مضمون کے اہم نکات
بقلم: مولانا محمد داؤد راز مرحوم
عقائد و افکارِ مودودی
عقائد و افکارِ مولانا مودودی صاحب: بقول مولانا مودودی صاحب تحریک کے لیڈر کے خیالات و افکار پوری تحریک کی جان ہوتے ہیں اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ مولانا موصوف کے عقائد و افکار اور مزید روشنی میں آ جائیں۔ تا کہ ناظرینِ کرام تحریکِ جماعتِ اسلامی کے مزاج سے روشناس ہو جائیں۔ کسی انسان کے عقائد و افکار کو معلوم کرنے کا بہترین طریقہ اس کی خود نوشت کتابیں ہی ہوتی ہیں۔ ان ہی سے مصنف کے افکار روشن ہوتے ہیں۔ مولانا صاحب موصوف صاحبِ تصانیفِ کثیرہ ہیں اور اس میں بھی شک نہیں کہ بعض موضوعات پر مولانا نے اہم ترین قلمی نوادرات مہیا فرمائے ہیں۔ مگر مثل مشہور ہے کہ سواری ٹھوکر کھایا ہی کرتے ہیں۔ مولانا نے اپنی کتابوں میں اپنے افکار پیش فرماتے ہوئے بعض جگہ بڑی خطرناک ٹھوکریں کھائی ہیں، اگر مولانا کو ان کا احساس ہو جاتا تو شاید ان میں اور علماءِ اسلام میں یہ موجودہ "علمی جنگ” برپا نہ ہوتی مگر ہوا یہ کہ مولانا نے جو کچھ لکھ دیا وہ کالوحی من السماء قرار پایا۔ اور یہی خیال بنائے فساد ٹھہرا۔ بہر حال ہم متفرقہ لفظوں میں مولانا کے کچھ افکارِ عالیہ جو محلِ نزاع ہیں درجِ ذیل کر کے انصاف پسند حضرات سے علم و دانش کے نام پر انصاف کی اپیل کرتے ہیں، مشہور قول ہے اور صحیح بھی کہ "الرجال يعرفون بالحق لا يعرف بالرجال” حق کی پڑتال کے لئے شخصیتیں کسوٹی نہیں بلکہ شخصیتوں کی پڑتال کے لئے حق کسوٹی ہے۔
بھول خطا انسانی فطرت ہے صرف انبیاء اللہ کی مقدس جماعت ہے جن کی اللہ پاک خود براہِ راست اغلاط سے حفاظت فرماتا ہے۔ ان کے علاوہ کوئی انسان کتنے ہی بڑے روحانی درجے والا ہو اس سے یقیناً غلطی کا امکان ہے۔ جب بزرگانِ دینِ رحمہ اللہ علیہ پر تنقید کی جا سکتی ہے تو مولانا مودودی کے غلط افکار پر انکا یا انکے اصحابِ ارادت کا تنقید سے نہ صرف گھبرانا بلکہ اس کی وجہ سے مغلوب الغضب ہو کر تحریروں و تقریروں "اول فول” پر اتر آنا انتہائی کمزوری کی دلیل ہے۔ جس کے ثبوت میں اس تحریک کے لٹریچر سے کافی مواد پیش کیا جا سکتا ہے۔
اسلام میں عبادت کا تصور:
مولانا مودودی صاحب اپنے مہیا کردہ لٹریچر کی مایہ ناز کتاب تفہیمات ص 43 میں اسلام میں عبادت کا تصور بیان کرتے ہوئے ارقام فرماتے ہیں:
"انسان خواہ وہ خدا کا قائل ہو یا منکر خدا کو سجدہ کرتا ہو یا پتھر کو، خدا کی پوجا کرتا ہو یا غیر کی، چاہے وہ اپنے اختیار سے کسی اور کی پوجا کر رہا ہو، وہ خدا ہی کی عبادت ہے۔” الی آخرہ
مولانا صاحب یا ان کے کوئی حواری اس عبارت کی خواہ کچھ بھی تاویل کریں اس کو امرِ تکوینی کے تحت لے آئیں یا کھینچ تان کر کچھ اور بنانے کی سعی فرمائیں، مگر اس عبارت کے مذکورہ بالا الفاظ اس قدر بھونڈے ہیں کہ قرآنِ مجید کی پیش کردہ توحید اور جملہ انبیائے کرام کے پیشِ فرمودہ ارشادات کی روشنی میں ان الفاظ کے مطابق عقیدہ و عمل اکبر الکبائر گناہ کی فہرست میں آ جاتا ہے۔ اگر مولانا کے اس ”تصور“ کو صحیح مان لیا جائے تو دہریت اور شرک و بت پرستی کو گناہوں سے تعبیر کرنا ایک سراسر حماقت آمیز خیال بن کر رہ جائے گا۔
❀ اسی لئے مولانا کی اس تشریح پر مشہور صحافی و انقلابی بزرگ حافظ علی بہادر صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ:
"اسلام میں عبادت کا تصور” کے عنوان سے انھوں نے جو مقالہ تفہیمات میں شائع کیا ہے وہ غلط فہمیوں پر مبنی ہے۔ اسلام میں عبادت کا تصور وہ نہیں ہے جو مولانا (مودودی) نے پیش کیا ہے، انھوں نے عبادت کی ایک خود ساختہ تشریح کر کے بت پرستی تک کو اللہ کی عبادت میں شامل کر لیا ہے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ ان کے نزدیک عبادت اچھی بھی ہوتی ہے اور بری بھی، اور ان کے نزدیک چوری، زنا کاری، قمار بازی سب عبادت کے تصور میں آ جاتے ہیں۔ قرآنِ مجید کی جو آیات انھوں نے پیش کی ہیں ان میں سے ایک سے بھی عبادت کا یہ تصور ثابت نہیں ہوتا۔” الی آخرہ۔
[ہلالِ نو مجریہ 4 جون 51ء]
مزید افسوس ناک چیز یہ ہے کہ مولانا اپنے غلط مزعومات کے سانچے میں قرآنِ پاک کو ڈھالنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ ان کی مؤلفات میں جگہ جگہ یہ رنگ نمایاں ہے۔ شاید ایسے ہی حضرات کے لئے کہا گیا ہے۔
خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں
فرشتوں کے متعلق:
اس حقیقت پر روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں کہ وجودِ ملائکہ پر ایمان و یقین لانا اسلام میں ایمانیات کا ایک رکنِ اعظم ہے۔
قرآنِ پاک و احادیث، ذکرِ ملائکہ سے بھری ہوئی ہیں۔ اور یہ بھی یقینی امر ہے کہ ملائکہ اللہ پاک کی نورانی مخلوق ہیں ان کی شان یہ ہے۔ [لا يعصون الله ما أمرهم ويفعلون ما يؤمرون] وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے بلکہ ہر وقت اطاعتِ الہی میں سرگرم رہتے ہیں۔
❀ اب "ملائکہ” کے بارے میں مولانا مودودی صاحب کا عقیدہ و ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں:
اسلامی اصطلاح میں جس کو فرشتہ کہتے ہیں وہ تقریباً وہی چیز ہے جس کو ہندوستان و یونان وغیرہ ممالک کے مشرکین نے دیوی دیوتا قرار دیا ہے۔ [تجدید و احیائے دین: ص10]
مولانا نے "اسلامی فرشتہ” مشرکین کے مزعومہ دیوی دیوتاؤں کو قرار دیا ہے۔ مولانا کے اس خیالِ باطل کے مطابق فرشتے مذکر و مؤنث ہر دو قسم کے ہیں، کیونکہ وہ دیوی اور دیوتا ہیں۔ الغرض یہ اسلامی فرشتے کی ایسی تعبیر ہے جو مولانا ہی جیسے مجددِ دین و مزاج شناسِ رسول و ہیرے کی جوت پتھر میں پالینے والے بزرگ کی قلم سے سرزد ہو سکتی ہے۔ مزید تفصیلات کا یہاں موقع نہیں۔ مولانا کے مزعوماتِ باطلہ پر صرف چند اشارے کرنا مقصود ہیں۔
تا سیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد
مہدی موعود کے بارے میں:
احادیثِ واردہ کی بناء پر قرنِ اول سے آج تک جملہ اہلِ اسلام اوصافِ مخصوصہ کے ساتھ ایک مہدی موعود کے وجود پر جو آخر زمانہ میں ظاہر ہونا ہے، عقیدہ رکھتے ہوئے چلے آ رہے ہیں۔
❀ مولانا مودودی صاحب اس مہدی کا تعارف بایں طور کراتے ہیں۔
