بدعات سے بچنے کا سنہری اصول: صحابہ کرام کے عمل کی اتباع

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

بدعات سے بچنے کا سنہری اصول: عمل صحابہ کی اتباع

امام مالک رحمہ اللہ ہر اس عمل کو مستحب سمجھتے ہیں جسے تمام علمائے امت نے مستحب کہا ہے، جیسے اس غرض سے مدینہ منورہ کا سفر کرنا کہ وہاں مسجد نبوی میں نماز ادا کی جائے گی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے دونوں ساتھیوں (ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما) پر سلام کہا جائے گا، جیسے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کیا کرتے تھے۔ زیر بحث مسئلہ میں امام مالک رحمہ اللہ کو دوسرے ائمہ سے زیادہ معلومات تھیں، کیونکہ انہوں نے تابعین کے عمل کو دیکھا جنہوں نے براہ راست صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فیض حاصل کیا تھا۔ اسی بنا پر امام مالک رحمہ اللہ سلف امت کی اتباع کو مستحب سمجھتے تھے۔ امام موصوف قبر مکرم کے پاس بدعت کو بہت برا سمجھتے تھے، اسی بناء پر قبر مکرم کے پاس دیر تک کھڑے ہو کر دعا و سلام کہنا مکروہ سمجھتے تھے، کیونکہ یہ عمل صحابہ رضی اللہ عنہم میں نہ تھا۔ مدینہ منورہ میں رہائش پذیر انسان جب مسجد نبوی میں آئے اور پھر قبر مکرم کے پاس بھی جائے تو اسے بھی امام مالک رحمہ اللہ مکروہ سمجھتے تھے، کیونکہ یہ عمل سلف امت میں نہیں پایا جاتا۔ امام مالک رحمہ اللہ کا یہ جملہ حقیقت میں سنہری حروف سے لکھنے کے قابل ہے کہ:
لن يصلح آخر هذه الأمة إلا ما أصلح أولها
”اس امت کی اصلاح اسی طرح ہو گی جس طرح قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی اصلاح ہوئی تھی۔“
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مسجد نبوی میں ابوبکر، عمر فاروق، عثمان غنی اور علی رضی اللہ عنہم کی امامت میں نمازیں ادا کرتے رہے اور اپنی نمازوں میں کہتے رہے:
السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ
”اے نبی! آپ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں۔“
جیسا کہ وہ آپ کی زندگی میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کرتے وقت کہا کرتے تھے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نماز سے فارغ ہو کر ذکر و اذکار میں مصروف رہتے یا اپنے کاروبار کے لیے نکل جاتے تھے۔ نماز کے بعد قبر مکرم کے پاس درود و سلام کے لیے ہرگز نہ آتے، کیونکہ انہیں علم تھا کہ وہ درود و سلام جو نماز کے اندر پڑھا گیا ہے وہ مکمل بھی ہے اور افضل بھی، اور یہی مسنون ہے۔ درود و سلام کے لیے حجرہ مبارک میں داخل ہو کر قبر مکرم کے پاس جانا مشروع نہیں۔

رسول اللہ کی وصیت

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بایں الفاظ منع فرمایا:
لا تتخذوا قبرى عيدا وصلوا على حيثما كنتم فإن صلاتكم تبلغنى
”میری قبر کو میلہ گاہ نہ بنا لینا اور تم جہاں بھی ہو مجھ پر درود پڑھ لینا، کیونکہ تمہارا درود مجھ تک پہنچا دیا جائے گا۔“
(سنن ابى داؤد كتاب المناسك: باب زيارة القبور، حديث: 2042)
اس ارشاد گرامی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس امر کی وضاحت فرمائی کہ مجھ پر درود و سلام دور سے پہنچایا جاتا ہے۔ بعض احادیث میں مروی ہے کہ جو شخص آپ پر ایک دفعہ درود و سلام پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس دفعہ رحمت بھیجتا ہے۔
(صحيح مسلم كتاب الصلاة: باب الصلاة على النبى صلى الله عليه وسلم بعد التشهد، حديث: 418)
حجرہ مبارک کو درود و سلام کے لیے مخصوص کر لینے کا مطلب یہ ہے کہ اسے عید بنا لیا جائے جس سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سختی سے منع فرمایا ہے۔ قبر مکرم یا کسی بھی دوسری قبر کو عبادت گاہ بنانے سے روکا ہی نہیں بلکہ اس پر لعنت فرمائی ہے تاکہ آپ کی امت اس لعنت میں گرفتار نہ ہو جائے جس میں پہلی امتیں گرفتار ہو چکی ہیں۔
صحابہ رضی اللہ عنہم کا دور بہترین دور تھا، یہ نفوس قدسیہ سنت خیر الوریٰ سے کما حقہ آگاہ اور آپ کی تعلیمات کے متبع تھے۔ جب وہ مسجد نبوی میں تشریف لاتے تو ان میں سے ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جو قبر مکرم کے نزدیک جاتا، نہ حجرہ کے اندر نہ باہر۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں، ان کے دور اور جب تک ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بقید حیات رہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے کافی عرصہ بعد جب تک کہ دوسری دیوار نہیں چنی گئی تھی، حجرہ مبارک میں داخلے کے لیے دروازہ تھا۔ بایں ہمہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قبر مکرم کے پاس جانے کی کوشش نہ کرتے، نہ درود و سلام کے لیے، نہ اپنے لیے دعا کی خاطر، نہ کسی سوال کی خاطر اور نہ ہی ابلیس کو موقع ملا کہ وہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے دلوں میں کوئی غلط وسوسہ ڈال سکے؛ مثلاً کسی نے قبر مکرم کے پاس کوئی کلام سنا ہو جس سے یہ خدشہ پیدا ہو کہ یہ کلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تھا، یا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب دیا ہے، جیسا کہ عام قبروں کے پاس شیطان کو یہ موقع مل گیا جس سے بہت سے لوگ گمراہ بھی ہو گئے۔ کیونکہ جب وہ کسی قبر کے پاس گئے تو انہوں نے کسی غیبی آواز کو سنا جس سے وہ یہ سمجھے کہ صاحب قبر ان سے ہمکلام ہے، جو انہیں کوئی فتویٰ دے رہا یا کسی چیز سے منع کر رہا ہے۔ فوت شدہ کی صورت میں اس قسم کا وسوسہ بھی ڈالا کہ وہ قبر سے نکل کر ملاقات کرے گا، جس سے یہ لوگ خیال کریں گے کہ میت نے بذات خود قبر سے نکل کر ان سے گفتگو کی ہے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معراج کی رات بہت سے فوت شدگان کو دیکھا اور ان سے گفتگو کی۔