مضمون کے اہم نکات
حب رسولﷺ کا صحیح تقاضا:
اگر کوئی شخص حب رسولﷺ کا تو مدعی ہو، مگر محبوب کے احکام کی پروانہ کرے، اور اپنے دل اور نفسانی خواہش سے ایسی باتیں نکالے جو محبوب کو نا پسند ہوں، تو ایسی محبت محبت نہیں بلکہ نافرمانی اور سرکشی ہے۔
رسول اللہﷺ تو یہ اعلان کریں کہ میں اپنی جان کے لئے اور تمہارے لئے کسی نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتا، مگر عاشقان رسول (ﷺ)یہ کہیں کہ آپ تمام کائنات کے مختار کل ہیں، آپ کے در سے ساری دنیا کو رزق اولاد محبت اور مال و متاع تقسیم ہوتے ہیں۔ آپ اپنی امت کو شرک سے ڈرائیں اور عاشقانِ رسول(ﷺ) شرک کے معاملہ میں بے پرواہ ہوں۔
رسول اللہﷺ کے ارشاد حکم اور فرمان کی اس بے دردی کے ساتھ مخالفت اور خلاف ورزی کے بعد عشق رسول(ﷺ) کا دعوی ایک ایسا تضاد ہے، جس کی مثال نہیں مل سکتی۔ کتنا بڑا دھوکہ ہے جو عشق رسول(ﷺ) کے نام پر لوگوں کو دیا جا رہا ہے۔ اور رسول اللہﷺ سے حقیقی محبت کرنے والوں کو اور دین کے داعیوں کو گستاخ رسول(ﷺ) کہہ کر مطعون کیا جارہا ہے۔ توحید کے بارے میں یہ لوگ اتنے بے پرواہ ہیں کہ کوشش کرتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی نکتہ پیدا کر کے اللہ تعالی اور رسول اللہﷺ کو ایک ہی سطح پر لے آئیں، اور عبد و معبود کا یہ فرق و امتیاز کسی نہ کسی حیلہ سے مٹے نہیں تو کم سے کم ملتبس ہو جائے۔
ان کے چند افکار ملاحظہ فرمائیں
① محمدﷺ خدا ہیں:
مولوی محمد یار گھڑی والے خواجہ غلام فرید کے خاص خلیفہ ہیں۔ انہوں نے ایک دیوان لکھا ہے جس کا نام دیوان محمدی ہے۔ وہ وحدۃ الوجود کے نظریہ کو جتنا عریاں کر سکتے تھے، اپنے دیوان میں اس کو اتنا ہی عریاں کیا۔ اس دیوان کا ایک شعر ہے:
گر محمد نے محمد کو خدا مان لیا
پھر تو سمجھو مسلماں ہے دغا باز نہیں
شعر میں پہلا محمد شاعر کا تخلص ہے شعر کا مطلب یہ ہوا کہ محمد یار گھڑی والے نے اگر محمد رسول اللہﷺ کو خدا مان لیا پھر تو سمجھ لیجئے کہ وہ حقیقی مسلمان ہے. اگر محمدﷺ کو خدا نہیں مانتا پھر یہ بات رسول کے ساتھ دغا بازی کے مترادف ہے۔ کسی نے علامہ سید احمد سعید کاظمی صاحب کو یہ شعر لکھ کر سوال کیا کہ کیا بریلوی مذہب میں ایسا عقیدہ درست ہے انہوں نے جواب میں لکھا کہ ایسی عبارتیں دیو بندی اور بریلوی مسلک کے علماء کی کتب میں پائی جاتیں ہیں۔ اور ان کی بنیاد عقیدہ وحدۃ الوجود ہے جو ابن عربی کا عقیدہ ہے پھر وہ اس عقیدہ کے حق میں دلائل دیتے ہیں مگر نہ تو قرآن مجید کی کوئی آیت پیش کرتے ہیں نہ رسول اللہﷺ کا فرمان۔
کاظمی صاحب کی اصل عبارت ملاحظہ فرمائیے:
گر محمد نے محمد کو خدا مان لیا
پھر تو سمجھو مسلماں ہے دغا باز نہیں
سلام مسنون دعا:
حضرت قبلہ مولانا محمد یار صاحب کا وہ شعر جو تم نے لکھا اور اس جیسی دوسری عبارات (جو مسلم بین الفریقین علماء کی کتابوں میں بکثرت پائی جاتی ہیں) مسئلہ وحدۃ الوجود پر مبنی ہیں۔ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تعینات سے قطع نظر کر کے موجود حقیقی یعنی ما بہ الموجودیت حق سبحانہ و تعالی کے سوا کچھ نہیں ہر شے کا یہی حال ہے کہ تعینات کا انتقا ہو جائے۔ تو حقیقت حقہ کے سوا کچھ نہیں اس میں نبی، غیر نبی حتی کہ محمد ﷺ کی بھی خصوصیت نہیں۔ بلکہ عامہ خلائق مظاہر ناقصہ ہیں۔ اور اولیاء کرام اپنے مراتب کے لحاظ سے کامل مظہر ہیں اور انبیاء علیہ السلام ان سے زیادہ مظہر اور جمیع کا ئنات سے اکمل و افضل مظہریت حضور سید عالم ﷺ کے لیے حاصل و ثابت ہے۔ اس لیے کہ کمال امور اضافہ عینی سے ہے۔ دیکھئے مولانا محمد یار صاحب کے شعر کا مضمون حضرت شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کے کلام میں ہے:
[أنت تحسبه محمد العظيم الشان كما تحسب السراب ماء وهو ماء في راىء العين فاذا جئت محمداً لم تجد محمدا وجدت انه في صورة محمديته ورايته برؤيته محمدیه]
یعنی محمد عظیم الشان ﷺ کو محمد گمان کرتے ہو، جیسے کہ تم سراب کو دور سے دیکھ کر پانی سمجھتے ہو۔ اور وہ ظاہری نظر میں پانی ہی ہے مگر حقیقتا آب نہیں ہے۔ بلکہ سراب ہے۔ اسی طرح جب تم محمد ﷺ کے قریب آؤ گے تو تم نبی کریم ﷺ کو نہ پاؤ گے۔ بلکہ صورت محمد یہ میں اللہ تعالی کو پاؤ گے۔ اور رویت محمد یہ میں اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے۔ [فتوحات مکیه جلد ثاني ص:127]
اسی طرح شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی کے کلام میں اسی قسم کا مضمون موجود ہے انتباہ کے ص:92 پر فرماتے ہیں: (صورت مرشد که ظاهر دیده می شور مشاهده حق سبحانه تعالی است در پرده آب و گل و صورت مرشد که در خلوت نمودار می شود آن مشاہدہ حق تعالی است بے پردہ آب و گل) غور کیجیے: صورت مرشد دیکھنے کو حق تعالیٰ کا مشاہدہ فرمارہے ہیں اور آب و گل یعنی جسمانیت اور بشریت کو محض ایک پردہ قرار دے رہے ہیں۔ آج کے دیوبندی وحدۃ الوجود کے بھی منکر ہیں، حالانکہ جن حضرات کو یہ اپنے مشائخ قرار دیتے ہیں وہ اس مسئلہ پر بڑے متشدد اور حریص رہے ہیں۔ دیکھیے انور شاہ کشمیری اپنی کتاب فیض الباری جلد428/4 حدیث شريف[ كنت سمعه الذي يسمع به] کے تحت دیو بندیوں کے بیان کردہ معنی کا رد کرتے ہوئے کہتے ہیں:
[قلت وهذا عدول عن حق الالفاظ لان قوله كنت سمعه بصيغة المتكلم يدل على انه لم يبق من المتقرب بالنوافل الا جسده وشبهه وصار المتصرف فيه الحضرة الالهية فحسب وهذا الذي عناه الصوفيه بالفناء في الله تعالى اى الا نسلاخ عن دواعي نفسه حتى لا يكون المتصرف فيه الا هو وفي الحديث لمعة الى وحدة الوجود وكان مشائخنا مولعون بتلك المسئله الى زمن الشاه عبدالعزيز اما انا فلست بمتشدد فيها]
یعنی[کنت سمعہ] کے یہ معنی بیان کرنا کہ بندہ کے کان آنکھ وغیرہ اعضاء حکم الہی کی نافرمانی نہیں کرتے۔ حق الفاظ سے تجاوز اور کجروی ہے۔ اس لیے کہ بصیغہ متکلم اللہ تعالیٰ کا قول كنت سمعه فرمانا اس بات پر دلالت کرتا ہے۔ کہ عبد متقرب بالنوافل یعنی بندہ میں سوائے جسد و صورت کے کوئی چیز باقی ہی نہیں رہی۔ اور اس میں صرف اللہ تعالی ہی متصرف ہو گیا ہے۔ اور یہی وہ معنی ہیں جن کو حضرات صوفیائے کرام فنا فی اللہ سے تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی بندہ کا اپنے خواہشات نفس سے بالکل پاک ہو جانا یہاں تک کہ اس بندہ میں اللہ تعالی کے سوا کوئی شے قطعا متصرف نہ رہے۔ اور حدیث مذکور (كنت سمعه) میں وحدۃ الوجود کی طرف چمکتا ہوا اشارہ ہے۔ ہمارے مشائخ شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی کے زمانہ تک اس مسئلہ وحدۃ الوجود میں بڑے متشدد اور حریص تھے۔ لیکن میں اس کا قائل تو ہوں لیکن متشد د نہیں ہوں۔
اس عبارت سے مسئلہ وحدۃ الوجود کا اکابر و مشائخ دیو بند کے نزد یک حق ہونا اظہر من الشمس ہے۔ اب شاہ ولی اللہ صاحب کی عبارت ملاحظہ فرمایئے۔ [انتباہ ص:91] پر لا إله إلا الله کے تحت فرماتے ہیں:
نیست ہیچ معبود دے و مقصوددے وموجودلے،
مگر حق تعالی مبتدی را اراده عوام بگوید نیست ہیچ معبودے،
و متوسط را اراده خواص بگوید نیست ہیچ مقصودے،
ومنتهی را اراده اخص الخواص بگوید نیست ہیچ موجود دے۔
اسی طرح ،،انفاس العارفین،، میں شاہ ولی اللہ کے والد ماجد حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب فرماتے ہیں: کفر شریعت دو معبود پنداشتن است،، اسی طرح ص33 پر بھی ایسی عبارت ہے:
مولا نا محمد یار پر کفر کا فتوی لگانے والے آنکھیں کھول کر دیکھیں کہ شاہ ولی اللہ صاحب اور ان کے والد ماجد دو موجود حقیقی جاننے کو کفر حقیقی فرمارہے ہیں۔ اس کے بعد دیو بندیوں کے مسلم بزرگ انور شاہ کشمیری کی عبارت سے محی الدین ابن عربی کی توثیق سنیے فیض الباری جلد اول ص 174 پر لکھتے ہیں: [اما اهل العلم منهم فاكثرها تتعلق بحل مسائل الصفات وغيره و نعمت الكشوف هي]
یعنی حضرات صوفیاء کرام میں سے جو لوگ اہل علم ہیں۔ ان میں اکثر حضرات امور الہیہ میں مسائل ذات وصفات سے تعلق رکھتے ہیں۔ شاہ ولی اللہ صاحب اور حضرت شیخ اکبر کی توثیق ہمارے جلیل القدر فقہائے کرام نے بھی فرمائی ہے دیکھیے: ،،در مختار،، جلد دوم 30 مطبوعہ نول کشور لاہور میں شیخ اکبر کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: [انه كان شيخ الطريقة حالا و علما وامام الحقيقته حقيقتا واسما ومحى رسوم المعارف فعلا واسما]