"وہ بالکل جدید ترین طرز کا لیڈر ہوگا، وقت کے تمام علومِ جدیدہ پر اس کو مجتہدانہ بصیرت حاصل ہو گی (الی) مجھے اندیشہ ہے کہ اس کی جدّ و جہد کے خلاف مولوی وصوفی صاحبان ہی پہلے شورش برپا کریں گے (الی) شاید اسے خود بھی مہدی موعود ہونے کی خبر نہ ہو گی اور اس کی موت کے بعد اس کے کارناموں سے دنیا کو معلوم ہو گا کہ یہی خلافتِ على منهاج النبوۃ پر قائم کرنے والا تھا، مہدویت دعویٰ کرنے کی چیز نہیں، کر کے دکھانے کی چیز ہے (الی) وہ خالص اسلام کی بنیادوں پر ایک نیا مذہبِ فکر پیدا کرے گا، ذہنیتوں کو بدلے گا، ایک زبردست تحریک اٹھائے گا”۔ [تجدید و احیائے دین: ص 31تا32]
❀ حضرت مولانا مودودی صاحب نے جس طور بھی مہدی موعود کا تعارف کرایا ہے، ناظرینِ کرام کے سامنے ہے۔ یہ بھی خوب کہا کہ مہدی موعود دنیا میں تشریف فرما ہوں گے، اور تمام عمر تحریک چلاتے ہوئے انتقال بھی فرما جائیں گے مگر حال یہ ہو گا کہ خود ان کو بھی خبر نہ ہو گی کہ میں ہی مہدی موعود ہوں اور نہ لوگوں کو اطلاع ہو سکے گی، ہاں ان کے انتقال فرما جانے کے بعد لوگ جان لیں گے کہ یہی مہدی موعود تھا وغیرہ وغیرہ۔ اب ایک طرف آپ مہدی موعود کے بارے میں احادیثِ واردہ کو رکھ لیجیے دوسری طرف مولانا مودودی کے پیش کردہ تعارف کو، آپ کو آسمان و زمین جتنا فرق نظر آئے گا۔ انصاف کی بات تو یہ ہے کہ مولانا کے یہ جملہ اشارے "خود مابدولت” کی طرف ہیں مگر موصوف پر واضح ہونا چاہیے۔
ہر مدعی کے واسطے دارو رسن کہاں
مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی ایسے ہی خواب نظر آنے لگے تھے کہ بعد میں چھلانگ لگا کر تختِ نبوت ہی پر قابض ہونے کا پروپیگنڈہ کرنے لگے مگر ہوا یہ کہ۔
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم // گئے دونوں جہاں سے خدا کی قسم
مستقبل کا مورخ دیگر مدعیانِ مہدویت کے متعلق بھی کچھ ایسا ہی بیان لکھنے پر مجبور ہو گا۔
ستبدى لك الايام ما كنت جاهلا // ويأتيك بالأخبار من لم تزود
”دجال“ کے بارے میں احادیثِ واردہ کی تکذیب:
یہ عقیدہ کہ آخر زمانہ میں قریبِ قیامت ایک ”کانا دجال“ پیدا ہو گا جو دجل کی اشاعت میں سرگرم ہتھیاروں سے لیس ہو گا۔ جمہورِ امت کا مسلمہ عقیدہ ہے۔ دجال کی حدیث صحیح بخاری شریف میں آٹھ مرتبہ آئی ہے اور صحیح مسلم شریف میں سترہ مرتبہ آئی ہے۔ نمازی کی دعاؤں میں ایک مستند و مشہور دعا ہے جو آخر تشہد میں پڑھنی مسنون ہے۔ [اللهم انى اعوذ بك من عذاب القبر واعوذ بك من فتنة المسيح الدجال]
گویا شارع علیہ السلام نے ہر نماز میں مسیح دجال کے فتنے سے بچنے کی دعا سکھلائی ہے۔
❀ ان جملہ حقائق کے باوجود مولانا مودودی صاحب جیسے "مزاج شناسِ رسول” کی جسارت دیکھئے بڑے دھڑلے کے ساتھ آپ فرماتے ہیں:
"یہ کانا دجال وغیرہ افسانے ہیں جن کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے، ان چیزوں کو تلاش کرنے کی ہمیں کوئی ضرورت بھی نہیں۔ عوام میں اس قسم کی جو باتیں مشہور ہیں، ان کی ذمہ داری اسلام پر نہیں ہے اور ان میں سے کوئی چیز اگر غلط ثابت ہو جائے تو اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا”۔ [ترجمان القرآن رمضان وشوال 1364ھ]
افسانہ وہ ہوتا ہے جو غیر معتبر غیر محقق چیز لوگوں کی زبانوں پر گشت کرنے لگ جائے مولانا مودودی صاحب کانا دجال کو افسانہ قرار دیتے ہیں۔ بخاری و مسلم وغیرہ کتبِ احادیث میں 25 مرتبہ یہ احادیثِ متعلقہ دجال منقول ہیں سب محض افسانے ہیں، اس سے بھی آگے مزید جسارت ملاحظہ ہو، جس میں خود رسول اللہ علیہ الصلوۃ والسلام ہی کی ”اصلاح“ فرمانے کی ناپاک کوشش کی گئی ہے۔ فرماتے ہیں:
"حضور کو اپنے زمانے میں یہ اندیشہ تھا کہ شاید دجال آپ کے عہد ہی میں ظاہر ہو جائے یا آپ بعد کسی قریبی زمانے میں ظاہر ہو، لیکن کیا ساڑھے تیرہ سو برس کی تاریخ نے یہ ثابت کر دیا کہ حضور کا یہ اندیشہ صحیح نہ تھا، اب ان چیزوں کو اس طرح نقل و روایت کئے جانا کہ گویا یہ بھی اسلامی عقائد میں ہے نہ تو اسلام کی صحیح نمائندگی ہے اور نہ اسے حدیث ہی کا صحیح مفہوم کہا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ میں عرض کر چکا ہوں اس قسم کے معاملات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قیاس و گمان کا درست نہ نکلنا ہرگز منصبِ نبوت پر طعن کا موجب نہیں ہے”۔
[ترجمان القرآن ربیع الاول 1365ھ]
❀ "مزاج شناسِ رسول” کی یہ جسارت کہ دجال کی آمد کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اندیشہ صحیح نہ تھا ایسی نہیں ہے کہ اسے یوں ہی نظر انداز کر دیا جائے۔ مولانا ایک مذہبی آدمی ہیں اور آپ کا دعویٰ ہے کہ جس چیز کو لے کر ہم اٹھے ہیں وہ عین اسلام اور اصلِ اسلام ہے۔ [اخبار تسنیم 23 جمادی الاول 1374ھ]
مولانا کی یہ جسارت پتہ دے رہی ہے کہ مذہبِ اسلام کے بارے میں آپ ایسے مقام پر ہیں جہاں آپ کو خود پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کی اصلاح کا بھی حق پہنچتا ہے۔ مولانا نے اپنی اس جسارت کو ایک دفعہ نہیں بلکہ متعدد مرتبہ بڑی جرأت و دلیری کے ساتھ حوالہ قلم کیا ہے۔
❀ ترجمان القرآن فروری 1946ء میں آپ فرماتے ہیں:
"ان امور کے متعلق مختلف باتیں حضور سے احادیث میں منقول ہیں وہ دراصل آپ کے قیاسات ہیں جن کے بارے میں آپ خود شک میں تھے”۔
لیجیے مولانا نے ایک ایسا چور دروازہ کھول دیا کہ اب تعلیماتِ اسلام کے بارے میں ارشاداتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جو کسی کے مزاج کے خلاف ہوں ان سب کو "آپ کے قیاسات” کہہ کر رَد کیا جا سکتا ہے۔ قرآنِ مقدس میں رسول اللہ کی شان یہ بیان کی گئی ہے۔ [وَ مَا یَنۡطِقُ عَنِ الۡہَوٰی]،[ اِنۡ ہُوَ اِلَّا وَحۡیٌ یُّوۡحٰی]
"ہمارے رسول اپنی خواہش اور قیاسات سے نہیں بولتے، ان کا ہر قول وحی الہی پر مبنی ہوتا ہے”۔ [سورۃ النجم:3-4]
❀ "دجال موعود” کے بارے میں آپ کے ارشادات بہت واضح ہیں، روایتًا ان کی صحت کا اقرار خود مولانا مودودی صاحب کو بھی ہے۔ آیت بالا کے تحت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ساری خبریں وحی الہی کے تحت دی ہیں، مگر مولانا صاحب موصوف "جو پتھر میں ہیرے کی جوت” ملاحظہ فرما لیا کرتے ہیں ان سب کو آپ کے ”غلط قیاسات“ قرار دے رہے ہیں۔ ناظرینِ کرام خصوصًا وابستگانِ تحریک انصاف سے بتلائیں کہ شانِ رسول کو ملحوظِ نظر رکھتے ہوئے کیا عدل کا یہی تقاضا ہے کہ مولانا کے ان ملحدانہ نظریات کو یوں ہی نظر انداز کر دیا جائے اور کیا یہی وہ اصلی اسلام ہے جسے لے کر مولانا اٹھے ہیں؟ اور کیا الہی حکومت ایسے ہی الحاد پرور خیالات پر تعمیر ہوگی؟ کیا نظام ہائے باطلہ سے ٹکر لینے کے یہی ”لچھن“ ہیں۔
