عزت کی حرمت
ہم نے دیکھ لیا کہ اسلام نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ کس طرح لوگوں کی عزت و آبرو کا تحفظ کیا ہے! بلکہ کس طرح اس کو درجہ تقدیس و تعظیم کی بلندی تک پہنچایا ہے۔ ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خانہ کعبہ کی طرف دیکھ کر کہا: تیری عظمت اور تیری حرمت کا کیا کہنا! لیکن مؤمن کی حرمت تجھ سے بھی بڑھ کر ہے۔ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے جم غفیر کے درمیان خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا :
إن أموالكم وأعراضكم ودماءكم حرام عليكم كحرمة يومكم هذا فى شهركم هذا فى بلدكم هذا
”تمہارے مال تمہاری عزتیں اور تمہارے خون تم پر اسی طرح حرام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینہ اور تمہارے اس شہر مکہ میں حرام ہے۔“
بخاری کتاب المغازى باب حجة الوداع ح : 4406 ، مسلم كتاب القسامة باب تغليظ تحريم الدماء والاعرض والاموال ح : 1679
اسلام کی نظر میں فرد کی عزت و آبرو اس قدر عزیز ہے کہ جو بات بھی انسان کو ناگوار ہوسکتی ہو اس کا ذکر اس کی غیر موجودگی میں کرنے کی اجازت نہیں دیتا اگر چہ کہ وہ بات اپنی جگہ بالکل صحیح کیوں نہ ہو اور جب اسلام ایسی بات کو گوارا نہیں کرتا، تو بے بنیاد باتوں اور افتراء پردازیوں کو کیوں کر گوارا کرے گا؟ ایسی صورت میں تو وہ گناہ کبیرہ بن جائے گا۔ حدیث میں ہے :
من ذكر امرأ بشيء ليس فيه ليعيبه به حبسه الله فى نار جهنم حتى يأتى بنفاذ ما قال فيه
”جس نے کسی شخص کے بارے میں ایسی بات کہی جو اس میں نہیں ہے، تاکہ اس میں عیب نکالا جائے تو اللہ اسے جہنم کی آگ میں روکے گا یہاں تک کہ وہ اپنی بات صحیح ثابت کر دکھائے۔“
الزوائد : 94/8 بحواله طبراني في الاوسط : 9/432 ح : 8931 و اسناده ضعیف
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا :
أتدرون أربى الربا عند الله ؟ قالوا الله ورسوله أعلم، قال فإن أربى الربا عند الله استحلال عرض امرئ مسلم
”جانتے ہو اللہ کے نزدیک سب سے بڑا سود کیا ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا: سب سے بڑا سود اللہ کے نزدیک مسلمان کی عزت کو حلال کر لینا ہے۔“
مجمع الزوائد : 92/8 بيهقى فى شعب الايمان : 5/298 ح : 6711 مسند ابی یعلی 4/359 ح : 4670 و اسناده ضعيف
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ آیت تلاوت فرمائی :
وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا
”جو لوگ مؤمن مردوں اور عورتوں کو جبکہ وہ بے قصور ہوں اذیت دیتے ہیں وہ بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لیتے ہیں۔“
(سورہ الاحزاب : 58)
عزت پر حملہ کی بدترین صورت یہ ہے کہ عفت مآب مؤمن عورتوں پر بے حیائی کے ارتکاب کی تہمت لگائی جائے۔ جس سے ان کو اور ان کے خاندان والوں کو سخت تکلیف پہنچتی ہے اور ان کا مستقبل خطرہ میں پڑ جاتا ہے۔ نیز اس سے اسلامی معاشرہ میں بے حیائی کی اشاعت ہوتی ہے۔ اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا شمار سات مہلک کبیرہ گناہوں میں کیا ہے۔ اور قرآن نے اس پر سخت وعید سنائی ہے :
إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ 23 يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
”جو لوگ پاکدامن، غافل، مؤمن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔ وہ دن جبکہ ان کی اپنی زبانیں اور ان کے اپنے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دینے لگیں گے کہ وہ (دنیا میں) کیا کرتے رہے ہیں۔“
(سورہ النور : 23-24)