قربانی کے جانور کی خوب نشو و نما کرنا
قربانی کے جانوروں کی اچھے طریقے سے پرورش کرنا اور انھیں خوب کھلا پلا کر موٹا تازہ کرنا مستحب فعل اور افضل عمل ہے۔ اس کے دلائل حسبِ ذیل ہیں:
سیدنا ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كنا نسمن الأضحية بالمدينة وكان المسلمون يسمنون
”ہم مدینہ میں اپنی قربانی کو موٹا تازہ کیا کرتے تھے اور تمام مسلمان بھی (اپنی قربانیوں کو) خوب موٹا کیا کرتے تھے۔“
صحیح بخاری، کتاب الأضاحی، باب أضحیة النبی صلی اللہ علیہ وسلم بکبشین أقرنین فی ترجمة الباب
صحیح بخاری میں یہ روایت معلق (بے سند کے) مروی ہے لیکن مستخرج ابی نعیم میں متصل صحیح سند سے مروی ہے کہ یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كان المسلمون يشتري أحدهم الأضحية فيسمنها، ويذبحها فى آخر ذي الحجة
”مسلمان اپنی قربانیاں خرید کر انھیں خوب موٹا کرتے اور ذوالحجہ کے آخر میں انھیں ذبح کرتے تھے۔“
فتح الباری: 14/10
فوائد:
① قاضی شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”یہ حدیث دلیل ہے کہ قربانی کے جانور کو خوب موٹا تازہ کرنا مستحب عمل ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اس عمل پر مطلع تھے۔“
نیل الأوطار: 126/5
② امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
وأجمع العلماء على استحباب سمينها وطيبها، واختلفوا فى تسمينها فمذهبنا ومذهب الجمهور استحبابه
”علماء کا موٹی اور عمدہ تر قربانی کرنے کے استحباب پر اجماع ہے۔ پھر علماء کا قربانیوں کو موٹا کرنے کے مسئلہ پر اختلاف ہے اور ہمارا (شافعیہ) اور جمہور علماء کا مذہب ہے کہ قربانیوں کو موٹا کرنا افضل ہے (اور یہی مذہب راجح ہے)۔“
شرح النووی: 118/13
③ ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں:
ويسن استسمان الأضحية واستحسانها لقول الله تعالى: ﴿ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾ قال ابن عباس: تعظيمها استسمانها واستعظامها واستحسانها ولأن ذلك أعظم لأجرها وأكثر لنفعها
”قربانی کے جانور کو فربہ کرنا اور خوبصورت بنانا مسنون فعل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”یہ اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرتا ہے تو یقیناً یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے“ (الحج: 32)۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہیں کہ (شعائر اللہ کی تعظیم سے مراد قربانی کے جانور کو موٹا اور بڑا کرنا اور انھیں خوبصورت بنانا ہے۔ نیز قربانی کے جانور کو موٹا تازہ کرنا اس لیے بھی افضل ہے کہ موٹے جانوروں کی قربانی کا اجر و ثواب اور نفع زیادہ ہے۔“
المغنی لابن قدامة والشرح الکبیر: 99/11
قربانی کے جانوروں کو فربہ کرنے کی روایات:
قربانی کے جانوروں کو موٹا تازہ کرنے کی فضیلت کے متعلق درج ذیل روایات ضعیف ہیں۔ لہذا خطباء و واعظین کو ایسی ضعیف روایات بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ ضعیف و کمزور روایات سے کوئی شرعی استحباب ثابت نہیں ہوتا، بلکہ ضعیف اور موضوع روایات بیان کرنے کے بارے سخت وعید وارد ہوتی ہے، لہذا وعظ و ارشاد میں صحیح و حسن روایات پیش کرنی چاہئیں، صحیح و حسن روایات ہی ثبوتِ دین کا منبع ہیں۔
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت ہے:
استفرهوا ضحاياكم فإنها مطاياكم على الصراط
”اپنی قربانیوں کو خوب فربہ کرو، اس لیے کہ یہ پل صراط پر تمہاری سواریاں ہوں گی۔“
ضعیف جدا: مسند الفردوس: تلخیص الحبیر: 138/4: الضعیفة: 1255 ۔ (اس حدیث کی سند میں یحیی بن عبید اللہ بن عبد اللہ بن وہب متروک راوی ہے، حتی کہ امام حاکم نے اسے وضاع (حدیثیں گھڑنے والا ) قرار دیا ہے (تقریب التهذيب : 594) اور اس کا والد عبید اللہ بن عبد اللہ بن وہب مجہول راوی ہے۔
② حدیث ہے کہ: عظموا ضحاياكم، فإنها على الصراط مطاياكم
”اپنی قربانیوں کو خوب موٹا تازہ کرو، کیونکہ یہ پل صراط پر تمہاری سواریاں ہوں گی۔“
ضعيف جدا : كشف الخفاء : 75/2 – تلخيص الحبير : 138/4- الضعيفة : 74- ابن صلاح کہتے ہیں، یہ حدیث محدثین کے ہاں غیر معروف ہے اور ہمارے علم کے مطابق یہ ثابت نہیں ہے۔ تلخيص الحبير : 138/4 – كشف الخفاء : 75/2۔ علامہ البانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : ” ان الفاظ سے مروی یہ روایت بالکل بے سند ہے۔ [الضعيفة : 173/1]
③ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فى العيدين أن نلبس أجود ما نجد، وأن نتطيب بأجود ما نجد، وأن نضحي بأسمن ما نجد
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدین میں جو لباس میسر ہو اس میں سے عمدہ ترین لباس پہنیں، جو خوشبو دستیاب ہو اس میں سے بہترین خوشبو استعمال کریں اور حتی الوسع فربہ ترین جانور کی قربانی کریں۔“
ضعيف : مستدرك حاكم : 330/4- طبرانی کبیر : 2690۔ اسحاق بن بزرج ضعیف راوی ہے۔
④ سیدنا رافع بن مکیث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أفضل الضحايا أغلاها وأسمنها
”بلاشبہ مہنگے ترین اور زیادہ موٹے جانوروں کی قربانی افضل ہے۔“
ضعيف : مستدرك حاكم : 231/4 – مسند أحمد : 424/3 – سنن بیهقی : 9/ 268 ۔ اس حدیث کی سند میں عثمان بن زفر جہنی اور حارث بن رافع بن مکیث مجہول راوی ہیں۔
خلاصۃ التحقیق:
یہاں یہ روایات بیان کرنے کا یہ مقصود نہیں کہ قربانی میں موٹے اور فربہ جانور ذبح کرنا افضل نہیں، بلاشبہ قربانی میں خوب موٹے تازے جانور ذبح کرنا افضل عمل ہے۔ لیکن ان ضعیف روایات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس فضیلت کو ثابت کرنے کے لیے ضعیف روایات کا سہارا نہ لیا جائے، بلکہ صحیح اور حسن احادیث سے جس مسئلہ کی جتنی اور جیسی فضیلت ثابت ہو وہی فضیلت بیان کی جائے، کیونکہ کسی بھی مسئلہ کے فضیلت کے ثبوت کے لیے قرآن حکیم اور صحیح و حسن احادیث ہی معیار ہیں۔