آپ ہی اپنے ذرا جور و ستم کو دیکھیں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی
حدیثِ مجدد کی تکذیب:
پہلے حدیث شریف ملاحظہ فرما لیجیے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: [إن الله يبعث لهذه الأمة على رأس كل مائة سنة من يجدد لها دينها] یعنی بیشک اللہ عزوجل اس امت کے لیے ہر صدی کے سرے پر ایک ایسا شخص کھڑا کرے گا جو اس امت کے لیے دینِ اسلام کی تجدید کرے گا۔ [سنن ابی داؤد:4291]
اس حدیث کے سب راوی ثقہ ہیں اس حدیث کی شرح میں علمائے اسلام لکھتے ہیں کہ وہ مجدد سنت کو بدعت سے جدا کرے گا، علم دین کو پھیلائے گا، اہل علم کی مدد کرے گا، اہل بدعت کی کمر ہمت توڑے گا، وہ علومِ دین کا جامع ہو گا۔ اس حدیثِ رسول کا اولین مصداق اللہ پاک نے امیر المؤمنین خلیفہ عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کو بنایا اور پھر ان کے بعد ہر صدی میں مجددِ دین پیدا ہوتے رہے جیسا کہ علمائے اسلام و مؤرخینِ عظام نے ہر صدی میں نام بنام ان کو معہ ان کے حالات اور خدمات کے تحریر فرمایا ہے۔
❀ اس بارے میں مولانا مودودی صاحب کی گل افشانی ملاحظہ ہو۔ ارشاد ہوتا ہے:
"تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اب تک کوئی مجددِ کامل نہیں پیدا ہوا ہے، قریب تھا کہ عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ اس منصب پر فائز ہو جاتے مگر وہ کامیاب نہ ہو سکے، ان کے بعد جتنے مجدد پیدا ہوئے ان میں سے ہر ایک نے کسی خاص شعبے یا چند شعبوں ہی میں کام کیا اور مجددِ کامل کا مقام ابھی تک خالی ہے”۔
[تجدید و احیائے دین: ص 31 طبع چہارم]
مولانا کا ارشاد صاف بتلا رہا ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ اور بعد کے جملہ مجددِ دین سب ناقص تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو ہر صدی کے سرے پر ایک مجدد کی پیش گوئی فرمائی تھی وہ آج چودہویں صدی تک مجددِ کامل کی شکل میں صحیح ثابت نہ ہو سکی۔ یہ تجدید و احیائے دین کے بات میں غالباً ”تفوق“ کا خواب ہے، تاریخ کے جملہ مجددِ دین کا مقام گرا کر ہی تو یہ خواب شرمندہٴ تعبیر ہو سکتا تھا جس کے لیے مولانا نے یہ جرأت فرمائی، سچ ہے۔
بت کریں آرزو خدائی کی شان ہے تیری کبریائی کی
جوازِ متعہ:
ایک متعین مدت کے لئے مقررہ رقم کے عوض کوئی مرد کسی عورت سے اس کی عصمت کا سودا کر لے یہ ”متعہ“ کہلاتا ہے۔ اور شریعتِ اسلامیہ میں اہل السنت والجماعت کے ہاں یہ ”متعہ“ قطعاً حرام ہے، اس کے جواز کے لئے کوئی بھی گنجائش قطعاً نہیں ہے۔ مگر ہمارے محترم مولانا مودودی صاحب نے ایک مرتبہ اس کے جواز کا بھی فتویٰ دے ڈالا۔ مولانا موصوف نے اس سلسلہ میں جو انداز اور دلچسپ دلائل پیش فرمائے ہیں وہ ”الاعتصام“ لاہور کی روایت سے ہمارے سامنے ہیں۔ اس لئے بجائے اس کے کہ ہم تفصیلات کو پیش کریں مناسب جانتے ہیں کہ مولانا موصوف کے دلائل کو ادارہ ”الاعتصام“ لاہور کے تبصرہ سمیت ذیل میں درج کر دیں۔ مثل مشہور ہے [صاحب البيت ادرى بما فيه] اہلِ پاکستان مولانا کو جس قدر سمجھ سکتے ہیں ہم دور دراز رہنے والے بھلا کہاں سمجھ سکتے ہیں۔ بہرحال اخبار مذکور [مجریہ 18 ربیع الاول 1375ھ] میں بسرخی "مزاج شناس رسول” کی جسارت "متعہ کے جواز پر ڈرامائی استدلال” منجانب ادارہ، مندرجہ ذیل تفصیلات حوالہٴ قلم کی گئی ہیں۔
❀ مولانا سید ابوالاعلیٰ صاحب مودودی کچھ دنوں سے عجیب عجیب اور پُر لطف تحقیقات فرمانے لگے ہیں۔ چند روز ہوتے ہیں انھوں نے صحیح بخاری کی صحت و استناد کے بارے میں یہ انکشاف کیا تھا کہ:
"کوئی شریف آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس میں جو چھ سات ہزار احادیث درج ہیں وہ ساری کی ساری صحیح ہیں”۔
اب اگست کے ترجمان القرآن میں انھوں نے اپنی "ترجمانیِ تفسیر” تفہیم القرآن میں سورہ مومنون کی ابتدائی آیات کی تشریح و تفسیر کرتے ہوئے۔ [فَمَنِ ابۡتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡعٰدُوۡنَ] کے ذیل میں ”متعہ“ کے جواز کا فتویٰ ارشاد فرمایا۔
آگے بڑھنے سے پیشتر مناسب ہوگا کہ سورہ مومنون کی ابتدائی آیات پر ایک نظر ڈال لی جائے تاکہ مولانا مودودی کے "جوازِ متعہ” کا موقف واضح ہو سکے۔
[قَدۡ اَفۡلَحَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ]،[الَّذِیۡنَ ہُمۡ فِیۡ صَلَاتِہِمۡ خٰشِعُوۡنَ]،[وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنِ اللَّغۡوِ مُعۡرِضُوۡنَ]،[وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوۡنَ]،[وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ لِفُرُوۡجِہِمۡ حٰفِظُوۡنَ]،[اِلَّا عَلٰۤی اَزۡوَاجِہِمۡ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُمۡ فَاِنَّہُمۡ غَیۡرُ مَلُوۡمِیۡنَ]،[فَمَنِ ابۡتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡعٰدُوۡنَ]
ترجمہ: یقیناً کامیاب ہو گئے ایمان والے جو اپنی نمازوں میں خشوع کرتے ہیں، جو لغو باتوں پر دھیان نہیں دیتے، جو زکوۃ ادا کرتے ہیں، جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے، سوائے اپنی بیویوں کے اور اپنی لونڈیوں کے جو لوگ ان (دو ذرائع) کے سوا کوئی اور ذریعہ (اپنے جنسی تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے) اختیار کریں۔ وہ (حدودِ شریعت سے) تجاوز کرنے والے ہیں۔ [سورۃ المؤمنون: 1تا7]
ایک بار آپ یہاں پھر رکھیئے اور پیشِ نظر آیات پر دوبارہ غور فرمائیے بالخصوص آخری آیت کے معنی و مطلب کی وسعتوں کو ذہن وفکر کے زاویوں میں لائیے اور پھر بتائیے کہ کیا یہ آیت اس امر کی قطعی وضاحت نہیں ہے کہ ”بیوی“ اور ”ملکِ یمین“ کے سوا قرآن نے جنسی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اور تمام دروازے مسلمان پر کلیتہً بند کر دیئے ہیں، خواہ وہ متعہ ہو یا کچھ اور!