الحاصل مولا نا محمد یار صاحب کے اشعار کا مبنی مسئلہ وحدۃ الوجود ہے۔ اگر وحدۃ الوجود کو شرکیہ عقیدہ کہا جائے، تو تمام مشائخ دیوبند کافر و مشرک قرار پائیں گے۔ کیونکہ وہ سب وحدۃ الوجود پر تشدد ہیں۔ جیسا کہ انور شاہ کشمیری کی عبارت منقولہ بالا سے ثابت ہے۔ پھر ان اشعار کی بنا پر اگر مولانا محمد یار صاحب کی تکفیر کی جائے تو حضرت شیخ اکبر کی عبارات منقولہ بھی بالکل مولانا موصوف کی عبارت جیسی ہے۔ لہذا ان دونوں کی تکفیر بھی لازم آتی ہے شاہ ولی اللہ کا مخالفین کے نزدیک مسلم بزرگ ہونا اس قدر واضح ہے، کہ اس کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں۔ اور شیخ اکبر کی توثیق انور شاہ صاحب کشمیری اور صاحب در مختار کی عبارتوں سے ظاہر ہے۔ لہذا شیخ اکبر کی تکفیر انور شاہ صاحب اور صاحب در مختار کی تکفیر کو مستلزم ہوگی۔ کیونکہ کافر کی تکفیر فرض ہے اور اس کی توثیق حرام بلکہ کفر ہے نتیجہ ظاہر ہے۔ کہ مولا نا محمد یار صاحب کا دامن اس مسئلہ میں ایسے اکابر امت کے ساتھ وابستہ ہے، کہ جن کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب و تمت بالخیر [مقدمه دیوان محمدی:20]
قارئین کرام! بتائیے ان دلائل کی بنیاد پر محمدﷺ کو خدا مانا جا سکتا ہے؟ نعوذ بالله من ذلك۔
② محمد ﷺاول مخلوق ہیں:
پاکستان میں سید احمد سعید کاظمی بریلوی مسلک کے امام ہو گزرے ہیں انہوں نے اپنی کتب کے ذریعے حقیقت محمدیہ کے نظریہ کو عام کیا۔ اپنی مشہور کتاب ،،تسکین الخواطر،، میں مسئلہ حاضر و ناظر پر بحث کی ہے اس مسئلہ کو حقیقت محمدیہ کی بنیاد پر ثابت کیا ہے۔ علامہ جلال دوانی کی ایک عبارت پیش کی۔ لکھتے ہیں:
محقق دوانی فرماتے ہیں: اس مقام پر تحقیق کلام یہ ہے کہ تمام اصحاب نظر و برہان اور ارباب شہود وعیاں اس بات پر متفق ہیں کہ بوسیلہ قدرت و ارادہ خدائے قدوس امر ،،كن فيكون،، سے سب سے پہلے جو گوہر مقدس در پائے غیب مکنون سے ساحل شہود پر آیا وہ جو ہر بسیط نورانی تھا جسے حکماء (یونانی فلسفی) کے عرف میں عقل اول کہتے ہیں۔ اور بعض احادیث میں قلم اعلیٰ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور ا کا بر ائمہ کشف و تحقیق (یعنی ابن عربی اور اس کے ساتھی صوفیاء) اسے حقیقت محمد یہ کہتے ہیں۔ اس جو ہرنورانی نے اپنے آپ کو اور اپنے خالق بے مثال کو اور ان تمام افراد موجودات کو جو بتوسط اس جو ہرنورانی کے خالق بے مثال سے صادر ہو سکتے ہیں۔ جس طرح وہ افراد موجودات سے پہلے تھے اور اب ہیں اور آئندہ ہوں گے۔ سب کو جملہ کیفیات کے ساتھ تمام و کمال جان لیا اور تمام حقائق موجودات بطور انطوائے علمی اسی جو ہر بسیط نورانی (حقیقت محمدیہ) میں مندرج اور مخفی تھیں۔ جس طرح دانہ ایک خاص طریقہ پر شاخوں پتوں اور پھلوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ کل افراد موجودات اسی ترتیب کے موافق جس کے ساتھ اس جو ہربسیط نورانی (یعنی حقیقت محمدیہ) میں پوشیدہ ہیں کمین گاہ قوت سے جلوہ گاہ فعل اور سرا پردہ غیب سے میدان شہود میں بصورت مواد خارجیہ ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ [اخلاق جلالی از محقق دوانی ص:256]
جلال دوانی نے صوفیاء کی طرح اصطلاحات کا خوب استعمال کیا ہے۔ اور ان کا مقصد اس کے سوا اور کیا ہے کہ امت مسلمہ ان صوفیاء کی عبارت کو مشکل سمجھ کر اس عظیم سازش کو نہ جان سکیں۔ جس کے ذریعے یہ اسلام کے بنیادی عقائد پر حملہ آور ہیں۔ اور یہ صوفیاء وحدۃ الوجود، حقیقت محمدیہ، قلم اعلیٰ، جوہر نورانی، جیسی اصطلاحات کے ذریعے محبت رسول کی آڑ میں شرک وکفر کو اسلام کا رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اہل ایمان کے لئے ان کے کفر کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ جلال دوانی کی عبارت نقل کر کے سید احمد سعید کاظمی جن عقائد کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ملاحظہ فرمائیے۔ لکھتے ہیں: اس ایمان افروز بیان سے تصریحات منقولہ بالا کی تائید کے علاوہ مندرجہ ذیل امور بھی واضح ہو گئے۔
① حضورﷺ اوّل مخلوق ہیں۔
② حضورﷺ عقل اوّل اور قلم اعلیٰ ہیں۔
③ حضورﷺ جوہر بسیط نورانی ہیں۔
④ حضورﷺ تمام کائنات کے حقائق لطیفہ کے جامع ہیں۔
⑤ حضورﷺ اللہ تعالی کو بھی جانتے ہیں اور تمام موجودات و مخلوقات اور ان کے جمیع احوال کو تمام و کمال جانتے ہیں۔ ماضی حال مستقبل میں کوئی شی کسی حال میں ہو حضورﷺ سے مخفی نہیں۔
⑥ تمام موجودات خارجیہ کا ظہور حقیقت محمدیہ سے ہوتا ہے، حتی کہ ترتیب ظہور بھی وہی ہے، جو حقیقت محمدیہ میں مستور ہے۔ [تسکین الخواطر از کاظمی ص:50]
قارئین کرام! بتائیے کیا قرآن مجید کی کسی آیت میں یا حدیث رسول میں حقیقت محمدیہ کا تذکرہ ہے؟ یقینا نہیں۔
③ حقیقت محمد یہ نہ اولاد آدم میں شامل ہے اور نہ بشر ہے:
مفتی احمد یار خان نعیمی جو بریلویت کے مشائخ میں شمار ہوتے ہیں لکھتے ہیں:
ایک ہےشخص محمدی، دوسری ہے حقیقت محمدی، یہ شخص محمدی اس جسم اطہر کا نام ہے جو آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے ہے۔
بی بی آمنہ کے بطن سے پیدا ہوا اور تمام نبیوں کے بعد اس دنیا میں جلوہ گر ہوا۔ جو اس دنیا میں اپنے تمام رشتوں سے منسلک ہے۔
بی بی آمنہ کا نورنظر ہونا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما کا سرتاج ہونا۔ اپنی اولاد کا والد ہونا۔ ان تمام رشتوں کے ساتھ جو آپ کی قرابت ہے یہ سب اسی بشری وجود کی صفات میں داخل ہیں، حقیقتہ محمدیہ مشائخ صوفیہ کی اصطلاح میں ذات مطلق کے پہلے تعین کا نام ہے۔
حضور اکرمﷺ اللہ تعالی کی پہلی تجلی ہیں، اور باقی جتنی مخلوق ہیں، وہ پہلی تجلی کے بعد خدا کی دوسری تجلیات کی مظہر ہے۔ وجود عنصری کی جہت سے آپ کے بارے میں قرآن میں اس طرح فرمایا گیا ہے: [قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ] آپ فرمادیں کہ میں تم جیسا بشر ہوں۔ اور حقیقت محمدیہ کے بارے میں خود حضورﷺنے فرمایا: میں اس وقت نبی تھا، جب کہ حضرت آدم آب وگل میں جلوہ گر تھے۔ یہ حقیقت محمدیہ نہ اولاد آدم میں شامل ہے۔ نہ بشر ہے اور نہ مسلکم ہے۔ اور نہ اسے کسی کا باپ نہ کسی کی اولاد کہہ سکتے ہیں۔ بلکہ یہ حقیقت محمدیہ ساری کائنات کی اصل ہے آپ کا نور ہونا، رب کی دلیل اور برہان ہونا اسی حقیقت محمدیہ کی صفات ہیں۔ حقیقت محمدیہ کی تشریح مثنوی میں کافی تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہے اور مولوی اشرف علی تھانوی نے بھی نشر الطیب میں حقیقت محمدیہ کو خوب اچھی طرح ثابت کیا ہے۔ تفسیر روح البیان میں [ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ] کے تحت لکھا ہے کہ تمام روحیں روح محمدی سے پیدا ہوئیں لہذا حضور ابو الارواح ہیں [رسالہ نور از مفتی احمد یار خان نعیمی]
بتائیے کہ قرآن مجید کی کسی آیت میں یا، رسول اللہ ﷺ کے کسی فرمان میں حقیقت محمدیہ کا ذکر ہے؟
اور یہ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ یہ بریلوی علماء کبھی حقیقہ محمدیہ و محمد بن عبداللہﷺ سے الگ کر کے پیش کرتے ہیں۔ اور کبھی محمد بن عبداللہﷺ کے عنصری وجود پر حقیقت محمدیہ کا اطلاق کر کے حب رسولﷺ کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں۔ اس طرح مسلمانوں کی اکثریت کو حب رسولﷺ کی آڑ میں شرک میں ملوث کر دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے شرک و کفر کو سمجھنے کی توفیق دے آمین۔
④ تمام کائنات حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے فیض کی محتاج ہے:
سید احمد سعید کاظمی اسی فلسفے کو آسان کر کے یوں بیان کرتے ہیں:
ہمارا مسلک ہے کہ حضورﷺ مبدا کائنات ہیں۔ حضور فخر کائنات ہیں، اور مجھے کہنے دیجئے کہ حضور ﷺ مقصود کائنات ہیں۔ صاحب روح المعانی نے عارفین کا ایک قول نقل کیا ہے کہ آپ ،،رحمة للعالمین،، کیوں ہیں؟ فرماتے ہیں کہ وجہ یہ ہے حضور اقدسﷺ اصل ہیں اور تمام عالمین اس کی فرع۔ اصل کہتے ہیں جڑ کو۔ اور فرع کہتے ہیں شاخ کو۔ یہ بتاؤ جس درخت کی جڑ نہ ہو تو کیا شاخیں باقی رہیں گی۔ اگر درخت کی جڑ سوکھ جائے۔ شاخیں ہری رہیں گے درخت کی جڑ کو جلا دو تو شاخیں موجودر ہیں گی۔ نہیں بالکل نہیں۔ ارے درخت کی جڑ سے تو سارا کام ہوتا ہے۔ جڑ جو ہے تنے کو غذا پہنچا رہی ہے۔ پہلے بڑھنے کو غذا پہنچاتی ہے، پھر جڑ کی پہنچائی ہوئی غذا تنے سے موٹی موٹی شاخوں میں پہنچتی ہے، پھر چھوٹی چھوٹی شاخوں میں پہنچتی ہے، اور پھر پتوں میں پہنچتی ہے، اور پھولوں میں پہنچتی ہے، اور ثمر میں پہنچتی ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ سارا تنا اس جڑ کا محتاج ہے۔ جب اس جڑ کا فیض جاری ہے، تو شاخیں ہری ہیں، اور جڑ کا فیض ختم ہو جائے تو شاخیں سوکھ جائیں۔ میرے آقاﷺ تمام کا ئنات کے ذرے ذرے کے لیے اصل، اور اس کائنات کا ذرہ ذرہ اوپر ہے خواہ زمین کے نیچے ہے، وہ ہواؤں میں ہے وہ فضاؤں میں ہے، تحت میں ہے فوق میں ہے عرش میں ہے فرش میں ہے، جہاں بھی کوئی زندہ ہے مصطفیٰ کی جڑ کے لئے شاخ ہے۔ آپ کا فیض اس طرح کائنات کے ذرے ذرے کو پہنچ رہا ہے، جیسے جڑ کا فیض شاخ کے ہر جزو کو پہنچ رہا ہے۔ میرا ایمان ہے کہ مصطفیٰ اگر نہ ہوں تو کائنات زندہ نہیں رہ سکتی۔ اگر وہ مر گئے تو ہم کیسے زندہ رہ گئے۔ [ذکر حبیب ص:14،13]
اس عقیدہ میں سید احمد سعید کاظمی صاحب اکیلے نہیں ہیں بلکہ ان کے مسلک کے دوسرے علماء بھی ان کی تائید کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں۔
مفتی احمد یار خان لکھتے ہیں:
حضورﷺ تمام کائنات کی اصل ہیں۔ [وكل الخلق من نوری] اصل کا اپنی فرع میں اور مادے کا سارے مشتقات میں ایک کا سارے عددوں میں پایا جانا ضروری ہے۔
ہر ایک ان سے ہے وہ ہر ایک میں ہیں
وہ ہیں ایک علم حساب کے
بنے دو جہاں کے وہی بنا
وہ نہیں جو ان سے بنا نہیں
[جاء الحق ص:144]
احمد رضا خان بریلوی اس فلسفے کی اس طرح وضاحت کرتے ہیں: تمام جہان اور اس کا قیام سب انہیں کے دم قدم سے ہے۔ یہ عالم جس طرح ابتدائے آفرنیش میں ان کا محتاج تھا کہ [لولاک لما خلقت الافلاک] یوں ہی اپنی بقا میں بھی ان کا محتاج ہے۔ آج اگر وہ اپنا قدم درمیان سے نکال لیں تمام عالم ابھی ابھی فنائے مطلق ہو جائے۔
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا
وہ جو نہ ہوں گے تو کچھ نہ ہوگا
جان ہیں وہ جہان کی
جان ہے تو جہان ہے
[الامن و العلی ص:37]
قارئین کرام! دیکھئے کس طرح حب رسولﷺ کی آڑ میں شرک پھیلا یا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
[قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِکُ لِنَفۡسِیۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ]
آپ(ﷺ) فرمادیجئے: کہ میں اپنی ذات کے لیے تو کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا مگر جتنا اللہ کو منظور ہو۔ [یونس:49]
[قُلۡ اِنِّیۡ لَاۤ اَمۡلِکُ لَکُمۡ ضَرًّا وَّ لَا رَشَدًا]
کہہ دیجئے! کہ مجھے تمہارے لیے کسی نقصان اور نفع کا اختیار نہیں۔ [الجن:21]
[قُلۡ اِنِّیۡ لَنۡ یُّجِیۡرَنِیۡ مِنَ اللّٰہِ اَحَدٌ وَّ لَنۡ اَجِدَ مِنۡ دُوۡنِہٖ مُلۡتَحَدًا]
کہہ دیجئے! کہ مجھے ہرگز کوئی اللہ سے بچا نہیں سکتا۔ اور میں ہرگز اس کے سوا کوئی جائے پناہ بھی پانہیں سکتا۔ [الجن:22]
ساری کائنات کو رسول اللہﷺ کا محتاج کہنے والوں کے پاس ان آیات کا کیا جواب ہے؟
⑤ حضور اکرم حاضر ناظر ہیں کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت محمدیہ کا ئنات کے ذرے ذرے میں جاری وساری ہے:
سید احمد سعید کاظمی صاحب مسئلہ حاضر ناظر ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں، کہ ہم محمد بن عبداللہﷺ کو ہر جگہ موجود نہیں مانتے، بلکہ آپ کی حقیقت محمدیہ کو کائنات کے ذرے ذرے میں جاری وساری مانتے ہیں ۔ ملاحظہ فرمائیے:
حضور اکرمﷺ کے لیے جو لفظ حاضر و ناظر بولا جاتا ہے، اس کے یہ معنی ہرگز نہیں کہ آپ کی بشریت مطہرہ ہر جگہ ہر ایک کے سامنے موجود ہے۔ بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح روح اپنے بدن کے ہر جزء میں موجود ہوتی ہے، اسی طرح روح و عالم (روح الاکوان) ﷺ کی حقیقت منورہ ذرات عالم کے ہر ذرہ میں جاری و ساری ہے۔ جس کی بنا پر حضورﷺ اپنی روحانیت اور نورانیت کے ساتھ بیک وقت متعدد مقامات پر تشریف فرما ہوتے ہیں۔ [تسکین الخواطر،ص:13]
ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ ہم نبی کریمﷺ کو حضور کی جسمانیت اور بشریت مطہرہ کے ساتھ حاضر ناظر نہیں مانتے۔ بلکہ حضور کی حقیقت مقدسہ کو ذات کا ئنات میں جاری و ساری مانتے ہوئے روحانی طور پر آپ کو حاضر و ناظر مانتے ہیں۔ [تسکین الخواطرص:80]
اس میں شک نہیں کہ نماز میں [السلام علیک ایھا النبی] کہنے کا حکم بھی اس امر پر بنی ہے۔ کہ جب حقیقت محمدیہ تمام ذرات کا ئنات میں موجود ہے تو ہر عبد مصلی کے باطن میں اس کا پایا جانا ضروری ہے۔ [تسکین الخواطرص:45]
کاظمی صاحب نے روح الاکوان کی بنیاد پر مسئلہ حاضر و ناظر ثابت کیا، پھر روح الاکوان کا مفہوم صوفیہ کی مشہور تفسیر عرائس البیان سے بیان کیا۔ ملاحظہ فرمائیں:
① خالق کائنات نے اپنی کل مخلوقات میں جو چیز سب سے پہلے پیدا کی وہ حضرت محمدﷺ کا نور مبارک ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس نور کے ایک جزو سے عرش تا فرش تمام مخلوقات کو پیدا کیا۔ سب کا صدور و ظہور ان ہی کے نور سے ہے. لہذا ان کا ہونا مخلوق کا ہونا ہے۔ اور ان کا موجود ہونا وجود خلق کاموجب ہے … سب کے وجود کا سبب وہی ہیں …..
② قضاء قدرت میں تمام مخلوقات صورت مخلوقہ کی طرح بے جان اور روح حقیقی کے بغیر پڑی ہوئی حضرت محمدﷺ کی تشریف آوری کا انتظار کر رہی تھی۔ جب حضرت محمدﷺ عالم میں تشریف لائے تو تمام کائنات وجودمحمدی سے زندہ ہو گئی۔ اس لئے تمام مخلوقات کی روح (روح الاکوان)حضور اکرمﷺ کی ذات ہی ہے۔ [تسکین الخواطر:43]
بتائیے قرآن وسنت میں ان باتوں کی کوئی دلیل ہے؟
⑥ حضورﷺ کے آفتاب حیات سے ہر ایک کو حیات ملی ہے۔ کیونکہ وہ اصل کا ئنات ہیں لہذا زندہ ہیں:
سید احمد سعید کاظمی نے اس عقیدے کو جس طرح بیان کیا ملاحظہ فرمائیں:
اس حیثیت سے کہ حضورﷺ اصل کا ئنات ہیں۔ آپ کی حیات مقدسہ وجود ممکنات کے آسمان کا چمکتا ہوا آفتاب ہے۔ مخلوقات کی تمام انواع و اقسام اور افراد بمنزلہ آئینوں کے ہیں۔ ہر آئینہ اپنے مقام پر مخصوص کیفیت اور جداگانہ قسم کی استعداد کا حامل ہے۔ اس لیے ہر فرد اپنے حسب حال اس آفتاب حیات سے اکتساب حیات کر رہا ہے۔ خلق وامر، اجسام و ارواح، اعیان و معانی، ارض و سما تحت، و فوق ان سب کا نور حیات اس آفتاب حیات محمدی کی شعائیں ہیں۔ البتہ عالم ممکنات کا اس معدن حیات سے قرب و بعد اور افراد کائنات میں استعداد کی قوت وضعف مراتب حیات میں ضرور موجب تفاوت ہے، نفس حیات سب میں پائی جاتی ہے۔ لیکن ہر ایک کی حیات اس کی حالت کے مناسب ہے۔ مومن ہو یا کافر، نیک ہو یا بد، ہر ایک کا مبدا فیض ذات نبویہ کا وجود ہے۔ اور حضور ہی کے آفتاب حیات سے ہر ایک مومن میں حیات کی روشنی پائی جاتی ہے۔ آفتاب حیات اگر غروب ہو جائے تو تمام آئینے اپنے نور سے محروم ہو جائیں گے۔ ان تمام آئینوں میں نور کا پایا جانا آفتاب کے چمکنے کی دلیل ہے۔ اس طرح عالم ممکنات کے کسی ایک ذرے میں نور حیات کا پایا جانا آفتاب حیات محمدی کے موجود ہونے کی دلیل ہے۔ [حیات النبی از کاظمی ص:90]
احمد رضا خان بریلوی لکھتے ہیں:
اور نصوص متواترہ اولیاء کرام و ائمہ عظام و علماء اعلام سے مبرہن ہو چکا، کہ ہر نعمت قلیل یا کثیر، صغیر یا کبیر، جسمانی یا روحانی، دینی یا دنیاوی، ظاہری یا باطنی، روز ازل سے اب تک، اب سے قیامت تک، قیامت سے آخرت تک۔ آخرت سے ابد تک، مومن یا کافر مطیع یا فاجر، ملک یا انسان، جن یا حیوان، بلکہ تمام ماسوی اللہ جسے جو کچھ ملی یا ملتی ہے یا ملے گی انہیں کے ہاتھوں پر بٹتی اور بٹے گی۔ یہ سرالوجود اور اصل وجود، خلیفہ اللہ اعظم اور ولی نعمت عالم ہیں۔ [جزاء الله عد وہ ص:23 بحوالہ فیصلہ کن مناظره ص56]
حضور اکرمﷺ اللہ عزوجل کے نائب مطلق ہیں۔ تمام جہان حضور کے تحت تصرف کر دیا گیا ہے، جو چاہیں کریں جسے جو چاہیں دیں جس سے جو چاہیں واپس لیں۔ تمام جنت ان کی جاگیر ہے [ملكوت السماوات والأرض] حضور کے زیر فرمان ہے جنت و دوزخ کی کنجیاں آپ کے دست اقدس میں دے دی گئیں۔ [بہار شریعت:ج: 1 ،ص:22]
قاسم نانوتوی صاحب لکھتے ہیں:
