قیامت کی نشانی : مدینہ ویران ہو جائے گا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : مدینہ ویران ہو جائے گا

عن سفيان بن أبى زهير رضى الله عنه أنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : تفتح اليمن فيأتي قوم يبسون فيتحملون بأهليهم ومن أطاعهم والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون ، وتفتح الشام فيأتي قوم يبسون فيتحملون بأهليهم ومن أطاعهم والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون وتفتح العراق فيأتي قوم يبسون فيتحملون بأهليهم ومن أطاعهم والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون
حضرت سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی سنا : یمن فتح ہو گا تو کچھ لوگ اپنی سواریوں کو دوڑاتے ہوئے لائیں گے اور اپنے اہل و عیال کو اور جو ان کی بات مان جائیں گے ان کو سوار کر کے مدینہ سے (واپس یمن کو) لے جائیں گے۔ کاش ! انہیں معلوم ہوتا کہ مدینہ ہی ان کے لئے بہتر تھا۔ پھر شام فتح ہو گا تو کچھ لوگ اپنی سواریوں کو تیز دوڑاتے ہوئے لائیں گے اور اپنے گھر والوں کو اور جو ان کی بات مانیں گے اپنے ساتھ (شام واپس) لے جائیں گے۔ کاش ! انہیں معلوم ہوتا کہ مدینہ ہی ان کے لئے بہتر تھا۔ پھر عراق فتح ہو گا تو کچھ لوگ اپنی سواریوں کو تیز دوڑاتے ہوئے لائیں گے اور اپنے گھر والوں کو اور جو ان کی بات مانیں گے ، سوار کر کے (عراق واپس) لے جائیں گے۔ کاش! انہیں معلوم ہوتا کہ مدینہ ہی ان کے لئے بہتر تھا۔
بخاری : کتاب فضائل المدينة : باب من رغب عن المدينة (1875) مسلم (1388)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : لوگوں پر ایسا وقت آنے والا ہے جب آدمی اپنے چچا، چچا زاد (Cousin) اور قریبی رشتہ داروں سے کہے گا کہ آؤ کسی خوشحال ملک کی طرف نکل چلیں، آؤ کسی خوشحال ملک کی طرف نکل چلیں۔ حالانکہ اگر انہیں معلوم ہو تو مدینہ بھی ان کے لئے بہتر ہے۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص مدینے سے بے رغبتی کرتے ہوئے نکل جائے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ اس سے بہتر شخص کو مدینے لا بساتے ہیں۔ خبردار ! مدینہ بھٹی کی طرح ہے جو خبیث شخص کو نکال پھینکتا ہے، قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ مدینہ اپنے برے لوگوں کو اس طرح نکال پھینکے گا جس طرح آگ لوہے کی میل کچیل اتار پھینکتی ہے۔
مسلم : كتاب الحج : باب المدينة تنفى خبثها وتسمى طابة وطيبة (1381 – 3352)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی شخص آیا اور اسلام پر بیعت کی پھر وہ دوسرے دن آیا تو اسے بخار تھا کہنے لگا کہ میری بیعت توڑ دیجیے (میں اسلام چھوڑتا ہوں) آپ نے انکار کر دیا۔ وہ تین مرتبہ لوٹ لوٹ کر آیا اور یہی تقاضہ کرتا رہا کہ میری بیعت واپس کر دیں پھر وہ مدینے سے نکل گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مدینے کی مثال بھٹی کی سی ہے جو میل کچیل دور کر کے خالص جوہر کو نکھار دیتی ہے۔
مسلم : كتاب الحج : ايضا (1381 – 3352)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کچھ لوگ مدینے سے بے رغبتی سے نکل جائیں گے حالانکہ اگر انہیں معلوم ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے بہتر تھا۔
احمد (398/2)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مدینہ اور مکہ کے سوا کوئی شہر بھی دجال کے پامال ہونے سے محفوظ نہیں رہے گا۔ ان (دونوں) کے ہر راستے پر صف بستہ فرشتے کھڑے ہوں گے جو ان کی حفاظت کریں گے۔ پھر مدینہ کی زمین تین مرتبہ کانپے گی جس سے اللہ تعالیٰ ہر کافر و منافق کو (مکہ و مدینہ سے) نکال باہر کریں گے۔
بخاری : کتاب فضائل المدينة : باب لا يدخل الدجال المدينة (1881) مسلم (2943)
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بنو سلمہ والوں نے چاہا کہ اپنے دور والے مکانات چھوڑ کر مسجد نبوی کے قریب اقامت اختیار کر لیں مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پسند نہیں کیا کہ مدینے کے کسی حصہ سے بھی رہائش ترک کی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بنو سلمہ ! تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے ؟ چنانچہ بنو سلمہ نے اپنی دور والی اقامت گاہ میں رہائش باقی رکھی۔
بخاری : کتاب فضائل المدينة : باب كراهية النبى ان تعرى المدينة (1887)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ مدینہ کو بہتر حالت میں چھوڑ جاؤ گے اور وہ ایسا اجاڑ ہو جائے گا کہ پھر وحشی جانور، درندے اور پرندے وہاں بسنے لگیں گے اور آخر میں مزینہ کے دو چرواہے مدینے آئیں گے تاکہ اپنی بکریاں ہانک لے جائیں لیکن وہاں انہیں صرف وحشی جانور نظر آئیں گے۔ آخر کار جب وہ ثنیۃ الوداع تک پہنچیں گے تو اپنے منہ کے بل گر پڑیں گے۔
بخاری : کتاب فضائل المدينة : باب من رغب عن المدينة (1874) مسلم (1389)
ایک روایت میں ہے کہ مدینہ کے لوگ شہر مدینہ کو اچھی بھلی حالت میں درندوں کے لئے چھوڑ جائیں گے۔
مسلم : کتاب الحج : باب اخباره بترك الناس المدينة على خیر ماکانت (1389)
ایک روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مدینہ کے لوگ مدینہ کو انتہائی اچھی حالت میں چھوڑ جائیں گے کہ ہر طرف تیار میوہ جات ہوں گے۔ پوچھا گیا کہ کون ان میووں کو کھائے گا؟ فرمایا : پرندے اور درندے۔
احمد (514/2)
حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مدینہ والو! اللہ کی قسم ! تم مدینہ کو چالیس سال تک درندوں کے لئے چھوڑے رکھو گے۔
احمد (3/6) فتح البارى (90/4)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قیامت تک ہونے والی سب باتوں سے آگاہ فرمایا تھا اور میں نے ہر فتنے کے متعلق آپ سے کچھ نہ کچھ پوچھ کر تسلی لی تھی مگر میں آپ سے یہ سوال نہ پوچھ سکا کہ اہل مدینہ کو کون سی چیز مدینے سے نکالنے پر ابھارے گی۔
مسلم : کتاب الفتن : باب اخبار النبي فيما يكون إلى قيام الساعة (2891) احمد (479/5)

