خصی جانور کی قربانی
خصی جانور کی قربانی جائز ہے اور قربانی کے جانور کا خصی ہونا عیب نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خصی جانور کی قربانی ثابت ہے اور اگر جانور کا خصی ہونا عیب ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خصی جانور کا انتخاب ہرگز نہ کرتے۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
ذبح رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الذبح كبشين أقرنين أملحين موجوءين
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحیٰ کے دن سینگوں والے دو چتکبرے خصی مینڈھے ذبح کیے۔“
حسن: سنن أبى داود کتاب الضحایا، باب ما یستحب من الضحایا: 2792۔ سنن ابن ماجه أبواب الأضاحی، باب أضاحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: 3121۔ مسند أحمد: 370/3۔ صحیح ابن خزیمه: 2899
فوائد:
① خطابی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
وفي هذا دليل على أن الخصي فى الضحايا غير مكروه وقد كرهه بعض أهل العلم لنقص العضو وهذا النقص ليس بعيب لأن الخصاء يزيد اللحم طيبا وينفي فيه الزهومة وسوء الرائحة
”خطابی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے کہ قربانی کے جانوروں کا خصی ہونا مکروہ نہیں ہے۔ البتہ بعض اہل علم نے نقصِ عضو (عدمِ ذکوریتکی وجہ سے خصی جانور کی قربانی کو مکروہ خیال کیا ہے) لیکن جانور کا خصی ہونا قربانی میں عیب نہیں کیونکہ خصی ہونے سے گوشت کی عمدگی میں اضافہ ہوتا ہے اور اس سے گوشت کا تعفن اور بدبو ختم ہو جاتی ہے۔“
عون المعبود: 12/8، 13۔ فتح الباری: 14/10
② ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”خصی جانور کی قربانی جائز ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو خصی مینڈھوں کی قربانی کی ہے اور جس جانور کے خصیتین کٹ گئے ہوں یا شل ہو گئے ہوں وہ بھی خصی جانور کے حکم میں ہے۔ نیز خصی جانور کی قربانی اس لیے بھی جائز ہے کہ خصی کرنے سے مکروہ عضو کے ضائع ہونے سے جانور کا گوشت عمدہ اور زیادہ ہوتا ہے اور ایسا جانور فربہ ہو جاتا ہے۔ حسن بصری، عطاء خراسانی، شعمی، نخعی، مالک، شافعی، ابو ثور اور اصحاب الرائے بھی اسی موقف کے قائل ہیں اور اس کے جواز پر کوئی اختلاف نہیں ہے۔“
المغنی لابن قدامة والشرح الکبیر: 103/11
کیا خصی جانور کی قربانی مستحب ہے:
خصی جانور کی قربانی غیر خصی جانور سے افضل نہیں بلکہ خصی اور غیر خصی دونوں قسم کے جانور کی قربانی جائز ہے۔ قاضی شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں:
”حدیث الباب سے استدلال کیا گیا ہے کہ خصی جانور کی قربانی مستحب ہے۔ ادویہ کا یہی موقف ہے، لیکن حدیث کے ظاہر مفہوم سے خصی جانور کی قربانی کی افضیلت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے غیر خصی جانور کی قربانی بھی ثابت ہے، لہذا خصی اور غیر خصی جانور کی قربانی کا برابر ثواب ہے۔“
نیل الأوطار: 127/5
غیر خصی جانور کی قربانی
خصی جانور کی طرح غیر خصی جانور مینڈھا (سانڈ) کی قربانی بھی مسنون ہے۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم بكبش أقرن فحيل يأكل فى سواد، ويمشي فى سواد، وينظر فى سواد
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگوں والا غیر خصی مینڈھا قربان کیا جو سیاہی میں کھاتا (یعنی اس کا منہ سیاہ تھا) سیاہی میں چلتا (اس کی ٹانگیں سیاہ تھیں) اور سیاہی میں دیکھتا تھا (یعنی اس کی آنکھیں سیاہ تھیں)۔“
حسن: سنن أبى داود، کتاب الضحایا، باب ما یستحب من الضحایا: 2796۔ جامع ترمذی، أبواب الأضاحی، باب ما جاء ما یستحب من الأضاحی: 1496۔ سنن نسائی، کتاب الضحایا، باب المسنة والجذعة: 4395۔ سنن ابن ماجه، أبواب الأضاحی، باب ما یستحب من الأضاحی: 3128۔ مستدرک حاکم: 228/4۔ سنن بیھقی: 273/9۔جعفر بن محمد بن حسین المعروف جعفر صادق کے سوا اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں اور جعفر صادق صدوق راوی ہیں۔
فوائد:
شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”یہ حدیث دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسے خصی جانور کی قربانی کی، اسی طرح غیر خصی جانور کی قربانی بھی کی ہے (لہذا خصی و غیر خصی جانور کی قربانی مسنون ہے)۔“
نیل الأوطار: 126/5