لیکن داد دیجیئے ”مزاج شناسِ رسول“ کی ”درایت“ کی کہ ان کے نزدیک قرآن کی یہ نصِ صریح تحریمِ متعہ پر کوئی وزنی دلیل نہیں ہے۔ بلکہ ان کے خیال میں متعہ کے ساتھ بعض ایسی چیزیں بھی جائز ہیں جن کا نام لیتے ہوئے بھی کسی بھی مجلس میں شرم آتی ہے۔
معلوم نہیں، مولانا مودودی کو ”متعہ“ سے کیا دلچسپی ہے کہ اس کو ثابت کرنے کے لئے انھوں نے اجتہاد و فکر کا پورا سرمایہ میدانِ تحقیق میں جھونک دیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ شریعتِ مطہرہ سے اس کا جواز ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ مگر قربان جائیے اُن کی محنت و کاوش کے کہ اس کے باوجود انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور اس وقت تک میدان نہیں چھوڑا جب تک کہ ایک وسیع سمندر میں مسافروں سے بھرا ہوا ایک جہاز توڑ کر انھوں نے متعہ کے جواز کی صورت پیدا نہیں کر دی۔
❀ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:
"فرض کیجیئے کہ ایک جہاز سمندر میں ٹوٹ جاتا ہے اور ایک مرد و عورت کسی تختے پر بہتے ہوئے ایک ایسے سنسان جزیرے پر جا پہنچتے ہیں جہاں کوئی آبادی موجود نہ ہو، وہ ایک ساتھ رہنے پر مجبور ہیں اور شرعی شرائط کے مطابق ان کے درمیان نکاح بھی ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں ان کے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ باہم خود ہی ایجاب و قبول کر کے اس وقت تک کے لئے عارضی نکاح کر لیں جب تک کہ وہ آبادی میں نہ پہنچ جائیں یا آبادی اُن تک نہ پہنچ جائے، کم و بیش ایسی ہی اضطراری صورتیں اور بھی ہو سکتی ہیں۔ متعہ اسی اضطراری حالتوں کے لئے ہے۔ [ترجمان القرآن بابت ماہِ اگست 55ء 379ص]
دیکھا آپ نے مولانا مودودی کو متعہ کا جواز ثابت کرنے کے لئے کتنا دُور کا چکر کاٹنا پڑا۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ چودہ سو سال کی اسلامی تاریخ میں ایک واقعہ بھی اس قسم کا نہیں ملتا کہ پورا جہاز سمندر کی سرکش لہروں کی نذر ہو گیا ہو۔ اور صرف ایک تختہ محفوظ رہا ہو۔ جس میں ایک غیر محرم مرد اور عورت بیٹھے رہے ہوں۔ مسلمانوں نے جنگیں بھی لڑیں، تجارت بھی کی، بادشاہت بھی کی، سفارت بھی کی، انھوں نے مختلف حالات میں طول طویل سفر بھی اختیار کئے، جو بحری بھی تھے برّی بھی تھے اور فضائی بھی! لیکن کوئی ایک مثال ایسی نہیں ملتی جو مولانا مودودی نے پیش فرمائی ہے۔ گزشتہ چودہ صدیوں کی اسلامی تاریخ میں نہ کوئی اس انداز سے جہاز ٹوٹا، نہ کوئی غیر محرم مرد اور عورت اس طرح تختے پر بہتے ہوئے کسی سنسان جزیرے میں پہنچے اور نہ کسی نے اس صورتِ حال سے مضطر و بے قرار ہو کر متعہ کیا۔
اس مثال کا وجودِ خارج میں تو کہیں دستیاب نہیں ہوتا، ہاں البتہ مولانا مودودی کے ذہن کے سمندر میں سفر کرتے ہوئے اگر کوئی جہاز ٹوٹا ہو اور پھر یہ صورتِ حال پیدا ہوئی ہو تو واقعی یہ دَورِ حاضر کا ”اصول اور بنیادی“ مسئلہ ہے۔ اس کا حل اگر ”پورے کاپورے اسلامی نظام برپا کرنے کا داعی“ پیش نہ کرتے تو یہ اسلامی نظام میں ایک بہت بڑا خلاء رہ جاتا۔
مولانا مودودی اور ان کی جماعتِ فقہ کی مخالفت میں ایک دلیل یہ بھی دیا کرتے ہیں کہ فقہ دور از کار باتوں کا مجموعہ ہے۔ اور اس میں ایسے ایسے مفروضوں کو جمع کیا گیا ہے جو پوری انسانی زندگی میں پیش نہیں آسکتے۔ ہم پوچھنا چاہتے ہیں جماعتِ اسلامی کے خردمندوں سے، کیا متعہ کے جواز کی یہ مثال کہیں پیش آئی ہے؟ اور خارج میں کہیں اس کے وجود کا پتہ نشان ملتا ہے۔
فرض کیجیئے اگر یہ صورت پیش آ بھی جائے اور سمندر کی دو دو تین تین سوفٹ کی بے پناہ لہریں کسی مضبوط جہاز کو اس طرح توڑ دیں کہ اس کا صرف ایک ہی تختہ محفوظ رہ سکے جس پر ایک مرد اور ایک عورت بہتے ہوئے کسی سنسان جزیرے میں پہنچ جائیں، تو اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ بقول مولانا مودودی کے ایسی جگہ پہنچے ہیں جہاں آدم ہے نہ آدم زاد، وہ ایک بے آباد اور سنسان جزیرہ ہے، ظاہر ہے کہ وہاں ان کو کھانے کی ضرورت بھی ہو گی، پہننے کی بھی ہو گی، رہنے سہنے کی بھی ہو گی اور گرمی و سردی سے محفوظ رہنے کے لئے مکان کی حاجت بھی ہو گی۔ کیا وہ ان چیزوں کے حصول پر کوئی توجہ نہیں دیں گے؟ تختے سے اترتے ہی سب سے پہلے انکا ذہن اسی طرف منتقل ہو گا کہ چلو پہلے متعہ کریں، باقی پھر دیکھا جائے گا۔
یہ عجیب تضاد ہے کہ ایک طرف تو مولانا متعہ ثابت کرنے کے لئے مرد اور عورت کو ایسی جگہ پہنچاتے ہیں، جہاں زندگی اور اس کے لوازمات ہی ختم ہیں۔ دوسری طرف جنسی اعتبار سے ان میں وہ اس قدر اضطراری کیفیت پیدا کرتے ہیں کہ وہ متعہ کے لئے بے چین ہو جاتے ہیں۔
کیا عقلِ سلیم اس بات کو مانتی ہے کہ جس مرد و عورت کے پاس نہ کھانے کو روٹی کا ٹکڑا ہے، نہ پینے کو پانی کا قطرہ، نہ پہننے کو کپڑا ہے، نہ رہنے سہنے کو مکان۔ لیکن ان میں جنسی بھوک کی تیزیاں اور شدتیں ناقابلِ برداشت ہیں؟ اس قسم کا ذلیل آدمی مولانا مودودی کے ذہن میں کوئی ہو تو ہو، اس دنیا میں تو کم از کم نہیں پایا جاتا۔ جب کوئی شخص اس ہولناک صورتِ حال سے گزرتا ہوا یکا یک بے سرو سامان ہو گیا ہو، اور آبادی کو چھوڑ کر جنگل بیابان میں جا پڑا ہو، آپ ذرا غور فرمائیے وہاں اس کے جنسی تقاضے باقی بھی رہیں گے۔ اور وہ اس لائق رہے گا کہ متعہ کے لئے مضطر و بے قرار ہو؟
مولانا کے سامنے غالباً متعہ کی پوری تعریف نہیں ہے۔ اگر متعہ کی پوری تعریف سے وہ باخبر ہوتے تو شاید ”تفہیم قرآن“ کے نام سے یہ لغزش ان سے سرزد نہ ہوتی۔
جو لوگ متعہ کی اباحت کے قائل ہیں، ان کے نزدیک اس کا مصرف محض جنسی تقاضوں کو پورا کرنا نہیں ہے بلکہ ایک مقصد ان کے سامنے یہ بھی ہے کہ وہ سفر میں جائیں تو انہیں ایک ایسے رفیق کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو اُن کی ضروریات کو سمجھنے اور ان کو پورا کرنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ یہ چیز ہمیشہ آبادیوں میں پیش آتی ہے۔ جہاں آدمی کو کھانے، پکانے، پہننے اور رہنے سہنے کے لئے کئی قسم کے تکلفات سے دوچار ہونا پڑتا ہے اور ان کو پورا کرنے کے لئے وہ ایک رفیق کی ضرورت محسوس کرتا ہے چنانچہ شیعہ مسلک نے ایسی صورت میں متعہ (عارضی نکاح) کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس عارضی نکاح میں مرد، عورت کو کچھ روپے بھی دیتا ہے یعنی باقاعدہ یہ ایک سودے کی صورت میں طے پاتا ہے۔
متعہ کی اس ضرورت اور تعریف کی روشنی میں مولانا مودودی بتائیں کہ کیا ایک سنسان جنگل میں بھی یہ ضروریات پیش آسکتی ہیں۔ جہاں کی زندگی اور اس کے لوازمات ہی ناپید ہیں؟
متعہ کے جواز میں مولانا کا یہ مضمون پڑھتے ہوئے یوں معلوم ہوتا ہے کہ مولانا کوئی فلم دیکھ رہے ہیں۔ جس میں ایک وسیع و عریض سمندر دکھایا گیا ہے اور اس میں مسافروں سے لدا ہوا ایک جہاز سمندر پر تیرتا ہوا چلا جا رہا ہے کہ ناگہاں سمندر میں تلاطم برپا ہو جاتا ہے اور سمندر کی متمرد لہروں کے زور دار تھپیڑے جہاز کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں۔ صرف ایک تختہ بچ جاتا ہے جس پر ایک مرد اور ایک عورت سوار ہیں۔ اور مولانا دیکھ رہے ہیں کہ وہ تختہ بہتے بہتے ایک جزیرے میں پہنچ جاتا ہے جہاں کوئی آبادی نہیں ہے۔ وہاں پہنچ کر ادھر وہ تختے سے نیچے اترتے ہیں اُدھر جنسی بھوک کی شدت انھیں ستانے لگتی ہے۔ یعنی مولانا دیکھ رہے ہیں کہ ان کے سامنے سوائے جنسیت کے اور کوئی مسئلہ مشکل نہیں ہے۔ کھانے پینے کا سامان اور پہننے کے لئے کپڑے وہ تختے پر لاد کر ساتھ لے آئے ہیں۔ اب صرف ایک مسئلہ ان کے سامنے ہے۔۔۔۔۔۔ اور وہ ہے متعہ۔!!
