زوجین کے معاشرتی حقوق
نکاح وہ پختہ عہد ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کے درمیان ذریعہ ارتباط بنایا ہے۔ دونوں میں سے ہر فرد نکاح کے بعد زوج کہلاتا ہے کیونکہ وہ دوسرے کا جوڑ ہوتا ہے اور اپنے دل میں اس کے درد کی چوٹ محسوس کرتا ہے۔
قرآن کریم نے اس بندھن کی تصویر کشی اس طرح کی ہے :
هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ
”وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔“
(سورہ البقرة : 187)
یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ زوجین کو باہم متحد ایک دوسرے کی ستر پوشی کرنے والا ایک دوسرے کا حامی اور ایک دوسرے کے لیے باعث زینت ہونا چاہیے گویا دونوں کے ایک دوسرے پر حقوق ہیں جن کو بغیر کسی کوتاہی کے ادا کرنا چاہیے۔ یہ حقوق مساوی ہیں بجز ان باتوں کے جو مردوں کے ساتھ ان کی فطرت کے لحاظ سے مخصوص ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ
”عورتوں کے لیے بھی معروف طریقہ پر ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے حقوق ان پر ہیں، البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے۔“
(سورہ البقرة : 228)
یہ درجہ قوام اور ذمہ دار وجوابدہ ہونے کا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا : ہماری بیویوں کا ہم پر کیا حق ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أن تطعمها إذا طعمت وتكسوها إذا اكتسيت ولا تضرب الوجه ولا تقبح ولا تهجر إلا فى البيت
”یہ کہ انہیں اپنے ساتھ کھلاؤ پلاؤ اور پہناؤ اس کے چہرہ پر نہ مارو اور نہ اسے برا بھلا کہو۔ اور اسے اس کے گھر کے سوا کہیں نہ چھوڑو۔“
ابو داود كتاب النكاح باب في حق المرأة على زوجها ح : 2143 – ابن ماجه کتاب النکاح باب حق المرأة على الزوج ح : 1850
اس لیے کسی مسلمان شوہر کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی کے نان نفقہ اور پوشش کی طرف سے بے اعتنائی برتے۔ حدیث میں ہے :
كفى بالمرء إثما أن يضيع من يقوت
”آدمی کے گنہگار ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ جن کے نان و نفقہ کی اس پر ذمہ داری ہے ان کی طرف سے وہ بے پروا ہو جائے۔“
ابو داود كتاب الزكاة باب فى صلة الرحم ح : 1692 ، وهو عند مسلم في كتاب الزكاة باب فضل النفقة على العيال والمملوك ح : 996 بلفظ كفى بالمرء ان يحبس عمن يملك قوته
اسلام شوہر کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنی بیوی کے منہ پر مارے کیونکہ یہ انسانی احترام کے خلاف ہے۔ اور اس سے جسم کے اشرف حصہ کو جس میں جسم کے جملہ محاسن جمع ہیں، تکلیف پہنچتی ہے۔ گو نافرمان اور سرکش بیوی کو بوقت ضرورت بغرض تادیب مارنا جائز ہے، لیکن اس طرح زدو کوب کرنا کہ اسے اذیت پہنچے یا اس کے چہرہ کو مار لگے، جائز نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بھی جائز نہیں ہے کہ بیوی کو برا بھلا کہا جائے اور اذیت دہ باتیں کی جائیں یا ایسی باتیں کی جائیں جو اسے ناگوار ہوں، یا مثلاً یہ کہا جائے کہ اللہ تیرا برا کرے وغیرہ۔
رہا شوہر کا حق بیوی پر تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
لا يحل لامرأة تؤمن بالله أن تأذن فى بيت زوجها وهو كاره ولا تخرج وهو كاره ولا تطيع فيه أحدا ولا تعتزل فراشه ولا تضربه فإن كان هو أظلم فلتأته حتى ترضيه، فإن قبل منها فبها ونعمت وقبل الله عذرها وأفلح حجتها، وإن هو لم يرض فقد أبلغت عند الله عذرها
”جو عورت اللہ پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں اس شخص کو آنے کی اجازت دے دے جسے وہ پسند نہ کرتا ہو۔ اور نہ اس کی مرضی کے بغیر وہ باہر نکلے۔ اور نہ اس کے معاملہ میں کسی کی بات مانے۔ اور نہ اپنے شوہر کے بستر سے الگ رہے۔ اور نہ اس کو مارے۔ اگر شوہر ظالم ہو تو اپنی حد تک اسے خوش رکھنے کی کوشش کرے۔ اگر اس کی یہ خدمت شوہر نے قبول کر لی تو فبہا۔ اللہ اس کے عذر کو قبول فرمائے گا اور اس کا برسر حق ہونا ظاہر فرمائے گا۔ اور اگر شوہر راضی نہ ہو تو اللہ کے حضور اس کا عذر پہنچ ہی جائے گا۔“