فوائد :

➊ مذکورہ احادیث سے ثابت ہوا کہ مدینے کا ویران ہونا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➋ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینے میں رہائش اختیار کرنے اور اسے آباد کرنے کو پسند کیا ہے۔
➌ جو لوگ مدینے سے نکل جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگوں کو بسا دیں گے۔
➍ جب یمن، شام، عراق اور روم و ایران کی فتوحات ہوتی گئیں لوگ بھی مال و دولت اور خوشحالی کی حرص و طمع لئے مدینے کو خیر آباد کہہ کر مذکورہ مقامات کی طرف نکلتے گئے۔
➎ کسی ضرورت کے پیش نظر مدینے سے باہر رہائش اختیار کی جاسکتی ہے جیسا کہ کئی جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم (مثلاً معاذ بن جبل ، ابو عبیدہ ، عبد اللہ بن مسعود ، حضرت علی ، زبیر ، عمار رضی اللہ عنہم وغیرہ) نے بغرض ضرورت دوسرے علاقوں میں مسکنت اختیار کر لی تھی۔
➏ مدینہ کے ویران ہونے کے کئی تدریجی مراحل ہیں۔ مثلاً :
◈ فتوحات شام و عراق کے بعد لوگوں کا مفتوحہ علاقوں کی طرف ہجرت کر جانا اور یہ صورت حال واقع ہو چکی ہے۔
◈ کافر و منافق قسم کے لوگوں کا خروج، اور یہ اس وقت ہوگا جب دجال نکل چکا ہوگا مگر اس سے بھی مدینہ مجموعی طور پر ویران نہیں ہو گا۔
◈ قیامت سے متصل پہلے لوگ مجموعی طور پر مدینے سے نکل جائیں گے حتی کہ وہاں کسی بشر کا نام و نشان بھی باقی نہ رہے گا اور ممکن ہے کہ یہ صورت حال اس وقت پیش آئے جب اہل اسلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معیت میں یاجوج ماجوج سے بچنے کے لئے بحکم الہی کوہ طور پر بسیرا کریں گے۔ پھر جب یاجوج ماجوج سے روئے زمین پاک صاف ہو گی تو لوگ مدینہ میں چلے آئیں گے اور وہیں فوت ہو کر دفن ہوں گے پھر ان کے بعد مذکورہ صورتحال کا ظہور ہوگا۔ (واللہ اعلم)
تفصیل کے لئے دیکھئے : فتح الباری (88/4) شرح مسلم للنووى (154/9) الإشاعة (56) التذكرة للقرطبي (506) النهاية في الفتن (94/1)
➐ قرب قیامت کے وقت مکہ، مدینہ اور شام ایسے علاقے رہ جائیں گے جو فتنہ فساد، یاجوج ماجوج، دجال وغیرہ سے محفوظ رہیں گے علاوہ ازیں یہاں کسی کافر و منافق کا نام و نشان بھی نہ رہے گا بلکہ خالص مسلمان ہی یہاں رہنے کی سعادت پا سکیں گے۔ یا اللہ ہماری بھی یہ دعا قبول فرما لے۔
اللهم ارزقنا شهادة فى سبيلك واجعل موتنا فى بلد رسولك آمين