بسم الله الرحمن الرحيم
كِتَابُ التَّوْحِيدِ
7374: عن أبي سعيد الخدري ، أن رجلا سمع رجلا يقرأ قل هو الله أحد يرددها فلما أصبح جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم ، فذكر له ذلك وكأن الرجل يتقالها ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : والذي نفسي بيده إنها لتعدل ثلث القرآن۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ: ایک شخص نے ایک دوسرے شخص (قتادہ بن نعمان) کو باربار قل ھو اللہ احد پڑھتے سنا۔ صبح ہوئی تو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس طرح واقعہ بیان کیا جیسے وہ اسے کم سمجھتے ہوں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! یہ سورت تہائی قرآن کے برابر ہے۔
فوائد و استنباطات: فضيلۃ الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ
یہ سورت پڑھنے والے قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ تھے۔ اور یہ سیدنا ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ کے اخیافی بھائی (ماں کی طرف سے) تھے۔
[يُرَدِّدُهَا: اي يقررها، ويعيدها]، تکرار کے ساتھ پڑھنا
[والذي نفسي بيده]: سے اللہ تعالی کی صفت ،،ید،، ہاتھ کا اثبات ہوا۔ (ہر صفت کا معنی بغیر کسی تاویل اور تعطیل کے کرنا ہے)۔ اور ہاتھ کیسا ہے جیسے اس کی شان کے لائق ہے۔ جو بتا دیا اللہ نے اس پہ ہمارا ایمان ہے اور اس کی کیفیت اللہ رب العزت کے سپرد۔
[إنها لتعدل ثلث القرآن]: اس سورت کا نماز میں بار بار پڑھ کر یہ کہنا کے مجھے اب کوئی اور سورت پڑھنے کی ضرورت نہیں اس لئے کے میں نے ثلث القرآن پڑھا ہے۔ (مثلا) کہے کے میں سورۃ الفاتحہ نہیں پڑھتا اس لئے کے سورۃ الاخلاص ایک تہائی قرآن کے برابر ہے تو یہ استدلال غلط ہے اس لئے کہ سورۃ الفاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
یا اگر کوئی یہ کہے کے میں نے مسجد الحرام میں نماز پڑھی ہے اور اسکا اجر ایک لاکھ نماز کے برابر ہے تو مجھے اب نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں اس لئے کے میں نےایک لاکھ نماز پڑھ لی ہے تو اس طرح کے یہ فہم غلط ہیں۔ کیونکہ شرعی احکام جو اسطرح کے آتے ہیں تو اس میں فی نفسہ مسئلے کی فضيلت ہوتی ہے۔
سوال: اس سورت کی یہ فضیلت کیوں ہے؟
جواب: اس کی بنیاد ،،محور،، عقیدہ توحید ہے۔
اس سورت میں اللہ رب العزت کے دو نام ہیں۔[1] الاحد [2] الصمد
(یہ نام پورے قرآن مین کہیں اور نہیں ہیں) یہ دو نام ایسے ہیں یہ تمام اسماء و صفات کے عقیدے کی بنیاد ہیں۔ یہ دو نام تمام اسماء وصفات پہ جاری ہو سکتے ہیں۔
(مثلا) [احد]: اللہ تعالی یکتا ہے اپنے اسماء میں، تمام صفات میں، رحمن ہونے میں اکیلا ہے، رحیم ہونے میں اکیلا ہے، حیی و قیوم ہونے میں اکیلا ہے، عالم الغیب والشھادہ ہونے میں اکیلا ہے، جبار و قھار ہونے میں اکیلا ہے۔
[الصمد]: میں کمال کا معنی ہے، اللہ تعالی اپنےاسماء وصفات میں کامل ہے، کسی قسم کا کوئی عیب اور کمی نہیں۔
[الاحد اور الصمد]: یہ دونوں اسماء یہ ایسے نام ہیں اللہ رب العزت کے جو سارے اسماء وصفات کے باب کی بنیاد ہیں۔ اسماء وصفات کا سارا علم ان دونوں اسماء پہ جاری ہو سکتا ہے۔