قیامت کی نشانیاں : دین اجنبی ہو جائے گا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانیاں : دین اجنبی ہو جائے گا

عن أبى هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الإسلام بدأ غريبا وسيعود غريبا كما بدأ فطوبى للغرباء
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسلام اجنبی (حالت میں) شروع ہوا تھا اور عنقریب اسی طرح اجنبی ہو کر رہ جائے گا جس طرح شروع ہوا تھا پس اجنبی لوگوں (مسلمانوں) کے لئے خوشخبری ہے۔
احمد (512/2) مسلم (145/6) ابو عوانہ (102/15)
عن ابن مسعود رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : إن الإسلام بدا غريبا وسيعود غريبا كما بدأ فطوبى للغرباء ، قيل : ومن الغرباء ؟ قال : النزاع من القبائل
”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام کا آغاز اجنبی (حالت میں) ہوا تھا اور اسی طرح اس کا اختتام بھی اجنبی (حالت میں) ہو گا لہذا اجنبی لوگوں (مسلمانوں) کے لئے خوشخبری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ اجنبی کون ہے؟ فرمایا: جو قبائل (اور وطنوں) سے (بغرض ہجرت) نکل گئے ہوں۔“
احمد (498/1) ترمذی (2629) ابن ماجہ (4036) دارمی (402/2) مشکل الآثار (686) شرح السنہ (125/1) ابن ابی شیبہ (134/8) النہایہ (33/1) السلسلة الصحیحة (127/3)
حضرت عبدالرحمن اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : ”اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسلام اجنبی شروع ہوا اور اجنبی حالت پر لوٹ جائے گا لہذا اجنبی لوگوں کے لئے خوشخبری ہے۔ پوچھا گیا: اجنبی کون ہیں؟ فرمایا : جو لوگوں کے فساد کے وقت اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ایمان سیلاب کی طرح مدینے کا رخ کرلے گا۔ قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اسلام ان دو مسجدوں (کعبہ و مسجد نبوی) کے درمیان اس طرح سکڑ آئے گا جس طرح سانپ اپنے بل میں جا سکڑتا ہے۔“
احمد (104/4) (228/1) مجمع الزوائد (535/7) الایمان لابن مندہ (205/2) ابو یعلی (756) البزار (1119) أسد الغابة (457/3) غریب الحدیث للخطابی (176/1)
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ اجنبی (غرباء) لوگوں کے لئے بشارت فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : یا رسول اللہ غرباء کون ہیں؟ فرمایا : کثیر التعداد بدکاروں میں رہنے والے قلیل التعداد صالح لوگ، جہاں نافرمان زیادہ ہوں اور اطاعت گزار تھوڑے ہوں۔ (تو وہ اطاعت گزار (غریب) اجنبی ہیں)“۔
احمد (235/2 – 292) طبرانی کبیر (122/10) کتاب الزہد (775) الجامع الصغیر (134/2) مجمع الزوائد (535/7) ابن ابی شیبہ (134/8) السلسلة الصحیحة (153/4)

فوائد :

➊ دین اسلام اور اہل اسلام کا اجنبی (Stranger) ہو جانا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➋ اجنبی (غریب) کی مختلف احادیث میں مختلف تعریفات (Definitions) کی گئی ہیں۔ مثلا :
النزاع من القبائل
”اللہ کے لئے ہجرت کرنے والے۔“
الذين يصلحون إذا فسد الناس
”فتنہ و فساد کے وقت لوگوں کی صحیح دین پر اصلاح کرنے والے۔“
أناس صالحون
”کثیر التعداد (Majority) فسادی اور شریر لوگوں میں قلیل التعداد (Minority) شریف، صالح اور پاکیزہ کردار لوگ۔“
مگر مذکورہ تمام تعریفات میں قدر مشترک ہے یعنی غرباء (اجنبی) وہ لوگ ہیں جو امت میں فتنہ و فساد اور عملی بے راہ روی کے وقت لوگوں کی صحیح نبوی راہنمائی کا بیڑا اٹھائیں گے گو اس نیک مقصد کے لئے انہیں اپنے علاقے، کنبے قبیلے اور گھر بار قربان کر کے ہجرت جیسی سعادت سے بہرہ مند کیوں نہ ہونا پڑے اور ایسے لوگ دوسرے مسلمانوں کے مقابلے میں نہایت قلیل تعداد میں ہوں گے اس لئے انہیں اجنبی (غرباء) کے خطاب سے نوازا گیا ہے۔
➌ اسلام بوقت آغاز اجنبی تھا یعنی اسلام قبول کرنے والے اقلیت میں تھے مگر آہستہ آہستہ یہی اسلام نصف سے زیادہ دنیا پر چھا گیا اور آج عیسائیوں کے بعد مسلمان اکثریت میں ہیں مگر قبل از قیامت اسلام دوبارہ اجنبی ہو جائے گا حتی کہ وہ چند ایک لوگ ہی مسلمان رہ جائیں گے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مل کر دجال کے خلاف جہاد کریں گے پھر یاجوج ماجوج سے بچنے کے لئے ایک پہاڑ (کوہ طور) پر پناہ لیں گے۔