قربانی کا نماز عید کے بعد کرنے کا حکم صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی کی کتاب مسائل قربانی سے ماخوذ ہے۔

قربانی کا نماز عید کے بعد کرنا

قربانی کے وقت کی ابتدا نماز عید کے بعد ہوتی ہے۔ ذیل میں اس کے متعلق توفیق الہی سے تین باتیں پیش کی جا رہی ہیں:
➊ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز عید سے پہلے قربانی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا: ”ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھائی اور ارشاد فرمایا:
”من صلى صلاتنا واستقبل قبلتنا فلا يذبح حتى ينصرف“
”جس نے ہماری نماز پڑھی اور ہمارے قبلہ کی طرف رخ کیا وہ [نماز عید سے] واپس آنے سے پہلے قربانی نہ کرے۔“
متفق عليه : صحيح البخاري، كتاب الأضاحي باب من ذبح قبل الصلاة أعاد، جزء من رقم الحديث 20/10،5563؛ وصحيح مسلم، كتاب الأضاحي، باب وقتها، جزء من رقم الحديث 6- ( 1961)، 1553/3. الفاظ حدیث صحیح البخاری ہیں۔
➋ اگر کوئی شخص نماز عید سے پہلے اپنی قربانی کا جانور ذبح کرے گا تو وہ قربانی شمار نہ ہوگی۔ امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”إن أول ما نبدأ به فى يومنا هذا أن نصلي ثم نرجع فننحر. من فعله فقد أصاب سنتنا ومن ذبح قبل فإنما هو لحم قدمه لأهله ليس من النسك فى شيء“
”بے شک اس دن ہم پہلا کام یہ کرتے ہیں کہ نماز [عید] ادا کرتے ہیں، پھر واپس آتے ہیں اور قربانی کرتے ہیں۔ جس شخص نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کو پایا اور جس نے اس سے پہلے ذبح کیا تو وہ گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کو دیا۔ اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں۔“
متفق عليه : صحيح البخاري، كتاب الأضاحي، باب سنة الأضحية، جزء من رقم الحديث 3/10،5545؛ وصحيح مسلم، كتاب الأضاحي، باب وقتها، جزء من رقم الحديث 8۔1961، 1553/3
➌ نماز عید سے پہلے قربانی کا جانور ذبح کرنے والے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ وہ نماز کے بعد ایک دوسرا جانور قربانی کے لیے ذبح کرے۔ امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کے دن ارشاد فرمایا:
”من كان ذبح قبل الصلاة فليعد“
”جس نے نماز [عید] سے پہلے ذبح کیا وہ دوبارہ [ذبح] کرے۔“
متفق عليه : صحيح البخاري، كتاب الأضاحي، باب ما يُشتهى من اللحم يوم النخر، جزء من رقم الحديث 6/10،5549؛ وصحيح مسلم، كتاب الأضاحي، باب وقتها، جزء من رقم الحديث 11-(1962)، 1555/3 . الفاظ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔
ایک دوسری حدیث میں ہے جسے امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے بیان کیا: میں عید الاضحیٰ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، جب آپ لوگوں کو نماز پڑھا چکے تو دیکھا کہ ایک بکری ذبح کی ہوئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”من ذبح قبل الصلاة فليذبح شاة مكانها ومن لم يكن ذبح فليذبح على اسم الله“
”جس نے نماز عید سے پہلے [قربانی کا جانور] ذبح کیا وہ [اب] اس کے بدلے میں دوسری بکری ذبح کرے اور جس نے [نماز سے پہلے] ذبح نہیں کیا وہ بسم اللہ پڑھ کر ذبح کرے۔“
متفق عليه صحيح البخاري، كتاب الأضاحي، باب من ذبح قبل الصلاة أعاد، رقم الحديث 20/10،5562؛ وصحيح مسلم، كتاب الأضاحي، بــاب وقتها، رقم الحديث 2-(1960)، 1551/3 . الفاظ حدیث صحیح مسلم کے ہیں۔