مستدرك حاكم : 1902 السنن الكبرى للبيهقي : 2937 واسناده ضعيف وقال الذهبي : منكر و اسناده منقطع
میاں بیوی کو ایک دوسرے کے مقابلہ میں صبر کرنا چاہیے
مسلمان شوہر کو اپنی بیوی کی ناپسندیدہ باتوں پر صبر کرنا چاہیے۔ اور انسان میں انسان ہونے کی حیثیت سے جو نقائص ہوتے ہیں اور عورتوں میں نسوانیت کی بنا پر جو کمزوریاں ہوتی ہیں، ان کو برداشت کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ اسی طرح بیوی کی برائیوں کے مقابلہ میں اچھائیوں اور عیوب کے مقابلہ میں اس کی خوبیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔ حدیث میں ہے :
لا يفرك مؤمن مؤمنة إن سخط منها خلقا رضي منها آخر
”کوئی مؤمن کسی مؤمنہ سے نفرت نہ کرے۔ اگر اس میں ایک خصلت ناپسندیدہ ہوگی تو دوسری خصلت پسندیدہ ہوگی۔“
مسلم کتاب الرضاع باب الوصیة بالنساء ح : 1469
اور ارشاد الہی ہے :
وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِن كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا
”ان کے ساتھ بھلے طریقہ سے رہو۔ اگر تمہیں وہ نا پسند ہوں تو عجب نہیں کہ تم ایک چیز کو نا پسند کرو اور اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔“
(سورہ النساء : 19)
اسلام نے جس طرح شوہر کو بیوی کی ناگوار باتوں پر صبر و تحمل سے کام لینے کی ہدایت کی ہے اسی طرح بیوی کو بھی یہ ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے شوہر کو ممکن حد تک خوش رکھنے کی کوشش کرے اور اپنے شوہر کو ناراضگی کی حالت میں چھوڑ کر شب بسر نہ کرے۔ حدیث میں ہے :
ثلاثة لا ترتفع صلاتهم فوق رؤوسهم شبرا رجل أم قوما وهم له كارهون وامرأة باتت وزوجها عليها ساخط وأخوان متصارمان
تین اشخاص ایسے ہیں کہ ان کی نماز ان کے سروں سے ایک بالشت بھر بھی اوپر نہیں اٹھتی۔ ایک وہ شخص جو لوگوں کی امامت کرے آنحالیکہ لوگ اسے ناپسند کرتے ہوں، دوسری وہ عورت جو اس حال میں شب بسر کرے کہ اس کا شوہر اس سے ناراض ہو تیسرے وہ دو بھائی جو ایک دوسرے سے لڑیں۔
ابن ماجه كتاب إقامة الصلوات باب من ام قوماً وهم له كارهون ح : 971 – صحيح ابن حبان موارد 377 وله شاهد عند الترمذى فى كتاب الصلوة باب ماجاء فى من ام قوماً وهم له كارهون ح : 360 بلفظ ثلاثة لا تجاوز صلاتهم اذانهم وفيه العبد الآبق مكان اخوان متصارمان
نافرمانی اور نزاع کی صورت میں
مرد گھر کا سردار اور خاندان کا سر پرست ہے اس بنا پر کہ اس کی تخلیق اسی طرز پر ہوئی ہے اور اس کے اندر اس کی استعداد پائی جاتی ہے۔ اور کارگہ حیات میں اس کی حیثیت بھی یہی کچھ ہے نیز وہ مہر اور نان نفقہ کا ذمہ دار ہے۔ لہذا عورت کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس کی اطاعت سے خروج اختیار کرے اور اس سے سرکشی کرے۔ ورنہ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ تعلقات خراب ہو جائیں گے اور سفینہ بیت ڈانواں ڈول ہونے لگے گا اور عجب نہیں کہ کسی ناخدا کے نہ ہونے کی وجہ سے غرق ہو جائے۔
شوہر جب دیکھ لے کہ بیوی کی طرف سے نافرمانی کا صدور (ظہور) ہو رہا ہے اور بیوی اس کے خلاف سر اٹھا رہی ہے تو کلمہ خیر موثر نصیحت اور حکیمانہ باتوں کے ذریعہ اس کی اصلاح کی ہر ممکن کوشش کرے۔ لیکن جب نصیحت کارگر ثابت نہ ہو تو اس کو اس کے بستر پر چھوڑ دے تاکہ نسوانی جذبات ابھر آئیں اور فرمانبرداری کرنے لگے۔
اور اگر یہ تدبیر بھی کارگر نہ ہو تو پھر اس پر ہاتھ اٹھا سکتا ہے۔ لیکن ایسی صورت میں اذیت دہ حد تک زدو کوب کرنے اور چہرے پر مارنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ بعض عورتوں کے لیے بعض حالات میں یہی علاج کارگر ہوتا ہے۔ مارنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کوڑے یا لکڑی وغیرہ سے مارنا بلکہ اس کی نوعیت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خادم سے جس نے کسی کام کے سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ دلایا تھا فرمایا :
لولا القصاص يوم القيامة لأوجعتك بهذا السواك
