مضمون کے اہم نکات
کیا ابن صیاد دجال تھا ؟
ابن صیاد مدینے کا ایک یہودی نژاد، کاہن اور قریب البلوغت لڑکا تھا جو بظاہر مسلمان بھی تھا۔ ابن صیاد اپنی کہانت اور دجالانہ عادات و صفات کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں خاصا محل نزاع تھا کہ آیا، یہی وہ دجال اکبر ہے جو قبل از قیامت خروج کرے گا یا نہیں؟
بعض کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مثلاً حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما، حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ وغیرہ تو حلفاً کہا کرتے تھے کہ ابن صیاد ہی دجال اکبر ہے جیسا کہ صحیحین (بخاری و مسلم) کی درج ذیل حدیث میں ہے۔
عن محمد بن المنكدر قال : رأيت جابر بن عبد الله يحلف بالله أن ابن الصياد الدجال ، قلت : تحلف بالله ؟ قال إني سمعت عمر رضى الله عنه يحلف على ذلك عند النبى صلى الله عليه وسلم فلم ينكره النبى صلى الله عليه وسلم
محمد بن منکدر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اللہ کی قسم کھا کر فرماتے تھے کہ ابن صیاد ہی دجال ہے۔ میں نے کہا آپ اللہ کی قسم (کیوں) کھا رہے ہیں؟ تو وہ کہنے لگے میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات پر کہ ابن صیاد دجال ہے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسم کھاتے ہوئے دیکھا ہے حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع نہ کیا۔
بخاری : کتاب الاعتصام : باب من رأى ترك… 7355، مسلم : کتاب الفتن : باب ذکر ابن صیاد 2929
ابن صیاد جب اپنے متعلق ان صحابہ رضی اللہ عنہم کے نظریات سے آگاہ ہوا تو ان کی تردید کرنے لگا جیسا کہ درج ذیل واقعہ سے اس کی عکاسی ہوتی ہے۔
عن أبى سعيد رضى الله عنه قال خرجنا حاجا أو عمارا ومعنا ابن صياد ، قال : فنزلنا منزلا فتفرق الناس وبقيت أنا وهو فاستوحشت منه وحشة شديدة مما يقال عليه قال : وجاء بمتاعه فوضعه مع متاعى فقلت : إن الحر شديد فلو وضعته تلك الشجرة قال : ففعل ، قال : فرفعت لنا غنم فانطلق فجاء بعس ، فقال إشرب أبا سعيد ! فقلت: إن الحر شديد واللبن حار مابي إلا أنى أكره أن أشرب عن يده فقال : أبا سعيد ! لقد هممت أن آخذ حبلا فأعلقه بشجرة ثم أختنق مما يقول لي الناس ، يا أبا سعيد ! من خفي عليه حديث رسول الله صلى الله عليه وسلم ما خفي عليكم ، معشر الأنصار : ألست من أعلم الناس بحديث رسول الله صلى الله عليه وسلم ؟ أليس قد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم هو كافر وأنا مسلم ؟ أوليس قد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم هو عقيم لا يولد له وقد تركت ولدي بالمدينة ؟ أوليس قد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يدخل المدينة ولا مكة ، وقد أقبلت من المدينة وأنا أريد مكة ؟ قال أبو سعيد رضى الله عنه : حتى كدت أن أعذره ، ثم قال : أما ، والله ! إني لاعرفه وأعرف مولده وأين هو الآن ، قال : قلت له : تبا لك سائر اليوم
حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم حج یا عمرے کے لیے نکلے تو ہمارے ساتھ ابن صیاد بھی تھا۔ ایک مقام پر میں اور ابن صیاد تنہا رہ گئے تو مجھے اس سے وحشت ہونے لگی کہ کہیں یہ وہی (دجال) نہ ہو۔ ابن صیاد نے اپنا ساز و سامان لا کر میرے سامان کے ساتھ رکھ دیا۔ میں نے کہا کہ گرمی بڑی سخت ہے لہذا تم اس دوسرے درخت تلے سامان لے جاؤ۔ تو اس نے ایسا ہی کیا۔ پھر ہماری طرف ایک بکری بھیجی گئی تو ابن صیاد ایک پیالہ لے کر میرے پاس آگیا اور کہنے لگا، ابوسعید ! یہ لو اسے پیو۔ میں نے کہا کہ گرمی بڑی سخت ہے اور یہ دودھ بھی گرم ہے حالانکہ میں صرف اس کے ہاتھ سے پینا نا پسند کرتا تھا۔ اس نے کہا : ابوسعید ! میرا دل کرتا ہے کہ میں درخت کے ساتھ رسی باندھ کر پھانسی لے کر مر جاؤں کیونکہ لوگوں نے میرا جینا محال بنا دیا ہے۔ ابوسعید ! تم اہل انصار پر بھلا کوئی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث پوشیدہ رہ سکتی ہے؟ کیا سب سے زیادہ تمہیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا علم نہیں؟ کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہا تھا کہ دجال کافر ہوگا جبکہ میں مسلمان ہوں؟ کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہا تھا کہ وہ (دجال) بانجھ ہوگا اور اس کی کوئی اولاد نہیں ہوگی جبکہ میں نے اپنی اولاد مدینے میں چھوڑ رکھی ہے؟ کیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کہا تھا کہ وہ مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکتا ؟ جبکہ میں مدینہ سے آ رہا ہوں اور مکہ جارہا ہوں؟ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ میں اس کا عذر معقول سمجھوں اور اسے دجال سمجھنا چھوڑ دوں پھر اس نے کہا : اللہ کی قسم ! میں دجال، اس کی جائے پیدائش اور رہائش اور اس کے والدین کے متعلق اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ (سب کچھ) کہاں ہے۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہائے کمبخت ! تو ہمیشہ برباد ہو۔
مسلم : کتاب الفتن : باب ذکر ابن صیاد 2927، احمد 3/23-54-99-121، ترمذی 2246، شرح السنة 7/451
ایک روایت میں ہے کہ ابن صیاد نے کہا میرا دل چاہتا ہے کہ میں پھانسی لے کر مر جاؤں تاکہ لوگوں کی باتوں (الزامات) سے راحت پالوں اللہ کی قسم میں دجال نہیں ہوں۔
احمد 3/99
اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ لوگ میرے ساتھ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں، نہ میری مدد کرتے ہیں نہ مجھ سے دوستی کرتے ہیں اور نہ ہی مجھ سے مشاورت کرتے ہیں بلکہ وہ تو مجھے دجال سمجھتے ہیں۔
ایک روایت میں ہے :
والله إني لأعلم الآن حيث هو وأعرف أباه وأمه ، قال وقيل له أيسرك إنك ذاك الرجل : قال فقال : لو عرض على ما كرهت
اللہ کی قسم میں جانتا ہوں کہ اس وقت وہ (دجال) کہاں ہے اور میں اس کے والدین کے متعلق بھی جانتا ہوں۔ راوی نے کہا کہ ابن صیاد سے کہا گیا! کیا تمہیں پسند ہے کہ تم ہی وہ دجال بن جاؤ ؟ تو اس نے کہا، اگر یہ (دجال بننا) مجھ پر پیش کیا گیا تو میں اسے نا پسند نہیں کروں گا۔
مسلم : کتاب الفتن : باب ذکر ابن صیاد 2927-7349
یہ حدیث مذکورہ مسئلہ میں خاصا بھونچال پیدا کرتی ہے کہ ایک طرف ابن صیاد قسمیں کھا کھا کر اور دلائل دے دے کر اپنے دجال ہونے کی نفی کر رہا ہے تو دوسری طرف دجال بننا بھی پسند کر رہا ہے اور وہ اس بات کا بھی مدعی ہے کہ اسے دجال کی جائے پیدائش، رہائش اور دجال کے والدین کے بارے میں تمام معلومات میسر ہیں مزید برآں ابن صیاد کی جسمانی ہئیت اور شکل و صورت عام انسانوں سے قطعی مختلف تھی جس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے :
عن نافع قال : لقي ابن عمر رضي الله عنهما ابن صياد فى بعض طرق المدينة فقال له قولا أغضبه فانتفح حتى ملاء السحة فدخل ابن عمر على حفصة وقد بلغها فقالت له : رحمك الله ! ما أردت من ابن صياد ؟ أما علمت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : إنما يخرج من غضبة يغضبها
نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مدینے کے کسی راستے میں ابن صیاد سے ملے تو اسے کوئی بات کہی جس سے وہ غضبناک ہو کر پھول گیا حتی کہ (پھولتے پھولتے) پوری گلی کو بھر دیا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے جبکہ انہیں اس کی اطلاع ہو چکی تھی اور وہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہنے لگیں : اللہ تم پر رحم کرے تمہیں ابن صیاد سے کیا غرض تھی؟ کیا تمہیں علم نہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : وہ (دجال) ایک غصے کی وجہ سے خروج کرے گا جس میں وہ مبتلا ہوگا ؟ (یعنی ابن صیاد کا عجیب و غریب غصہ کہیں اسے واقعی طور پر دجال بنا کر نہ لے آئے!)۔
مسلم : کتاب الفتن : باب ذکر ابن صیاد 2932-98، احمد 6/322، عبد الرزاق 11/396
مسلم کی دوسری حدیث میں اس طرح ہے :
فلقيته لقية أخرى وقد نفرت عينه ، قال : فقلت : متى فعلت عينك ما أرى ؟ قال : لا أدري قال : قلت لا تدري وهى فى رأسك ؟ قال : إن شاء الله خلقها فى عصاك هذه ، قال : فنخر كأشد نخير حمار سمعت
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں جب دوسری بار ابن صیاد سے ملا تو اس کی آنکھ پھولی ہوئی تھی تو میں نے اس سے پوچھا کہ تمہاری آنکھ کب سے اس طرح پھولی ہوئی ہے؟ ابن صیاد نے کہا کہ مجھے تو علم ہی نہیں (کہ میری آنکھ اس قدر پھولی ہوئی ہے) ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا : تجھے علم کیوں نہیں جبکہ آنکھ تمہارے سر میں ہے؟ (اتنے بے حس ہو) ابن صیاد نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو یہ آنکھ تمہاری اس لاٹھی میں پیدا کر دے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پھر ابن صیاد نے اتنے زور سے گدھے جیسی آواز نکالی کہ شاید ہی اتنی زور دار آواز میں نے کبھی سنی ہو۔
مسلم : کتاب الفتن : باب ذکر ابن صیاد 2932-99
ابن صیاد کی عجیب و غریب عادات و صفات کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرح خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی (پہلے) تذبذب کا شکار تھے کہ کہیں ابن صیاد ہی وہ دجال اکبر نہ ہو جس سے ہر نبی اور ہر امت کو خبر دار کیا گیا ہے اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تحقیقات کرتے رہے تاکہ مسئلہ مذکورہ کی حقیقت کشائی ہو جیسا کہ درج ذیل احادیث اس پر شاہد ہیں :
عن ابن عمر رضي الله عنهما أن عمر انطلق مع النبى صلى الله عليه وسلم فى رهط قبل ابن صياد حتى وجدوه يلعب مع الصبيان عند أطم بني مغالة وقد قارب ابن صياد الحلم فلم يشعر حتى ضرب النبى بيده ثم قال لابن صياد : أتشهد أني رسول الله ؟ فنظر إليه ابن صياد فقال : أشهد أنك رسول الأميين ، فقال ابن صياد للنبي صلى الله عليه وسلم : أتشهد أني رسول الله ؟ فرفضه وقال : آمنت بالله وبرسله ، فقال له : ماذا ترى ؟ قال ابن صياد : يأتيني صادق و كاذب ، فقال النبى صلى الله عليه وسلم : خلط عليك الأمر ثم قال له النبى صلى الله عليه وسلم : إني قد خبأت لك خبيئا ، فقال ابن صياد : هو الدخ : فقال اخسأ فلن تعدو قدرك فقال عمر رضى الله عنه : دعني يا رسول الله أضرب عنقه فقال النبى صلى الله عليه وسلم : إن يكنه فلن تسلط عليه وإن لم يكنه فلا خير لك فى قتله
