حاجی کا اہل خانہ کی طرف سے قربانی کرنا احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

حاجی کا اہل خانہ کی طرف سے علیحدہ قربانی کرنا

حج کرنے والا حج میں شریک اپنے اہل خانہ کی طرف سے بھی قربانی کر سکتا ہے، اس کی دلیل درج ذیل حدیث ہے۔
① سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
خرجنا لا نرى إلا الحج فلما كنا بسرف حضت، فدخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أبكي، فقال : ما لك، أنفست، قلت : نعم، قال : إن هذا أمر كتبه الله على بنات آدم، فاقضي ما يقضي الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت قالت : وضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نسائه البقر
”ہم خالص حج کے ارادے سے نکلے اور جب ہم مقامِ سرف پر پہنچے تو میں حائضہ ہوگئی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ہے؟ کیا تو حیض میں مبتلا ہوگئی ہے؟“ میں نے عرض کی: ”ہاں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں پر یہ امر لکھ دیا ہے، سو تو وہ اعمال کر جو حج کرنے والا کرتا ہے، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (عید الاضحیٰ کے دن) اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی۔“
صحيح بخاری، کتاب الحیض، باب الأمر بالنفساء إذا نفسن: 294
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
فلما كان يوم النحر أتيت بلحم بقر كثير فطرح فى بيتي، فقلت : ما هذا ؟ قالوا : ذبح رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نسائه البقر
”(دورانِ حجۃ الوداع) جب یومِ نحر تھا، میرے پاس گائے کا کثیر گوشت لایا گیا اور میرے گھر میں رکھ دیا گیا، میں نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انھوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے ذبح کی ہے۔“
حسن: مسند أحمد: 6 / 272

فوائد:

① حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ”بہ ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ گائے کا ذبح کرنا قربانی کے لیے تھا۔“
فتح الباری: 10 / 8
② حج میں شامل اہل خانہ کی طرف سے علیحدہ قربانی کرنا مسنون ہے۔