سورج کا شیطان کے سینگوں کے درمیان طلوع ہونا حدیث کی وضاحت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ عبدالسلام رُستمی کی کتاب انکار حدیث سے انکار قرآن تک سے ماخوذ ہے۔

حدیث 31: آفتاب شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے

ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھا کرو کیونکہ آفتاب شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے۔
صحيح البخاري ، بدء الخلق، باب صفة إبليس وجنوده، حدیث: 3273
اس میں شیطان کے وجود خارجی اور سورج کی حرکت پر اعتراض کرنے کے علاوہ بڑا اعتراض یہ ہے کہ سورج جسامت کے لحاظ سے ہماری زمین سے لاکھوں گنا بڑا ہے تو جب وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے تو پھر شیطان کا سر کتنا بڑا ہوگا اور وہ کہاں ٹھہرتا ہوگا؟
سورج کے حرکت کرنے اور شیطان کے ذاتی تشخص اور وجود کے متعلق پہلے بحث گزر چکی ہے۔ صرف یہ اعتراض کہ سورج شیطان کے سینگوں کے درمیان کیسے طلوع ہو رہا ہے، دیدہ دانستہ جاہلانہ اعتراض ہے کیونکہ ذوالقرنین کے واقعے میں قرآن کریم میں ہے:
حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَمِئَةٍ
”حتیٰ کہ جب وہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ تک پہنچ گیا تو اسے ایک دلدل کے چشمے میں ڈوبتا ہوا پایا۔“
(18-الكهف:86)
اس آیت پر بھی پھر وہی اعتراض آتا ہے کہ سورج زمین سے اور پھر بحر اسود سے لاکھوں گنا بڑا ہے تو وہ اس چھوٹے سے چشمے کے اندر کیسے غروب ہوتا ہے۔ طلوع اسلام والے ضرور یہاں اہل قرآن ہونے کی وجہ سے تاویل کریں گے تو پھر حدیث کے ساتھ کیوں دشمنی ہے یہاں بھی کوئی مناسب تاویل کر لیں۔
➊ اس حدیث میں مشہور تاویل یہ ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت سورج کے پرستاروں کی نظر میں سورج کو ایسا مزین اور خوبصورت بناتا ہے کہ وہ اس کی پوجا میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اس تزئین کی مثال ایسے ہے کہ جیسے اس نے اسے اپنے سر پر رکھا ہو اور اس تاویل کا باعث یہ ہے کہ اس حدیث میں ایمان والوں کو مشرکین کی مشابہت اختیار کرنے سے منع کرنا مقصود ہے کہ طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت نماز مت پڑھو کیونکہ ان اوقات میں نماز پڑھنے سے ان کے ساتھ مشابہت لازم آتی ہے۔
➋ سورج کے پجاریوں کے گمان میں سورج کا طلوع و غروب شیطان کے سر کے اوپر سینگوں کے درمیان ہوتا ہے جیسا کہ انسان ایک آنکھ سے پورے جسم کو دیکھ سکتا ہے یا دو انگلیوں کے درمیان سے سورج کو دیکھتا ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ سورج حقیقت میں اتنا چھوٹا ہے کہ وہ آنکھ کے اندر سما سکتا ہے یا وہ دو انگلیوں کے درمیان سما سکتا ہے۔