مضمون کے اہم نکات
فضـــل الـــولاء للمؤمنیـن
اہل ایمان کے ساتھ محبت کی فضیلت
اہل ایمان سے محبت کرنے والے حشر میں اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے تلے ہوں گے۔
[عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله يقول يوم القيامة: أين المتحابون بجلالي اليوم، أظلهم في ظلي يوم لا ظل إلا ظلي]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ عزوجل قیامت کے روز فرمائیں گے میری بزرگی اور اطاعت کے لئے ایک دوسرے سے محبت کرنے والے کہاں ہیں؟ آج میں انہیں (اپنے عرش کا) سایہ مہیا کروں گا جبکہ آج کے روز میرے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہیں۔ [صحیح المسلم:2566]
اہل ایمان سے محبت کرنے والے لوگ قیامت کے روز نور کے منبروں پر جلوہ فروز ہوں گے۔
[عن معاذ بن جبل، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: قال الله عز وجل: المتحابون في جلالي لهم منابر من نور يغبطهم النبيون والشهداء]
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ عزوجل فرماتا ہے میرے جلال کی وجہ سے آپس میں محبت کرنے والے ایسے نور کے منبروں پر ہوں گے جس کی انبیاء اور شہداء بھی تحسین فرمائیں۔ [سنن الترمذی:2390]
اہل ایمان سے محبت کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ محبت فرماتے ہیں۔
[عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم: أن رجلا زار أخا له في قرية أخرى، فأرصد الله له على مدرجته ملكا، فلما أتى عليه، قال: أين تريد؟ قال: أريد أخا لي في هذه القرية، قال: هل لك عليه من نعمة تربها؟ قال: لا، غير أني أحببته في الله عز وجل، قال: فإني رسول الله إليك بأن الله قد أحبك كما أحببته فيه]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی اپنے بھائی کی ملاقات کے لئے اس کے گاؤں جا رہا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کے راستہ میں ایک فرشتہ کھڑا کر دیا جب ملاقاتی وہاں پہنچا تو فرشتے نے پوچھا: کہاں جارہے ہو؟ ملاقاتی نے جواب دیا: میں اس گاؤں جارہا ہوں، وہاں میرا (دینی) بھائی رہتا ہے۔ فرشتے نے کہا: کیا اس کا تجھ پر کوئی احسان ہے جسے اتارنے جارہے ہو؟ ملاقاتی نے جواب دیا: نہیں، کچھ نہیں، میں اس سے محض اللہ تعالیٰ کے لئے محبت کرتا ہوں (اس لئے جارہا ہوں) فرشتے نے کہا: میں تیری طرف اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا (فرشتہ) ہوں (اور تجھے بتانے آیا ہوں کہ) اللہ تعالیٰ تجھ سے اسی طرح محبت فرماتے ہیں جس طرح تو محض اللہ کے لئے اپنے دینی بھائی سے محبت کرتا ہے۔ [صحیح المسلم:2567]
[عن معاذ بن جبل قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: قال الله تبارك وتعالى: وجبت محبتي للمتحابين في، والمتجالسين في، والمتزاورين في، والمتباذلين في]
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میری خاطر آپس میں محبت کرنے والوں کے لئے، میری خاطر آپس میں مل کر بیٹھنے والوں کے لئے، میری خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والوں کے لئے اور میری خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرنے والوں کے لئے میری محبت واجب ہوجاتی ہے۔ [موطأ مالك:2007]
اہل ایمان سے محبت کرنے والوں کے لئے جنت میں خصوصی زمرد کے بالا خانے تیار کئے گئے ہیں۔
[عن أبي هريرة قال: كنت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن في الجنة لعمدا من ياقوت عليها غرف من زبرجد لها أبواب مفتحة تضيء كما يضيء الكوكب الدري، قالوا يا رسول الله من يسكنها؟ قال المتحابون في الله والمتجالسون في الله والمتلاقون في الله]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت میں یاقوت کے ستونوں پر زمرد کے بالا خانے ہیں جن کے دروازے کھلے ہوئے ہیں وہ دروازے اس طرح چمکدار ہیں جیسے روشن ستارے چمکتے ہوئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان بالا خانوں میں کون لوگ رہیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کے لئے آپس میں محبت کرنے والے اللہ کے لئے ایک دوسرے کے پاس بیٹھنے والے اور اللہ کے لئے ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والے۔ [شعب الإيمان-للبیھقی:9002]
ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے والے اہل ایمان کی اللہ تعالیٰ عزت فرماتے ہیں۔
[عن أبي أمامة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما أحب عبد عبدا لله عز وجل, إلا أكرم ربه عز وجل]
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی خاطر دوسرے بندے سے محبت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت کرتے ہیں۔ [مسند احمد:22229]
اپنے مسلمان بھائی سے ملاقات کی خاطر دور دراز کا سفر طے کر کے آنے والے کے لئے جنت کی بشارت ہے۔
[عن كعب بن عجرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أخبركم برجالكم من أهل الجنة؟، قالوا: بلى يا رسول الله، قال: النبي في الجنة، والشهيد في الجنة، والصديق في الجنة، والمولود في الجنة، والرجل يزور أخاه في جانب المصر في الجنة، ألا أخبركم بنسائكم من أهل الجنة؟، قالوا: بلى يا رسول الله، قال: الودود الولود التي إن ظلمت أو ظلمت قالت: هذه ناصيتي بيدك، لا أذوق غمضا حتى ترضى]
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں جنت میں جانے والے مردوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ (سنو) نبی جنتی ہے، شہید جنتی ہے، صدیق جنتی ہے، پیدا ہوتے ہی فوت ہونے والا بچہ جنتی ہے، دور دراز سے اپنے بھائی کو محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ملنے والا جنتی ہے، کیا میں تمہیں جنت میں جانے والی عورتوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ اپنے شوہر سے محبت کرنے والی، زیادہ بچوں کو جنم دینے (کی تکلیف اٹھانے) والی اور وہ نیک عورت کہ جس کا شوہر اس پر ظلم کرے تو کہے میرا ہاتھ تیرے ہاتھ میں ہے میں اس وقت تک نہیں سوؤں گی جب تک تو راضی نہ ہوجائے۔ [المعجم الكبير للطبراني:ج19 ص140 ح307]