قیامت کی نشانی : بیت اللہ کی حرمت پامال کر دی جائے گی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : بیت اللہ کی حرمت پامال کر دی جائے گی

وعن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يخرب الكعبة ذو السويقتين من الحبشة
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کعبہ کو ایک پتلی پنڈلیوں والا حبشی خراب کرے گا۔
بخاری : كتاب الحج : باب قول الله تعالى جعل الله الكعبة البيت الحرام (1591) مسلم : كتاب الفتن (2909) احمد (408/2) (550/2) نسائی (217/5)
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : فى آخر الزمان يظهر ذو السويقتين على الكعبة ، قال : حسبت أنه قال : فيهدمها
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آخری زمانے میں دو پتلی پنڈلیوں والا کعبہ پر غلبہ پا لے گا۔ (راوی نے کہا میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ بیت اللہ کو منہدم کرے گا۔)
احمد (408/2) حوالہ سابقہ
عن ابن عباس رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : كأني به أسود أفحج يقلعها حجرا حجرا (يعني الكعبة)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : گویا میری نظروں کے سامنے وہ پتلی ٹانگوں والا سیاہ آدمی ہے جو خانہ کعبہ کے ایک ایک پتھر کو اکھاڑ پھینکے گا۔ (یہ منظر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ معجزہ دکھایا گیا)
بخاری : كتاب الحج : باب هدم الكعبة (1595) احمد (283/1) ابن حبان (6752) ابو يعلى (2537)
عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : يخرب الكعبة ذو السويقتين من الحبشة ويسلبها حليتها ويجردها من كسوتها ولكأني أنظر إليه أصيلع أفيدع يضرب عليها بمسحاته ومعوله
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی سنا کہ کعبہ کو دو پتلی پنڈلیوں والا حبشی خراب کرے گا، کعبے کا سامان لوٹ لے گا اور اس کی چادر اتار لے گا گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ ایک گنجے سر کا ، ٹیڑھے ہاتھ پاؤں والا ہے جو کعبے پر اپنے پھاوڑے سے حملے کر رہا ہے۔
احمد (290/2) مجمع الزوائد (642/3) اقبال احمد شاکر اسنادہ صحیح احمد (14/12)
عن أبى قتادة رضى الله عنه أن النبى صلى الله عليه وسلم قال : يبايع لرجل بين الركن والمقام ولن يستحل البيت إلا أهله فإذا استحلوه فلا تسأل عن هلكة العرب ثم تأتي الحبشة فيخربونه خرابا لا يعمر بعده أبدا وهم الذين يستخرجون كنزه
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : (رکن یمانی) اور (مقام ابراہیم) کے درمیان ایک آدمی کی بیعت لی جائے گی اور کعبہ کو اس کے اہل ہی ویران کریں گے اور اس وقت (بطور سزا) اہل عرب کو ہلاک کر دیا جائے گا پھر حبشی آئیں گے اور اسے ایسا خراب کریں گے کہ پھر یہ کبھی آباد نہیں ہوگا اور وہ لوگ اس کے خزانے نکال لے جائیں گے۔
احمد (432/2 – 411 – 463) ابن أبى شيبة (612/8) طیالسی (2373) حاکم (487/4 – 499) مجمع الزوائد (642/3) السلسلة الصحيحة (553/6)
عن أبى أمامة رضى الله عنه قال سمعت رجلا من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم يقول : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : اتركوا الحبشة ما تركوكم فإنه لا يستخرج كنز الكعبة إلا ذو السويقتين من الحبشة
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک صحابی کے ذریعے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اہل حبشہ کو اس وقت تک چھوڑے رکھو جب تک وہ تمہیں کچھ نہ کہیں ۔ کعبہ کا خزانہ اہل حبشہ میں سے ایک پتلی پنڈلیوں والا نکال لے گا۔
احمد (461/5) أبو داؤد : كتاب الملاحم : باب النهي عن تهييج الحبشة (4301) حاکم (500/4) مجمع الزوائد (551/5) السلسلة الصحيحة (402/2)
عن أبى سعيد رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : ليحجن البيت وليعتمرن بعد خروج يأجوج وماجوج … لا تقوم الساعة حتى لا يحج البيت
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیت اللہ کا حج اور عمرہ یاجوج ماجوج کے نکلنے کے بعد بھی ہوتا رہے گا۔ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک بیت اللہ کا حج ہوتا رہے گا۔
بخاری : كتاب الحج : باب قول الله تعالى جعل الله الكعبة البيت الحرام (1593)

فوائد :

➊ بیت اللہ کی حرمت کی پامالی قیامت کی آخری نشانیوں میں سے ہے۔
➋ ایک ذلیل اور حقیر ترین حبشی بیت اللہ کی حرمت تار تار کر کے اپنے ماتھے پر غضب الہی کا جھومر سجائے گا! نعوذ بالله
➌ قیامت کی مذکورہ نشانی تاحال ظاہر نہیں ہوئی البتہ یہ نشانی یاجوج ماجوج کی ہلاکت کے بعد رونما ہوگی۔
➍ یاجوج ماجوج کی ہلاکت کے بعد بھی ایک عرصے تک حج کیا جاتا رہے گا پھر تمام مسلمانوں کی وفات کے بعد مذکورہ نشانی ظاہر ہوگی۔
➎ ماضی میں کئی مرتبہ جزوی طور پر مختلف وجوہات کی بنا پر مختلف لوگوں نے بیت اللہ کی حرمت پامال کی مثلاً حجاج بن یوسف کی کعبہ پر سنگ ریزی ، قرامطہ (فرقہ) کا بیت اللہ پر حملہ اور حجر اسود وغیرہ کا اٹھا کر لے جانا پھر مدتوں اپنے پاس رکھنا لیکن یہ وہ واقعات نہیں جن پر مذکورہ احادیث صادق آتی ہوں کیونکہ مذکورہ احادیث سے درج ذیل باتیں ثابت ہوتی ہیں جو ان واقعات میں ظاہر نہیں ہوئیں :
◈ پتلی پنڈلیوں والا حبشی بیت اللہ کی اینٹ اینٹ اکھاڑ پھینکے گا۔
◈ بیت اللہ کی پامالی کے وقت کوئی مسلمان زندہ نہیں ہوگا۔
◈ بیت اللہ کے انہدام کے بعد اسے دوبارہ آباد نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اسے کبھی تعمیر کیا جائے گا۔
◈ بیت اللہ کی حرمت کی پامالی کے بعد تمام اہل عرب ہلاک کر دیئے جائیں گے۔
◈ بیت اللہ میں موجود تمام چیزیں حبشہ اٹھا لے جائیں گے۔
◈ بیت اللہ کی خرابی اور ویرانی کے بعد اس کا حج و عمرہ نہیں کیا جائے گا۔
◈ جب بیت اللہ کا حج و عمرہ نہیں کیا جائے گا تب قیامت قائم ہوگی۔