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ جن میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے، ابن صیاد کی طرف نکلے وہ بنو مغالہ کے محلے میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا اور خود بھی ابھی بلوغت کے قریب تھا۔ اسے بالکل علم نہ ہوا حتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ساتھ اسے جھنجھوڑا اور پوچھا : کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیین کے رسول ہیں پھر کہا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دھکا دیا اور کہا میں تو اللہ اور اس کے (سچے) رسولوں پر ایمان لاتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : تو کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا میرے پاس سچے اور جھوٹے آتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تجھ پر معاملہ مشتبہ کر دیا گیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ میں نے اپنے دل میں (کیا) چھپا رکھا ہے؟ اس نے کہا دھواں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو ذلیل و رسوا ہو جائے تو اس سے تجاوز نہیں کر سکتا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ذہن میں سورۃ الدخان سوچ رکھی تھی جس کا معنی دھواں ہے) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمر ! اگر یہ دجال ہے تو تو اس پر مسلط نہیں ہو سکتا بلکہ عیسیٰ علیہ السلام قتل کریں گے اور اگر یہ وہ نہیں تو پھر اسے قتل کرنے میں کوئی فائدہ نہیں۔
بخاری : کتاب الجنائز باب اذا اسلم الصبی فمات 1354، مسلم 2930، احمد 2/9، 3/198-467، ابوداؤد 4329، ترمذی 2249، ابن حبان 6785
عن ابن عمر رضي الله عنهما يقول : انطلق بعد ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بن كعب إلى النخل التى فيها ابن صياد وهو يختل أن يسمع من ابن صياد شيئا قبل أن يراه ابن صياد ، فرآه النبى صلى الله عليه وسلم وهو مضطجع يعني فى قطيفة له فيها رمرمة أو زمزمة ، فرأت أم ابن صياد رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يتقي بجذوع النخل ، فقالت لابن صياد : يا صاف ، وهو اسم ابن صياد ، هذا محمد فثار ابن صياد ، فقال النبى صلى الله عليه وسلم : لو تركته بين
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ان کھجوروں (کے جھنڈ) کی طرف گئے جہاں ابن صیاد (رہتا) تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن صیاد کی باتیں سننے کے لیے چھپ چھپا کر آگے بڑھ رہے تھے تاکہ ابن صیاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ سکے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ابن صیاد چادر اوڑھے لیٹا کچھ گن گنا رہا ہے۔ (لیکن) اس کی ماں نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھپ چھپا کر آتے ہوئے دیکھا تو فوراً کہا، اے صافی، یہ ابن صیاد کا نام تھا محمد صلی اللہ علیہ وسلم آرہا ہے۔ ابن صیاد متنبہ ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر اس کی ماں نہ بولتی تو آج حقیقت آشکار ہو جاتی۔ (کہ یہ دجال ہے یا نہیں)۔
بخاری : کتاب الجنائز، باب اذا اسلم الصبی فمات 1355
ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ شروع شروع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ابن صیاد کے دجال اکبر ہونے میں تردد تھا لیکن جب تمیم داری رضی اللہ عنہ کا سمندری سفر والا واقعہ جس میں دجال کا ذکر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کو سن کر پھر خود صحابہ رضی اللہ عنہم کو بیان کیا۔ جس سے یہ تصدیق ہوتی ہے کہ دجال اکبر ابن صیاد نہیں بلکہ وہ آدمی تھا جو کسی جزیرے میں قید تھا اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا : یہ طیبہ (مدینہ) ہے جہاں دجال داخل نہیں ہو سکتا جبکہ ابن صیاد تو مدینے میں پیدا ہوا اور وہیں پرورش پائی۔
