قربانی کے دن کتنے ہیں؟ ایام قربانی کی تحقیق حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

ایام قربانی کا بیان

ایام قربانی کی تعیین کے متعلق علماء کرام کا بہت اختلاف ہے۔ ذیل میں ہم علماء کے اقوال و مذاہب مع دلائل بیان کرنے کے بعد راجح موقف کی نشاندہی کریں گے۔ ایام قربانی کے بارے میں علماء کے پانچ مذاہب ہیں۔

مذہب اول:

قربانی کے دن چار ہیں۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، عطاء بن ابی رباح، حسن بصری، عمر بن عبد العزیز، سلیمان بن موسیٰ اسدی، مکحول، شافعی اور داؤد ظاہری رحمہم اللہ اسی مذہب کے قائل ہیں۔
نيل الأوطار: 132/5۔ المغنى مع الشرح الكبير، 11/ 115

دلائل:

① سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كل منى منحر، وكل أيام التشريق ذبح
”منی سارے کا سارا قربان گاہ ہے اور تمام ایامِ تشریق (11، 12، 13 ذوالحجہ) قربانی کے دن ہیں۔“
ضعیف : سنن بیهقی، 295/9،239/5 – مسند أحمد : 4/ 82۔
امام بیہقی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں کہ یہ روایت مرسل یعنی منقطع ہے کیونکہ سلیمان بن موسیٰ اموی کی سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے، نیز امام بخاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
سليمان لم يدرك أحدا من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم
”سلیمان بن موسیٰ اموی نے کسی صحابی کو نہیں پایا۔ “
العلل الكبير : 313/1۔
② سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وفي كل أيام التشريق ذبح
”تمام ایامِ تشریق ذبح کے دن ہیں۔“
ضعیف منقطع: صحیح ابن حبان: 3854 – سنن بیہقی: 296/9، کشف الاستار: 1126
اس حدیث کے ضعف کی دو علتیں ہیں:
① عبد الرحمن بن ابی حسین مجہول راوی ہے۔
② عبد الرحمن بن ابی حسین کی عمرو بن دینار سے ملاقات ثابت نہیں لہذا یہ سند منقطع بھی ہے۔ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد امام بزار لکھتے ہیں :
ابن أبى حسين لم يلق جبير بن مطعم
”عبد الرحمن بن ابی حسین کی جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔“
البحر الزخار : 3444 ، نصب الراية: 21/3۔
③ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيام التشريق كلها ذبح
”ایام تشریق سارے کے سارے قربانی کے دن ہیں۔“
ضعیف جداً: سنن دارقطنی: 284/4 – سنن بیہقی: 239/5 – 296/9، طبرانی کبیر: 1562۔ سويد بن عبد العزیز بن نمیر سلمی ضعیف راوی ہے۔ تقریب التهذيب : 2692
④ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
كل أيام التشريق ذبح
”تمام ایام تشریق ذبح کے دن ہیں۔“
ضعیف جداً: سنن دارقطنی: 284/54- سنن بیہقی: 296/9 – احمد بن عیسیٰ تنسیی خشاب متروک راوی ہے اور عمرو بن دینار مکی جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔ الموسوعة الحدیثة: 317/27
⑤ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيام التشريق كلها ذبح
”ایام تشریق سارے کے سارے ذبح کے دن ہیں۔“
ضعیف: سنن بیہقی: 296/9 – معاویہ بن یحییٰ صدفی ضعیف راوی ہے اور امام زہری کی تدلیس ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی دو مختلف روایات، جن کا مرکزی راوی معاویہ بن یحییٰ صدفی ہے، بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ یہ دونوں روایات غیر محفوظ (یعنی ضعیف) ہیں۔ ان دونوں روایات کو صرف معاویہ بن یحییٰ صدفی ہی بیان کرتا ہے، صدفی ضعیف اور ناقابلِ حجت راوی ہے۔
سنن بیہقی: 296/9
⑥ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
الأضحى ثلاثة أيام بعد يوم النحر
”یومِ نحر (دس ذوالحجہ) کے بعد قربانی تین دن ہے۔“
ضعیف: سنن بیہقی: 296/9 ۔ طلحہ بن عمرو بن عثمان حضرمی متروک راوی ہے۔