وجہ اس فرق کی وہی تفاوت حیات ہیں۔ یعنی حیات نبوی بوجہ عرضیت قابل زوال نہیں۔ اور حیات مومنین بوجه عرضیت قابل زوال ہے۔ اس لیے موت کے وقت حیات نبوی زائل نہ ہوگی، ہاں مستور ہو جائے گی۔ اور حیات مومنین ساری یا آدھی زائل ہو جائے گی۔ سو درصورت تقابل عدد ملکہ اس استنار حیات میں آپ کی ذات کو تو مثل آفتاب سمجھیے۔ کہ وقت کسوف اوٹ میں حسب مزعوم حکماء اس کا نور مستور ہو جاتا ہے۔ زائل نہیں ہوتا، یا مثل شمع چراغ خیال فرمائیے۔ کہ جب اس کو کسی ہانڈی یا مٹکے میں رکھ کر اوپر سے سو پوش رکھ دیجیے، تو اس کا نور بالبداہت مستور ہو جاتا ہے، زائل نہیں ہوتا۔ اور دوبارہ زوال حیات مومنین کو مثل قمر خیال کیجیے، کہ وقت کسوف اس کا نور زائل ہو جاتا ہے۔ یا مثل چراغ سمجھیے کہ گل ہونے کے بعد اس میں نور بالکل نہیں رہتا۔ البتہ روغن یا فتیلہ یا کسی قدر تھوڑی دیر فتیلہ کے سرے میں آتش باقی رہ جاتی ہے۔ [آب حیات:159]
مزید لکھتے ہیں: انبیاء علیہم السلام کے اموال میں میراث کا جاری نہ ہونا، اور دوسروں کے اموال میں جاری ہونا، اس امر پر شاہد ہے کہ ارواح انبیاء علیہم السلام کا ان کے ابدان سے اخراج نہیں ہوتا۔ مثل نور چراغ اطراف و جوانب سے سمیٹ لیتے ہیں۔ ان کے سوا دوسروں کی ارواح کو ان کے ابدان سے خارج کر دیتے ہیں۔ اس لیے سماع انبیاء علیہم السلام بعد وفات زیادہ تر قرین قیاس ہے اور اسی لیے ان کی زیارت وفات کے بعد بھی ایسی ہے جیسے ایام حیات میں احیاء کی زیارت ہوا کرتی ہے۔ اور اس وجہ سے یوں نہیں کہہ سکتے کہ زیارت نبیﷺ مثل زیارت مسجد زیارت مکان مکین ہے۔ اور اسی وجہ سے [لا يشد الرحال] وہاں اہتمام سے جانا ممنوع ہے۔ بلکہ وہ زیارت مکاں مکین ہے۔ [جمال قاسمی ص:16]
بریلوی علماء کی طرح دیوبندی علماء بھی حیات النبیﷺ کے قائل ہیں۔ قاسم نانوتوی صاحب کا نظریہ آپ نے ملاحظہ فرمایا۔ ایسے ہی نظریات کا اظہار محمد طاہر قاسمی صاحب عقائد اسلام قاسمی صفحہ74 پر کر رہے ہیں:
یہ حیات النبیﷺ کا عقیدہ علماء دیوبند کے عقائد میں داخل ہے [المهند على المفند] علمائے دیو بند کے عقائد کی ایسی مستند کتاب ہے جس پر بہت سے علماء دیوبند کی تصدیقات موجود ہیں، اس میں یہ عقیدہ لکھا ہوا ہے آپﷺ اپنی قبر میں زندہ ہیں۔ اور آپ کی حیات دنیا جیسی ہے برزخی نہیں ہے۔ [المهند فی عقائد علماء دیو بند صفحه70]
معروف دیو بندی عالم اخلاق حسین قاسمی صاحب لکھتے ہیں :
حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب جو ہمارے اکابر میں ہیں حضرت محمد قاسم نانوتوی کے علوم و معارف کے بہترین شارح ہیں اس مسئلہ پر تحریر فرماتے ہیں:
حضور کی حیات برزخی ہے مگر اس قدر قوی ہے کہ بلحاظ آثار وہ دنیوی بھی ہے … یہی وجہ ہے کہ بعد وفات حضور کے ہونٹوں کو حرکت ہوئی، جنازہ میں کلام فرمایا اور قبر میں کلام فرمایا جس کو بعض صحابہ نے سنا، یہ تو وفات کے فوری بعد ہے کہ روح نے جسم کو کلیتہ نہیں چھوڑا۔ لیکن بعد میں تا حشر بھی روح کا وہی تعلق بدن سے قائم رہے گا جیسا کہ بنص حدیث اجساد انبیاء کامٹی پر حرام ہونا ثابت ہے۔ اگر ان ابدان میں کوئی روح نہیں ہے تو انہیں گل جانا چاہیے، پھر حیات کا یہ اثر عالم برزخ میں ہے، عالم دنیا میں یہ ہے،کہ ان کے اموال میں میراث جاری نہیں ہوتی، ان کی ازواج پر بیوگی نہیں آتی، ان کے نکاح حرام ہوتے ہیں نہ صرف عظمت انبیاء کی وجہ سے بلکہ حقیقتا حیات کی وجہ سے کہ وہ بیوہ ہی نہیں ہیں، پس انبیاء کی یہ برزخی حیات جسمانی از قبیل دنیوی بھی ہے۔ کہ اجساد میں حس و حرکت بھی ہے، قبروں میں عبادت بھی ہے، کلام بھی ہے، امت کی طرف توجہ بھی ہے، پھر یہی حیات از قبیل حیات برزخی بھی ہے، کہ نگاہوں سے اوجھل ہے۔ ان کی آواز ان کانوں میں نہیں آتی، اور کلام ان حسی کانوں میں نہیں پڑتا، نیز امت کے حال کی طرف توجہ اور رخ کا پھیرنا ان آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا، سو اس میں ہماری کمزوری کو یعنی ضعف قوی کو دخل ہے نہ کہ ان آثار کے موجود نہ ہونے یا قابل وجود نہ ہونے کا، بالفاظ مختصر دونوں حیا تیں اس طرح جمع ہیں کہ حیات برزخی اصل ہے اور حیات دنیوی اس کے تابع، یعنی وہ عینا موجود ہے اور یہ آثاراموجود ہے۔ اسی طرح دونوں حیات جمع ہو جاتی ہیں نہ استعارۃ بلکہ حقیقتا۔ [حیاۃ النبی از اخلاق حسین قاسمی ص:13]
قارئین کرام! بتائیے قرآن مجید کی کسی آیت میں اور رسول اللہ ﷺکے کسی فرمان میں ان نظریات کی تائید ہوتی ہے، کیا صحابہ کرام، تابعین اور ائمہ دین حیات ذاتی، حیات دنیوی یا حقیقت محمدیہ کی گمراہیوں سے واقف تھے؟ یقینا نہیں، پھر جو عقائد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نہ تھے آج وہ ابن عربی اور دیگر صوفیا کی پیروی میں من گھڑت روایات کی بنیاد پر کیسے اسلامی ہو سکتے ہیں؟
اگر رسول اللہﷺاپنی قبر میں زندہ ہیں، قبر میں کلام فرماتے ہیں، ان کی ازواج مطہرات بیوہ ہی نہیں ہوئیں تو پھر ان دلائل کا کیا جواب ہے۔
① ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:
اپنے ایک نیک بندے کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا کہ دنیا کی نعمتوں میں سے جو وہ چاہے اسے اپنے لیے پسند کر لے یا جو اللہ تعالیٰ کے یہاں ہے (آخرت میں) اسے پسند کر لے ۔ اس بندے نے اللہ تعالیٰ کے ہاں ملنے والی چیز کو پسند کر لیا۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کیا ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ (ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) ہمیں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس رونے پر حیرت ہوئی، بعض لوگوں نے کہا اس بزرگ کو دیکھئیے، نبی کریمﷺ تو ایک بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی نعمتوں اور جو اللہ کے پاس ہے اس میں سے کسی کے پسند کرنے کا اختیار دیا تھا اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ لیکن رسول اللہﷺ ہی کو ان دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ اس بات سے واقف تھے۔ [بخاری: 3904]،[مسلم:2382]
اگر آپ فوت ہی نہیں ہوئے تو ابو بکر کا رونا اور اس حدیث کا کیا مطلب ہے؟
② اگر رسول اللہﷺ قبر سے کلام فرماتے ہیں، اور امت کی طرف توجہ بھی ہے تو پھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا یہ کہنا کیا مطلب رکھتا ہے، کہ اس دن سے تابناک اور بہترین دن کوئی نہ تھا جس دن رسول اللہﷺ مدینہ تشریف لائے تھے۔ اور کوئی دن اس سے زیادہ تاریک نہ تھا، جس دن آپ نے وفات پائی۔
[ابن ماجه:1631]
③ اگر نبی رحمتﷺ کی روح بدن سے خارج نہیں ہوئی، تو پھر جب رسول اللہﷺ نے فاطمہ رضي اللہ عنہما سے سرگوشی کی اور بتایا، کہ آپ اپنے اس مرض سے وفات پا جائیں گے۔ تو فاطمہ رضي اللہ عنہما رونے کیوں لگ گئی تھیں؟
[بخاری:4433]،[مسلم:2450]
اور آپ کی وفات کے بعد شدت غم سے انس رضی اللہ عنہ سے کیوں کہا کہ تم نے کس دل سے اللہ کے نبیﷺ کے جسم پر مٹی ڈالی۔ [سنن ابن ماجۃ:1630]
④ اگر آپ فوت ہی نہیں ہوئے تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس اعلان کے جواب میں کہ ،،آپﷺ،، اس وقت تک وفات نہیں پائیں گے، جب تک اللہ تعالی منافقین کو فنا نہ کردے۔ ابو بکر رضي اللہ عنہ کا مشہور خطبہ کا کیا مطلب ہے، جس میں آپ نے فرمایا:
[أما بعد ، فمن كان منكم يعبد محمدا، فإن محمدا قد مات، ومن كان منكم يعبد الله، فإن الله حي لا يموت]
اما بعد: تم میں سے جو شخص محمدﷺ کی پوجا کرتا تھا،وہ جان لے کہ محمدﷺ کی موت واقع ہو چکی ہے۔ اور تم میں سے جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا، تو یقینا اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے، کبھی نہیں مرے گا۔ پھر ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت کی:
[وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ ؕ اَفَا۠ئِنۡ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انۡقَلَبۡتُمۡ عَلٰۤی اَعۡقَابِکُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّنۡقَلِبۡ عَلٰی عَقِبَیۡہِ فَلَنۡ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیۡئًا ؕ وَ سَیَجۡزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیۡنَ]
اور نہیں ہے محمد مگر ایک رسول، بے شک اس سے پہلے کئی رسول گزر چکے تو کیا اگر وہ فوت ہو جائے، یا قتل کر دیا جائے تو تم اپنی ایڑیوں پر پھر جائو گے اور جو اپنی ایڑیوں پر پھر جائے تو وہ اللہ کو ہرگز کچھ بھی نقصان نہیں پہنچائے گا اور اللہ شکر کرنے والوں کو جلد جزا دے گا۔ [آل عمران:144]
اس آیت کو سن کر ابن عباس رضی اللہ عنہ کیوں کہتے ہیں؟
واللہ! ایسا لگتا تھا کہ لوگوں نے اس سے پہلے جانا ہی نہ تھا، کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے یہاں تک کہ ابو بکر رضي اللہ عنہ نے اس کی تلاوت کی تو سارے لوگوں نے یہ آیت لے لی اور ہر انسان اس کی تلاوت کر رہا تھا۔