بہرحال جب یہ واضح ہو جائے کہ ابن صیاد دجال اکبر نہیں تھا تو پھر ابن صیاد کون تھا ؟ اس کے بارے میں قطعی فیصلہ نہایت مشکل نظر آتا ہے۔ علاوہ ازیں جو صحابہ رضی اللہ عنہم ابن صیاد کے دجال ہونے پر قسمیں اٹھاتے تھے شاید انہیں حضرت تمیم رضی اللہ عنہ والی حدیث نہ پہنچی ہو۔
(حضرت تمیم داری رضی الله عنه کی طویل روایت ”کیا دجال زندہ ہے“ کے عنوان میں گذر چکی ہے ۔ تفصیل کے لیے مراجعت فرمالیں۔)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرح ائمہ کرام میں بھی یہ مسئلہ خاصا محل نزاع رہا ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کا فیصلہ :
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ مشہور مفسر قرآن اور مؤرخ فرماتے ہیں کہ :
ليس ابن صياد هو الدجال الأكبر وإنما هو أحد الدجاجلة الكبار الكثار قال بعض العلماء : إن ابن صياد كان بعض الصحابة يظنه الدجال وهو ليس به إنما كان رجلا صغيرا …….. ويحتمل أن يكون هذا قبل أن يوحى إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فى شأن الدجال وتعينه وقد تقدم حديث الداري فى ذلك وهو فاصل فى هذا المقام وسنورد من الأحاديث ما يدل على أنه ليس بابن صياد والله تعالى أعلم وأحكم
ابن صیاد دجالِ اکبر نہیں البتہ وہ بڑے بڑے دجالوں میں سے ایک ضرور ہے۔ بعض علما کا کہنا ہے کہ ابن صیاد کو بعض صحابہ رضی اللہ عنہ دجال خیال کرتے تھے حالانکہ وہ دجال نہیں وہ تو ایک چھوٹا آدمی تھا۔ یہ احتمال بھی ہے کہ شاید نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ابن صیاد کے دجال ہونے میں تذبذب دجالِ اکبر کی تعیین کی وحی سے پہلے ہو جیسا کہ تمیم داری رضی اللہ عنہ والی حدیث جو گزر چکی ہے اس مسئلے میں قولِ فیصل (Final Decision) ہے کہ ابن صیاد دجال نہیں اور اس کے علاوہ بھی ہم کئی احادیث ذکر کر رہے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ابن صیاد دجالِ اکبر نہیں۔ والله اعلم
النهاية في الفتن (54/1 تا 60)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فیصلہ :
ابن صیاد کا معاملہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہ پر مشکوک رہا ہے انہوں نے اسے ہی دجالِ اکبر سمجھا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وقت تک مذکورہ مسئلہ میں توقف کیا حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر واضح ہو گیا کہ یہ دجال نہیں ہے یہ تو کاہن ٹائپ ہے۔
الفرقان بین اولیاء الرحمان (ص 77)
ابن صياد كاہن تھا :
ابن صیاد یہودی نژاد کاہن تھا جس کا اندازہ درج ذیل احادیث سے بآسانی کیا جا سکتا ہے :
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال قال النبى صلى الله عليه وسلم لابن صياد : إني قد خبأت لك خبئا فقال ابن صياد : هو الدخ ، فقال : اخسأ فلن تعدو قدرك
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے کہا کہ میں نے کوئی چیز (ذہن میں) چھپائی ہے۔ بتاؤ وہ کیا ہے؟ ابن صیاد نے کہا کہ وہ دُخ (دھواں) ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ذلیل ہو تو اس سے تجاوز نہیں کر سکتا۔
بخاری : کتاب الجنائز باب اذا اسلم الصبى فمات (1354) مسلم : کتاب الفتن : باب ذکر ابن صیاد (2924)
ایک روایت میں ہے :
يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ
جس دن ہم آسمان کو واضح دھواں بنا لائیں گے۔
سورة الدخان : (10) احمد (198/2)
