کیا مشرکین صرف بتوں کی عبادت کرتے تھے ؟:
سب سے پہلے ان ہستیوں کے بارے میں آیات قرآنیہ ملاحظہ کریں کہ وہ بت تھے یا صالحین بندے؟:
[قُلِ ادۡعُوا الَّذِیۡنَ زَعَمۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِہٖ فَلَا یَمۡلِکُوۡنَ کَشۡفَ الضُّرِّ عَنۡکُمۡ وَ لَا تَحۡوِیۡلًا]،[ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ یَبۡتَغُوۡنَ اِلٰی رَبِّہِمُ الۡوَسِیۡلَۃَ اَیُّہُمۡ اَقۡرَبُ وَ یَرۡجُوۡنَ رَحۡمَتَہٗ وَ یَخَافُوۡنَ عَذَابَہٗ ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّکَ کَانَ مَحۡذُوۡرًا]
[کہہ پکارو ان کو جنھیں تم نے اس کے سوا گمان کر رکھا ہے، پس وہ نہ تم سے تکلیف دور کرنے کے مالک ہیں اور نہ بدلنے کے]،[ وہ لوگ جنھیں یہ پکارتے ہیں، وہ (خود) اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں، جوان میں سے زیادہ قریب ہیں اور اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بے شک تیرے رب کا عذاب وہ ہے جس سے ہمیشہ ڈرا جاتا ہے] [بني إسرائيل:57،56]
تم فرماؤ پکارو انھیں جن کو اللہ کے سوا گمان کرتے ہو تو وہ اختیار نہیں رکھتے تم سے تکالیف دور کرنے اور نہ پھیر دینے کا۔ وہ مقبول بندے جنھیں یہ کافر پوجتے ہیں وہ تو خود بھی رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے۔ اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں، بے شک تمھارے رب کا عذاب ڈر کی چیز ہے۔ (ترجمہ احمد رضا خاں بریلوی)
نعیم الدین مراد آبادی اس کی تشریح میں رقمطراز ہیں: کہ کفار جب شدید قحط میں مبتلا ہوئے اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ کتے اور مردار کھا گئے اور سید عالمﷺ کے حضور میں فریاد لائے اور آپ ﷺ سے دعا کی التجا کی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا گیا: کہ جب مقرب لوگوں کو خدا مانتے ہو تو اس وقت انھیں پکارو اور وہ تمھاری مدد کریں اور جب تم جانتے ہو کہ وہ تمھاری مدد نہیں کر سکتے تو کیوں انھیں معبود بناتے ہو؟ [حاشیہ نمبر:117]
پھر آگے مقبول بندوں کے بارے میں لکھتے ہیں: جیسے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام، سیدنا عزیر علیہ السلام اور ملائکہ [حاشیہ:118] نیز [الکہف102] میں بھی انھی ہستیوں کا ذکر کرتے ہیں۔
مولوی احمد رضا خاں کے ترجمہ اور نعیم الدین مراد آبادی کی اس توضیح سے معلوم ہوا کہ مشرکین جن ہستیوں کو پکارتے تھے وہ اللہ تعالیٰ کے مقبول و مقرب بندے سیدنا عیسی علیہ السلام اور سیدنا عزیر علیہ السلام اور ملائکہ تھے۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
[قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ] [بنی اسرائیل:56] قال: كان أهل الشرك يقولون نعبد الملائكة والمسيح وعزيرا
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضي اللہ عنہما نے اس آیت کریمہ کے بارے میں فرمایا: مشرکین کہتے تھے کہ ہم فرشتوں، عیسیٰ علیہ السلام اور عزیر علیہ السلام کی عبادت کرتے ہیں۔
اسی طرح یہی تفسیر مجاہد ( رحمہ اللہ ) سے بھی منقول ہے۔ [تفسير ابن كثير: ط العلمية:ج 5 ص 81]
علامہ سید محمود آلوسی حنفی رحمہ اللہ نے عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ، بخاری، نسائی اور طبرانی وغیرہ سے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضي اللہ عنہ کا فرمان نقل کیا ہے:
[كان نفر من الإنس يعبدون نفرا من الجن فأسلم النفر من الجن وتمسك الإنسيون بعبادتهم فنزلت هذه الآية]
انسانوں کا ایک گروہ جنوں کے ایک گروہ کی عبادت کرتا تھا، جنوں کے گروہ نے اسلام قبول کر لیا اور انسانوں نے ان کی عبادت کو تھام لیا تو یہ آیت کریمہ نازل کی۔ [تفسير ابن كثير: ط العلمية:ج 5 ص 81]
اور عبد اللہ بن عباس رضي اللہ عنہماسے منقول ہے:
[إنها نزلت في الذين أشركوا بالله تعالى فعبدوا عيسى و أمه وعزيرا والشمس والقمر والكواكب]
یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا، سو انھوں نے عیسیٰ علینا ، ان کی ماں، عزیر علی شام ، سورج ، چاند اور ستاروں کی عبادت کی۔ [روح المعانی:ج 15 ص 98،97]
مندرجہ بالا تفسیر سے معلوم ہوا کہ مشرکین عرب صرف بتوں ہی کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ بلکہ وہ سیدنا عیسی، سیدہ مریم ، سیدنا عزیر علیہم السلام ، جنوں، فرشتوں ، سورج، چاند اور ستاروں کی بھی عبادت و پرستش کرتے تھے۔ تو یہ آیت کریمہ نازل کر کے اللہ تعالیٰ نے ان کے عقیدے کی تردید کر دی اور واضح کر دیا کہ یہ ہستیاں دکھ درد دور کرنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔ اور نہ مشکل کشا اور داتا ہو سکتی ہیں۔ جب عیسیٰ و عزیر علیہما السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر مشکل و مصیبت دور کرنے کی قوت و طاقت نہیں رکھتے تو پھر علی ہجویری وغیرہ گنج بخش یا داتا کیسے ہو سکتے ہیں؟ اور معین الدین چشتی وغیرہ کیسے کشتیاں پار لگا سکتے ہیں ؟ بابا شاہ جمال کیسے خوبصورت و سرخ لال بیٹے عطا کر سکتا ہے؟
ایک اور مقام پر فرمایا:
[وَ یَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ وَ مَا یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَیَقُوۡلُ ءَاَنۡتُمۡ اَضۡلَلۡتُمۡ عِبَادِیۡ ہٰۤؤُلَآءِ اَمۡ ہُمۡ ضَلُّوا السَّبِیۡلَ]،[ قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ مَا کَانَ یَنۡۢبَغِیۡ لَنَاۤ اَنۡ نَّتَّخِذَ مِنۡ دُوۡنِکَ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ وَ لٰکِنۡ مَّتَّعۡتَہُمۡ وَ اٰبَآءَہُمۡ حَتّٰی نَسُوا الذِّکۡرَ ۚ وَ کَانُوۡا قَوۡمًۢا بُوۡرًا]
[اور جس دن اکٹھا کیا جائے گا انھیں (یعنی مشرکین کو ) اور جن کو اللہ کے سوا پوجتے ہیں پھر ان معبودوں سے فرمایا جائے گا کیا تم نے گمراہ کر دیے یہ میرے بندے یا یہ خود ہی راہ بھولے][وہ عرض کریں گے پاکی ہے تجھے ہمیں سزاوار نہ تھا کہ تیرے سوا کسی اور کو مولا بنائیں لیکن تو نے انھیں اور ان کے باپ دادوں کو برتنے دیا یہاں تک کہ وہ تیری یاد بھول گئے اور یہ لوگ تھے ہی ہلاک ہونے والے ](ترجمہ احمد رضا)
یہ معبود عیسی، عزیر (علیہما السلام) اور ملائکہ تھے۔ [مدارک :4/430]،[خازن:4/430]،[ بیضاوی:2/137]،[روح المعانی:18/325]،[ابن كثير:3/343]جیسے فرمایا:
[وَ اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَ اُمِّیَ اِلٰہَیۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالَ سُبۡحٰنَکَ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اَقُوۡلَ مَا لَیۡسَ لِیۡ بِحَقٍّ ؕاِنۡ کُنۡتُ قُلۡتُہٗ فَقَدۡ عَلِمۡتَہٗ ؕ تَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِیۡ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ مَا فِیۡ نَفۡسِکَ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ]،[ مَا قُلۡتُ لَہُمۡ اِلَّا مَاۤ اَمَرۡتَنِیۡ بِہٖۤ اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبَّکُمۡ ۚ وَ کُنۡتُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا مَّا دُمۡتُ فِیۡہِمۡ ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیۡتَنِیۡ کُنۡتَ اَنۡتَ الرَّقِیۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ اَنۡتَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ]
[اور جب اللہ کہے گا اے عیسیٰ ابن مریم! کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنا لو؟ وہ کہے گا تو پاک ہے، میرے لیے بنتا ہی نہیں کہ میں وہ بات کہوں جس کا مجھے کوئی حق نہیں، اگر میں نے یہ بات کہی تھی تو یقینا تو نے اسے جان لیا، تو جانتا ہے جو میرے نفس میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے نفس میں ہے، یقینا تو ہی سب چھپی باتوں کو بہت خوب جاننے والا ہے]،[ میں نے انھیں اس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا تھا کہ اللہ کی عبادت کرو، جو میرا رب اور تمھارا رب ہے اور میں ان پر گواہ تھا جب تک ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا اور تو ہر چیز پر گواہ ہے] [المائدة:117،116]
