قربانی کرنے والے کے لیے بال اور ناخن نہ کاٹنے کا حکم حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

قربانی کرنے والے کے لیے ضروری امور

جو شخص قربانی کا ارادہ رکھتا ہے وہ ذوالحجہ کا چاند نظر آنے کے بعد بالوں اور ناخنوں کو نہ چھیڑے، تاوقتیکہ قربانی نہ کرلے، قربانی ذبح کرنے کے بعد اس کا بال اتارنا اور ناخن تراشنا جائز و مباح ہے، دلائل حسب ذیل ہیں:
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا دخلت العشر، وأراد أحدكم أن يضحي، فلا يمس من شعره و بشره شيئا
”جب دس ذوالحجہ (یعنی ذوالحجہ کا چاند طلوع ہو جائے) کا آغاز ہو جائے اور تم میں سے کوئی شخص قربانی کرنا چاہے تو وہ اپنے بال اور جلد کے کسی حصہ کو نہ چھوئے (یعنی بدن کے کسی حصہ سے بال نہ اتروائے)۔“
المغنی لابن قدامہ مع الشرح الکبیر: 11 / 97