اور اس آیت کو سن کر عمر فاروق رضي اللہ عنہ کیوں کہتے ہیں؟
واللہ! میں نے جوں ہی ابو بکر رضی اللہ عنہ کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا تو جان گیا کہ یہ برحق ہے، پس میں ٹوٹ کر رہ گیا حتی کہ میرے پاؤں مجھے سہارہی نہیں رہے تھے، اور میں زمین کی طرف لڑھک گیا اور میں جان گیا کہ نبی اکرمﷺ کی وفات ہو چکی۔ [بخاری:4454]
⑦ حضور عالم الغیب ہیں:
مفتی احمد یار خان صاحب لکھتے ہیں:
[هو عليه السلام لا يخفى عليه شيء من الخمس المذكورة في الآية وكيف يخفى ذلك والا قطاب السبعة من امته يعلمونها وهم دون الغوث فكيف بسيد الاوّلين والاخرين الذي هو سبب كل شيء ومنه كل شيء]
قرآن میں ہے کہ پانچ چیزوں کا علم کوئی نہیں جانتا۔ ہاں حضور اقدسﷺ سے ان پانچ چیزوں کا علم مخفی نہیں رہ سکتا۔ آپ کی شان تو بہت اونچی ہے، بلکہ آپ کی امت کے سات اقطاب بھی ان پانچ چیزوں کا علم رکھتے ہیں۔ حالانکہ یہ اقطاب غوث کے مقام سے کم درجہ رکھتے ہیں تو بتلائیے اس علم میں غوث کی کیا شان ہوگی۔ جب آپ کی امت کے غوث اور اقطاب بھی ان چیزوں کا علم رکھتے ہیں تو حضور اکرمﷺ سے ان پانچ چیزوں کا علم کیسے مخفی رہ سکتا ہے۔ اس لیے کہ آپ سید الاولین والآخرین ہیں۔ اور آپ کا وجود اقدس تخلیق کائنات کا باعث ہے۔ صرف باعث ہی نہیں بلکہ اصل کائنات ہونے کی وجہ سے تمام کائنات آپ کے وجود سے ظاہر ہوئی ہے۔ [جاء الحق ص:106]
بریلوی علماء ان آیات پر غور کیوں نہیں کرتے؟
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: [قُلۡ لَّا یَعۡلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ الۡغَیۡبَ اِلَّا اللّٰہُ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ]
کہہ دے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا اور وہ شعور نہیں رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ [النمل:65]
سید البشر محمد رسول اللہﷺ سے اعلان کروایا :
[وَلَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ] اور نہ میں غیب کی باتیں جانتا ہوں۔ [الأنعام:50]
اور فرمایا: [وَلَوۡ کُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ لَاسۡتَکۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَیۡرِ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوۡٓءُ]
اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ [الأعراف:188]
اللہ تعالیٰ کے علم میں کسی دوسرے کو شریک سمجھنا شرک فی العلم ہے۔ اللہ تعالی نے جب رسول اللہﷺ کو اطلاع دی تو آپ نے قرب قیامت کی علامات دجال کی آمد اور نزول عیسی سمیت بہت سے واقعات بیان فرمائے اور جب اللہ نے اطلاع نہیں دی تو:
① آپ نے اس منافق کے ساتھ ستر جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین بھیج دیے۔ جس نے کہا تھا کہ اسے تبلیغ اسلام کے لیے مبلغین چاہئیں۔ اور راستہ میں اس نے دھوکہ سے سب صحابہ کرام رضي اللہ عنہم اجمعین کو شہید کروا دیا۔ [صحیح بخاری:4090]،[مسلم:677]
② آپﷺ نے ایک یہودی کے ہاں زہر آلود کھانا کھالیا، جس سے ایک صحابی رضي اللہ عنہ موقع پر شہید ہو گئے۔ اور وفات کے وقت زہرنے آپ پر بھی اثر دکھایا۔[ابوداؤ د:4508]،[مسلم:2190]
③ منافقین نے عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما پر تہمت لگائی۔ آپ ایک ماہ تک سخت پریشان رہے۔ ایک ماہ بعد اللہ نے بذریعہ وحی عائشہ رضی اللہ عنہما کو بری کیا،اور آپ کی پریشانی دور ہوئی۔ [بخاری:4750]
⑧ حضور کائنات کے ذرہ ذرہ کے لیے رحم فرمانے والے ہیں:
سید احمد سعید کاظمی صاحب قرآن مجید کی آیت کو اپنے مسلک کی بنیاد بناتے ہیں:[وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ]
اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ [الأنبياء:107]
اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضور نبی کریمﷺ تمام کائنات کل مخلوق، ایک ایک ذرہ، ایک ایک قطرہ، اللہ کے سوا ہر شے کے لیے رحم فرمانے والے ہیں۔ کسی رحم کرنےوالےکے لیے چار باتیں لازم ہیں:
① پہلی بات: یہ امر لازم ہے کہ رحم کرنے والا زندہ ہو مردہ نہ ہو کیونکہ مردہ رحم نہیں کر سکتا۔ وہ خود رحم کا طالب ومستحق ہوتا ہے۔ لہذا اگر حضورﷺ معاذاللہ زندہ نہ ہوں تو [رحمة للعالمین] نہیں ہو سکتے۔ جب آیت قرآنیہ سے حضورﷺ کا [رحمة للعالمین] ہونا ثابت ہو گیا۔تو حضورﷺ کا زندہ ہونا ثابت ہو گیا۔
② دوسری بات: یہ کہ صرف زندہ ہونے سے کسی پر رحم نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک رحم کرنے والا مرحوم کے حال کا عالم نہ ہو۔ کیونکہ بے خبر کسی پر کیا رحم کرے گا۔ آیت قرآنیہ کی روشنی میں حضورﷺ [رحمة للعالمین] ہیں۔ تو جب تک حضور ﷺ تمام عالمین کا ماسوی الله جمیع کا ئنات و مخلوقات کو نہ جانیں اور جمیع [ما كان وما يكون] کا علم حضور ﷺ کو نہ ہو تو اس وقت تک حضورﷺ [رحمة للعالمین] نہیں ہو سکتے۔ جب حضورﷺ کا [رحمة للعالمین] ہونا ثابت ہے تو تمام کائنات کے احوال کا عالم ہونا بھی ثابت ہو گیا ہے۔
③ تیسری بات: یہ ہے کہ صرف عالم ہونے سے کسی پر رحم نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک رحم کرنے والا مرحوم تک اپنی رحمت و نعمت پہنچانے کی قدرت و اختیار نہ رکھتا ہو۔ اس سے معلوم ہوا قدرت و اختیار کا ہونا بھی رحم کرنے کے لیے ضروری ہے۔ جب حضور ﷺ تمام مخلوقات اور کل کائنات کے لیے علی الاطلاق راحم ہیں، تو ہر ذرہ کائنات تک رحمت و نعمت پہنچانے کی قدرت و اختیار بھی حضورﷺ کے لیے حاصل ہے۔
④ چوتھی بات: یہ ہے کہ صرف قدرت و اختیار سے کام نہیں چلتا۔ کسی رحم کرنے والے کے لیے یہ بات بھی ضروری ہے کہ رحم کرنے والا مرحوم کے قریب ہو۔ یہ بات تو ایک مثال کے ذریعے یوں سمجھیے کہ مثلا آپ تین فرلانگ کے فاصلے پر کھڑے ہیں اچانک کیا دیکھتے ہیں ایک خونخوار دشمن نے آپ کے مخلص دوست پر حملہ کر دیا ہے۔ وہ چلا کر آپ سے رحم کی درخواست کرنے لگا، آپ اس کی مدد کے لیے دوڑے اور خلوص قلب سے اس پر رحم کرنے کے لیے آگے بڑھے، مگر آپ کے پہنچنے سے پہلے ہی دشمن نے اسے ہلاک کردیا۔ اب غور کریں آپ زندہ بھی ہیں اور اس دوست کو بچشم خود ملاحظہ بھی فرمارہے ہیں، اس کے حال سے بھی واقف ہیں۔ رحم کرنے کی قدرت و اختیار بھی آپ کو حاصل ہے، لیکن اپنے اختیار سے رحم نہیں کر سکتے۔ صرف اس وجہ سے کہ وہ مخلص دوست آپ سے دور ہے اور آپ اس سے دور ہیں۔ آپ اپنی حیات، قدرت و اختیار کے باوجود بھی اس پر رحم نہیں کر سکتے۔ معلوم ہوا کہ رحم کرنے کے لیے راحم کا مرحوم کے قریب ہونا بھی ضروری ہے۔ اس آیت قرآنیہ سے جب رسول کریمﷺ کے لیے تمام جہانوں اور مخلوقات کے ہر ذرے کے لیے راحم ہونا ثابت ہو گیا۔ تو یہ امر بھی واضح ہو گیا کہ حضور کریمﷺ اپنی روحانیت و نورانیت کے ساتھ تمام کائنات کے قریب ہیں۔ اور ساری کائنات حضورﷺ کے قریب ہے۔ اگر یہاں یہ شبہ کیا جائے کہ ایک ذات تمام جہانوں کے قریب کیسے ہو سکتی ہے ایک فرد کسی ایک کےقریب تو ہو گا اس کے علاوہ باقی سب سے دور ہو گا۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ فرد واحد افراد کا ئنات میں ہر ایک کے قریب ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ جن دو کے درمیان نزدیکی مقصود ہے اگر وہ دونوں کثیف ہوں تو واقعی ایسا ہی ہوگا۔ کہ فرد واحد افراد مختلفہ فی الزمان والمکان سے بیک وقت قریب نہیں ہو سکتا۔ اور دونوں لطیف ہوں یا دونوں میں سے ایک لطیف ہو تو جو لطیف ہوگا تو بیک وقت تمام موجودات کائنات کے قریب ہو سکتا ہے۔ جس میں کوئی شرعی یا عقلی استحالہ لازم نہیں آتا۔ اس لیے حضور کا تمام افراد ممکنات سے قریب ہونا بالکل واضح اورروشن ہے۔ ہم کثیف سہی لیکن حضورﷺ تو لطیف ہیں، لہذا حضور کا ہم سے قریب ہونا کوئی دشوار عمل نہیں۔ آواز کی لطافت کا یہ حال ہے کہ جہاں تک ہوا جا سکتی ہے آواز بھی وہاں تک پہنچ سکتی ہے۔ لیکن حضور آواز اور ہوا سے بھی زیادہ لطیف ہیں۔ ہوا اپنے مقام محدود سے آگے نہیں بڑھ سکتی، اور آواز ہوا سے آگے نہیں جاسکتی۔ لیکن جہاں آواز اور ہوا بھی نہ جاسکے، آواز اور ہوا تو کیا، یوں کہیے کہ جہاں حضرت جبرائیل کا بھی گزر نہ ہو سکے وہاں حضورﷺ پہنچ جاتے ہیں۔ بلکہ جہاں زمانہ اور مکان بھی نہ پایا جا سکے وہاں بھی حضورﷺ پائے جاتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو شب معراج کا واقعہ سامنے رکھ لیجئے جس سے آپ کو ہمارے بیان کی پوری تصدیق ہو جائے گی لہذا ایک آیت سے پانچ مسائل وضاحت کے ساتھ ثابت ہو گئے۔ یعنی حضورﷺ تمام عالموں کے لیے رحمت فرمانے والے؟ لہذا زندہ ہیں اور تمام کائنات کے حالات و کیفیات کے عالم بھی ہیں۔ اور ساتھ ہی ہر عالم کے ہر ذرے پر اپنی رحمت اور نعمت پہنچانے کی قدرت اور اختیار بھی رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ تمام عالم کو محیط اور تمام کائنات کی ہر شے سے قریب بھی ہیں، نیز ایسے روحانی ، نورانی اور لطیف ہیں کہ جس کی بنا پر آپ کا کسی ایک چیز کے قریب ہونا دوسری سے بعید ہونے کو مستلزم نہیں ۔ بلکہ بیک وقت تمام افراد عالم سے یکساں قریب ہیں۔ [مقالات کاظمی، ج:1 ص:99]
