عقیقہ کا بیان
وجہ تسمیہ:
عقیقہ کی وجہ تسمیہ میں علماء کے کئی اقوال ہیں:
① حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ عقیقہ نومولود کی طرف سے ذبح کیے جانے والے جانور کا نام ہے اور اس کے اشتقاق میں اختلاف ہے۔
چنانچہ ابو عبید اور اصمعی کہتے ہیں:
أصلها الشعر الذى يخرج علىٰ رأس المولود
”عقیقہ دراصل نومولود کے سر کے وہ بال ہیں جو ولادت کے وقت اس کے سر پر اگتے ہیں۔“
زمخشری رحمہ اللہ وغیرہ کا بیان ہے کہ:
وسميت الشاة التى تذبح عنه فى تلك الحالة عقيقة، لأنه يحلق عنه ذٰلك الشعر عند الذبح
”پیدائش کے بالوں کی موجودگی میں نومولود کی طرف سے ذبح کی جانے والی بکری کو عقیقہ سے موسوم کیا جاتا ہے، کیونکہ ذبح کے وقت یہ بال مونڈے جاتے ہیں۔“
خطابی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
العقيقة اسم الشاة المذبوحة عن الولد، سميت بذٰلك لأنها تعق مذابحها أى تشق وتقطع
”نومولود کی طرف سے ذبح کی ہوئی بکری کو عقیقہ کہا جاتا ہے، کیونکہ (نومولود کی ولادت پر) اس کی رگیں کاٹی جاتی ہیں۔“
فتح الباري: 726/9.
② شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
العقيقة الذبيحة التى تذبح للمولود، والعق فى الأصل الشق والقطع، وسبب تسميتها بذٰلك أنه يشق حلقها بالذبح، وقد يطلق اسم العقيقة علىٰ شعر المولود
”عقیقہ وہ ذبیحہ ہے جو نومولود کی خاطر ذبح کیا جاتا ہے۔ اصل میں عق کا معنی پھاڑنا اور کاٹنا ہے اور عقیقہ کو عقیقہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ذبح کے وقت ذبیحہ کا حلق کاٹا جاتا ہے، نیز کبھی عقیقہ کا اطلاق نومولود کے بالوں پر بھی ہوتا ہے۔“
نيل الأوطار: 140/5.
خلاصہ کلام:
عقیقہ کی بحث میں قولِ فیصل یہ ہے کہ عقیقہ کا اطلاق نومولود کے بالوں اور اس کی طرف سے ذبح کیے جانے والے جانور دونوں پر ہوتا ہے اور عقیقہ سے مقصود پیدائش کے ساتویں دن نومولود کے بال مونڈنا اور اس کی طرف سے جانور ذبح کرنا ہے۔
عقیقہ کے بجائے نسیکہ یا ذبیحہ کا لفظ کہنا:
نومولود کی طرف سے ذبح کیے جانے والے جانور کو نسیکہ یا ذبیحہ کہنا مستحب اور اسے عقیقہ سے موسوم کرنا مکروہ فعل ہے۔ اس کی دلیل درج ذیل روایت ہے۔
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
سئل النبى صلى الله عليه وسلم عن العقيقة، فقال: لا يحب الله العقوق، كأنه كره الاسم، وقال: من ولد له ولد فأحب أن ينسك عنه فلينسك، عن الغلام شاتان مكافئتان، وعن الجارية شاة
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیقہ کے بارے میں سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ (لفظ) عقوق (نافرمانی) کو ناپسند کرتا ہے۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ نام) مکروہ خیال کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے ہاں بچہ پیدا ہو اور وہ اس کی طرف سے جانور ذبح کرنا چاہے تو وہ اس کی طرف سے جانور ذبح کرے۔ لڑکے کی طرف سے برابر دو بکریاں اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری۔“
حسن: سنن أبى داود، كتاب الضحايا، باب في العقيقة: 2842. سنن نسائی، كتاب العقيقة، باب عن الغلام شاتان: 4217. مسند أحمد: 182/2. مستدرك حاكم: 238/4. سنن بیهقی: 300/9.
فوائد:
① عقیقہ کے متعلق سوال پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ اللہ تعالیٰ عقوق کو ناپسند کرتا ہے، میں اشارہ ہے کہ (نومولود کی جانب سے ذبح کیے جانے والے جانور) کا نام عقیقہ مکروہ ہے کیونکہ عقیقہ اور عقوق کا مادہ ایک ہے جس کا معنی نافرمانی ہے اور اس جملے فأحب أن ينسك عنه فلينسك میں توضیح ہے کہ لفظ عقیقہ کو نسیکہ سے تبدیل کر دیا جائے۔ (یعنی عقیقہ کو نسیکہ کہا جائے)۔
نيل الأوطار: 143/5. عون المعبود: 46/8.
② علامہ سندی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اس حدیث میں مسئلہ عقیقہ کی توہین اور سقوطِ وجوب مقصود نہیں، بلکہ اس سے تو یہ مراد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عقیقہ نام ناپسند کیا ہے اور یہ پسند کیا ہے کہ اس کا اس سے کوئی اچھا نام یعنی نسیکہ یا ذبیحہ ہو۔“
شرح النسائي للسندى: 498/5۔