین سے ملی ہوئی تھیں، قبروں پر چھوٹی چھوٹی کنکریاں ڈالی ہوئی تھیں۔ قبریں مسنم (کوہان نما) تھیں یا سطح زمین سے ملی ہوئی تھیں؟ اس میں اختلاف ہے، البتہ بخاری کی روایت کے مطابق مسنم تھیں۔ چنانچہ سفیان التمار کا بیان ہے کہ انہوں نے قبرِ مکرم کو مسنم دیکھا ہے۔
صحیح بخاری کتاب الجنائز، باب ماجاء فی قبر النبي صلی اللہ علیہ وسلم و ابی بکر و عمر (حدیث : 1390)

رسول اللہ پر سلام کا جواب اور ثواب

جس شخص کو حجرہ مبارک میں داخل ہونے کی سعادت حاصل ہو جاتی وہ آپ پر درود و سلام ضرور بھیجتا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
ما من أحد يسلم على إلا رد الله على روحي حتى أرد عليه السلام
”اگر کوئی شخص مجھ پر سلام بھیجے گا تو اللہ تعالیٰ میرے جسم میں روح کو واپس کر دے گا، یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دوں۔“
سنن ابی داؤد كتاب المناسك : باب زيارة القبور (حديث : 2041)
مرنے کے بعد قبر کی زندگی کا دنیاوی زندگی سے کوئی تعلق نہیں، یہ اخروی زندگی کی پہلی منزل ہے جیسا کہ ترمذی شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ ذی شان ہے۔
إن القبر أول منزل من منازل الآخرة فإن نجا منه فما بعده أيسر منه وإن لم ينج منه فما بعده أشد منه ما رأيت منظرا قط إلا والقبر أفظع منه
”بے شک قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، پس اگر کوئی اس سے نجات پا گیا تو اس کے بعد کے مراحل اس سے آسان ہوں گے اور اگر اس سے نجات نہ پائی تو بعد کے مراحل اس سے بھی زیادہ سخت ہوں گے۔ میں نے کوئی منظر ایسا نہیں دیکھا جس سے بڑھ کر قبر کا منظر ہولناک نہ ہو۔“
ترمذی (2308) این ماجه (4267) زوائد مسند احمد 1/ 73 المستدرك على الصحيحين 3711 السنن الكبرى بيهقى 4/ 56 تهذيب الكمال 3/ 138
بلا شبہ قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے؛ اگر انسان اس سے نجات پا گیا تو اس کے بعد والی منزل اس سے آسان ہو گی اور اگر اس سے نجات نہ پائی تو اس کے بعد والی منزل اس سے زیادہ سخت ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”میں نے قبر سے زیادہ خوفناک منظر کوئی نہیں دیکھا۔“
سيده عائشه رضي الله عنها كي حديث ميں هے: فجمع الله بين ريقي وريقه فى آخر يوم من الدنيا وأول يوم من الآخرة
”اللہ تعالیٰ نے میرا لعابِ دہن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا لعابِ دہن جمع کر دیا، جس دن آپ کی دنیاوی زندگی کا آخری دن اور اخروی زندگی کا پہلا دن تھا۔“
(صحیح البخاری: 4451)
ان دونوں احادیثِ صحیحہ سے معلوم ہوا کہ مرنے کے بعد انسان کی آخرت کی منزل شروع ہو جاتی ہے، لہٰذا قبر کی زندگی اخروی زندگی کا پہلا زینہ ہے اور اس کا دنیوی زندگی کے ساتھ (مادی) تعلق نہیں ہے۔ اخروی معاملات پر ہمارا ایمان ہے اور ان کی کیفیت اللہ ہی بہتر جانتا ہے، ہم ان پر غیب کے معاملات کی طرح ایمان رکھتے ہیں۔ بعض لوگوں نے اس حدیث کی مختلف تو جہات اور مفاہیم بیان کیے ہیں جن کی قطعا کوئی ضرورت نہیں ہے۔ (مبشر احمد ربانی)