مذہب ثانی:

قربانی کے دن تین (10، 11، 12 ذوالحجہ) ہیں۔ سیدنا عمر بن خطاب، سیدنا علی، سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا انس رضی اللہ عنہم سے یہی قول منقول ہے اور ابو حنیفہ، مالک، سفیان ثوری اور احمد بن حنبل رحمہم اللہ بھی اسی مذہب کے قائل ہیں۔
المغنی مع الشرح الکبیر: 115/11، نیل الأوطار، 133/5

دلائل:

فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
﴿وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۖ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ ﴾
”اور چند معلوم دنوں میں ان پالتو چوپایوں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انہیں دیے ہیں، سو ان میں سے کھاؤ اور تنگ دست محتاج کو کھلاؤ۔“
الحج: 28
یہ آیت واضح نص ہے کہ ایام معلومات قربانی کے دن ہیں، لیکن ایام معلومات سے کتنے اور کون سے دن مراد ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں کوئی صحیح حدیث منقول نہیں۔ البتہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایام قربانی کے متعلق کچھ اقوال منقول ہیں، جن سے ایامِ معلومات (ایامِ قربانی) کی تعیین ممکن ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
الأيام المعلومات والمعدودات هن جميعهن أربعة أيام، فالأيام المعلومات يوم النحر ويومان بعده، والأيام المعدودات ثلاثة أيام بعد يوم النحر
”ایامِ معلومات اور ایامِ معدودات کل چار دن ہیں، چنانچہ ایامِ معلومات یومِ نحر (دس ذوالحجہ) اور اس کے بعد کے دو دن (یعنی دس، گیارہ اور بارہ ذوالحجہ کے ایام) ہیں اور ایامِ معدودات یومِ نحر (دس ذوالحجہ) کے بعد تین دن (11، 12، 13 ذوالحجہ) ہیں۔“
حسن: تفسیر ابن أبی حاتم: 14728 ۔ تفسیر ابن کثیر۔ محمد بن عجلان مدنی صدوق راوی ہے، باقی تمام راوی ثقہ ہیں۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے، یہ حدیث حسن ہے۔

فوائد:

یہ اثر واضح دلیل ہے کہ ایامِ معلومات (قربانی کے ایام) تین دن (10، 11، 12 ذوالحجہ) ہیں اور تیرہ ذوالحجہ کا دن ایامِ معدودات (تکبیرات کے ایام) میں شامل ہے، معلومات (ایامِ قربانی) میں داخل نہیں۔ اس موقف کی تائید آئندہ اقوالِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے ہوتی ہے:
① سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
الأضحى يومان بعد يوم الأضحى
”عید الاضحیٰ کے دو دن بعد تک قربانی ہے۔“
صحیح: موطأ إمام مالک، کتاب الضحایا، باب الضحیة عما فی بطن المرأة وذکر أیام الأضاحی، حدیث الکتاب: 12 – سنن بیہقی: 297/9۔
② سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
النحر ثلاثة أيام
”قربانی تین دن ہے۔“
حسن: أحکام القرآن للطحاوی: 205/2: 1569
③ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
النحر يومان بعد النحر وأفضلها يوم النحر
”یومِ نحر کے بعد قربانی دو دن ہے (یعنی 10، 11، 12 ذوالحجہ قربانی کے ایام ہیں) اور یومِ نحر (دس ذوالحجہ) کی قربانی افضل ہے۔“
أحکام القرآن للطحاوی: 205/2، 157
④ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
الذبح بعد النحر يومان
”قربانی یومِ نحر کے بعد دو دن ہے۔“
صحیح: سنن بیہقی: 297/9۔ أحکام القرآن للطحاوی: 206/2، 1576۔
نیز ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول تفسیری قول کہ ایامِ معلومات سے مراد یومِ نحر اور اس کے بعد تین دن ہیں (یعنی قربانی کے چار ایام ہیں) ضعیف ہے۔
ضعیف: تفسیر ابن أبی حاتم: 14727۔ اس میں حکم بن عتبہ کی تدلیس ہے۔