نیز لکھتے ہیں: جب وہ [رحمة للعالمین] ہونے کی وجہ سے روح دو عالم ہیں، تو کس طرح ممکن ہے کہ عالم کا کوئی فرد یا جز و اس رحمت مقدسہ سے خالی ہو جائے۔ لہذا ماننا پڑے گا، کہ حضورﷺ [رحمة للعالمین] ہو کر روح کا ئنات ہیں اور عالم کے ہر ذرے میں روحانیت محمدیہ کے جلوے چمک رہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ آپ کی یہ جلوہ گری علم و ادراک اور نظر و بصر سے معرّی ہو کرنہیں ہو سکتی۔ کیونکہ روحانیت و نورانیت ہی اصل ادراک اور حقیقت نظر و بصر ہے۔ لہذا ثابت ہوگیا کہ عرش سے فرش تک تمام مخلوقات و ممکنات کے حقائق لطیفہ پر حضور نبی کریم ﷺ حاضر و ناظر ہیں۔ اس مضمون کو ذہن نشین کرنے کے بعد یہ امر خود بخود واضح ہو جاتا ہے کہ علماء عارفین اور اولیاء کاملین نے جو حقیقت محمدیہ کو تمام ذرات کائنات میں جاری و ساری بتایا ہے، ان کا اصل یہی آیت مبارکہ ہے۔ [تسکین الخواطرص:44]
قارئین کرام! سیرت رسولﷺ کا ادنیٰ طالب علم بھی جانتا ہے کہ کاظمی صاحب نے جو کچھ بھی بیان کیا ہے وہ محمد بن عبد اللہ کی صفات نہیں ہیں۔ کاظمی صاحب کا یہ فرمانا کہ امت محمدیہ کے نزدیک یہ امر قطعی ہے که [وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ] میں کاف خطاب سے مراد محمد رسول اللہﷺ ہیں بالکل درست ہے۔ مگر کون محمد رسول اللہﷺ؟ امت کے نزدیک محمد رسول اللہﷺ سے مراد محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب ہیں۔ صحابہ کرام اور سلف صالحین میں سے کوئی ایک بھی اس سے مراد حقیقت محمدیہ نہیں لیتا۔ وہ اس آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں۔
آپ پوری انسانیت کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ جس نے آپ کی بات کو قبول کیا اور ایمان لے آیا گویا اس نے اس رحمت کو قبول کر لیا۔ اور وہ دنیا وآخرت کی سعادتوں سے ہمکنار ہوا۔ اور آپ ان کے لیے بھی اس معنی میں رحمت ہیں جنہوں نے آپ کے دین کو قبول نہ کیا۔ کہ وہ قوم نوح اور قوم لوط کی طرح بالکل تباہ برباد نہیں کیے جائیں گے۔ حقیقت محمدیہ اور وحدۃ الوجود جیسے عقائد سے صحابہ، تابعین اور سلف صالحین بری ہیں۔
قرآنی آیات کے حوالے سے رسول اللہﷺ کا اپنی ذات کے لیے اور دوسروں کے لیے نفع و نقصان کا مالک نہ ہونے کا ذکر اور آپ کے عالم الغیب نہ ہونے کے دلائل پہلے بیان ہو چکے ہیں۔ آپﷺ کی وفات کا تذکرہ صحیح بخاری کے حوالے سے بھی ہو چکا ہے، اللہ تعالیٰ ان حضرات کو قرآن وحدیث پر ایمان لانے کی توفیق دے، آمین۔
⑨ حضورﷺ نبوت سے پہلے قرآن کا علم جانتے تھے:
مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب کی تحریر ملاحظہ فرمائیں:
ہماری اس تحریر پر بعض افراد کی طرف سے ایک شبہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب رسول اللہﷺ بلا واسطہ اللہ تعالی سے سب کچھ لے سکتے ہیں، تو پھر ان کے اور رب کے درمیان جبرائیل کا واسطہ کیوں رکھا گیا اور وحی کا سلسلہ کیوں قائم کیا گیا۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے: [نَزَلَ بِہِ الرُّوۡحُ الۡاَمِیۡنُ]،[عَلٰی قَلۡبِکَ] حضرت جبرئیل نے یہ قرآن آپ کے دل پر اتارا۔ [الشعراء:194،193]
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ہم بلا واسطہ رب سے کچھ نہیں لے سکتے ایسے ہی رسول بلا واسطہ اس سے کچھ نہیں لے سکتے۔ وہ حضرات ایک اور رسول کے حاجت مند ہیں جنہیں شریعت کی زبان میں روح القدس یا جبرئیل کہتے ہیں۔ اس لیے قرآن کریم نے حضرت جبرئیل اور ان کے معاونین فرشتوں کو رسول بتایا۔
① اس شبہ کا ازالہ: اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ وحی کی آمد اور جبرئیل کا حضورﷺ پر آنا قانون کے اجرا کے لیے ہے۔ نہ کہ رسول اکرمﷺ کے علم کے لیے رب تعالیٰ نے حضور کو پہلے ہی سب کچھ سکھا پڑھا کر بھیج دیا، مگر قوانین الہی کا بندوں میں اجراء اس وقت ہوگا جب بذریعہ وحی قانون نازل فرمایا جائے گا۔ اس کے چند دلائل یہ ہیں۔ ایک یہ کہ رب العالمین نے قرآن کریم کی تعریف اس طرح فرمائی [هدی للمتقین] یہ قرآن پر ہیز گاروں کا ہادی ہے۔ یعنی اے محبوب تمہارا ہادی نہیں تم تو پہلے ہی ہدایت یافتہ ہو کہیں [هدى لك] نہ فرمایا کہ یہ قرآن آپ کے لیے ہدایت ہے۔
② دوسرے یہ کہ نزول قرآن کا سلسلہ حضور ﷺ کی عمر شریف کے چالیس سال کے بعد شروع ہوا۔ مگر حضور کی چالیس سالہ زندگی صدق و امانت، راست گفتاری و پاکبازی کا مرقع تھی۔ حتی کہ کفار نے آپ کو [أمين و صادق الوعد] کا خطاب دے رکھا تھا۔ اگر آپ کی ہدایت نزول قرآن پر موقوف ہوتی تو آپ کے یہ چالیس سال اپنے ماحول کے مطابق عام اہل عرب کے مطابق گزرتے اور احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ آپ اس دراز مدت میں کفر و شرک تو کیا کبھی کھیل کود، تماشوں، شراب اور جھوٹ وغیرہ کے بھی قریب نہ گئے ۔
③ تیسرے یہ کہ جب پہلی وحی نازل ہوئی تو اس وقت سرکار غار حرا میں 6 ماہ سے اعتکاف، نماز سجدہ، رکوع وغیرہ عبادت میں مشغول تھے، غور کیجئے کہ اس زمانے میں حضورﷺ نے یہ عبادتیں کس سے سیکھیں تھیں۔
④ چوتھے یہ کہ خیال کیا جاتا ہے کہ حضورﷺ کو نماز کا تحفہ معراج کی رات لامکان میں پہنچ کر عطا ہوا اور معراج کے سویرے فجر کی نماز نہ پڑھائی گئی۔ ظہر کے وقت سے متواتر دو روز تک جبرائیل امین حاضر ہوتے رہے اور حضورﷺ کو ہر وقت کی نماز پڑھاتے رہے، تب نماز پنچگانہ جاری کی گئی مگر یہ بھی غور کیا کہ معراج کی رات فرش سے عرش پر جاتے ہوئے حضورﷺ نے بیت المقدس میں سارے انبیاء کرام کو نماز پڑھائی۔ اس طرح آپ امام ہوئے، اور سارے انبیاء مقتدی۔ جن میں بعض موذن اور بعض مکبّر بنے۔ غور تو کرو نماز لینے جا رہے ہیں مگر نماز پڑھا کر جارہے ہیں۔ اور کن کو نماز پڑھائی۔ ماوشما کو نہیں بلکہ ان انبیاء کرام کو جو اپنی امتوں کو نماز پڑھاتے، بتاتے اور سکھاتے رہے۔ اور یہ مسئلہ معلوم ہونا چاہیے کہ نماز کا امام شرعا وہ ہوتا ہے جو تمام مقتدیوں سے زیادہ نماز کے مسائل سے واقف ہوتا ہے۔
⑤ پانچویں یہ کہ حضورﷺ پر وحی بواسطہ جبرئیل علیہ السلام نہ ہوتی تھی، وحی کا بیشتر حصہ وہ ہے جو بلا واسطہ جبرئیل حضور پر القا ہوتا تھا رب تعالیٰ فرماتا ہے: [وَمَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی]،[اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی]
[ہمارے محبوب اپنی خواہش سے کلام نہیں فرماتے]،[ وہ سب وحی الہی ہے جو ان کی طرف کی جاتی ہے]۔ [النجم:4،3]
اور ظاہر ہے کہ ہر کلام پر جبرئیل امین وحی لے کر نہ آتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
[ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی]،[فَکَانَ قَابَ قَوۡسَیۡنِ اَوۡ اَدۡنٰی]،[فَاَوۡحٰۤی اِلٰی عَبۡدِہٖ مَاۤ اَوۡحٰی]
[پھر ہمارے محبوب قریب سے قریب ہوئے]،[چنانچہ پھر دو کمانوں میں ہو گئے]،[ پھر رب نے اپنے بندے کو جو وحی کی سوکی]۔ [النجم:8 تا 10]
ظاہر بات یہ ہے کہ اس قرب خاص کے وقت جو وحی کی گئی وہاں جبرئیل امین کا گمان و خیال بھی نہ پہنچ سکا۔غنچے ،،ما اوحی،، کے وہ چٹکے ،،دنا،، کے باغ سے بلبل سدرہ تک ان کی بو سے محروم ہیں۔ بہر حال یہ ماننا ہی پڑے گا کہ رب العالمین اور محبوب کے درمیان جناب جبرئیل امین کی آمد ورفت اور وحی کا سلسلہ اجراء قوانین کے لیے ہے نہ کہ نبی کریمﷺ کے محض علم کے لیے۔ ورنہ پھر جیسے ہم حضور کے امتی ہیں حضور جبرائیل کے امتی ہوئے اور جیسے ہم حضورﷺ کا کلمہ پڑھتے ہیں حضور جبرئیل امین کا کلمہ پڑھتے۔ [رسائل نعیمہ ص253]
قارئین کرام!