حجرہ مبارک میں داخل ہونے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام کہے اور یہی وہ ”قریب والا سلام“ ہے جس کا جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیتے ہیں، لیکن وہ سلام جو حجرہ کے باہر، نماز کے اندر یا کسی دور دراز مقام سے کہا جائے تو اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود و سلام کہتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس دفعہ رحمت بھیجتا ہے۔“
صحيح مسلم كتاب الصلاة : باب الصلاة على النبي صلی اللہ علیہ وسلم بعد التشهد (حديث : 408)
یہی وہ سلام ہے جس کا ہر مسلمان مکلف ہے۔ قبر کے پاس جا کر سلام کہنا ہر مؤمن کی قبر پر مسنون ہے اور یہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص نہیں، البتہ ہر جگہ اور ہر مقام سے سلام پہنچنا صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے:
صلى الله عليه وعلى آله وسلم تسليما
امہات المؤمنین کے تمام مکانات مسجد کے مشرقی جانب قبلہ رخ واقع تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
ما بين بيتي ومنبري روضة من رياض الجنة
”میرے گھر اور منبر کے درمیان والی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔“
صحیح بخاری کتاب الرقاق : باب في الحوض (حديث : 2588) صحیح مسلم کتاب الحج : باب فضل ما بين قبره و منبره (حدیث : 1390)

بعض روایات میں قبری کا لفظ مروی ہے، جو صحیحین میں نہیں ہے اور اس لحاظ سے بھی یہ لفظ صحیح معلوم نہیں ہوتا کہ اس وقت تو قبر مکرم کا وجود ہی نہ تھا۔

مسجدِ حرام اور مسجدِ نبوی میں نماز پڑھنے کی فضیلت

مسجدِ مدینہ کی فضیلت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے ہے کیونکہ آپ ہی نے اسے تعمیر فرمایا اور تقویٰ پر اس کی بنیاد رکھی۔ صحیحین کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
صلاة فى مسجدي هذا خير من ألف صلاة فيما سواه من المساجد إلا المسجد الحرام
”میری اس مسجد میں نماز ادا کرنا دوسری مساجد سے ایک ہزار درجہ زیادہ ثواب رکھتا ہے، سوائے مسجدِ حرام کے۔“
صحیح بخاری کتاب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة : باب فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة (حديث : 1190) صحيح مسلم كتاب الحج، باب فضل الصلاة بمسجدى مكة والمدينة (حديث : 1393)
اور جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ مسجد الحرام تمام مساجد سے افضل ہے اس میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نماز کے برابر ہے۔
جیسے کہ امام احمد اور امام نسائی وغیرہما نے جید سند سے روایت کیا ہے۔
(مسند احمد 3/343، سنن ابن ماجه، كتاب اقامة الصلوات، باب ماجاء في فضل الصلاة في المسجد الحرام و مسجد النبي، حديث: 1302)

فرضیت حج کی تاریخ

مسجد الحرام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابراہیم علیہ السلام کی وجہ سے فضیلت حاصل ہوئی، کیونکہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر کی اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے لوگوں کو حج کی دعوت دی۔ البتہ حج کو فرض قرار نہ دیا اسی بنا پر ابتدائے اسلام میں حج فرض نہ تھا بلکہ حج کی فرضیت اسلام کے آخری احکام میں ہوئی۔ صحیح بات یہ ہے کہ جس سال سورۃ آل عمران نازل ہوئی اور اہل نجران کا وفد آیا اسی سال حج فرض ہوا اور یہ واقعہ 9 ھ یا 10 ھ کا ہے۔
جن علماء نے حج کی فرضیت 6 ھ میں لکھی ہے انہوں نے سورۃ البقرہ کی آیت وَّاَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلّٰهِ سے استدلال کیا ہے۔
لیکن مفسرین کے نزدیک یہ آیت صلح حدیبیہ والے سال نازل ہوئی تھی۔ اس آیت کریمہ میں اتمام حج کا حکم ہے فرضیت حج ثابت نہیں ہوتی۔ بیت اللہ کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا اور پھر لوگوں کو اس کا حج کرنے کی دعوت دی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کو مشرکین کے قبضہ سے آزاد کرایا اور پھر ہر صاحب استطاعت پر حج فرض قرار دیا۔ ان ہی وجوہات کی بنا پر بیت اللہ کو دوہری فضیلت حاصل ہوئی۔ چنانچہ اطراف عالم سے لوگ جوق در جوق حج کرنے کی نیت سے بیت اللہ آنا شروع ہوئے۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے بیت اللہ میں اللہ کی عبادت اس قدر زیادہ شروع ہوئی کہ اس سے پہلے اس کا عشر عشیر بھی نہ تھی اور انتہائی پروقار عظمت اور پر اخلاص طریقے سے اللہ کی عبادت جاری ہوئی۔