دوسرے مقام پر فرمایا:
[وَ یَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ یَقُوۡلُ لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اَہٰۤؤُلَآءِ اِیَّاکُمۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ]،[ قَالُوۡا سُبۡحٰنَکَ اَنۡتَ وَلِیُّنَا مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ بَلۡ کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ الۡجِنَّ ۚ اَکۡثَرُہُمۡ بِہِمۡ مُّؤۡمِنُوۡنَ]
[اور جس دن وہ ان سب کو جمع کرے گا، پھر فرشتوں سے کہے گا کیا یہ لوگ تمھاری ہی عبادت کیا کرتے تھے]،[ وہ کہیں گے تو پاک ہے، تو ہمارا دوست ہے نہ کہ وہ، بلکہ وہ جنوں کی عبادت کیا کرتے تھے، ان کے اکثر انھی پر ایمان رکھنے والے تھے] [سبا:41،40]
ارشاد باری تعالی ہے:
[وَ جَعَلُوا الۡمَلٰٓئِکَۃَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عِبٰدُ الرَّحۡمٰنِ اِنَاثًا ؕ اَشَہِدُوۡا خَلۡقَہُمۡ ؕ سَتُکۡتَبُ شَہَادَتُہُمۡ وَ یُسۡـَٔلُوۡنَ]،[ وَ قَالُوۡا لَوۡ شَآءَ الرَّحۡمٰنُ مَا عَبَدۡنٰہُمۡ ؕ مَا لَہُمۡ بِذٰلِکَ مِنۡ عِلۡمٍ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ]
[اور انھوں نے فرشتوں کو، وہ جو رحمان کے بندے ہیں، عورتیں بنا دیا، کیا وہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے؟ ان کی گواہی ضرور لکھی جائے گی اور وہ پوچھے جائیں گے]،[ اور انھوں نے کہا اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ انھیں اس کے بارے میںکچھ علم نہیں، وہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں] [الزخرف:20،19]
ان آیات سے معلوم ہوا کہ مشرکین جن کی عبادت کرتے تھے ان میں فرشتے اور جن بھی تھے۔ مشرکین کے معبودوں کے بارے میں فرمایا:
[اَفَرَءَیۡتُمُ اللّٰتَ وَ الۡعُزّٰی]،[ وَ مَنٰوۃَ الثَّالِثَۃَ الۡاُخۡرٰی] [پھر کیا تم نے لات اور عزیٰ کو دیکھا]،[ اور تیسری ایک اور (دیوی) منات کو] [النجم:20،19]
صحیح بخاری میں ہے:
[عن ابن عباس رضي الله عنهما ، في قوله : اللات والعزى سورة النجم آية 19 كان اللات رجلا يلت سويق الحاج]
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضي اللہ عنہماسے مروی ہے کہ لات ایک آدمی تھا، جو حاجیوں کے لیے ستو گھولتا تھا۔
[بخاری، کتاب التفسير، باب أفرائيتم اللات والعزى:4859]
اس سے معلوم ہوا کہ لات ایک اچھا آدمی تھا۔ اسی طرح عزّا ایک عورت تھی جس کا بت بنا کر مشرکین پوجتے تھے۔ اس عزّا کے بت کو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے توڑا تھا۔
[تفسير ابن كثير:4/267، في النسخة الجديدة:4/324]،[السنن الكبرى للنسائي، كتاب التفسير:(11547) 6/474]،[البداية والنهاية:4/274 ،275 وفي النسخة الجديدة:4/712]
سیدنا نوح علیہ السلام نے جب اپنی قوم کو دعوت توحید دی تو قوم نے کہا:
[وَ قَالُوۡا لَا تَذَرُنَّ اٰلِہَتَکُمۡ وَ لَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَّ لَا سُوَاعًا وَّ لَا یَغُوۡثَ وَ یَعُوۡقَ وَ نَسۡرًا]
اور انھوں نے کہا تم ہرگز اپنے معبودوںکو نہ چھوڑنا اور نہ کبھی ودّ کو چھوڑنا اور نہ سواع کو اور نہ یغوث اور یعوق اور نسر کو۔ [سورۃ نوح:23]
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
[أسماء رجال صالحين من قوم نوح] یہ قوم نوح کے نیک آدمیوں کے نام ہیں۔
[بخاری، کتاب التفسير، سورة نوح، باب ودا ولا سواعا ولا يغوث ويعوق:4920]
مذکورہ بالا آیات مقدسات اور احادیث صحیحہ سے معلوم ہوا کہ مشرکین عرب جن ہستیوں کو پکارتے اور ان کی عبادت کرتے تھے ان میں اللہ کے نبی، فرشتے اور نیک و صالح افراد بھی تھے۔