متعہ کا جواز ثابت کرنے کے لئے مولانا کو کتنے مفروضے قائم کرنا پڑے ہیں کہ عورت میں جاذبیت بھی ہو، اور وہ متعہ کے لائق بھی ہو پھر وہ دونوں مضطر اور بیقرار بھی ہوں۔
سوال یہ ہے کہ اگر مرد تو مضطر ہو مگر عورت مضطر نہ ہو، یا عورت مضطر ہو اور مرد مضطر نہ ہو تو کیا اس صورت میں مولانا اس بات کا ذمہ لیتے ہیں کہ ان دونوں میں سے جو مضطر نہ ہو، اس کو وہ اضطرار اور شہوت رانی کے انجکشن دیں گے تاکہ دونوں میں توازن قائم رہے اور وہ متعہ کے لئے تیار ہو سکیں (الاعتصام 4 نومبر 55ء)
سُنّتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق:
اسوۂ رسول و سُنّتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہر نیک دل مسلمان اپنے دل میں بہترین عقیدت رکھتا ہے اور کیوں نہ ہو محبتِ رسول کی یہی علامت ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ [من احب سنتي فقد احبني ومن احبني كان معي في الجنة] جس نے میری سُنّت کو دوست رکھا اس نے مجھ کو دوست رکھا اور جس نے مجھے دوست رکھا وہ قیامت کے دن جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ [جامع الترمذی:2678]
اسوۂ رسول و سُنّتِ نبوی کا کوئی ایسا منطقی مفہوم نہیں ہے جسے عوام و خواص محبانِ رسول نہ جانتے ہوں اور نہ سمجھ پاتے ہوں۔ مولانا مودودی صاحب کی اس میدان میں ”گل افشانی“ ملاحظہ ہوں۔ آپ کے خیال شریف میں سُنّت کا مفہوم مصطلحہ ہی سرے سے غلط ہے اسی کو کہتے ہیں کہ ”نہ رہے بانس نہ بجے بانسری“
❀ چنانچہ آپ کا ارشادِ شریف یہ ہے:
"میں اُسوہ اور سُنّت اور بدعت وغیرہ اصطلاحات کے ان مفہومات کو غلط بلکہ دین میں تحریف کا موجب سمجھتا ہوں، جو بالعموم آپ حضرات کے ہاں رائج ہیں”۔ [ترجمان: مئی/جون 45ء]
داڑھی کے متعلق:
چونکہ آج کل فیشن پرست مسلمانوں کے لئے داڑھی بھی ایک ”وبالِ جان“ بنی ہوئی ہے، اسی لئے حضرت مولانا مودودی صاحب جیسے ”مزاج شناسِ رسول“ کا اولین کام یہی ہونا تھا کہ ”داڑھی رکھنا“ جیسے ناقابلِ برداشت سُنّت کے کاموں کے سُنّت ہونے سے ہی انکار کر دیں۔ بس پھر میدانِ صاف ہے۔
❀ چنانچہ داڑھی کے متعلق خصوصیت سے ارشادِ مودودیت یہ ہے:
"آپ کا یہ خیال کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جتنی بڑی داڑھی رکھتے تھے اتنی ہی بڑی داڑھی رکھنا سُنّتِ رسول یا اُسوۂ رسول ہے یہ معنیٰ رکھتا ہے کہ آپ عاداتِ رسول کو بعینہٖ وہ سُنّت سمجھتے ہیں جس کے جاری اور قائم کرنے کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے انبیاء علیہم السلام مبعوث کئے جاتے رہے ہیں مگر میرے نزدیک صرف یہی نہیں کہ یہ سُنّت کی صحیح تعریف نہیں ہے بلکہ میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں کہ اس (داڑھی جیسی) قسم کی چیزوں کو سُنّت قرار دینا اور پھر ان کے اتباع پر اصرار کرنا ایک سخت قسم کی بدعت اور خطرناک تحریفِ دین ہے”۔
[ترجمان القرآن مئی و جون 45ء]
داڑھی کا بوجھ نہ برداشت کر سکنے والے نازک طبع حضرات کو مولانا کا بہت بہت مشکور ہونا چاہیے، آپ نے نہ صرف داڑھی کے جھنجھٹ سے ان کو نجات دلائی بلکہ ”الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے“ آپ نے غریب داڑھی رکھنے والے عاشقانِ سُنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو بدعتی اور دین کے مُحرّف قرار دے دیا۔ مولانا کو اس خدمت و اقامتِ دین پر جس قدر بھی مبارکباد دی جائے کم ہے۔ جن دنوں مولانا صاحب نے اپنے ان فتاووں کو شائع فرمایا آپ کے بہت سے مقلدین نے ان پر عمل کرتے ہوئے اپنی اچھی خاصی داڑھیوں کو کاٹ چھانٹ کر کے مختصر کر لیا۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو، [خطاب بہ مودودی: ص45]
ایسا کرنے پر وہ مجبور تھے اس لئے کہ
بمے سجادہ رنگیں کن گرت پیرِ مغاں گوید // کہ سالک بے خبر نبود ز راہ و رسمِ منزلہا
انکارِ حدیث کے لئے چور دروازوں کی تلاش:
تخفیفِ سُنّت کی منزل کو طے کرنے کے لئے انکارِ حدیث کا مرحلہ طے کرنا ضروری ہے۔ مگر جمہور کے خلاف کھلے لفظوں میں حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کر دینا کوئی آسان کام نہیں اور جن لوگوں نے یہ حرکت کی وہ امتِ اسلام میں مردود، ملعون و ملعون قرار پائے اور دونوں جہان میں خائب و خاسر ہوئے ان ہی ضروری وجوہات کی بنا پر حضرت مولانا مودودی صاحب نے ”بین بین“ یعنی درمیانی راستہ اختیار کیا۔ چنانچہ ایک طرف آپ حضراتِ محدثینِ کرام کی ان لفظوں میں تعریف فرماتے ہیں:
"حق یہ ہے کہ مسلمانوں پر ان محدثین کا اتنا بڑا احسان ہے کہ وہ قیامت تک اس بار سے سبکدوش نہیں ہو سکتے”۔ (تفهیمات: ص276)
❀ دوسری طرف ان ہی بزرگانِ اسلام محدثینِ کرام کی بابت مولانا کا ارشاد یوں ہے:
"وہ حضرات (محدثین) ایک دوسرے پر چوٹیں کرتے تھے، ایک دوسرے کو لا علم، کذاب اور دجال الدجال تک کہہ ڈالتے تھے۔ پھر ان کی بیان کردہ حدیث میں کون سی چیز ایسی ہے جس میں غلطی کا احتمال نہ ہو”۔ (تفہیمات: ص294)
مولانا موصوف کے ہر دو بیانات کو انصاف کی ترازو میں رکھ کر وزن کیجئے آپ پر واضح ہو جائے گا کہ مولانا صاحب کا رُخ کس منزل کی طرف ہے۔
ایک بھی حدیث ایسی نہیں جس پر یقین کیا جا سکے:
اس عقیدہٴ مودودیت کے متعلق کسی اور تفصیل کی ضرورت نہیں ممکن ہے اسے مبالغہ آمیزی سے تعبیر کیا جائے اس لئے خود مولانا مودودی صاحب ہی کے الفاظِ مبارک نوٹ فرما لیجیے۔ آپ کا ارشادِ گرامی یوں ہوتا ہے۔
"احادیث چند انسانوں سے چند انسانوں تک پہنچتی ہوئی آئی ہیں، جن سے حد سے حد اگر کوئی چیز حاصل ہوتی ہے تو وہ محض گمانِ صحت ہے نہ کہ علمِ یقین”۔ (ترجمان القرآن ربیع الاول 1265ھ)
مولانا کے اس قسم کے گمراہ کن ارشادات پر آگے تفصیلی تبصرہ جات آ رہے ہیں، اس لئے ہم یہاں اتنا ہی عرض کرتے ہیں کہ جس احتمال سے آپ انکارِ حدیث کے لئے چور دروازہ ڈھونڈنے کی کوشش میں ہیں، اسی دروازے سے ایک آپ جیسا محقق قرآن کا بھی تو انکار کر سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ موجودہ قرآن چند انسانوں سے چند انسانوں تک ہی نقل ہوتا چلا آ رہا ہے، پھر اس سے ”علمِ یقین“ کیسے حاصل ہو نقل کرنے والے سب انسان ہی تو تھے ان سب سے غلطی کے امکانات ہیں۔ اب بتائیے خود علامہ مودودی صاحب یا ان کے حواری اس منکرِ قرآن کی تشفی کے لئے کون سا راستہ اختیار کریں گے؟ کیا صحابہ و تابعین و ائمہ دین میں کوئی بھی بزرگ ایسا نہیں جس کی نقل پر بھروسہ کیا جا سکے؟۔
