اللہ پر توکل، علاج کرانے اور سینگی لگوانے کے متعلق احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

كتاب الطب

اللہ پر توکل

① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عرضت على الأمم فرأيت النبى ومعه الرهط، والنبي ومعه الرجل والرجلان، والنبي ليس معه أحد، ورفع لي سواد عظيم فظننت أنهم أمتي فقيل لي: هذا موسىٰ وقومه ولكن انظر إلىٰ الأفق فنظرت فإذا سواد عظيم فقيل لي: انظر إلىٰ الأفق الآخر فإذا سواد عظيم فقيل لي: هذه أمتك ومعهم سبعون ألفا يدخلون الجنة بغير حساب ولا عذاب
”مجھ پر امتیں پیش کی گئیں، میں نے کسی نبی کو دیکھا کہ اس کے ساتھ دس سے کم افراد ہیں، اور کسی نبی کے ساتھ ایک آدمی یا دو آدمی ہیں، اور کسی نبی کو دیکھا کہ اس کے ساتھ کوئی بھی آدمی نہیں۔ پھر مجھے دور سے ایک بہت بڑی جماعت دکھائی گئی اور میں نے سمجھا کہ یہ میری امت ہے لیکن مجھے بتایا گیا کہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی امت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم افق کی طرف دیکھیں۔ میں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی جماعت ہے۔ پھر مجھے کہا گیا کہ دوسرے افق کی طرف دیکھیں تو وہ بھی بہت بڑی جماعت تھی، مجھے بتایا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ساتھ ستر ہزار ایسے افراد ہیں جو حساب و عذاب کے بغیر جنت میں جائیں گے“۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور اپنے گھر تشریف لے گئے۔ لوگوں نے حساب و عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہونے والوں کے متعلق اندازہ لگانا شروع کیا تو بعض نے کہا شاید کہ یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہوں، بعض نے کہا کہ وہ لوگ ہوں گے جو اسلام میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اللہ کے ساتھ شریک نہیں کیا۔ انہوں نے اور بھی باتیں کیں۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور فرمایا:
ما الذى تخوضون فيه؟
”تم کس چیز کے بارے میں اندازے لگا رہے ہو؟“
انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
هم الذين لا يرقون ولا يسترقون ولا يتطيرون وعلىٰ ربهم يتوكلون
”یہ وہ لوگ ہیں جو دم کرتے ہیں نہ دم کرنے کی درخواست کرتے ہیں اور نہ ہی وہ فال لیتے ہیں، بلکہ وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں“۔
پس سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور درخواست کی کہ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے ان میں شامل فرما لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أنت منهم
”تمِ اسی میں سے ہو“۔
پھر دوسرا آدمی کھڑا ہوا اور عرض کی کہ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
سبقك بها عكاشة
”اس بارے میں عکاشہ (رضی اللہ عنہ) تم سے سبقت لے گیا ہے“۔
بخاری، کتاب الطب 5705، 5752۔ مسلم، كتاب الإيمان 220۔ مسند احمد، ومن مسند بنی هاشم 1 / 271۔

علاج کرانے کے متعلق احکامات

① سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اعرابیوں نے کہا:
”اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)! کیا ہم علاج نہ کرایا کریں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نعم يا عباد الله تداووا فإن الله لم يضع داء إلا وضع له شفاء أو دواء إلا داء واحدا
”ہاں! اللہ کے بندو! علاج کرایا کرو، اللہ نے ایک بیماری کے سوا ہر بیماری کی شفا بنائی ہے، یا دوا بنائی ہے“۔
انہوں نے عرض کی: ”وہ کون سی بیماری ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الهرم ”بڑھاپا“۔
ترمذی، کتاب الطب عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم 2038۔ مسند احمد، كتاب مسند احمد مع تعليق للارنؤوط، باب مسند احمد بن حنبل (20) 4 / 278۔ روایت صحیح ہے۔
② سیدنا ابوداؤدء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله تعالىٰ أنزل الدواء والداء وجعل لكل داء دواء فتداووا ولا تتداووا بحرام
”اللہ تعالیٰ نے دوا اور بیماری ایک ساتھ نازل کی ہے، اور ہر بیماری کی دوا بنائی ہے، پس تم علاج کرایا کرو، دوا لیا کرو لیکن حرام چیز سے علاج نہ کرایا کرو“۔
ابوداؤد، کتاب الطب 3874۔ روایت حسن ہے۔ دیکھئے سلسلہ الصحيحة الألبانی 1633۔
③ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لكل داء دواء فإذا أصاب دواء الداء برأ بإذن الله تعالىٰ
”ہر بیماری کی دوا ہے۔ پس جب دوا بیماری کے مطابق ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے شفا مل جاتی ہے“۔
مسلم، کتاب السلام 2204۔

سینگی لگوانے کے متعلق احکامات

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینگی (پچھنے) لگوایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے اجر میں کوئی کمی نہیں کیا کرتے تھے۔
بخارى، كتاب الإجارة 2280۔ مسلم، كتاب المساقات 1577۔
② سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب معراج پر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرشتوں کی جس بھی جماعت کے پاس سے گزرتے تو وہ آپ کو یہی فرماتے کہ پچھنے لگواؤ۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن خير ما تحتجمون فيه يوم سبع عشرة ويوم تسع عشرة ويوم أحد وعشرين
”(مہینے کی) سترہ، انیس اور اکیس تاریخ کو پچھنے لگوانا بہتر ہے“۔
ترمذی، کتاب الطب 2052۔ ابن ماجه، كتاب الطب 3477۔ روایت منکر ہے۔
③ سیدنا مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن كان دواء يبلغ الداء فإن الحجامة تبلغه
”اگر دوائی بیماری کے لیے مؤثر ہے تو سینگی لگوانا بھی اس (بیماری) کے لیے مؤثر ہے“۔
الموطا، كتاب الجامع 2 / 974۔ اس کی سند ضعیف ہے۔
④ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نعم العبد الحجام يذهب الدم ويخفف القلب ويجلو عن البصر
”پچھنے لگانے والا کیا ہی اچھا بندہ ہے، وہ خون نکالتا ہے تو دل سے بوجھ اتر جاتا ہے اور بصارت تیز ہو جاتی ہے“۔
ترمذي، كتاب الطب 2053۔ روایت منکر ہے۔