بخاری و مسلم میں وحی کے آغاز کا قصہ موجود ہے، اس قصہ پر غور فرمائیے یہ قصہ مفتی نعیمی صاحب کی غلط فہمی کا بہترین ازالہ پیش کر رہا ہے:
ام المومنین عائشہ رضي اللہ عنہما روایت کرتی ہیں: کہ رسول اللہﷺ غار حرا میں تھے، کہ آپ کے پاس وحی لے کر جبرئیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے کہا پڑھ، آپ نے فرمایا: میں پڑھا لکھا نہیں ہوں، آپ فرماتے ہیں: پھر جبریل علیہ السلام نے مجھ کو پکڑ کر ایسا بھینچا کہ میں بے طاقت ہو گیا، پھر مجھ کو چھوڑ دیا اور کہا پڑھ، میں نے کہا کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں (کیونکر پڑھوں) انہوں نے مجھ کو پھر پکڑا اور دوسری بار اتنا دبایا کہ میری طاقت نے جواب دے دیا، پھر مجھ کو چھوڑ دیا اور کہا پڑھ میں نے کہا (کیسے پڑھوں) میں پڑھا لکھا نہیں ہوں، انہوں نے پھر مجھ کو پکڑا اور تیسری مرتبہ دیایا پھر مجھ کو چھوڑ دیا اور کہا: [اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ]،[خَلَقَ الإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ]،[اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ] پس یہ آیات سن کر آپ پہاڑ سے لوٹے، آپ کا دل (ڈر کے مارے) کانپ رہا تھا، آپ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا: مجھ کو کپڑا اوڑھا دو، مجھ کو کپڑا اوڑھا دو، آپ کو کپڑا اوڑھایا گیا، جب آپ کا ڈر جاتا رہا تو آپ نے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے یہ قصہ بیان کر کے فرمایا: مجھے اپنی جان کا ڈر ہے، خدیجہ رضي اللہ عنہا نے کہا ہرگز نہیں اللہ کی قسم اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، پھر وہ آپ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو خدیجہ کے چچازاد بھائی تھے، جاہلیت میں عیسائی ہو گئے تھے، بوڑھے ضعیف ہو کر نا بینا ہو گئے تھے، آپ نے جو کچھ دیکھا وہ ان سے بیان کیا ، ورقہ بن نوفل نے کہا کہ وہ تو اللہ کا فرشتہ ہے جس کو اللہ تعالی موسیٰ علیہ السلام پر اتارتا تھا، کاش میں اس وقت جوان ہوتا، کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا، جب تم کو تمہاری قوم (اپنے شہر سے) نکال دے گی، رسول اللہﷺ نے فرمایا:کیا یہ مجھے نکال دیں گے۔ ورقہ نے کہا: ہاں (بے شک نکال دیں گے) جب کبھی کسی شخص نے ایسی بات کہی جیسی تم کہتے ہو تو لوگ اس کے دشمن ہو گئے۔ [بخاری:3]،[مسلم:160]
رسول اللہﷺ فرماتے ہیں: کہ میں ایک بار راستے میں جا رہا تھا، اتنے میں میں نے آسمان سے آواز سنی، آنکھ اٹھا کر اوپر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا، آسمان اور زمین کے درمیان میں ایک کرسی پر بیٹھا ہے، میں یہ دیکھ کر ڈر گیا، اپنے گھر لوٹا میں نے گھر والوں سے کہا مجھ کو کپڑا اوڑھا دو، مجھ کو کپڑا اوڑھا دو۔ [بخاری: 4]،[مسلم:161]
اور اگر قرآن حکیم کا نزول صرف قوانین الہی کا بندوں میں اجراء کے لیے تھا، اور آپ کو پہلے ہی سےسب کچھ سکھا پڑھا کر بھیجا تھا، تو ان آیات کا کیا مطلب ہے؟
[وَ کَذٰلِکَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ رُوۡحًا مِّنۡ اَمۡرِنَا ؕ مَا کُنۡتَ تَدۡرِیۡ مَا الۡکِتٰبُ وَ لَا الۡاِیۡمَانُ وَ لٰکِنۡ جَعَلۡنٰہُ نُوۡرًا نَّہۡدِیۡ بِہٖ مَنۡ نَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِنَا ؕ وَ اِنَّکَ لَتَہۡدِیۡۤ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ]
اور اسی طرح ہم نے تیری طرف اپنے حکم سے ایک روح کی وحی کی، تو نہیں جانتا تھا کہ کتاب کیا ہے اور نہ یہ کہ ایمان کیا ہے اور لیکن ہم نے اسے ایک ایسی روشنی بنا دیا ہے جس کے ساتھ ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں راہ دکھا تے ہیں اور بلاشبہ تو یقینا سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ [الشوری:52]
[وَمَا کُنۡتَ تَرۡجُوۡۤا اَنۡ یُّلۡقٰۤی اِلَیۡکَ الۡکِتٰبُ اِلَّا رَحۡمَۃً مِّنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوۡنَنَّ ظَہِیۡرًا لِّلۡکٰفِرِیۡنَ]
اور تو امید نہ رکھتا تھا کہ تیر ی طرف کتاب نازل کی جائے گی مگرتیرے رب کی طرف سے رحمت کی وجہ سے (یہ نازل ہوئی) سو تو ہرگز کافروں کا مددگار نہ بن۔ [القصص:86]
سورۃ نجم کی جن آیات کو مفتی نعیمی صاحب بنیاد بنا کر لکھتے ہیں۔ کہ وحی کا بیشتر حصہ وہ ہے جو بلا واسطہ جبرائیل حضور ﷺ پر القا ہوتا تھا ، اس کی تفسیر مسروق رحمہ اللہ نے عائشہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کی کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
[ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی]،[فَکَانَ قَابَ قَوۡسَیۡنِ اَوۡ اَدۡنٰی]،[فَاَوۡحٰۤی اِلٰی عَبۡدِہٖ مَاۤ اَوۡحٰی]۔ [النجم:8 تا 10]
اس سے کون مراد ہے تو عائشہ رضي اللہ عنہا نے بتایا کہ اس سے جبرئیل علیہ السلام مراد ہیں۔ [صحیح مسلم:177]
ام المومنین عائشہ رضي اللہ عنہما فرماتی ہیں: کہ جس نے یہ گمان کیا کہ محمدﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے، اس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا اور سب سے پہلے میں نے رسول اللہﷺسے ان آیات کی تفسیرپوچھی تو آپ نے فرمایا:کہ اس سے مراد جبرئیل علیہ السلام ہیں۔ جن کو میں نے صرف دو مرتبہ ان کی اصل صورت میں دیکھا۔ [مسلم:177]
جب یہاں بھی مراد جبرئیل ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ پورا قرآن مجید جبرئیل علیہ السلام کے ذریعہ نازل ہوا، اللہ تعالی فرماتا ہے:
[وَ اِنَّہٗ لَتَنۡزِیۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ]،[نَزَلَ بِہِ الرُّوۡحُ الۡاَمِیۡنُ]،[ عَلٰی قَلۡبِکَ لِتَکُوۡنَ مِنَ الۡمُنۡذِرِیۡنَ]
[اور بے شک یہ یقینا رب العالمین کا نازل کیا ہوا ہے]،[جسے امانت دار فرشتہ لے کر اترا ہے]،[تیرے دل پر، تاکہ تو ڈرانے والوں سے ہو جائے]۔ [الشعراء:192تا194]
دوسرا مسئلہ: معراج کو جاتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کا انبیاء علیہ السلام کو نماز پڑھانا، اس پر مفتی نعیمی صاحب کا یہ کہنا کہ آپ معراج پر نماز لینے جا رہے تھے مگر نماز پڑھا کر جا رہے تھے غلط ہے، رسالت شروع ہونے کے بعد سب سے پہلے جو حکم دیا گیا وہ نماز کا حکم تھا، جبرئیل علیہ السلام نے تشریف لا کر نماز اور وضو کا طریقہ بتایا، صبح اور شام دو دو رکعت نماز پڑھنے کا حکم دیا، بلکہ اسلام کے ابتدائی دنوں میں نماز کے علاوہ کسی عبادت کا پتہ نہیں چلتا، معراج پر تو پانچ نمازیں فرض ہوئی تھیں۔
⑩ تمام انبیاء حقیقت محمدیہ سے فیض لیکر اپنی امت کو پہنچاتے رہے یعنی تمام انبیاء کی نبوت آپ کی نبوت کے واسطے سے ہے:
محمد رسول اللہ ﷺ کو اصل کا ئنات اور اللہ تعالیٰ کے تمام فیوض کا واسطہ قرار دے کر ان صوفیاء نے یہ نتیجہ نکالا کہ آپ ﷺ کی نبوت بالذات ہے۔ اور باقی تمام انبیاء کی نبوت بالعرض ہے۔ تمام انبیاء نبی ﷺ کے طفیلی ہیں۔ سارے انبیا ء حقیقت محمدیہ سے فیض لے کر اپنی امت کو پہنچاتے رہے ہیں۔ اس لیے محمد ﷺ نبی الانبیاء بھی ہیں۔ اس نظریہ کی تشریح صوفیائے دیو بند کی زبانی سنیے قاسم نانوتوی صاحب لکھتے ہیں: اب سنیے وصف نبوت میں بھی یہی تقسیم ہے کہیں نبوت ذاتی ہے، اور کہیں عرضی ہے۔ سو رسول اللہ ﷺ کی نبوت تو ذاتی ہے، اور سوا آپ کے سب انبیاء کی نبوت عرضی ہے۔
دلیل نقلی تو اس کے لیے آیت: [وَاِذۡ اَخَذَ اللّٰہُ مِیۡثَاقَ النَّبِیّٖنَ] ہے اس لیے کہ سب کی نبوت اگر اصلی ہے تو پھر سب مساوی الاقدام ہیں۔ اس صورت میں مقتضائے حکمت حکیم مطلق یہ ہونا تھا کہ کوئی کسی کا تابع اور مقتدی نہ ہوتا۔ [آب حیات:252]
دوسری جگہ لکھتے ہیں: [و يتم نعمة علیک] تو یوں سمجھ میں آتا ہے کہ اسم علیم مربی روح محمدی ﷺ ہو۔ اس لیے کہ سورۃ فتح میں اتمام نعمت خاص آپ کے لیے ہے۔ اور سورۃ مائدۃ میں [واتممت علیکم نعمتی] اگر چہ خطاب عام ہے، مگر مقصود بالذات آنحضرتﷺ ہیں۔ اور سب آپ کے طفیلی ہیں اور آپ امام ہیں۔[آب حیات ص:153]