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال قال النبى صلى الله عليه وسلم لابن صياد ماذا ترى ؟ قال يأتيني صادق و كاذب ، فقال النبى صلى الله عليه وسلم : خلط عليك الأمر
ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے کہا کہ تو کیا دیکھتا ہے؟ تو اس نے کہا میرے پاس صادق اور کاذب آتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ تجھ پر معاملہ مشتبہ کر دیا گیا۔
بخاری : کتاب الجنائز (1354)
ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صیاد سے پوچھا :
ما ترى ؟ قال : أرى عرشا على الماء ، فقال : ترى عرش إبليس على البحر وما ترى ؟ قال أرى صادقين وكاذبا أو كاذبين وصادقا ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لبس عليه دعوه
تو کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا میں پانی پر عرش کو دیکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہ تو سمندر پر ابلیس (شیطان) کا عرش دیکھتا ہے پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا اور کیا دیکھتا ہے؟ اس نے کہا میں بہت سے سچوں اور ایک جھوٹے کو یا بہت سے جھوٹوں اور ایک سچے کو دیکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اس پر معاملہ مشتبہ کر دیا گیا ہے اسے چھوڑ دو۔
مسلم : کتاب الفتن : باب ذکر ابن صیاد (2925) احمد (467/3) ابن حبان (178/15) مشکل الآثار (383/7) شرح السنۃ (453/7)
عن أبى سعيد رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لابن صائد : ما تربة الجنة ؟ قال درمكة بيضاء مسك يا أبا القاسم : قال : صدقت
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے پوچھا کہ جنت کی مٹی کیسی ہے؟ اس نے کہا : اے ابو القاسم! جنت کی مٹی باریک سفید مشک کی طرح (خوشبودار) ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو سچ کہتا ہے۔
مسلم : کتاب الفتن : باب ذکر ابن صیاد (2928) احمد (3/5)
ابن صیاد دجال کے بارے میں معلومات رکھتا تھا :
عن أبى سعيد الخدري رضى الله عنه قال … ثم قال : أما ، والله ! إني لأعرفه وأعرف مولده وأين هو الآن وأعرف أباه وأمه قال : قلت له : تبا لك سائر اليوم
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پھر ابن صیاد نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں دجال کو جانتا ہوں اور اس کی جائے پیدائش، اس کی موجودہ رہائش اور اس کے والدین کے متعلق بھی بخوبی آگاہ ہوں۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا : تو ہمیشہ ذلیل و خوار ہوتا رہے۔
مسلم : کتاب الفتن : باب ذکر ابن صیاد (2927)
ابن صیاد حرہ کے دن گم ہو گیا تھا :
عن جابر رضى الله عنه قال : فقدنا ابن صياد يوم الحرة
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حرہ (یہ مدینے کے قریب ایک مقام ہے جہاں صحابہ کے مابین لڑائی ہوئی تھی) کے موقع پر ابن صیاد گم ہو گیا تھا۔
ابو داود (1324) عون المعبود (476/11) فتح الباری (328/13) وصححه تہذیب التہذیب (5583)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ راجح بات یہی ہے کہ ابن صیاد گم ہو گیا تھا اور یہ بات غلط ہے کہ وہ مدینے میں فوت ہوا اور لوگوں نے اس کی نماز جنازہ ادا کی۔
تفصیل کے لیے دیکھیے فتح الباری (328/13)
کیا ابن صیاد نے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا تھا ؟
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
