قربانی کا افضل دن کون سا ہے؟ احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

قربانی کا افضل دن

بلاشبہ دس ذوالحجہ کا دن قربانی کا افضل دن ہے، کیونکہ یہ عشرہ ذوالحجہ کے ابتدائی ایام میں داخل ہے اور اعمالِ صالحہ کے حسن اور عند اللہ قبول ہونے کے اعتبار سے ذوالحجہ کے ابتدائی کس دن باقی ایام سے افضل و برتر ہیں، نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول بھی دس ذوالحجہ کو قربانی کرنے کا رہا ہے۔ لہذا دس ذوالحجہ کو جانور ذبح کرنا افضل اور زیادہ ثواب کا باعث ہے۔

دلائل:

① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما العمل فى أي¥ام العشر أفضل منها فى هذه، قالوا: ولا الجهاد؟ قال: ولا الجهاد، إلا رجل خرج يخاطر بنفسه وماله فلم يرجع بشيء
”عشرہ ذوالحجہ کے اعمال سے باقی ایام کے اعمال افضل نہیں (یعنی دس ذوالحجہ کے اعمال باقی دنوں کی نسبت افضل ہیں)۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”(باقی ایام کا) جہاد بھی عشرہ ذوالحجہ سے افضل نہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باقی ایام کا جہاد بھی عشرہ ذوالحجہ سے افضل نہیں، البتہ جو شخص (جہاد فی سبیل اللہ کے لیے) نکلے اور اپنی جان اور مال کی بازی لگا دے، پھر (جان و مال میں سے) کسی چیز کے ساتھ نہ لوٹے (اس کا یہ عمل عشرہ ذوالحجہ کے مقابل اور باقی ایام کے اعمال سے افضل ہے)۔“
صحیح بخاری، کتاب العیدین، باب فضل العمل فی أیام التشریق: 969 – سنن أبی داؤد، کتاب الصیام، باب فی صوم العشر: 2438 – جامع ترمذی، کتاب الصوم، باب ما جاء فی العمل فی أیام العشر: 757 – سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب صیام العشر: 1727
② سیدنا عبد اللہ بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أعظم الأيام عند الله يوم النحر ثم يوم القر
”اللہ تعالیٰ کے نزدیک عظیم ترین دن یومِ نحر (دس ذوالحجہ) پھر دس ذوالحجہ سے اگلا دن (گیارہ ذوالحجہ) ہے۔“
صحیح: سنن أبی داؤد، کتاب المناسک، باب: 1765 – مسند أحمد: 350/4 – صحیح ابن خزیمة: 2917 – مستدرک حاکم: 221/4 – سنن بیہقی: 241/5

فوائد:

① احادیثِ الباب دلیل ہیں کہ دس ذوالحجہ کے دن قربانی کرنا افضل ہے، کیونکہ دس ذوالحجہ کا دن عشرہ ذوالحجہ میں شامل اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام دنوں سے عظیم ترین دن ہے۔ لہذا اسی دن کے جملہ اعمالِ صالحہ سمیت قربانی کرنا بھی افضل ہے۔
② دس ذوالحجہ کے بعد گیارہ ذوالحجہ کو قربانی کرنا افضل ہے۔
③ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی دس ذوالحجہ کے دن قربانی کرنا ثابت ہے، لہذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل بھی دس ذوالحجہ کے دن قربانی کی فضیلت و استحباب پر دال ہے۔
① سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يذبح وينحر بالمصلى
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ کے دن (عید گاہ میں) جانور ذبح کرتے اور اونٹ نحر کرتے تھے۔“
صحیح بخاری، کتاب الأضاحی، باب الأضاحی والنحر بالمصلی: 5552 – سنن أبی داؤد، کتاب الضحایا، باب الإمام یذبح بالمصلی: 2811، سنن نسائی، أبواب صلاة العیدین، باب ذبح الإمام یوم العید: 1590، سنن ابن ماجہ، کتاب الأضاحی، باب الذبح بالمصلی: 3161
② سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى للناس يوم النحر، فلما فرغ من خطبته وصلاته ضحى بكبش فذبحه بنفسه
”بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عید الاضحیٰ کے دن) لوگوں کو نمازِ عید پڑھائی، پھر جب خطبہ اور نماز سے فارغ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے ایک مینڈھا ذبح کیا۔“
حسن: مستدرک حاکم: 229/4۔ سنن بیہقی: 264/9