قریب المرگ شخص کو لا الہ الا اللہ پڑھنے کی تلقین کرنا
① سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لقنوا موتاكم لا إله إلا الله
”اپنے قریب المرگ لوگوں کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کیا کرو۔“
مسلم، کتاب الجنائز 917۔ ابن ماجه، کتاب ما جاء في الجنائز 1444۔ ابن حبان 304۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لقنوا هلكاكم لا إله إلا الله
”اپنے مرنے والے افراد کو لا الہ الا اللہ کی تلقین کیا کرو۔“
یہ روایت صحیح ہے، النسائي 5/4۔
مصیبت زدہ شخص کو تسلی دینا
① سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من عزى مصابا فله مثل أجره
”جو شخص کسی مصیبت زدہ شخص کو تسلی دیتا ہے تو اسے اس کے مثل اجر ملتا ہے۔“
یہ روایت ضعیف ہے، ترمذی، کتاب الجنائز 1073۔ ابن ماجه، ما جاء في الجنائز 1602، اس کی سند میں علی بن عاصم ضعیف ہے، دیکھئے الارواء 765۔
② سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من عزى ثكلى كسي بردا فى الجنة
”جو شخص کسی ایسی عورت کو تسلی دیتا ہے جس کا بچہ گم ہو جائے تو اسے جنت میں دھاری دار چادر پہنائی جائے گی۔“
اس کی سند ضعیف ہے، ترمذی، کتاب الجنائز عن رسول الله صلى الله عليه وسلم 1076، امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کی سند قوی نہیں، یہ روایت غریب ہے، محقق زبیر علی زئی فرماتے ہیں: اس کی روایت میں منیہ بنت عبید ہے جو کہ مجہولہ ہے ۔
قبروں کو پختہ بنانے کی ممانعت
① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے، اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت کھڑی کرنے سے منع فرمایا ہے۔
مسلم، کتاب الجنائز 970/94۔ ترمذى، كتاب الجنائز 1052۔ نسائي، کتاب الجنائز 72/4۔
قبروں پر بیٹھنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لأن يجلس أحدكم على جمرة فتحرق ثيابه فتخلص إلى جلده خير له من أن يجلس على قبر
”اگر تم میں سے کوئی شخص آگ کے انگارے پر بیٹھ جائے جو اس کے کپڑے جلا کر اس کی جلد تک پہنچ جائے، تو یہ اس کے کسی قبر پر بیٹھنے سے بہتر ہے۔“
مسلم، كتاب الجنائز 971/96۔ ابوداؤد، کتاب الجنائز 3228۔ نسائی، کتاب الجنائز 77/4۔
② سیدنا ابو مرشد غنوی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تجلسوا على القبور ولا تصلوا إليها
”قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف منہ کر کے نماز پڑھو۔“
مسلم، كتاب الجنائز 972/97۔ ابوداؤد، کتاب الجنائز 3229۔