قصرِ نبوت کی آخری اینٹ اور عقیدۂ ختمِ نبوت پر اجماعِ امت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری کی کتاب ختم نبوت سے ماخوذ ہے۔

آخری اینٹ

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن مثلي ومثل الأنبياء من قبلي كمثل رجل بنى بيتا، فأحسنه وأجمله إلا موضع لبنة من زاوية، فجعل الناس يطوفون به ويعجبون له، ويقولون : هلا وضعت هذه اللبنة؟ قال : فأنا اللبنة، وأنا خاتم النبيين
”کسی نے ایک حسین و جمیل گھر بنایا لیکن ایک کونے میں اینٹ بھر جگہ چھوڑ دی، لوگ اس عمارت کے ارد گرد گھومتے، اس کی عمدگی پر حیرت کا اظہار کرتے اور کہتے کہ اینٹ کی جگہ پر کیوں نہ کر دی گئی؟ یہی مثال قصر نبوت کی ہے، اس کی آخری اینٹ میں ہوں اور پہلی اینٹیں سابقہ انبیا ہیں، میرے بعد نبوت کا سلسلہ ختم اور میں خاتم النبین ہوں۔“
(صحيح البخاري : 3535 ، صحیح مسلم : 2286/22)
اس حدیث کا ختم نبوت سے گہرا تعلق ہے، یہاں قبلي فرما کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح کر دیا کہ جتنے بھی انبیا آئے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے آئے ہیں، حدیث کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اب میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ تو یہ تمثیل مطلق قصر نبوت کے لئے ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے نبوت کی عمارت مکمل ہو گئی ہے، اب کسی نئے نبی کی گنجائش باقی نہیں رہی۔
قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) لکھتے ہیں :
فسر فى الحديث المراد بهذا المثل، وأن الأمر به تم والإنذار به ختم .
”حدیث میں مثال دے کر سمجھایا گیا ہے کہ نبوت کا سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مکمل ہو چکا، آپ کے بعد ڈرانے والا کوئی نہیں آئے گا۔“
(إكمال المعلم : 255/7)
علامہ ابن ہبیرہ رحمہ اللہ (560ھ) لکھتے ہیں :
في هذا الحديث ما يدل على أن رسول الله صلى الله عليه وسلم تمم النقائص وسد الثلم، وكمل العوز، وليس هذا مما يدل على أنه مشبه فى صغر البنيان بموضع اللبنة من ذلك البنيان ولكنه شبه بأن البنيان تمم به، وكمل بشريعته ، فلم يبق بعده إعوان، ولا وراء ، نبي ، وكان صلى الله عليه وسلم الذى كتب له تكملة الأعمال كلها .
”یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصر نبوت کی خالی جگہ پر کر دی، دراڑیں ختم کر دیں اور ضرورت پوری کر دی۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اینٹ کی خالی جگہ کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کہ نبوت کی عمارت میں آپ کا حصہ چھوٹا سا ہے، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تشبیہ دی گئی ہے کہ نبوت کی عمارت آپ کے ذریعہ تمام ہوگئی اور آپ کی شریعت سے مکمل ہوگئی، لہذا اب کوئی ضرورت باقی نہ رہی، نہ آپ کے بعد کوئی نبی ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تمام اعمال مکمل کر دیئے گئے۔“
(الإفصاح عن معاني الصحاح : 407/6)
حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) لکھتے ہیں :
فيه فضيلته صلى الله عليه وسلم وأنه خاتم النبيين .
”اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کا بیان ہے کہ آپ خاتم النبین ہیں۔“
(شرح صحیح مسلم : 51/15)
علامہ برماوی رحمہ اللہ (831 ھ) لکھتے ہیں :
لولا موضع روي برفع (موضع) على الابتداء، أو الخبر محذوف، نحو : لولا زيد لكان كذا ، و (لولا تحضيضية ، لا امتناعية، والفعل محذوف، أى لولا ترك، أو سوي موضع اللبنة، وبالنصب، أى لولا تركت موضع، فإن قيل : المشبه به واحد، والمشبه متعدد، قيل : لان الأنبياء كلهم كواحد فيما قصد فى التشبيه، وهو أن المقصود من تعيينهم ما تم إلا باعتبار الكل، كالدار لا تتم إلا بجميع اللبنات، أو أن التشبيه ليس من باب تشبيه المفرد بالمفرد، بل تشبيه تمشيلي، فيؤخذ وصف من جميع أحوال المشبه، ويشبه بمثله من أحوال المشبه به، فيقال : شبه الأنبياء وما بعثوا به من إرشاد الناس إلى مكارم الأخلاق بدار أيس على قواعدم ورفع بنيانه، وبقي منه موضع لبنة، فنبينا صلى الله عليه وسلم بعث لتتميم مكارم الأخلاق، كأنه هو تلك اللبنة التى بها إصلاح ما بقي من الدار .
لولا مبتدا ہے یا مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ جیسے کہا جاتا ہے : زید نہ ہوتا، تو یوں ہو جاتا۔ یہاں لولا تحضیضیہ ہے، امتناعیہ نہیں ہے اور اس کا فعل محذوف ہے۔ معنی یہ ہے کہ اینٹ کی جگہ کیوں چھوڑی گئی، یا اینٹ کی جگہ پر کیوں نہ کر دی گئی۔ اگر کہا جائے کہ اس کا مشبہ بہ ایک اور مشبہ کئی ہیں، تو جواب یہ ہوگا کہ تشبیہ میں تمام انبیا فرد واحد کی طرح ہیں، انبیا کے تعین سے مقصود یہ تھا کہ محل کی تکمیل تمام انبیا سے ہوئی ہے، جیسے ایک گھر اینٹوں سے مل کر بنتا ہے۔ یا پھر جواب یہ ہے کہ یہاں مفرد کو مفرد سے تشبیہ نہیں دی گئی، بلکہ یہاں تشبیہ تمثیلی ہے، پس مشبہ کے تمام افراد کے ایک وصف کو مشبہ بہ کے اسی طرح کے وصف سے تشبیہ دے دی، لہذا کہا جائے گا کہ انبیاے کرام اور ان کے عمدہ اخلاق کی طرف راہنمائی کو ایک گھر کے ساتھ تشبیہ دی گئی، جو اپنی بنیادوں پر قائم ہے اور اس کی عمارت بلند ہے لیکن اس میں ایک اینٹ کی جگہ باقی ہے، پس ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے، تاکہ عمدہ اخلاقی اقدار کی تکمیل کر دیں، گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ اینٹ ہیں، جس سے گھر کی بقیہ تعمیر مکمل ہوگئی۔“
(اللامع الصبيح بشرح الجامع الصحيح : 120/10)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) لکھتے ہیں :
في الحديث ضرب الأمثال للتقريب للأنهام وفضل النبى صلى الله عليه وسلم على سائر النبيين وأن الله ختم به المرسلين وأكمل به شرائع الدين .
”حدیث میں سمجھانے کے لئے مثال بیان کی گئی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام انبیا پر فضیلت بیان کی گئی ہے اور یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اللہ نے انبیا کا سلسلہ ختم کر دیا ہے اور دین کے احکام و شرائع مکمل کر دیئے ہیں۔“
(فتح الباري شرح صحيح البخاري : 559/6)