مضمون کے اہم نکات
قربانی کے دن سب سے پہلے کلیجی پکا کر کھانا سنت ہے:
سیدنا بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم، ولا يأكل يوم الأضحى حتى يرجع، فيأكل من كبد أضحيته
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کی نماز کے لیے کھانے کے بغیر نہیں نکلتے تھے اور عید الاضحی کے دن کچھ نہیں کھاتے تھے یہاں تک کہ واپس آکر اپنی قربانی کے جانور کی کلیجی کھاتے تھے۔
(فضائل الاوقات للبیہقی: 315 وسندہ حسن)
اس روایت کے راویوں کا تذکرہ درج ذیل ہے:
علی بن احمد بن عبدان:
رجسٹرڈ جماعت المسلمین کے موجودہ امیر اشتیاق احمد صاحب رقمطراز ہیں: ”علی بن احمد بن عبدان کون ہے معلوم نہیں۔“
(کیا خصی جانور کی قربانی جائز ہے؟ ص23)
اب اس راوی کی توثیق ملاحظہ فرمائیں:
خطیب بغدادی نے فرمایا: كان ثقة (تاریخ بغداد: 9/ 249)۔
عبد الغافر بن اسماعیل الفارسی نے فرمایا: المحدث ابن المحدث وهو على الجملة من كبار المحدثين المكثرين سماعا ورواية
ذہبی نے فرمایا: وكان ثقة (تاریخ الاسلام: 28/ 225)۔
ابوالحسن احمد بن عبید بن اسماعیل الصفار:
نومولو ورجسٹرڈ فرقہ کے موجودہ امیر اشتیاق صاحب جہالت کی انتہا کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
” احمد بن عبید پر بھی کلام ہے صرف ابن حبان نے اپنی عادت کے مطابق ثقہ کہا ہے(تہذیب) “
(کیا خصی جانور کی قربانی جائز ہے؟ ص23)
اشتیاق صاحب لکھتے ہیں: ”احمد بن عبید پر بھی کلام ہے صرف ابن حبان نے اپنی عادت کے مطابق ثقہ کہا ہے۔“
اشتیاق احمد کا مذکورہ بالا بیان جہالت کی انتہا اور صریح دروغ گوئی ہے۔ امام ابن حبان نے نہ تو احمد بن عبید کو کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے اور نہ ہی کوئی فن اسماء الرجال اور تہذیب التہذیب کے حدود اربعہ کو جاننے والا صاحب علم اسے تہذیب میں تلاش کر سکتا ہے۔ اشتیاق صاحب اس راوی کا ترجمہ اگر تہذیب ابن حجر اور ثقات ابن حبان میں دکھا دیں تو ہم اپنی اس کتاب کے دو نسخے تحفتا بھیج دیں گے۔
خطیب بغدادی نے فرمایا: كان ثقة ثبتا صنف المسند وجوده ۔
(تاریخ بغداد: 4/ 97 ت 2318)
ذہبی اور ابن عبد الہادی دونوں نے فرمایا: ”الحافظ الثقة“۔
(تذکرة الحفاظ للذہبی: 845، طبقات علماء الحدیث: 3/ 68)
ابو مسلم ابراہیم بن عبداللہ بن مسلم بن ماعز بن المهاجر المعروف بالکجی و الکشی:
دارقطنی نے فرمایا: ”صدوق ثقة“ (تاریخ بغداد: 6/ 123 ت 3151، وسندہ حسن)
موسی بن ہارون نے فرمایا:” أبو مسلم الكشي ثقة“ (تاریخ بغداد: 6/ 133 ت 3151، وسندہ صحیح)
خطیب بغدادی نے فرمایا: ”وكان من أهل الفضل والعلم والأمانة.“ (تاریخ بغداد: 6/ 121 ت 3151)
عبد الغنی بن سعید الحافظ نے فرمایا: ”ثقه نبيل“ (تاریخ بغداد: 6/ 123 ت 3151، وسندہ صحیح)
سمعانی نے فرمایا: ”كان من ثقات المحدثين وكبارهم۔ “ (الانساب: 11/ 50 الکجی)
ابن ناصر الدین نے فرمایا: ”وكان ثقة نبيلا أحد حفاظ عصره.“ (التبیان لبدیعۃ البیان: 2/ 809 رقم: 627)
ابوعمرو مسلم بن ابراہیم الازدی الفراہیدی البصری:
ثقہ امام ہیں۔ سمعانی نے فرمایا: ”من الثقات المتقنين.“ (الانساب: 10/ 126 الفراہیدی)
ثواب بن عتبہ المہری البصری:
جمہور نے توثیق کی ہے۔
موثقین:
➊ ابن معین: ثقة
(تاریخ ابن معین روایۃ الدوری: 4/ 135 رقم: 3565، الجرح والتعدیل: 2/ 471 وسندہ صحیح)
امام ابوالفضل عباس بن محمد الدوری نے فرمایا:
سمعت يحيى يقول ثواب بن عتبة شيخ صدق .
