صحابہ کرام کا فہم اور شیطانی وسوسوں سے حفاظت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

صحابہ کرام کے سامنے شیطان بے بس رہا

ان سابقین اولین میں ایک شخص بھی ایسا نہیں ملتا جس کے سامنے بشری صورت میں آ کر شیطان نے یہ کہا ہو کہ میں خضر، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ یا مسیح علیہ السلام ہوں، اور نہ ہی کسی قبر کے پاس آ کر اس قسم کی کلام کی جس سے یہ خیال پیدا ہو کہ یہ صاحب قبر ہے جو مجھ سے ہم کلام ہے۔ ہاں، بعد میں آنے والوں پر شیطان کا بھر پور داؤ چلا، خصوصاً نصاریٰ پر جب کہ انہوں نے بزعم خود عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر لٹکا دیا۔ ابلیس نے آ کر کہا کہ دیکھو! یہ ہیں کیلوں کے نشان، میں وہی مسیح ہوں، مجھے شیطان نہ سمجھنا کیونکہ شیطان کا جسم نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔ اسی قسم کی باتوں پر اعتماد کرتے ہوئے نصاریٰ نے بغیر مشاہدہ کہا کہ وہ سولی پر لٹکا دیئے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص نے بھی بچشم خود مسیح علیہ السلام کو سولی پر لٹکے ہوئے نہیں دیکھا۔ البتہ یہودیوں میں سے چند ایک نے کسی کو سولی پر چڑھایا اور مشہور کر دیا کہ مسیح ہی مصلوب ہیں۔ اگرچہ یہود اپنے اس منصوبے میں بری طرح ناکام رہے لیکن ان کے اس ارادہ بد کی وجہ سے ان کو مجرم قرار دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا ‎﴿١٥٦﴾‏ وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ‎﴿١٥٧﴾‏ بَل رَّفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا ‎﴿١٥٨﴾‏
”اپنے کفر میں یہ اتنے بڑھے کہ مریم پر سخت بہتان لگایا اور خود کہا کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے۔ حالانکہ فی الواقع انہوں نے اس کو قتل کیا نہ صلیب پر چڑھایا بلکہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ کر دیا گیا۔ اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں۔ ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے، محض گمان ہی کی پیروی ہے۔ انہوں نے مسیح کو یقیناً قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا۔“
(4-النساء:156-158)
عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں تفصیلات کا یہ موقع نہیں، اس پر کسی دوسری جگہ مکمل بحث ہو گی۔ ان شاء اللہ۔
دیکھئے امام موصوف کی کتاب الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح
خلاصہ یہ کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر شیطان کا داؤ نہ چل سکا کہ انہیں راہ راست سے ہٹا سکے۔ البتہ اہل بدعت کو گمراہ کرنے کے لیے اسے موقع مل گیا جنہوں نے قرآن کریم کی ایسی تاویلات کیں جو صحیح نہ تھیں یا وہ سنت سے بے بہرہ تھے یا ایسی ایسی باتیں سنیں اور دیکھیں جو مافوق العقل تھیں، تو انہوں نے ان کو انبیاء و صالحین کی کرامات خیال کیا، حالانکہ ان باتوں کی شیطانی شعبدہ بازی سے زیادہ وقعت نہ تھی جیسے نصاریٰ کو گمراہ کیا گیا۔
نصاریٰ اور اہل بدعت محکم آیات کو چھوڑ کر متشابہ آیات کی ٹوہ میں لگ گئے۔ متشابہات، عقلی اور حسی دلائل کو سامنے رکھ کر ان پر عمل کرتے ہوئے ایسے ایسے امور سنتے اور دیکھتے جنہیں رحمانی خیال کرتے، حالانکہ وہ شیطانی دھوکہ ہوتے جن کی کوئی اصل نہ تھی اور ایسے بین اور واضح حق کو چھوڑ دیتے جس میں کسی قسم کا الجھاؤ نہ تھا۔
ابلیس انسانی شکل میں غیر اللہ سے استغاثہ کرانے میں بھی کامیاب نہ ہو سکا اور نہ ہی اپنی آواز کو صحابی رضی اللہ عنہ کی آواز سے مشابہ کر سکا کہ یہ لوگ دھوکہ کھا جائیں، کیونکہ ان لوگوں کو علم تھا کہ یہ شرک ہے۔
شیطان یہ دھوکہ دینے میں بھی کامیاب نہ ہو سکا کہ وہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ وسوسہ ڈال سکے کہ وہ کسی دوسرے صحابی رضی اللہ عنہ سے کہے کہ اگر تمہیں کسی قسم کی حاجت ہو تو میری قبر پر آ کر مجھ سے فریاد کرنا، جیسا کہ بعد میں آنے والوں کو اس قسم کے وسوسے ڈالنے میں کامیاب ہو گیا۔
یہ وسوسہ بھی نہ ڈال سکا کہ وہ کسی سے یہ کہے کہ میں رجال غیب میں سے ہوں یا میں ان چار، سات اور چالیس اوتاد میں سے ایک ہوں، یا تم ان میں سے ہو، کیونکہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو علم تھا کہ یہ سراسر دجل و فریب اور جھوٹ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔
یہ افتراء باندھنے میں بھی کامیاب نہ ہو سکا کہ وہ کسی سے یہ کہے کہ میں رسول اللہ ہوں یا کم از کم قبر مکرم کے پاس ہی جا کر کسی سے کلام کر سکے۔ جیسا کہ بعد میں آنے والوں کو اس قسم کے وسوسے ڈالنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ وسوسہ بھی نہ ڈال سکا کہ وہ کسی سے یہ کہے کہ میں رجال غیب میں سے ہوں یا میں ان چار سات اور چالیس اوتاد میں سے ایک ہوں، یا تم ان میں سے ہو۔ کیونکہ صحابہ شام کو علم تھا کہ یہ سراسر دجل و فریب اور جھوٹ ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔ یه افتراء باندھنے میں بھی کامیاب نہ ہو سکا کہ وہ کسی سے یہ کہے کہ میں رسول الله علم ہوں۔ یا کم از کم قبر مکرم کے پاس ہی جا کر کسی سے کلام کر سکے۔ جیسا کہ بعد میں آنے والے لوگوں کے ساتھ ہوا۔ خصوصاً مشرکین اور اہل کتاب گمراہ ہوئے اور اب بھی ہو رہے ہیں۔ بعض اوقات یہ لوگ دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص اسی بزرگ کی صورت میں نمودار ہوا ہے جو مدفون ہے جس کی عظمت و توقیر ہورہی ہے۔