عقائد اہل السنۃ والجماعۃ
سوال: کیا قبر پرستی کو بت پرستی کہا جا سکتا ہے؟
جواب: جب کسی قبر کی پوجا ہو گی تو اس کو بت پرستی کہا جائے گا، کیونکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: اے اللہ! میری قبر کو بت نہ بنانا کہ اس کی پوجا کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کا اس قوم پر سخت غضب نازل ہوا جنھوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو عبادت گاہ بنا لیا۔
[مؤطا إمام مالك، كتاب قصر الصلاة في السفر، باب جامع الصلاة: 85]
رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی: ① ان عورتوں پر جو کثرت سے قبروں کی زیارت کرتی ہیں۔ ② جو قبروں پر مسجدیں بناتے ہیں۔ ③ اور جو قبروں پر چراغ جلاتے ہیں۔
[أبو داؤد، كتاب الجنائز، باب في زيارة النساء القبور:3236]،[ترمذی، كتاب الصلاة، باب ما جاء في كراهية أن يتخذ على القبر مسجدا:320، 1056]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: کہ آپ ﷺ آخر وقت میں فرماتے تھے: یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انھوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ اب اگر اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ محمد ﷺ کی قبر کو بھی سجدہ گاہ بنا لیا جائے گا تو آپ کو بند حجرہ میں دفن نہ کیا جاتا، بلکہ آپ کی قبر بھی کھلی ہوتی۔
[بخاری، کتاب الجنائز، باب ما يكره من اتخاذ المساجد على القبور:1330]،[مسلم، کتاب المساجد، باب النهي عن بناء المسجد على القبر. إلخ: 529تا532]
سوال: کیا شیطان نے یہ داؤ امت محمدیہ کے ساتھ کھیلا؟
جواب: شیطان نے امت محمدیہ پر بھی اس کا بھرپور وار کیا، اس نے انتہائی خطرناک انداز میں جھوٹ کو احادیثِ رسول بنانے کی کوشش کی۔ امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم نے صالحین سے بڑھ کر جھوٹ بولنے والا کسی کو نہیں پایا، یہ جھوٹ کا ارادہ نہ بھی کریں تو بھی جھوٹ بے ساختہ ان کی زبانوں پر جاری ہو جاتا ہے۔ [مقدمة صحيح مسلم، باب بيان أن الإسناد من الدين.إلخ: 40]
(صالحین اس زمانے میں صوفی قسم کے لوگوں کو کہا جاتا تھا)۔
شیطان کا یہ وار آج بھی جاری ہے، بہت سے شرکیہ نظریات اس لیے اسلامی قرار دیے جا رہے ہیں کہ ان کی نسبت ان لوگوں کے ساتھ ہے جو پاک و ہند میں مشاہیرِ امت کے طور پر مشہور ہیں۔ ان مشرکانہ نظریات کو ان ہستیوں سے علیحدہ کر دیا جائے تو ان کا انکار کرنے والوں کی یہاں کمی نہیں، مگر جو نہی یہ نظریات ان شخصیات کے نام پر سامنے آتے ہیں تو کئی توحید کے دعویدار بھی انتہائی بودی تاویلات کا سہارا لے کر ان باطل نظریات کی تائید کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
سوال: کیا مشرکین بے جان پتھروں کے بنے ہوئے بتوں کی عبادت کرتے تھے؟
جواب: بتوں کی حقیقت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما یوں بیان کرتے ہیں: کہ ود، سواع، یغوث، یعوق اور نسر قومِ نوح (علیہ السلام) کے صالحین تھے۔ جب وہ فوت ہو گئے تو شیطان نے ان کی قوم کے دل میں یہ خیال ڈالا کہ جن مقامات پر یہ اولیاءاللہ بیٹھا کرتے تھے وہاں ان کے بت بنا کر کھڑے کر دو (تاکہ ان کی یاد تازہ رہے) وہ ان کو پوجتے نہ تھے۔ جب یہ یادگار بنانے والے فوت ہو گئے اور بعد والوں کو یہ شعور نہ رہا کہ ان بتوں کو صرف یادگار کے لیے بنایا گیا تھا تو انھوں نے (ان بزرگوں کے بتوں کی) عبادت شروع کر دی۔ [بخاری، کتاب التفسير (سورة نوح) باب ﴿ودا ولا سواعا ولا يغوث ويعوق ونسرا﴾: 4920]
اسی طرح لات ایک مرد تھا جو حاجیوں کے لیے ستو بناتا تھا۔
[بخاری، کتاب التفسیر (سورة والنجم)، باب (أفرأيتم اللّت والعزى): 4859]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے حبشہ کے معبد کا ذکر کیا، جسے ماریہ کہا جاتا تھا، اس میں تصویریں تھیں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ ایسے لوگ ہیں کہ جب ان میں کوئی نیک بندہ مر جاتا تو اس کی قبر پر سجدہ گاہ بنا دیتے تھے اور تصویریں بنا دیتے تھے، یہ لوگ اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں۔ [بخاری، کتاب الصلاة، باب الصلاة في البيعة: 434]
اس لیے اللہ تعالیٰ مشرکین کے معبودوں کے بارے میں فرماتا ہے: [اِنَّ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمۡثَالُکُمۡ] (مشرکو!) بے شک تم اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو وہ تم جیسے بندے ہیں۔ (الأعراف:194)
اور فرمایا: [اَمۡوَاتٌ غَیۡرُ اَحۡیَآءٍ ۚ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ۙ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ] وہ تو بے جان لاشیں ہیں، ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ (النحل:21)
جن اولیاء کو مشرکین پکارتے ہیں، ان کے بارے میں بتایا: [وَ اِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوۡا لَہُمۡ اَعۡدَآءً وَّ کَانُوۡا بِعِبَادَتِہِمۡ کٰفِرِیۡنَ] اور جب (قیامت کے دن یہ) لوگ جمع کیے جائیں گے، وہ ان کے دشمن ہو جائیں گے اور ان کی عبادت کا انکار کر دیں گے۔ (الأحقاف:6)
ان تینوں آیات سے ثابت ہوا کہ مشرکین کے معبود اللہ کے بندے تھے اور وہ قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے۔