❀ محدثینِ کرام کے متعلق مزید بے اعتمادی آپ ان لفظوں میں پیدا کرنے کی کوشش فرماتے ہیں:
"کلام اس میں نہیں بلکہ صرف اس امر میں ہے کہ کلیتہً ان پر اعتماد کرنا کہاں تک درست ہے۔ وہ بہر حال تھے تو انسان ہی”۔ (تفہیمات: ص292)
مولانا کا یہ اصول اتنا خطرناک ہے کہ دُنیا میں کوئی بھی انسان خواہ وہ کسی بھی درجہ پر فائز ہو، قابلِ اعتماد نہیں رہ سکتا۔ اس حد تک بے اعتمادی سے دُنیا کا نظام ہی سارے کا سارا معطل ہو سکتا ہے۔ مگر مولانا صاحب ہیں کہ بے کھٹکے امت کو اس خطرناک "بے اعتمادی” کی تلقین فرما رہے ہیں۔ مولانا معاف فرمائیے؟ آپ بھی تو انسان ہی ہیں بلکہ یہ آپ کی ذاتِ گرامی پر اعتماد کرنا کہاں تک صحیح ہو گا؟ اور آپ پر اس طرح اعتماد کرنے والوں کے حق میں آپ کا کیا فتویٰ ہو گا؟
❀ اسی سلسلہ کی آپ کی ایک اور گل افشانی ملاحظہ ہو، فرماتے ہیں:
"آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جس کو وہ ”محدثینِ کرام“ صحیح قرار دیتے ہیں وہ حقیقت میں بھی صحیح ہے۔ صحت کا کامل یقین تو خود ان کو بھی نہ تھا”۔ (تفہیمات: ص292)
مولانا مودودی صاحب کی یہ وہ خطرناک چوٹ ہے، جس سے اسلام کا سارا شیرازہ درہم برہم ہو سکتا ہے۔ محدثینِ کرام کو اگر اپنی نقل کردہ صحیح روایات پر خود ہی یقین نہیں تھا تو کیا بھک مارنے کے لئے انھوں نے اس فن کی تدوین میں عمریں صرف کیں؟ یوں ہی بے کار انھوں نے اس فن کی تکمیل کے لئے قابلِ اساتذہ کی تلاش میں صدہا میل کا سفر کیا؟ یوں ہی یہ ہزار ہا صفحات سیاہ کر کے امت کے ہاتھوں میں دیئے گئے؟ حقیقت تو یہ ہے کہ علامہ مودودی اگر کھلے ہوئے منکرِ حدیث ہو کر ایسی باتیں کہہ جاتے تو افسوس نہ ہوتا۔ حدیث پر ایمان و یقین کا دعویٰ کرتے ہوئے چور دروازوں سے ذخیرہٴ احادیث پر بم برسانا کوئی معقولیت نہیں ہے۔
مسٹر ”پرویز“ کیا فرماتے ہیں؟
مسٹر پرویز غالباً ان ہی حالات کے تحت فرماتے ہیں کہ مولانا مودودی صاحب بھی تو میری ہی طرح منکرِ حدیث ہیں۔ پھر مجھ ہی کو کیوں برا بھلا کہا جاتا ہے۔ پرویز صاحب کی اصل عبارت جو اُن ہی کے لفظوں میں نقل ہے، درج ذیل ہے۔
"حدیث کے متعلق بعینہٖ یہی مسلک (جو مودودی صاحب کا ہے) طلوعِ اسلام کا ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ وہ کسی ایک فرد کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ جس بات کو اس کی نگاہ جو ہر شناس سُنّتِ رسول قرار دے دے اس کی اتباع ساری امت پر لازم قرار پا جائے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ حق امت کے صرف قرآنی نظام کو حاصل ہے کہ وہ روایات کو اس ذخیرے کو چھان پھٹک کر دیکھ لے کہ اس میں کون سی چیز صحیح ہو سکتی ہے اور کون کون سی جزئیات ایسی ہیں کہ جن میں کسی تغیر و تبدل کی ضرورت نہیں لیکن آپ دیکھئے گا کہ اس کے باوجود جماعتِ اسلامی طلوعِ اسلام کو مسلسل اور پیہم منکرِ حدیث اور منکرِ شانِ رسالت ٹھہرا کر ایک بہت بڑے فتنے کا موجب قرار دیتی ہے اور اپنے امیر کو حدیث کا سب سے بڑا حامی اور سُنّت کا جدید مقنّع قرار دیتی ہے”۔ الخ (رسالہ حق پرست علماء کا جواب مولانا احمد علی صاحب 58 ص)،(طلوعِ اسلام کراچی 2 اپریل 1955ء)
جہاں تک اپنی معلومات کا تعلق ہے مودودی صاحب نے آج تک پرویز صاحب کے اس چیلنج کا کوئی جواب نہیں دیا۔
حضرتِ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور آپ کی ”الجامع الصحیح“ پر حملے:
علامہ مودودی صاحب کی اس روش کے پیشِ نظر حضرتِ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور ان کی ”الجامع الصحیح“ کے بارے میں جو کچھ آپ نے یا آپ کے حواریوں نے کہا یا لکھا ہے وہ کچھ بعید از قیاس نہیں ہے۔ مولانا صاحب یا ان کے حواریوں کی ایسی جملہ تحریروں کو جمع کیا جائے جو ان ”اقامتِ دین“ کے دعویداروں نے حوالۂ قلم کی ہیں تو ایک خاصا دفتر تیار ہو جائے۔ مگر ہمارے زیرِ قلم مقالہ میں اتنی گنجائش نہیں ہے۔ اس لئے ہم مولانا کی وہ تازہ ترین تقریر جو آپ نے [15 مئی 55ء] کو برکت علی ہال میں ارشاد فرمائی بحوالہ [اخبار الاعتصام مجریہ 27 مئی 1955ء] اور [3 جون 1955ء] معہ تبصرہٴ اخبار موصوف کے درج ذیل کر دیتے ہیں اس سے صحیح بخاری شریف کے بارے میں مودودی موقف معلوم ہو گا۔ اور پھر ادارہ کا علمی منصفانہ تبصرہ اس قابل ہے کہ اسے بار بار پڑھ کر علم و ایقان پرور بصیرت حاصل کی جائے۔ مولانا موصوف کی اس تاریخ والی تقریر کا موضوع سُنّتِ رسول اور حدیث تھا۔ بہت کچھ رَین و آن کے بعد مولانا صاحب نے بخاری شریف کے بارے میں اپنے موقف کا یوں اعلان فرمایا:
"کوئی شریف آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ حدیث کا جو مجموعہ ہم تک پہنچا ہے وہ قطعی طور پر صحیح ہے، مثلاً بخاری جس کے بارے میں اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہا جاتا ہے، حدیث میں کوئی بڑے سے بڑا غلو کرنے والا بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس میں جو چھ سات ہزار احادیث درج ہیں وہ ساری کی ساری صحیح ہیں”۔
مولانا مودودی نے اپنے اس عقیدہ یا نظریہ کی تشریح ایک مضمون ”مسلکِ اعتدال“ میں بھی کی ہے جو ان کے مجموعہٴ مضامین ”تنقیحات“ میں شائع ہو چکا ہے۔
مولانا نے یہ بھی فرمایا:
"کسی شخص کو یہ حق نہیں کہ جس حدیث کو تحقیق سے اس نے صحیح جان لیا ہے، وہ دوسروں کو بھی مجبور کرے کہ اس کی تحقیق کو قبول کریں، ہر شخص اپنی جگہ تحقیق کرنے کا حقدار ہے”۔
اس سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ خدا نخواستہ احادیث کی صحت ایسی ہے کہ ہر شخص اس کو چیلنج کر سکتا ہے اور اپنی تحقیق اور صوابدید سے ٹھکرا یا تسلیم کر سکتا ہے۔ تلقی بالقبول جس کو محدثین نے بجائے صحت کے ایک معتمد علیہ پیمانہ قرار دیا ہے کوئی چیز نہیں۔ کیا اس سے اس انتشار و رفضیت کو تقویت نہیں ملتی جس کے ازالے کے لئے مودودی صاحب کوشاں ہیں؟ اور کیا اس سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ احادیث کی صحت و عدم صحت کا معاملہ ان کے نزدیک سراسر شخصی ہے۔ اور کوئی کسی کو حدیث کی کسی تشریح او تفسیر کے بارے میں مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ اس کو صحیح تسلیم کر لے۔ ہم مولانا سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ اس اندازِ استدلال سے کہیں خود ہماری اپنی پوزیشن کمزور تو نہیں ہوتی؟ اور لوگ اس نتیجے پر تو نہیں پہنچتے کہ جس حدیث کو صحیح سمجھیں گے مانیں گے، جس کو صحیح نہیں سمجھیں گے، نہیں مانیں گے۔ علاوہ ازیں مولانا نے جس انداز میں اس موضوع پر اظہارِ خیال کیا، وہ ہمیں نہیں بھایا۔ اس سے بہتر اور زیادہ ذمہ دارانہ پیرایہ بیان اختیار کیا جا سکتا تھا، مثال کے طور پر احادیث کے مجموعوں کا ذکر کرتے ہوئے صحیح بخاری کے بارے میں انھوں نے جن خیالات کا اظہار فرمایا وہ حد درجہ غیر ذمہ دارانہ ہیں۔ تعجب خیز بات یہ ہے کہ ان کی تقریر کا یہ حصہ ”تسنیم“ میں شائع نہیں ہوا، حالانکہ اگر مولانا نے یہ فرمایا ہے تو ”تسنیم“ کو اس کی اشاعت سے گریز نہیں کرنا چاہئے تھا۔
