امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا ملک ناصر کے نام دعوتی مراسلہ اور معیارِ حق

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا دعوتی مراسلہ بنام حاکم مصر ملک ناصر

الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا ومن سيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له. ونشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له ونشهد أن محمدا عبده ورسوله صلى الله عليه وسلم تسليما .
احمد ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ: جب مجھے اس بات کا علم ہوا کہ سلطانِ معظم ملک ناصر (اللہ ان کی مدد فرمائے اور انہیں صراطِ مستقیم پر چلائے) نے مجھ سے تحریری طور پر چند سوالات کا جواب طلب کیا ہے تو میں نے اختصار سے جواب دیا تھا کیونکہ جواب جلدی طلب کیا گیا تھا۔ اب ہم اسی جواب کو ذرا تفصیل سے عرض کرتے ہیں، تاہم اس میں بھی اختصار پیشِ نگاہ رہے گا۔ اس سلسلے میں ہم اہلِ اسلام کی کتب کی عبارات نقل کریں گے جن میں اکثر قدیم اور چند ایک جدید شائع ہوئی ہیں۔ ان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، ائمہ اربعہ اور ان کی اتباع کرنے والوں کے اقوال پیش کریں گے جو ہماری خوشی کے موافق اور تائید میں ہیں، کیونکہ سابقہ فتاویٰ تشریح کا متحمل نہ تھا۔ تحریر کردہ روایات اور اقوالِ صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعین اور ائمہ اربعہ وغیرہ ایسے ٹھوس اور مدلل ہیں جو ناقابلِ تردید ہیں۔
بعض لوگوں نے اس کا جواب دینے کی ناکام کوشش کی ہے جس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالفین کے پاس نہ تو علم ہے اور نہ کوئی صحیح نقل۔ انہوں نے نہ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پیش کی، نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم و تابعین رحمہم اللہ کا قول نقل کیا، نہ ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کی کوئی صحیح بات لکھی اور وہ معتمد علیہ کتب میں سے کوئی کتاب بھی پیش نہ کر سکے جس میں ائمہ اسلام کا کوئی قول درج ہو۔ ان بے چاروں کو یہ بھی علم نہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ قبرِ مکرم اور دیگر مقابر کی زیارت کیسے کیا کرتے تھے؟ میرا تحریر شدہ فتویٰ موجود ہے اور اسی طرح میری کئی تحریریں موجود ہیں جنہیں مشرق و مغرب کے تمام اہل علم کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ اس کے پاس ہمارے تحریر کردہ فتویٰ کے خلاف کچھ معلومات ہیں تو اسے چاہیے کہ ان کو وضاحت سے پیش کرے تاکہ ان کی صحتِ دلیل کا علم ہو سکے۔ سلطانِ معظم جب ہماری تحریر کردہ احادیث اور اقوالِ ائمہ اور مخالف فریق کے دلائل سامنے رکھیں گے تو ہمیں یقین ہے کہ حق ایسے سورج کی طرح واضح ہو جائے گا جسے سلطان کا ادنیٰ خادم بھی پہچان سکتا ہو۔ سلطان موجودہ دور کی بے مثال شخصیت ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے۔

معيار الحق

حق بات ہر شخص سمجھ سکتا ہے، کیونکہ حق وہی ہے جسے انبیاء علیہم السلام نے پیش کیا۔ عقلمند اور عارف انسان حق و باطل میں اس طرح فرق کر لیتا ہے جس طرح سنار کھرے اور کھوٹے سونے میں امتیاز کر لیتا ہے۔ رب کریم نے رسول اللہ کے ذریعے دلائل و براہین کو روزِ روشن کی طرح واضح کر دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری کائنات سے بہتر اور تمام انبیائے کرام سے افضل ترین انسان ہیں۔ اور علمائے امت انبیاء کے وارث ہیں، ان کا فرض ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و فرامین کو دنیا کے سامنے بیان کریں اور خلافِ شرع امور کی تردید کریں۔ سب سے پہلے اس بات کا جاننا ضروری ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کون کون سے ارشادات فرمائے ہیں؛ کیونکہ جھوٹی روایات پائی جاتی ہیں جو عام ہو رہی ہیں۔ بعض افراد نے ان مسائل پر کچھ کتب بھی لکھی ہیں، جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر کذب و افتراء سے کام لیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بعض جاہل لوگ دھوکا کھا گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ لکھنے والوں کی نیت صاف ہو اور وہ محبتِ رسول اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت کے قائل بھی ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ صدق و کذب میں فرق نہیں کر سکے۔ بعض مصنفین نے جب دیکھا کہ کچھ روایات اور اقوالِ صحابہ کسی خاص جگہ کی فضیلت کے بارے میں ہیں تو انہوں نے ان کو صحیح سمجھ کر ان پر اعتماد کر لیا، حالانکہ وہ محدثین کے نزدیک ضعیف ہی نہ تھے بلکہ موضوع تھے۔
جب ایک عالم شخص فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور عام آدمی کی بات میں امتیاز کرے گا تو پھر وہ اس بات کا محتاج ہو گا کہ فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی مراد کو سمجھے اور تمام احادیث کو سامنے رکھ کر ہر ایک حدیث کو اپنی جگہ پر رکھے اور پھر ان امور کا اثبات کرے جن کا اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اثبات کیا، اور ان امور کی نفی کرے جن کی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے نفی کی ہے۔
یہی وہ علم ہے جس سے مسلمان فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ یہی وہ ذخیرہ ہے جسے مسلمانوں کو قبول کرنا چاہیے اور اس جوہرِ بے مثل کی روشنی میں علمائے اسلام اور ائمہ اربعہ رحمہم اللہ نے امت کی سیادت و رہنمائی کی۔