وقد كان ابن صياد من يهود المدينة ولقبه عبد الله ويقال صاف ، وقد جاء هذا وهذا وقد يكون أصل اسمه صاف ثم تسمى لما أسلم بابن عبد الله وقد كان ابنه عمارة بن عبد الله من سادات التابعين وروى عنه مالك وغيره
ابن صیاد مدینے کا ایک یہودی تھا جس کا لقب عبد اللہ تھا اور اسے صافی بھی کہا جاتا تھا یعنی دونوں ناموں سے معروف تھا لیکن اس کا اصل نام صافی تھا پھر اس نے اسلام قبول کر لیا اور عبد اللہ نام اختیار کر لیا۔ اس کا ایک بیٹا تھا جس کا نام عمارہ بن عبد اللہ رحمہ اللہ ہے اور یہ کبار تابعین میں شمار ہوتا ہے جن سے امام مالک اور دوسرے محدثین نے روایات اخذ کی ہیں۔
النهایة فی الفتن (88/1)
نیز فرماتے ہیں کہ :
إن ابن صياد كان دجالا من الدجاجلة ثم تاب بعد ذلك فأظهر الإسلام والله أعلم بضميره وسيرته
ابن صیاد دجالوں میں سے ایک دجال تھا پھر اس نے توبہ کر لی اور اسلام قبول کر لیا البتہ اس کے قلب و سیرت کے بارے میں اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔
ایضاّ
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
عبد الله بن صياد أورده ابن شاهين وقال : هو ابن صائد ، كان أبوه يهوديا فولد عبد الله أعور مختونا وهو الذى قيل : إنه الدجال ثم أسلم فهو تابعي ، له رؤية
عبد اللہ بن صیاد، اسے ابن شاہین نے بھی ذکر کیا ہے اور کہا کہ یہی ابن صائد ہے جس کا باپ یہودی تھا اور اس کے ہاں عبد اللہ نامی کانا بچہ پیدا ہوا جس کے ختنے بھی پیدائشی تھے اور اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ دجال ہے پھر اس نے اسلام قبول کر لیا لہذا یہ تابعی رحمہ اللہ ہے اگرچہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے۔ (یعنی صحابی اس لیے نہ ہوا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا اس وقت اسلام قبول نہیں کیا بلکہ بعد میں اسلام قبول کیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم وفات پاچکے تھے)۔
تجرید اسماء الصحابۃ (319/1)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :
وعبد الله بن صياد هو الذى ولد مختونا ….. وهو الذى قيل إنه الدجال وقد أسلم عبد الله وحج وغزا مع المسلمين وأقام بالمدينة
عبد اللہ بن صیاد یہی وہ شخص ہے جو مختون پیدا ہوا۔ اسی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ یہ دجال ہے حالانکہ اس (عبد اللہ) نے اسلام قبول کر لیا تھا اور حج کی سعادت حاصل کی علاوہ ازیں مسلمانوں کے ساتھ غزوات میں بھی شریک ہوا۔
تہذیب التہذیب 263/4
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ”الاصابہ“ میں رقمطراز ہیں :
وفي الجملة لا معنى لذكر ابن صياد فى الصحابة لأنه إن كان الدجال فليس بصحابي قطعا لأنه يموت كافرا وإن كان غيره فهو حال لقيه النبى صلى الله عليه وسلم لم يكن مسلما
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ابن صیاد کو صحابہ کی فہرست میں کسی صورت بھی داخل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اگر تو وہ دجال تھا تو پھر اس پر صحابی کا اطلاق قطعی ناممکن ہے کیونکہ اس صورت میں تو وہ کافر مرا ہوگا اور اگر وہ دجالِ اکبر نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات کے وقت مسلمان بھی نہیں تھا۔
الاصابة في تمييز الصحابة (133/3)
راجح بات :
حافظ ابن کثیر، حافظ ذہبی اور خود حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے ایک قول کے مطابق ابن صیاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مسلمان ہوا لیکن اس کے دل کی حالت صرف اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ والله اعلم وعلمه اتم واكمل