قاسم نانوتوی صاحب کا عقیدہ ملاحظہ فرمائیے: تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ موصوف بالعرض کا قصہ موصوف بالذات پر ختم ہوتا ہے۔ جیسے موصوف بالعرض کا وصف موصوف بالذات سے مکتسب ہوتا ہے، موصوف بالذات کا وصف جس کا ذاتی ہونا اور [غیر مكتسب من الغير] ہونا لفظ بالذات ہی کا مفہوم ہے۔ کسی غیر سے مکتسب اور مستعار نہیں ہوتا مثال درکار ہے، تو لیجئے زمین و کو ہسار اور درودیوار کانو را گر آفتاب کا فیض ہے، تو آفتاب کا نور کسی اور کا فیض نہیں ہے۔ اور ہماری غرض وصف ذاتی ہونے سے اتنی ہی تھی سو اسی طور رسول اللہ ﷺ کی خاتمیت کو تصور فرمائیے، یعنی آپ موصوف بوصف نبوت بالذات ہیں۔ اور سو آپﷺ کے اور نبی موصوف بوصف بالعرض۔ اوروں کی نبوت آپ کا فیض ہے مگر آپ کی نبوت کسی اور کا فیض نہیں ہے۔ آپ پر سلسلہ نبوت ختم ہو جاتا ہے غرض آپ جیسے [نبی الامتہ] ہیں ویسے [نبی الانبیاء] بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شہادت [وإذ أخذالله میثاق النبین] اور انبیاء کرام سے آپ پر ایمان لانے اور آپ کے اقتدار اور اتباع کا عہد لیا گیا ہے۔ [تحذیر الناس:4]
ایک اور مقام پر قاسم نانوتوی صاحب لکھتے ہیں:
اور انبیاء علیہم السلام آں حضرت ﷺ سے فیض لے کر اپنی امتوں کو پہنچاتے ہیں۔ غرض بیچ میں واسطہ فیض ہیں، مستقل بالذات نہیں۔ باقی انبیاء بھی مثل آئینہ بیچ میں واسطہ فیض ہیں، غرض اور انبیاء میں جو کچھ ہے وہ ظل اور عکس محمدی ہے۔ کوئی ذاتی کمال نہیں۔ [تحذیر الناس صفحہ:28]
قاری طیب صاحب لکھتے ہیں :
آپ کا اصل امتیازی وصف یہ ہے کہ آپ نور نبوت میں سب انبیاء کے مربی، ان کے حق میں مصدر فیض اور ان کے انوار و کمال کی اصل ہیں۔ اس لیے اصل میں نبی آپ ہیں، اور دوسرے انبیاء علیہم السلام اصل سے نہیں بلکہ آپ کے فیض سے نبی ہوئے ہیں۔ حضور کی شان محض نبوت ہی نہیں نکلتی، بلکہ نبوت بخش بھی نکلتی ہے۔ کہ جو بھی نبوت کی استعداد پایا ہوا فرو آپ کے سامنے آگیا نبی ہوگیا، اس طرح نور نبوت آپ ہی سے اور آپ ہی پر لوٹ کر ختم ہو گیا، اور یہی شان خاتم کی ہوتی ہے کہ اس سے اس کے وصف خاص کی ابتدا بھی ہوتی ہے، اور اس پر انتہا بھی ہو جاتی ہے۔ اس لیے ہم آپ کو وصف نبوت کے لحاظ سے صرف نبی ہی نہیں کہیں گے، بلکہ خاتم النبین کہیں گے۔ کہ آپ ہی پر تمام انوار نبوت کی انتہا ہے۔ [ آفتاب نبوت صفحہ:81]
عقائد علمائے دیو بند کی مشہور کتاب المہند میں بھی صاف اقرار کیا ہے، کہ باقی تمام انبیاء علیہ السلام کی نبوت آپ کی نبوت کے واسطے سے ہے۔
شاہ عبد الحق محدث دہلوی اپنے رسالہ [التالیف قلب الاليف بكتابه فهرس التواليف] میں اس تربیت کی اس طرح تشریح کرتے ہیں سارے پیغمبر نیچے اتر کر حضور کے مدرسہ میں حاضر ہوئے، اور آپ کے مکتب میں شاگرد بنے ہر ایک نبی نے علم کی ایک کتاب اور دین کا ایک ایک باب حضور سے پڑھا۔ وہاں سے فارغ ہو کر دنیا کو فیض دینے کے لیے مسند نبوت پر جاگزیں ہوئے۔ اور اللہ کے احکام کی مخلوق کو تعلیم دی ان رسولوں میں سب سے پہلے آدم تھے۔ جو والد ہونے کے باوجود اپنے بچے فرزند کے مدرسہ میں باادب دوزانو بیٹھے۔ تمام زبانیں اور چیزوں کے نام حضور سے سیکھے پھر خلافت الہیہ کی مسند پر جاگزیں ہوئے۔ اور ملائکہ مقربین کی تعلیم و تربیت فرمانے لگے۔ جس سے حضرت آدم کا حق استادی سارے فرشتوں پر ثابت ہوا۔ اور آخر کار ان کے مسجود بن گئے۔ [رسالہ نور از مفتی احمد یار گجراتی]
محمد منظور نعمانی صاحب اس بات کو یوں بیان کرتے ہیں: آپ نبی بالذات ہیں اور دوسرے انبیاء علیہم السلام بالعرض اس اصطلاح میں صرف مولانا نانوتوی ہی منفرد نہیں ہیں بلکہ بہت سے اگلے علما محققین بھی اس کی تصریح فرماتے ہیں ان کی عبارت نقل کر کے ہم کتاب کو صخیم بنانے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ کیونکہ خود احمد رضا خان بریلوی نے بھی اس مسئلہ کو اس طرح لکھ دیا ہے کہ اس کے بعد کسی دوسرے کی عبارت نقل کرنے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ فاضل بریلوی اپنے رسالے [حزاء اللہ عدوہ کے صفحہ:23] پر لکھتے ہیں اور نصوص متواترہ اولیاء کرام و ائمہ عظام و علماء اعلام سے مبرہن ہو چکا، کہ ہر نعمت قلیل یا کثیر، صغیر یا کبیر، جسمانی یا روحانی، دینی یاد نیاوی ، ظاہری یا باطنی، روز اول سے اب تک، اور اب سے قیامت تک، قیامت سے آخرت تک، آخرت سے ابد تک، مومن یا کافر مطیع ما فاجر ملک یا انسان، جن یا حیواں، بلکہ تمام ماسوى الله میں جسے جو کچھ ملی یا ملتی ہے یا ملے گی، انہوں کے ہاتھوں پر بٹتی اور بنتی ہے اور بٹے گی۔ یہ سر الوجود اور اصل وجود، خلیفہ اللہ اعظم ولی نعمت عالم ہیں۔ [رسالہ جزاء الله عدوہ از احمد رضا،ص:23]
فاضل بریلوی کی اس عبارت سے معلوم ہوا کہ عالم میں جو کچھ نعمت، روحانی یا جسمانی، دینی یا دنیاوی، ظاہری یا باطنی، کسی کو ملی ہے وہ آپ ہی کے دست کرم کا نتیجہ ہے۔ اور چونکہ نبوت بھی ایک اعلیٰ درجہ کی روحانی نعمت ہے، لہذا وہ بھی دوسرے انبیاء علیہم السلام کو آپ کے واسطے سے ملی ہے۔اس حقیقت کا نام تا نوتوی صاحب کی اصطلاح میں خاتمیت ذاتی اور خاتمیت مرتبی ہے۔ [فیصلہ کن مناظره از منظور نعمانی ص:56]
⑪ اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمدی (ختم نبوت) میں کچھ فرق نہ آئے گا۔
ختم نبوت کے اس تبدیل شدہ مفہوم کی بنیاد پر قاسم نانوتوی صاحب لکھتے ہیں۔ اطلاق خاتم اس بات کو مقتضی ہے کہ تمام انبیاء کا سلسلہ نبوت آپ پر ختم ہوتا یہ جیسا انبیاء گزشتہ کا وصف نبوت میں آپ کی طرف محتاج ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اور آپ کا اس وصف میں کسی کی طرف محتاج نہ ہونا۔ اس میں انبیاء گزشتہ ہوں یا کوئی اور اس طرح اگر فرض کیجیے آپ کے زمانے میں بھی اس زمین پر یا کسی اور زمین پر یا آسمان میں کوئی نبی ہو تو وہ بھی اس وصف نبوت میں آپ کا محتاج ہوگا۔ [تحذیر الناس، ص:12]
دوسری جگہ لکھتے ہیں:
غرض اختتام اگر بائیں معنی تجویز کیا جائے، جو میں نے عرض کیا تو آپ کا خاتم ہونا انبیاء گزشتہ ہی کی نسبت خاص نہ ہوگا۔ اگر بالفرض آپ کے زمانے میں بھی کہیں اور کوئی نبی ہو جب بھی آپ کا خاتم ہونا بدستور باقی رہتا ہے۔ [تحذیر الناس،ص:13]
ہاں اگر خاتمیت بمعنی اوصاف ذاتی بوصف نبوت لیجیے جیسا کہ اس عاجز نے عرض کیا ہے تو پھر سوائے رسول اللہﷺ اور کسی کو افراد مقصود بالخلق میں سے مماثل نبویﷺ نہیں کہہ سکتے۔ بلکہ اس صورت میں فقط انبیاء کی افراد خارجی پر آپ کی فضیلت ثابت ہو جائے گی۔ بلکہ اگر بالفرض بعد زمانہ نبویﷺ کوئی نبی پیدا ہو تو پھربھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔ [تحذیر الناس،ص:24]
یہ گمراہ عقائد نہ قرآن حکیم کی کسی آیت سے ثابت ہیں، نہ رسول اللہﷺ کے فرمان سے۔ حتی کہ صحابہ کرام اور ائمہ اہل سنت ان نظریات سے بری تھے۔ صوفیاء کے ان نظریات کا رد قرآن مجید جگہ جگہ فرمارہا ہے:
[قُلۡ مَا کُنۡتُ بِدۡعًا مِّنَ الرُّسُلِ]
آپ کہہ دیجئے! کہ میں کوئی انوکھا پیغمبر تو نہیں۔ [الأحقاف:42]
[وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِہِ الرُّسُلُ]
اور محمد(ﷺ) صرف رسول ہی ہیں ان سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں۔ [آل عمران:133]
یعنی جس طرح مجھ سے پہلے بہت سے رسول آچکے ہیں، میں بھی انہیں جیسا ایک رسول ہوں۔ یہ آیت ان کے تمام خود ساختہ نظریات کا رد کر رہی ہے۔
اگر تمام رسول علیہم السلام محمد رسول اللہ ﷺ کے شاگرد ہیں، اور انہوں نے دین کا باب آپ سے پڑھا ہے۔ تو ان کے حالات سے آپ بے خبر کیسے ہو سکتے ہیں؟
اللہ تعالی فرماتا ہے: [وَرُسُلًا قَدۡ قَصَصۡنٰہُمۡ عَلَیۡکَ مِنۡ قَبۡلُ وَ رُسُلًا لَّمۡ نَقۡصُصۡہُمۡ عَلَیۡکَ]
اور بعض رسولوں کے حالات ہم نے آپ سے بیان کیے اور بعض رسولوں کے حالات ہم نے آپ سے بیان نہیں کیے۔ [النساء:164]
قاسم نانوتوی صاحب نے ختم نبوت کے مفہوم ہی کو بدل دیا، یہی وجہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے حواری مرزا کی جھوٹی نبوت کے ثبوت میں قاسم نانوتوی صاحب کی عبارت پیش کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو حق پر چلنے اور باطل سے بچنے کی توفیق دے، آمین۔
اللَّهُمَّ أَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اتِّبَاعَهُ وَأَرِنَا الْبَاطِلَ بَاطِلاً وَّارْزُقْنَا اجْتِنَابَهُ.
وَصَلَّى اللهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ وَاَصْحَابِهِ وَسَلَّمْ تَسْلِيمًا كَثِيرًا وَحَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ.
آمين