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے صحیح بخاری سے متعلق جو اظہارِ خیال فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس کی ترتیب و تدوین کے پس منظر اور اس کی تصنیف کے اسباب و عوامل سے واقف نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ اُمت میں صحیح بخاری کو صحت و قطعیت کے لحاظ سے کیا درجہ حاصل ہے اور علماءِ اہل سُنّت میں کتنی وقعت سے دیکھی جاتی ہے۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پہلے صحیح بخاری کی تصنیف کا پس منظر بیان کر دیا جائے تاکہ مولانا مودودی اور دیگر حضرات پر یہ واضح ہو سکے کہ صحت و قطعیت کے اعتبار سے اس کا مقام کتنا بلند ہے۔
حافظ ابنِ حجر مقدمہ ”فتح الباری“ میں فرماتے ہیں:
کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے جب احادیث کے مجموعوں پر نظر ڈالی، ان میں ان کو صحیح اور ضعیف باہم ملی جلی احادیث نظر میں آئیں تو انھوں نے صحیح احادیث کے جمع کرنے کا عزم کیا۔ حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ علیہ کے الفاظ ہیں: [حرك همته لجمع الحديث الصحيح الذى لا يرتاب فيه امين]۔ [مقدمہ فتح الباری: ص4 طبع مصر]
یعنی ”امام موصوف نے ایسی صحیح احادیث کا مجموعہ مرتب کرنے کا ارادہ کیا، جس کی صحت کے متعلق کسی دیانتدار آدمی کو شبہ نہ ہو“۔ اور یہ ارادہ انھوں نے اپنے استاد محترم امام اسحق بن راہویہ (جو محدثین میں امیر المؤمنین فی الحدیث والفقه کے معزز خطاب سے معروف ہیں) کے ایک ارشاد کی تعمیل اور ان کی ایک خواہش کی تکمیل میں کیا جسے حافظ ابنِ حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اس طرح ذکر کیا ہے کہ ایک دفعہ امام اسحق بن راہویہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے تلامذہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
[لو جمعتم كتاباً مختصراً الصحيح لسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم]
”کاش تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سُنّت کا ایک صحیح مجموعہ کتابی صورت میں جمع کر دو“۔
امام بخاری رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت الاستاذ کا یہ ارشاد میرے دل میں اتر گیا اور [اخذت فی جمع الجامع الصحیح] (مقدمہ فتح الباری: ص5 طبع مصر) میں نے صحیح بخاری کی تدوین شروع کر دی۔
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ علیہ نے اپنے استاذ کے اس ارشاد کی کس طرح تعمیل کی اس کے بارے میں خود انھیں کے الفاظ ہیں۔
[صنفت كتابي الجامع في المسجد الحرام وما ادخلت فيه حديثاً حتى استخرت الله تعالى وصليت ركعتين وتيقنت صحته]
میں نے اپنی یہ کتاب مسجدِ حرام میں تصنیف کی اور میں نے ایک ایک حدیث استخارہ کر کے اور دو رکعت نفل پڑھ کر اس میں درج کی جبکہ مجھے اس کی صحت کا کامل یقین ہو گیا۔ [مقدمہ فتح الباری: ص490]
اس یقین کی وجہ سے امام بخاری نے اس کا نام [الجامع المسند الصحيح المختصر من امر رسول الله صلى الله عليه وسلم وسننه وأيامه] تجویز فرمایا۔
حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی اس فقید المثال خدمتِ حدیث سے متعلق۔ علماءِ اُمت میں اس کو جو وسعت پذیر اور ہمہ گیر قبولیت حاصل ہوئی، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مختصر تذکرہ کر دیا جائے۔ تاکہ مولانا مودودی صاحب کو معلوم ہو جائے کہ صحیح بخاری کو تلقی بالقبول کا جو درجہ حاصل ہے، وہ مولانا مودودی یا اُن کے عقیدت مندوں کے اس خیال کو کہ "کوئی شریف آدمی یہ نہیں کہہ سکتا کہ حدیث کا جو مجموعہ ہم تک پہنچا ہے وہ قطعی طور پر صحیح ہے، مثلاً بخاری جس کے بارے میں اصح الکتب بعد کتاب اللہ کہا جاتا ہے، حدیث میں کوئی بڑے سے بڑا غلو کرنے والا بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس میں جو چھ سات ہزار احادیث درج ہیں وہ ساری کی ساری صحیح ہیں،”
ائمۂ دین، علماءِ سلف، اور فن کے ماہرین و محققین کی تصریحات کے مقابلہ میں کیا حیثیت حاصل ہے۔۔۔
[1] امام نسائی فرماتے ہیں:
[أجود هذه الكتب كتاب البخاري وأجمعت الأمة على صحة هذين الكتابين ووجوب العمل بأحاديثهما]
ترجمہ: حدیث کی تمام کتابوں میں سے بہترین کتاب صحیح بخاری ہے اور اس پر اُمت کا اجماع ہے کہ یہ دونوں کتابیں (بخاری و مسلم) صحیح ہیں اور ان پر عمل کرنا واجب ہے۔ [مقدمہ صحیح البخاری: ص4]
[2] مشہور محدث حافظ ابنِ الصلاح صحیح احادیث کی اقسام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
[واعلاها الاول وهو الذي يقول فيه أهل الحديث كثيراً صحيح متفق عليه] یعنی صحت کے لحاظ سے سب سے اونچا مقام ان احادیث کا ہے جن کے متعلق محدثین اکثر فرماتے ہیں۔ "صحیح متفق علیہ”
پھر فرماتے ہیں:
معنیٰ تو اس کا یہی ہے کہ امام بخاری و مسلم نے اس کی صحت پر اتفاق کیا اور یہ نہیں کہ اُمت نے اس پر اتفاق ہے۔
ان کے الفاظ یہ ہیں:
[لكن اتفاق الامة عليه لازم من ذلك وحاصل معه لاتفاق الامة على تلقى ما اتفق عليه بالقبول]
اس قسم کی احادیث تمام تر قطعی الصحت ہیں اور ان سے علمِ یقینی اور نظری حاصل ہوتا ہے۔
ان کے الفاظ یہ ہیں:
[وهذا القسم جميعه مقطوع بصحة والعلم اليقيني النظري واقع به]
یہ ان کی تصریح تو متفق علیہ کے متعلق ہے لیکن الگ الگ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے بارے میں ان کا فرمان یہ ہے کہ:
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جس طرح روایات میں منفرد ہیں اسی طرح امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ جن روایات میں منفرد ہیں، وہ احادیث بھی قطعی الصحت ہیں۔ اس لئے کہ اُمت نے ان میں سے ہر ایک کتاب کو قبولیت کا مقام بخشا ہے۔ ان کے الفاظ یہ ہیں:
[ما انفرد به البخاري او مسلم مندرج في قبيل ما يقطع بصحته لتلقى الامة كل واحد من كتابيهما بالقبول]
(مقدمہ ابن الصلاح: ص28-29 طبع مصر)
[3] حافظ عماد الدین ابنِ حجر رحمہ اللہ علیہ ابنِ کثیر اپنی کتاب [اختصار علوم الحدیث: ص8-9] میں حافظ ابنِ الصلاح کی مذکورہ بالا تصریحات درج کر کے ان سے امام نووی رحمۃ اللہ علیہ کا اختلاف ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
"میں اس باب میں حافظ ابنِ الصلاح کی تائید کرتا ہوں، اس سلسلے میں انھوں نے جو کچھ ارشاد فرمایا ہے وہ صحیح ہے۔”
اس کے بعد شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
”احادیث کے وہ مجموعے جن کو اُمت نے قبولیت کا مقام بخشا ہے، ان کی احادیث کے قطعی الصحت ہونے کا فتویٰ ائمہٴ دین کی متعدد جماعتوں سے ثابت ہے، جیسا کہ قاضی عبدالوہاب مالکی اور شوافع میں سے شیخ ابو حامد الاسفرائنی، قاضی ابو طیب طبری، شیخ ابو اسحاق شیرازی، اور حنابلہ میں ابن حامد، ابو یعلیٰ بن الفراء، ابو الخطاب ابن الزاغونی اور علماءِ حنفیہ میں سے شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے۔ نیز اشعریہ میں اکثر علماءِ کلام اور ان کے سوا ابو اسحاق اسفرائنی اور ابن فورک وغیرہ کا یہی مذہب ہے۔“
آخر میں فرماتے ہیں:
[وهو مذهب اهل الحديث قاطبة ومذهب السلف عامة وهو يعنى ماذكر ابن الصلاح استنباط فوافق فيه هؤلاء الائمه]
یعنی تمام اہلحدیث اور سلف کا بالعموم یہی مذہب ہے اور حافظ ابنِ الصلاح کے قول کا یہی معنی ہے۔ پس حافظ ابنِ الصلاح کا قول ان تمام ائمہ کے مطابق ہو گیا۔”
ہم یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جو کچھ ہم عرض کر رہے ہیں، وہ مولانا مودودی کے اس نازیبا حملے کے خلاف ہے کہ "حدیث کے بارے میں بڑے سے بڑا غلو کرنے والا بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ صحیح بخاری کی ساری کی ساری احادیث صحیح ہیں”۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ الفاظ نہ صرف یہ کہ علمی پایۂ تحقیق سے گرے ہوئے ہیں، بلکہ ائمۂ دین، ماہرینِ علمِ حدیث اور بزرگانِ سلف کی تحقیر پر مشتمل ہیں۔۔
اب آپ شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ اور دوسرے بزرگوں کے اقوال ملاحظہ فرمائیے۔
حضرت شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ [حجة اللہ البالغہ: ص134 جلد1] میں فرماتے:
[الصحيحان فقد اتفق المحدثون على ان جميع ما فيهما من المتصل المرفوع صحيح بالقطع وانهما متواتران الى مصنفيهما وانه من هون امرهما فهو مبتدع متبع غير سبيل المؤمنين]
ترجمہ: صحیحین کی ساری کی ساری روایاتِ متصلہ مرفوعہ پر محدثین کا اجماع ہے اور وہ اس پر متفق ہیں کہ وہ سب کی سب قطعی طور پر صحیح ہیں۔ جو شخص ان کی اس اہمیت کو گرانا چاہتا ہے۔ وہ بدعتی ہے اور اہل ایمان کی راہ سے دُور جا رہا ہے۔
زمانۂ قریب کے مشہور محقق حضرت العلام سید انور شاہ دیوبندی رحمت اللہ علیہ کا ارشاد [فیض الباری] میں مذکور ہے کہ:
"حافظ ابنِ حجر رحمہ اللہ علیہ، علامہ سرخسی حنفی رحمہ اللہ، شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ اور امام ابنِ الصلاح وغیرہ ہم محققین کی جماعت کی یہ تحقیق ہے کہ صحیحین کی حدیثیں قطعی الثبوت ہیں۔”
ان بزرگوں کی آراء کا ذکر کرنے کے بعد علامہ دیوبندی اپنا فیصلہ صادر فرماتے ہیں:
[ان رائيهم هو الراى] (مقدمہ فیض الباری 45 ص جلد اول) یعنی ان کا فیصلہ ہی صحیح ہے۔
زمانۂ حاضر کے مصری علماء میں سے علامہ احمد شاکر لکھتے ہیں:
[عند اهل العلم الحديث من المحققين ولمن اهتدى هديهم وتبعهم على بصيرة ان احاديث الصحيحين صحيحة كلها ليس فى واحد منها مطعن ولا ضعف]
یعنی محققینِ علمِ حدیث اور اصحابِ بصیرت کے نزدیک بخاری و مسلم کی سب حدیثیں صحیح ہیں اور اُن میں کوئی ضعف نہیں ہے۔ (حاشیہ الباعث الحثیث: ص22)
ہم اس مسئلہ پر اظہارِ رائے کے لئے اس بنا پر مجبور ہوئے ہیں کہ۔۔ صحیح بخاری کے باب میں اُمّتِ مسلمہ کے احساسات نہایت نازک ہیں، اور مولانا مودودی صاحب ایسے ذمہ دار شخص کا مجمع عام میں اس کو غیر ذمہ دارانہ طور سے موضوع بنانا قطعی طور پر نا قابلِ برداشت ہے۔
ہمیں اگرچہ حدیث کے بارے میں مودودی صاحب کی علمی و فکری کمزوریوں کا احساس ہے اور ہم خوب جانتے ہیں کہ وہ اس ضمن میں کن افکار کے حامل ہیں اور اہل سُنّت سے ان کی راہ کتنی مختلف ہے۔ تاہم حالات کی نزاکت کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اس باب میں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑتے اور کوئی ایسا اقدام نہ کرتے جس سے کہ ہمارے مشترک مفاد کو نقصان پہونچنے کا اندیشہ لاحق ہوتا۔ لیکن اس کا کیا علاج کہ۔۔
"عین اس وقت جبکہ تمام مکاتبِ فکر سے متعلق جماعتوں کا اتحادِ عمل میں لانے کی کوششیں ہو رہی ہیں انھوں نے ایک ایسے انداز سے کتبِ حدیث کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش شروع کر دی ہے جس سے منکرینِ حدیث کے مفاد کو تقویت پہونچتی ہے۔”
اور ہم یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ بڑے سے بڑے منکرِ حدیث کو بھی یہ جرأت نہیں ہو سکتی کہ وہ پبلک جلسہ میں یہ کہے کہ:
"کوئی شریف آدمی بخاری کی ساری احادیث کو صحیح نہیں کہہ سکتا۔” انا لله وانا اليه راجعون
ہم شاید خاموش رہتے اگر مولانا کی یہ رائے ان کی ذاتی رائے ہوتی۔ لیکن یہ بات انھوں نے جماعتِ اسلامی کے ایک اجتماعِ عام میں کہی، اور اس میں انھوں نے اپنے نقطۂ نظر کو اپنی تصنیفات کے ذریعہ سے سمجھنے کے لئے لوگوں سے اپیل کی کہ۔۔ وہ اُن کے لٹریچر کا مطالعہ کریں۔
اس لئے مولانا صاحب کی اس تقریر کو جو تہذیب و متانت اور علمی پایۂ تحقیق سے گری ہوئی ہے، نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر واقعی مولانا مودودی صاحب کی یہ ذاتی رائے ہے اور جماعتِ اسلامی کا اس سے کوئی تعلق نہیں تو کیا جماعتِ اسلامی میں کوئی ایسا ”رجلِ رشید“ نہیں جو اس غلطی پر مولانا صاحب کو آگاہ کر سکے۔ اور انھیں جرأت کے ساتھ یہ کہہ سکے کہ وہ اس قسم کے خیالات کی اشاعت کے لئے جماعت کا پلیٹ فارم استعمال نہ کریں اور ایسے لٹریچر کو جماعتِ اسلامی کے لٹریچر سے تعبیر کریں۔