پھر امام ابوالفضل الدوری نے فرمایا:
فإن كنت كتبت عن أبى زكريا فيه شيئا أنه ضعيف فقد رجع أبو زكريا وهذا هو القول الأخير من قوله
(تاریخ ابن معین روایۃ الدوری: 4/ 272 رقم: 4333، الکامل لابن عدی: 2/ 308)
یعنی یہ راوی امام ابن معین کے نزدیک صدوق حسن الحدیث ہے۔
➋ ابن القطان الفاسی: وعندي أنه صحيح لأن ثواب بن عتبة المهرى ثقة (بیان الوہم والایہام: 5/ 356)
➌ ابن حبان: ذکرہ فی الثقات (6/ 130) میں ذکر کیا اور اپنی صحیح (الاحسان: 2812)
➍ ابن شاہین: ذكره فى تاريخ اسماء الثقات (152)وقال ثقة ، قاله يحيي
➎ ابن خزیمہ:روي له۔ (صحیح ابن خزیمہ: 1426)
➏ ابن عدی: ”: فـفـى الـحـديثين اللذين يرويهما ثواب لا يلحقه ضعف.“ (الکامل: 2/ 309)
➐ حاکم:”قال فى حديث: صحيح الإسناد .“ (المستدرک: 1/ 433 ح 1088)
نیز فرمایا:
وثواب بن عتبة المهري قليل الحديث ولم يجرح بنوع يسقط به حديثه وهذه سنة عزيزة من طريق الرواية مستفيضة فى بلاد المسلمين
➑ ابن الملقن: بأسانيد صحيحة من رواية ثواب (البدر المنیر: 5/ 71)
➒ ابن الملقن: ”أرجو أن يكون صالح الحديث.“
ابوعلی الطوسی: ”میں امید کرتا ہوں کہ وہ صالح الحدیث ہوں۔“
(تہذیب التہذیب ط دبی: 2/ 481 ذكره في الثقات کمافی المال للمغلطائی)
ذہبی: ایک حدیث کے بارے میں کہا: ”صحيح“ (تلخیص المستدرک: 1/ 433 ح 1088)
ابن خلفون بنقل المغلطائي المجمر وح آن ابن خلفون ذكره فى الثقات وقال: أرجو أن يكون صالح الحديث“
جارحین :
➊ عجلي: يكتب حديثه، وليس بالقوى (تاریخ الثقات: 189)
➋ ابوحاتم الرازي أنكر توثيق ابن معين (الجرح والتعديل : 471/2)
كما قال الذهبي فى الميزان: "وقد أنكر أبو حاتم وأبو زرعة توثيقه ( میزان الاعتدال : 373/1 رقم: 1401)
➌ ابوزرعہ الرازي: أنكر توثيق ابن معين (الجرح والتعديل : 471/2)
معاصر عالم عبد الله بن يوسف البديع نے كها: يظهر لي أنهــمــا أنكرا مـا فى الكتاب من توثيق يحيى، لعلمهما أن الدوري إنما سمع من يحيى تضعيفه ، كما يدل عليه قول الدوري فى موضع آخر. (تحریر علوم الحدیث: 534/1)
➍ محمد بن طاہر المقدى: وثواب يعرف بهذا الحديث، وهو ضعيف (ذخيرة الحفاظ : 1607)
محمد بن طاہر المقدسی کے بقول ابن عدی نے لا يلحقه ضعف کہا ہے لہذا محمد بن طاہر المقدسی کو غلطی لگی ہے، واللہ اعلم ۔
ذہبی: ”فيه لين “ (الکاشف : 720 )
لیکن اس راوی کی روایت کو صحیح بھی کہا۔ لہذا ذہبی کی توثیق وجرح ساقط ہے۔
ابن حجر : ”مقبول“ (تقریب التہذیب: 857) جب توثیق ثابت ہو جائے تو جہالت کوئی جرح نہیں ہے۔
عبداللہ بن بریدہ:
ثقہ اور بڑے محدث تھے۔ (تقریب: 3227 وقال: ثقة )
بریدہ بن الحصیب الاسلمی رضی اللہ عنہ:
صحابی ہیں، (62ھ) کو فوت ہوئے۔