مذہب ثالث:

محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
لا تجوز إلا فى يوم النحر خاصة، لأنها وظيفة عيد فلا تجوز إلا فى يوم واحد كأداء الفطرة يوم الفطر
”قربانی خاص یومِ نحر ہی کو جائز ہے کیونکہ قربانی عیدِ قربان کا خاص عمل ہے، سو یہ عمل ایک ہی دن (دس ذوالحجہ) کو جائز ہے جیسے صدقہ فطر عید الفطر کے دن کے ساتھ ہی خاص ہے۔“
مع الشرح الکبیر: 115/11 – نیل الأوطار: 133/5
ابن سیرین رحمہ اللہ کی یہ ذاتی رائے و قیاس ہے، کتاب و سنت سے کوئی ایسی دلیل منقول نہیں جو ان کے موقف کی تائید کرتی ہو۔

مذہب رابع:

سعید بن جبیر اور جابر بن زید رحمہما اللہ کا بیان ہے کہ شہریوں کے لیے قربانی کا ایک ہی دن (دس ذوالحجہ) ہے اور بستیوں میں رہائش پذیر لوگوں کے لیے قربانی کے تین دن (11، 12، 13 ذوالحجہ) ہیں۔
المغنی مع الشرح الکبیر: 115/11 – نیل الأوطار: 1335۔ یہ قول بھی بے سند ہے اور کتاب و سنت میں اس کی تائید کی کوئی دلیل ثابت نہیں ہے۔

مذہب خامس:

ابو سلمہ بن عبد الرحمن اور عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں کہ قربانی کا وقت ذوالحجہ کا سارا مہینہ ہے۔
المغنی مع الشرح الکبیر: 115/11۔ نیل الأوطار: 133/5

دلائل:

① ابو سلمہ اور سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں کہ انہیں حدیث پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الضحايا إلى آخر الشهر لمن أراد أن يستأني ذلك
”جو شخص قربانی میں تاخیر کرنا چاہے اس کے لیے ذوالحجہ کے آخر تک قربانی کرنا جائز ہے۔“
ضعیف: سنن بیہقی: 297/9 – دارقطنی: 275/4۔ یہ حدیث دو علتوں کی وجہ سے ضعیف ہے: ① یحییٰ بن أبی کثیر کی تدلیس ہے۔ ② یہ روایت مرسل ہے۔
② ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
إن كان المسلمون يشتري أحدهم الأضحية فيسمنها فيذبحها بعد الأضحى آخر ذي الحجة
”بلاشبہ مسلمان قربانیاں خریدتے اور پھر ان کو موٹا کرتے، پھر عید الاضحیٰ کے بعد آخری ذوالحجہ تک قربانیاں ذبح کرتے تھے۔“
حسن: سنن بیہقی: 297/9، 298 – محمد بن إبراہیم بن مسلم صدوق راوی ہے۔

فائدہ:

ذوالحجہ کے آخر تک قربانیاں کرنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے یا تابعین، پھر یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں معمول تھا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد، اس بارے میں کوئی صراحت نہیں۔ پھر یہ عمل کتاب اللہ اور آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے خلاف بھی ہے؛ کیونکہ قرآنِ حکیم میں ایامِ معلومات قربانی کے ایام قرار دیے گئے ہیں اور مذہبِ ثانی کے دلائل میں یہ بات بھی عیاں ہو چکی ہے کہ ایامِ معلومات تین دن (10، 11، 12 ذوالحجہ) ہیں، لہذا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کا قول شاذ اور آیتِ قرآنی اور آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم سے متضاد ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔

راجح مذہب:

تین دن قربانی کے قائلین کا مذہب راجح اور قرینِ صواب ہے اور مذہبِ ثانی کے دلائل کی رو سے اس مذہب کی حقانیت ثابت کی گئی ہے۔