”اگر قیامت کے دن بدلہ نہ لیا جانے والا ہوتا تو میں تجھے اس مسواک سے مارتا۔“
حلية الأولياء : 378/8 طبقات ابن سعد : 382/1 مجمع الزوائد : 353/10 بحواله الطبراني : 376/23 و ابی یعلی : 255/6 ورواه البخاري في الادب المفرد : 184 نحوه
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زدو کوب کو نا پسندیدہ قرار دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
علام يضرب أحدكم امرأته ضرب العبد ولعله أن يجامعها فى آخر اليوم
”تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو اس طرح کیوں پیٹتا ہے جس طرح غلاموں کی پٹائی ہوتی ہے ؟ اور اس کے بعد شاید وہ رات میں اس سے مجامعت بھی کرے۔“
مسند احمد : 17/4 بخارى كتاب التفسير سورة والشمس ح : 4942 مسلم كتاب الجنة باب النار يدخلها الجبارون ح : 2855
جو لوگ عورتوں کو مارتے ہیں ان کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
لا تجدون أولئك خياركم
”ایسے لوگوں کو تم اپنے میں بہتر نہ پاؤ گے۔“
ابو داود كتاب النکاح باب فى ضرب النساء ح : 2146 ابن ماجه کتاب النکاح باب ضرب النساء ح : 1985
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں :
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ تم میں جو لوگ اچھے ہوں گے وہ کبھی اپنی بیویوں کو نہیں ماریں گے اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ عورتوں کو مارنا فی الجملہ جائز ہے جس کا مناسب موقع اس وقت ہے جبکہ شوہر اپنی بیوی میں کوئی ایسی ناگوار بات دیکھ لے جس میں اس کی اطاعت کرنا اس پر واجب ہے۔ ایسی صورت میں وہ اسے تادیباً مار سکتا ہے۔ البتہ اگر دھمکی وغیرہ سے کام چل سکے تو اچھا ہے اور جب ذو معنی الفاظ استعمال کرنے سے کام چلتا ہو مار پیٹ سے احتراز کرنا چاہیے کیوں کہ اس سے نفرت پیدا ہوتی ہے اور یہ حسن معاشرت کے خلاف ہے حالانکہ حسن معاشرت ازدواجی زندگی میں اصلاً مطلوب و محبوب ہے۔ الا یہ کہ کسی ایسے معاملہ میں اسے مارنا پڑے جو اللہ کی نافرمانی سے تعلق رکھتا ہو۔
فتح الباری ج : 9 – ص : 249
نسائی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے :
ما ضرب رسول الله امرأة له ولا خادما قط ولا ضرب بيده شيئا قط إلا فى سبيل الله أو تنتهك حرمات الله فينتقم لله
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی یا خادم کو کبھی نہیں مارا اور نہ کسی اور شخص پر کبھی اپنا ہاتھ اٹھایا۔ ہاں اللہ کی راہ میں حدود الہی کی بے حرمتی کی وجہ سے اللہ کی خاطر کسی کو سزا دی ہو تو یہ اور بات ہے۔
مسلم کتاب الفضائل : باب مباعدته الآثام ح : 2328 – نسائي في الكبرى : 371 ، 370/5 ح : 9164 واللفظ له
لیکن اگر یہ سب باتیں غیر مؤثر ثابت ہو جائیں اور اختلافات کی خلیج وسیع ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر اسلامی معاشرہ اور اہل الرائے اور اصحاب خیر کو اس میں مداخلت کر کے اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ جس کی صورت یہ ہے کہ شوہر کے اہل میں سے ایک حکم (ثالث) اور بیوی کے اہل سے ایک حکم جو خیر پسند ہو مقرر کر لیں۔ اگر انہوں نے میاں بیوی کو ملانا اور خرابی کی اصلاح کرنا چاہا تو اللہ ان کے درمیان ضرور موافقت پیدا کر دے گا۔ ان امور کے سلسلہ میں ارشاد الہی ہے :
وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا 34 وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا إِن يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا
”جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں نصیحت کرو۔ ان کو ان کے بستروں میں چھوڑ دو۔ اور انہیں مارو۔ پھر اگر وہ تمہاری اطاعت کریں تو ان کے خلاف بہانے نہ ڈھونڈو یقین جانو کہ اللہ بالا تر اور بہت بڑا ہے۔ اور اگر تمہیں دونوں کے درمیان افتراق کا اندیشہ ہو تو ایک حکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو۔ اگر دونوں اصلاح کے طالب ہوئے تو اللہ ان کے درمیان سازگار (فضاء و ماحول) پیدا کر دیگا۔ بے شک اللہ علیم و خبیر ہے۔“
(سورہ النساء : 34-35)